سوانح حیات ابوالاعلی

ابوالاعلی کی ولادت ۳ رجب ۱۳۲۱ھ ( ۲۵ ستمبر ۱۹۰۳ء) کو سابق ریاست حیدرآباد ( آج کےآندھراپردیش ) بھارت کےمعروف شہراورنگ آباد میں ہوئی۔ آپ کا آبائی نسب نبی ﷺ سےجاملتا ہے۔ روحانی پیشوائی کی ایک طویل روایت اس خاندان سے وابستہ ہے، کہ آپ کی کتنے ہی اجداد سلسلہ ہائےصوفیہ کے نمایاں رہنما گزرے ہیں ۔ ان اہلِ نور میں سے ایک، جن سےآپ کا خاندانی نام وابستہ ہے، سلسلہ چشتیہ کےایک معروف بزرگ خواجہ قطب الدین مودود (م ۵۲۷ھ ) تھے ۔ مولانا مودودی کے بزرگ چشت سے برصغیر پاک و ہند میں نویں صدی ہجری کے اخیر ( مطابق پندرہویں صدی عیسویں) میں منتقل ہو گئے تھے۔ ان میں سب سے پہلے آنے والے ، مولانا کے ہم نام ، ابوالاعلی مودودی (م ۹۳۵ھ ) تھے۔

مولانا مودودی کے والد سید احمد حسن (ولادت ۱۸۵۵ء) جو وکالت پیشہ تھے، انتہائی دیندار شخص تھے۔ ان کے تینوں بیٹوں میں ابوالاعلی سب سے چھوٹے تھے۔ ابتدائی تعلیم گھرپر پانے کے بعد آپ مدرسہ فوقانیہ نامی ہائی اسکول میں داخل ہو گئے ۔ جہاں روایتی دینی تعلیم کےساتھ ساتھ جدید مغربی علوم بھی پڑھائےجاتےتھے۔ ابوالاعلی ے ثانوی تعلیم کامیابی سےمکمل کی ۔ آپ دار العلوم حیدرآباد میں انڈر گریجویٹ کے متعلم تھے کہ آپ کی رسی تعلیم آپ کی علالت اور پھر والد گرامی کی وفات کے بعد منقطع ہوگئی ۔ تا ہم مولانا مودودی کو اپنا مطالعہ جاری رکھنے میں یہ امر مانع نہیں ہوا۔ اگر چہ یہ مطالعہ با قاعدہ تعلیمی اداروں سے باہر کا تھا۔ عشر ۱۹۲۰۰ء کے ابتدائی سالوں تک ابوالاعلی کو اپنی مادری زبان اردو کےعلاوہ عربی ، فارسی اورانگریزی میں اتنا درک ہو گیا تھا کہ اپنی پسند کومضامین کا مطالعہ بطور خود کرنےلگے۔ اس طرح انہوں نےجوکچھ سیکھا، وہ بیشتر اپنی ہی کوشش سےسیکھا۔ گو وقتا فوقتا انہیں بعض لائق اہل علم سے با قاعدہ تحصیل اور رہنمائی کا موقعہ بھی ملتا رہا۔ اس طرح مولانا مودودی کی ذہنی نشو و نما بڑی حد تک نتیجہ تھی ان کی اپنی سعی کا ، اوراپنے اساتذہ سے حاصل ہونے والی تحریک کا۔ البته ان کی اخلاقی پاکیزگی اور حق و صداقت سے ان کی مناسب اخلاقی تربیت کا اہتمام منعکس ہوتا ہے

رسمی تعلیم منقطع ہو جانے کے بعد مولانا مودودی معاش کے لئے صحافت کی طرف متوجہ ہوئے ۔ ۱۹۱۸ ء ہی سے وہ اردو کے ایک مشہور اخبار میں لکھنے لگے تھے اور ۱۹۲۰ء میں جب ابھی وہ سترہ سال ہی کے تھے کہ تاج کے مدیر ہو گئے، جو آجکل صوبہ مدھیہ پردیش، بھارت کے ایک شہر جبل پور سے شائع ہوتا تھا۔ ۱۹۲۰ء کے اواخر میں وہ دہلی آئے اور پہلے اخبار مسلم کی ادارت کی ۔ (۱۹۲۱ء تا ۱۹۲۳ء) اور بعد میں الجمعیتہ کے مدیر بنادیئے گئے ، اور یہ دونوں اخبارخباران علماء کی تنظیم جمعیتہ العلماء ہند کے ترجمان تھے۔ ان کی زیر ادارت الجمعیتہ مسلمانان ہند کا چوٹی کا اخبار بن گیا۔

۱۹۲۰ ء ہی کےآس پاس مولا نا سیاست میں بھی کسی قدر دلچسپی لینے لگے۔ انہوں نے تحریک خلافت میں بھی حصہ لیا اور ایک خفیہ سوسائٹی سے وابستہ رہے، ہمگر اس طرح کی سوسائٹیوں کے طلسم سے جلد ہی آزاد ہو گئے۔

انکا تحریک ہجرت سے بھی تعلق رہا جو ہندوستان پر برطانوی حکومت کے خلاف اٹھی تھی اور اس ملک کے مسلم باشندوں کو بالا جماع افغانستان ہجرت کرجانےپر آمادہ کر رہی تھی۔ انہوں نے جلد ہی اس تحریک کی قیادت کی غلطی کو بھانپ لیا۔ آن کے نزدیک تحریک کے مقاصد غیر واضح طریق عمل واقعیت پسندی کے منافی اور صحیح منصوبہ بندی سےعاری تھے۔

۱۹۲۶ ء اور ۱۹۲۸ء کے دوران میں مولانا نے چار مختلف کتابوں کا ترجمہ کیا ، ایک عربی سےاور باقی انگریزی سے۔ اور انہی دنوں آپ نے اپنی پہلی بڑی کتاب الجہاد فی الاسلام لکھ کر اس بر صغیر کی علمی زندگی پر اپنانشان ثبت کیا۔ اسلامی قانون جنگ و صلح پر یہ ایک شاہکار تحریر ہے۔ یہ پہلی بار ۱۹۲۷ء میں الجمعیتہ میں سلسلہ وار چھپتی رہی اور ۱۹۳۰ء میں کتابی شکل میں شائع ہوئی۔ مشہور فلسفی شاعر اقبال (۱۹۳۸۴ء) اور تحریک ہائے خلافت و آزادی کے مشہور رہنما مولانا محمد علی جو ہر (م۱۹۳۱ء) نے اسے بے حد سراہا ۔۲۳ ۲۴ سال ہی کی عمر میں لکھی جانے والی یہ کتاب انتہائی پسندیدہ تصانیف میں شمار ہوتی ہے۔

۱۹۲۸ء میں الجمعیۃ سے مستعفی ہو کر مولانا حیدر آباد دکن چلے آئے اور خود کو تحقیق و تصنیف کے لئے وقف کر دیا۔ اسی سلسلے میں انہوں نے ۱۹۳۳ء میں ماہنامہ ترجمان القرآن کی

ادارت اختیار کر لی ، جو تب ہی سے افکار مودودی کی اشاعت کا اہم ترین ذریعہ چلا آرہا ہے۔ وہ اپنی علمی وتجزیاتی تحریروں کے حوالے سے اعلی درجے کے زرخیز ذہن مصنف ثابت ہوئے۔ ابتدا انہوں نے اسلام کے افکار، اقتدار اور بنیادی اصول واضح کرنے پر اپنی توجہ مرکوز رکھی۔ پھر انہوں نے ان سوالوں پرخصوصی توجہ دی جو مسلم اور ہم عصر مغربی دنیا کے نقطہ ہائےنظرکے تصادم سےابھر رہے تھے۔ انہوں نے دورحاضرکےبعض دوسرے بڑے مسائل پر بھی بحث کی اوران مسائل کےاسلامی حل پیش کئے۔انہوں نےان مسائل کا حل پیش کرتے ہوئےمغربی اور مسلم دنیا کےتجربات کےتناظرمیں مطالعہ کا ایک نیا طریق کار بھی وضع کیا۔ یعنی پیش آمدہ مسائل کو قرآن وسنت سے مطابقت کی کسوٹی پر پرکھنا. ان کی تحریروں سےوسعت مطالعه و تحقیق، قرآن و سنت کی تعلیمات کےنکات تک رسائی اور فکر مغرب آور تاریخ کے دھارے سے ناقدانہ آگہی منکشف ہوتی ہیں ۔ ان امور نے مولانا کے انداز فک کو تازگی اور ان کے پیغام کوشش سے بہرہ مند کیا۔

چوتھے عشرے کے وسط میں ہمولانا نے اس زمانے میں مسلم ہندوستان کو درپیش اہم سیاسی اور تمدنی امور پر قلم اٹھایا۔ اور انہیں محض وقتی ، سیاسی و معاشی مفادات کے نقطہ نظر کےبجائے وسیع تر اسلامی تناظر میں رکھ کر جانچنےکی کوشش کی۔ انہوں نے ان دلائل، خود ساختہ نظریات پر بےدھڑک تنقید کی اوران افکارکا کھوکھلا پن واضح کیا جو دینی اورادنیاوی اعتبار سےمسلمانوں کےدلوں اور دماغوں کو جادو کی طرح متاثر کرنے لگے تھے۔ اس سلسلہ میں قوم پرستی ( نیشنلزم ) کا تصور مولانا کی خصوصی توجہ کا مرکز بنا۔ انہوں نے پوری قوت سےاس کےخطرناک مضمرات آور تعلیمات اسلامی سے اس کا نا قابل مفاہمت ہونا واضح کیا اوراس بات پرزور دیا کہ ہندوستان کےحوالے سے نیشنلزم کا مطلب ہمسلمانوں کی اجتماعی شناخت کےمکمل خاتمہ کے ہم معنی ہے۔

اسی اثناء میں فلسفی شاعر علامہ محمد اقبال (۱۹۳۸ء۔۱۸۷۷ء) نے مولانا کو آمادہ کر لیا کووہ حیدرآباد کو چھوڑ کر پنجاب کے مشرقی حصے کے ایک مقام پر جا بسیں جو ضلع پٹھان کوٹ ( آجکل مشرقی پنجاب، بھارت) میں واقع ہے۔ چنانچہ وہاں منتقل ہو جانے کے بعد انہوں نے دارالاسلام کے نام سے ایک ادارہ قائم کیا جو اصلا ایک علمی و تحقیقی مرکز تھا ، جہاں علامہ اقبال کی تائید و معاونت سے انہوں نے علوم اسلامیہ کے ماہر علماء کو اسلام پر جدید دور کے تقاضوں کے مطابق تصانیف تیار کرنے اور اسلامی فقہ کی تشکیل نو کی تربیت دینے کا منصوبہ بنایا تھا

۱۹۴۰ء کے لگ بھگ مولانا کے خیالات نے ایک جامع اور جید ارتحریک برپا کرنے کے حق میں مکمل شکل اختیار کر لی جس کے نتیجے میں انہوں نے ۲۶ اگست ۱۹۴۱ء کو ایک نئی تنظیم جماعت اسلامی کے نام سے قائم کی۔ بانی ، جماعت مولانا ابوالاعلی مودودی ہی اس کے پہلے سر براہ منتخب ہوئے ، جو ۱۹۷۲ء تک اس منصب پر مامور ہے، تا نکہ خرابی ء صحت کی بنا پر وہ اس ذمہ داری سے کنارہ کش ہو گئے۔

۱۹۴۷ء میں جب یہ بر صغیر دو آزاد خود مختار ممالک۔۔ پاکستان اور بھارت کی صورت بن کر ابھرا تو جماعت بھی دو حصوں، جماعت اسلامی پاکستان اور جماعت اسلامی ہند میں تقسیم ہو گئی ۔ اگست ۱۹۴۷ء سے جب مولانا پاکستان منتقل ہوئے۔ انہوں نے اس ملک میں ایک صحیح اسلامی ریاست اور معاشرہ قائم کرنےپراپنی کوششیں مرکوز کر دیں۔ اپنےاس نصب العین کے مطابق انہوں نے اسلامی طرزحیات ، خصوصاً اس کےمعاشرتی اور سیاسی پہلوؤں کو واضح کرنےکے لئے بکثرت تحریریں لکھیں۔ اسلامی طرز حیات کے نفاذ کے لئے مولانا کی لگن انہیں اس طرف لے گئی کہ پاکستان کی یکے بعد دیگرے آنےوالی حکومتوں کی اختیار کردہ پالیسیوں کا محاسبہ کریں ، اور صاحبان اقتدار کی اس کو تاہی کوبےنقاب کریں کہ وہ پاکستان کہ اسلامی مملکت بنانےمیں ناکام رہے ہیں۔ نتیجتا حکمرانوں نے ان کے خلاف شدید جوابی کارروائیاں کیں۔ کتنی ہی بارگرفتار کیا گیا اور لمبی مدت تک قید بھگتنا پڑی۔ جدوجہد اورسزایابی کے ان برسوں میں مولانا نےاستقامت، پختہ عزم اور دوسرے بلند اوصاف حسنہ سے اپنے بدترین ناقدین اور مخالفین کومتاثر کیا ۔۱۹۵۳ء میں جب قادیانی مسئلہ پر ایک معرکہ آرا پمفلٹ لکھنے کےالزام پرمارشل لا حکام نے آپ کو سزائے موت سنائی تو آپ نے رحم کی درخواست کرنے کی پیشکش پوری پامردی سے ٹھکرادی۔ آپ نے ایسے لوگوں سے جو آپ کو سراسر با جواز پھانسی دینا چاہتے تھے، رحم کی التجا کرنے کے بجائے خندہ پیشانی سے موت کو قبول کرنا گوارا کرلیا۔ اپنے بیٹوں اور رفقاء سےانہوں نے اس غیر متزلزل یقین کےساتھ کہ زندگی اورموت کلیتہ اللہ تعالی کے ہاتھ میں ہے۔ یہ کہا کہ اگر میری موت کا وقت آ پہنچا ہے تو مجھے کوئی

نہیں بچاسکتا، اور اگر نہیں آیا ہے تو چاہے یہ لوگ خود الٹے لٹک جائیں مجھے پھانسی پرنہیں لگا سکتے حتی کہ آپ کے گھر والوں نے بھی رحم کی اپیل کرنے سے انکار کردیا۔ آپ کےاستقلال پر حکومت دم بخودرہ گئی اوراسے ملک نیز بیرون ملک کے سخت عوامی دباؤ سے مجبور ہو کر سزائے موت کو عمر قید میں بدلنا پڑا۔

مولانا مودودی پلک زندگی کے ساٹھ سالوں کے دوران پورے عرصے میں فعال رہے۔ اوربے جوجک اسلام کی تفہیم واشاعت کرتے رہے ہیں ۔ آپ نے ایک سو میں سےزائد کتا ہیں اور پمفلٹ لکھے ہیں اور ہزار سے زائد تقریریں اور پریس بیانات جاری کئے ہیں ، جس میں سے کم از کم سات سور ریکارڈ پر دستیاب ہیں۔ مولانا کا قلم بیک وقت زرخیز، پر زور اور متنوع ہے۔ جن موضوعات کا آپ نے احاطہ کیا ہے ان کی وسعت غیر معمولی ہے۔ منقولات جیسے تفسیر ،حدیث ، فقہ، فلسفه، کلام آور تاریخ سب نے آپ کی توجہ کا مناسب حصہ پایا ہے۔ آپ نے گونا گوں سیاسی ، معاشی ، معاشرتی تمدنی فقہی مسائل پر بحث کی ہے اوریہ واضح کرنے کی کوشش کی ہے کی ان مسائل کا اسلامی تعلیمات سے کیا تعلق ہے۔ وہ باہر خصوصی کے سے کوہ کندن و کاہ بر آوردن عمل کےلئے وقف ہو کر نہیں رہ گئے بلکہ انہوں نے علم وتحقیق کے اکثر میدانوں میں اسلامی طرز فکر کی بنیادوں کی توضیع کی ہے۔ البته ان کی فکر کی اصل جولان گاہ تفسیر ، اخلاقیات سماجی علوم اور احیائے اسلام لے لئےاٹھنے والی بین الا قوامی تحریک کو در پیش مسائل رہے ہیں۔ سیرت طیبہ کی کی زندگی سے متعلق دو جلدوں کے بعد وہ مدنی دور پر مزید دو جلدیں لکھ رہےتھے کہ رب ذوالجلال کی طرف سے بلاوا آ گیا۔ اناللہ وانا اليه راجعون۔

آپ کی معرکہ آرا تصنیف اردو میں قرآن کی تفسیر تفہیم القرآن ہے۔ جس کی تکمیل میں تمہیں سال لگے۔ اس کی اہم ترین خصوصیت قرآن کے معنی اور پیغام کو ایسی زبان و اندازمیں پیش کرنا ہے جو آج کے انسان کے دل و دماغ میں اتر جائے کہ اس کے روز مرہ انفرادی و اجتماعی دونوں طرح کے مسائل سے قرآن کا تعلق کیا ہے۔ آپ نے قرآن کی ترجمانی دور حاضر کی سلیس اور پر زور ار دو روز مرہ میں کی ہے۔ آپ کا یہ ترجمہ قرآن کےعام لفظی تراجم سے فصیح تر اور ابلاغ کی اعلی سطح پر پورا اتر تا ہے۔ آپ نے قرآن کوانسانی زندگی کی کتاب ہدایت ، اور اس ہدایت کو انسانی زندگی میں نافذ و ساری کرنے والی تحریک کی رہنما کتاب کے طور پر پیش کیا ہے۔ اس تفسیر نے برصغیر میں ، بلکہ (اپنےترجموں کے ذریعے بیرونی دنیا میں ہم عصر اسلامی فکر پر دور رس اثرات مرتب کئے ہیں۔

مولانا کی قائم کردہ اسلامی تحریک جماعت اسلامی اب ایک منظم دینی سیاسی جماعت بن چکی ہے۔ جس نے تمام طبقوں کے لوگوں کو اپنی طرف کھینچا ہے ، خصوصا برصغیر کےدانشوروں اور نو جوانوں پر تو اس کا اثر بہت قوی ہے۔ اور یہ اثر صرف جماعت اسلامی سے وابستہ لوگوں تک محدود نہیں بلکہ یہ اثر جماعتوں اورتنظیموں کی حدود کو توڑتا ہوا بر صغیرپاک و ہند سے بھی پرے جا پہنچا ہے۔ اور آج مولانا مودودی دنیا بھر کے مسلمانوں کے لئے ایک گونہ پدرانہ بزرگی کے مقام پر فائز ہیں۔