پیارےمولانا

الطاف حسن قریشی

مجھے قلم تھامے کئی گھنٹے ہو چکے ہیں۔ مگر ایک حرف بھی نہیں ٹپکا۔ شاید سارے کِے سارےالفاظ آنسوؤں میں بہہ نکلے ہیں کہ انسان رو تا کیوں ہے وہ اپنی بات زبان سے بیان کیوں نہیں کر دیتا؟ مگر اب معلوم ہوا کہ الفاظ تو جذبات کا ساتھ دیتے ہی نہیں، حال دل سناتے ہی نہیں گہرائیوں میں اترتے ہی نہیں بلکہ نازک لمحوں میں وہ حجاب مدعا اور نقاب نگاہ بن جاتے ہیں۔

میرے چاروں طرف الفاظ بکھرے ہوئے ہیں کان پڑی آواز سنائی نہیں دیتی۔ اس ہنگامہ ہاؤ ہو میں قلم ٹھر گیا ہے منجمد ہو گیا ہے کون جانے وہ کیا سوچ رھا ہے ! غم کی دبیز تہوں سے ایک ننھی سی روشنی ابھری ہے اور پھر یہ روشنی ایک لڑی بنتی چلی گئی ۔۔۔۔۔ ایک طویل سلسلہ اور ایک طویل کہانی آنسوؤں کی زبانی مرتب ہو گئی ہے۔ صاف اور شفاف سرچشمہ ہر نوع کی آلائشوں سے پاک فراز دل سے انڈا ہے اور چپکے چپکے بہتا چلا جارہا ہے۔ جاہت کی پہلی منزل ہو یا آخری ۔۔۔ آنسوؤں کے بغیر سر نہیں ہوتی اور پھر ایک مقام یہ بھی آتا ہے-

سرخی اشک میں ہے قوس قزح کی سرخی
اک نئے رنگ سے ہم خون جگر پیتے ہیں

' ' ٹپ - - - ٹپ - - - ٹپ - - - ' ' یہ جھڑی کیسی ہے کہ تھمتی ہی نہیں؟ یہ آگ چھ ایسی لگی ہے کہ بجھتی ہی نہیں ۔۔۔۔ مجھے بھی تو کیسے ؟ بجھ گئی تو زندگی مشت خاک اور غبار راہ کے سوا اور کیا ہوگی ۔۔۔ بکھر جائے گی۔ منتشر ہو جائے گی۔ آتش عشق ہی سے تو روشنی ہے، حرارت ہے ، زندگی ہے اور عظیم تر زندگی کے لئے جذبہ سرفروشی ہے۔ وہی جذبہ سرد پڑ گیا، تو پھر جینے کے لئے کیا رہا ۔۔۔۔ ! پھر یہ جہان رنگ دیو کس کام کا !

ہائے ! یہ منظر کیسا ہے! پاکیزہ روح کا جسد خاکی ہمارے سامنے رکھا ہے کیا سچ مچ سید ابو الاعلیٰ مودودی وفات پا گئے؟ کیا اب ہم ان سے باتیں نہیں کر سکیں گے! اف یہ کیا ہوکیا ! کوئی کلیجے پر آرمی چلا رہا ہے، سینے میں شدید جلن ہے جیسے کسی نے گرم کرم سلاخ دل میں گھونپ دی ہو۔ یہ سب کچھ کون کر رہا ہے؟ درد کی یہ نئی لہر پھر کیوں ااٹھی ہے؟ جسم کا انگ انگ انگارہ سا کیوں بن گیا ہے؟ مرنے والے کی ذات سے ہمارا یہ تعلق کس نوعیت کا ہے کہ اپنا سب کچھ اجڑتا ہوا نظر آتا ہے اور یہ کیفیت مجھ ہی پر نہیں لاکھوں اور کروڑوں انسانوں پر طاری ہے۔ ایک لمحے کی بات نہیں ایک عہد سوگوار ہے، قریے قریے سے آہوں اور سیکیوں کا دھواں اٹھ رہا ہے اور پھیلتا چلا گیا ہے۔ ہر شخص اس احساس سے نڈھال ہے کہ اس کی سب سے قیمتی متاع لٹ گئی۔ اپنائیت کا یہ شعور بے کراں ہے۔ بے پایاں ہے اور یہی نقد دل و جاں ہے اہور قذافی اسٹیڈیم انسانوں سے کھچا کھچ بھرا ہے۔ شاید چشم فلک نے اتنا عظیم ہجوم اس میدان میں پہلے کبھی نہ دیکھا ہو۔ سینوں میں جس قدر اضطراب، صفوں میں اسی قدر ارتباط کلمہ شہادت کی آوازیں بلند ہو رہی ہیں۔ دعائیں بے تابانہ ہونٹوں پر آگئی ہیں۔ دل کی گہرائیوں سے صدائیں اٹھتی ہیں کہ عہد حاضر کا امام اپنے رب کے حضور سرخرو ہو جائے اور ابدی سکون پائے اور اسے خدا کی رضا میسر آئے۔ جس کا حصول ہی ان کی زندگی کا واحد مقصد ٹھرا تھا۔

ان دعاؤں اور ان صداؤں میں ذرہ برابر تصنع اور دکھاوا نہیں مشاقان جمال خود بے اختیار ادھر آئے ہیں ان میں وہ خوش نصیب بھی ہیں جنہوں نے نماز جنازہ میں شریک ہونے کے لئے ہزاروں میل کی مسافت طے کی ہے۔ وہ بھی ہیں جو اندوہ و ملال سے کئی کئی راتیں سو نہ سکے۔ اور وہ بھی جو اپنے محبوب کے انتقال کی خبر سنتے ہی گھر بار چھوڑ دیوانہ وار نکل آئے، اس کاروان شوق میں جسمانی طور پر اپاہج بھی دکھائی دیئے۔ مگر ان کا عزم اور خلوص قابل دید تھا۔ چشم تاریخ نے ان کی جبین شوق بار بار چومی اور جذبوں نے بلائیں لیں۔ روح و دل کے اس عظیم الشان اجتماع میں بناوٹ کی گنجائش کہاں؟ یہاں تو وہی آئے جن کو جاہ و منصب سے زیادہ ایک اعلیٰ وارفع مقصد سے تعلق تھا۔ اس دعوت سے تعلق تھا جو رنگ، نسل برادریوں اور علاقوں میں کوئی تمیز نہیں کرتی اور انسان کو تقویٰ کے پیمانے سے ناپتی ہے۔ وہ ذات عالی مقام جو فتا کے مرحلے میں داخل ہو چکی تھی۔ پھر حکومتوں سے برسر پیکار ہی رہی ، بے نیاز ہی رہی۔ مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی خود تو گلزار کہکشاں تھے مگر ان کے گھر کے راستے میں کوئی کہکشاں نہ تھی۔ ان کی نماز جنازہ میں سفیر بھی تھے اور وزیر بھی اور سربراہ ملک بھی، مگر سچ یہ ہے کہ اصل رونق ان جوانوں اور جانثاروں سے قائم ہوئی جنہوں نے سخت آزمائشوں کے عہد میں مولانا کے پہلو بہ پہلو سینوں پر زخم کھائے، وہ ڈھال بن گئے تھے، بے مثال ہو گئے تھے۔

لاہور کی تاریخ میں سید مودودی کا جنازہ سب سے بڑا تھا۔ سارے پاکستان سے رهروان راه محبت کشاں کشاں کھنچے چلے آئے تھے۔ لاکھوں عقیدت مندوں نے آہوں اور اشکوں کے لب و لہجے میں سلام کیا۔ یہ مولانا محترم کی سیرت و کردار کی مقناطیسی کشش تھی کہ نماز جنازہ میں ان احباب نے شرکت کی جو زندگی میں ان سے اختلاف کرتے تھے۔ ان کے جذبات میں خلوص تھا۔ ان کی آنکھوں سے بھی خاموش آنسو جھانک رہے تھے۔ اور کچھ کہہ بھی رہے تھے ، مگر سننے والا آگے جاچکا تھا۔

٢٦ ستمبر کو چڑھتے ہوئے سورج نے دیکھا کہ دلوں پر حکومت کرنے اور گردنوں پر سوار ہو جانے والوں میں کتنا فرق ہے۔ ایک طرف جذبہ بے اختیار اور دوسری طرف ہوس بے لگام ۔۔۔ مولانا کو آخری بار سلام کرنے دل کے قافلے آئے تھے۔ خود سپردگی کا عجب عالم تھا! لوگوں نے اپنے آپ کو فراموش کر دیا تھا اور وہ ایک عظیم قوت میں تحلیل ہو گئے تھے۔ اہل نظر نے اسے اخلاق اور نظریاتی قوت سے تعبیر کیاہے۔

مولانا کا اس جہان فانی سے کوچ ایک فطری واقعہ ہونے کے باوجود بہت بڑا سانحہ اور ناقابل تلافی محسوس ہوتا ہے۔ ان ایسی بصیرت اور قدو قامت کی شخصیتیں عالم اسلام میں کبھی ڈھونڈے سے نہ ملیں گی۔ مولانا کے افکار جس درجہ مربوط اور ہمہ گیر تھے ان کے پیرایہ بیان میں جو سحر تھا اور ان کی زندگی نے جو انقلاب برپا کر دیا تھا اس کی مثال کئی صدیوں تک نظر نہیں آتی یہی وجہ ہے کہ اسلامی دنیا نے ان سے بڑے پیمانے پر استفادہ کیا اور ان کی کتابیں ذوق و شوق سے پڑھی جانے لگیں۔ اسی پس منظر میں حضرت مولانا کی وفات سے اسلامی افکار میں زبردست خلا پیدا ہو گیا ہے اور جید علمانے غم آگیں آواز میں کہا کہ ہمارے امام رخصت ہو گئے۔

پاکستان آج بڑے ہی نازک معاملات میں الجھا ہوا ہے۔ مولانا کی فراست اس عہد پر آشوب میں قوم کی فکری اور سیاسی رہنمائی کر سکتی تھی۔ یوں لگتا ہے کہ ان کے بغیر اب دونوں محاذ سونے پڑے ہیں۔ اس صہیب اور وسیع نقصان کے تصور ہی سے پڑا- مردگی سی طاری ہو جاتی ہے اور قومی جواب دے جاتے ہیں۔ مگر اسلام نے شخصیتوں کے بجائے اصولوں سے منسلک ہونا سکھایا ہے اور یہی تعلیم غمگساروں کو زندہ رہنے اور جدوجہد کرنے کا حوصلہ عطا کرتی ہے۔ سید مودودی نے اپنے پیروکاروں کو نظم و ضبط کے قابل رشک سانچوں میں ڈھال دیا تھا ۔۔۔۔۔۔ انہیں ایمان کے تقاضے اچھی طرح سمجھا دیئے تھے اور خدا کی واحدانیت پر ہر طرح کی وفاداریاں قربان کر دینے کی تربیت دی تھی۔ چنانچہ اسی لئے لاکھوں آنکھیں اشکبار ہونے کے باوجود احساس فرض سے دمک رہی تھیں۔ ان گنت لوگ شدت غم سے نڈھال اور بے ہوش ہو گئے، مگر انہیں اپنے نصب العین کا پورا پورا ہوش تھا۔ بے خودی میں بھی ہشیاری کا رنگ تھا۔ سادگی میں بھی ایک پرکاری تھی۔ لاتعداد افراد صبر و استقامت کا پیکر بنے خاموشی سے آنسوؤں کے ساغر پی گئے اور انہیں آنکھوں سے چھلکنے نہ دیا بے شمار لوگ ایسے تھے کہ انہوں نے آہ کو رسم وفا کے خلاف جانا اور تسلیم و رضا کی تصویر بن گئے۔ شعور و آگی سے معمور ہزاروں افراد نے بے ساختہ کہا کہ ہمیں مولانا کے جسم سے زیادہ ان کا مشن عزیز ہے اور ہم ہر قیمت پر اس مشن کو زندہ اور تازہ رکھیں گے۔ اصولوں اور شخصیت سے محبتوں کے مابین اس قدر عمدہ توازن دراصل سید مودودی کے اٹھائے ہوئے ذہنی انقلاب کا شاہکار ہے۔

مولانا سے میرا تعلق بڑا ہی گہرا اور بڑا ہی خاموش تھا۔ مجھے ان سے عقیدت بھی تھی اور محبت بھی۔ مگر ان عقیدتوں اور محبتوں سے یکسر مختلف جن کا عام طور پر اظہار ہوتا ہے۔ انہوں نے ہمیں اپنی تحریروں میں ایک نیا معیار عطا کیا تھا۔ وہ یہ کہ محبت اور عقیدت میں اندھے نہ ہو جاؤ۔ بلکہ ہر بات کو حق اور سچائی کی کسوٹی پر پرکھو اور شعور سے کام لو اس معیار نے مجھے یہ جرات بھی عطا کی کہ مولانا سے ان کی حکمت عملی پر کھلی گفتگو ہوتی اور اختلاف تک نوبت پہنچ جاتی۔ وہ ساری بات بڑے غور اور سنجیدگی سے سنتے رہتے اور آخر میں اپنا نقطہ نظر پیش کر دیتے۔ دراصل وہ بڑے سلیقے سے تربیت کرتے جاتے تھے۔

مجھے اس اعتراف میں بڑی خوشی محسوس ہو رہی ہے کہ میں جو کچھ ہوں ، مولاناکے فیض عام کی بدولت ہوں۔ میں نے ان کی کتابیں پڑھ کر پہلے سوچنا اور پھر اچھا برا لکھنا سیکھا اور یہ آرزو ہی رہی کہ ان جیسے دو جملے ہی لکھ سکوں، مگر یہ تمنا حسرت میں تبدیل ہو گئی۔ ان کے اسلوب کی شان ہی کچھ اور ہے۔ اسلام کو ایک نظام زندگی کی حیثیت سے میں نے مولانا کی تحریروں کے ذریعے پہچانا اور پھر اپنے طور پر بھی مطالعہ کیا۔ سچ یہ ہے کہ اگر ان کی کتابوں سے بچپن ہی سے تعلق پیدا نہ ہو جاتا، تو کیا خبر افکار کے جنگلوں میں کتنی ٹھوکریں کھانا پڑتیں اور پھر پاکستان کی عظمت اور اہمیت کا بھر پور شعور بھی مولانا کی سیاسی جدوجہد ہی نے دلایا اور دستور اور قانون کی بیشتر نزاکتیں ان کی تقریروں یا تحریروں سے معلوم ہوئیں۔ پھر سب سے بڑھ کر یہ کہ انہوں نے نقد و جرح کا ایک ذوق عطا کیا اور تجزیاتی انداز تحریر کی آبیاری فرمائی اور طاغوت اور ظلم کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالنے کی راہ دکھائی۔

میری ذات پر ان کے یہ احسانات اتنے زیادہ ہیں کہ آج اپنے آپ کو تنہا تنہا اور نامکمل سا محسوس کرنے لگا ہوں جیسے کسی بھی وقت بکھر جاؤں گا پاش پاش ہو جاؤ نگا۔ مگر مجھے تو ابھی ان کا مشن آگے بڑھاتا ہے وہی مشن جس کا سراغ انہوں نے قرآن حکیم کے مطالعے اور انبیاء صلحا اور شہداء کی عظیم الشان جدوجہد سے لگایا تھا اور وہ یہ ہے کہ انسانوں پر انسانوں کی حکومت کے بجائے خدا کی حکومت قائم کی جائے تاکہ ہمارا کرہ ارض عدل و انصاف و مساوات و حریت کا گہوارہ بن جائے۔ اس مشن میں بے پناہ جان اور توانائی ہے اور اس کے لئے سر دھڑ کی بازی لگا دینے والے کبھی جھڑتے نہیں کبھی ٹوٹتے نہیں، کبھی بکھرتے نہیں۔ میں اسی شجر سے وابستہ رہنا چاہتا ہوں۔

سید ابو الاعلیٰ مودودی جن پر ہمیشہ خدا کی رحمتوں کی بارش ہوتی رہے گی، اسلام کے بڑے ہی جی دار سپاہی تھے۔ انہوں نے تجدید و احیائے دین کے سلسلے میں رہ کارنامے سرانجام دیے جن پر اسلامی تاریخ صدیوں فخر کرے گی اور جوں جوں وقت گذرے گا۔ ان کی دعوت و عزیمت کا شعور اور زیادہ اجاگر ہوگا، ابھی تو بیشتر مسلمانوں کو معلوم ہی نہیں کہ مولانا اپنی مختصری زندگی میں کیا کچھ کر گزرے ہیں۔ معاصرانہ رقابتوں اور چشمکوں نے ان کا صحیح مقام متعین ہونے دیا ہی نہیں۔ ہر عہد میں یونیہوتا آیا ہے کہ اسلام کے بچے خادم کو سب سے زیادہ مزاحمت کا سامنا اپنے ہی لوگوں کی طرف سے کرنا پڑا۔ گھر کے فتوؤں سے لے کر جلاد کے کوڑوں تک نوبت آئی، مگر امام احمد بن حنبل " خندہ پیشانی ہے احیائے دین میں لگے رہے۔ امام مالک اور امام ابو حنیفہ انہی آزمائشوں سے گزرے، امام حسین علیہ السلام اسلام کے شورائی نظام کی حفاظت کے لئے نکلے، تو ان کے اور ان کے جان نثار رفقاء کے سینے تیروں سے چھلنی کر دیئے گئے۔ یہ داستان عزیمت بڑی ہی طویل ہے اور اب اس میں کوئی شک نہیں که سید مودودی اسی قافلے کے ایک فرد اور اسی عظیم سلسلے کی ایک اہم کڑی تھے۔ ان کے مخالفین نے اس نوع کے الزام بھی لگائے کہ مودودی مجدد ہونے کا دعویٰ کرنے والے ہیں اور اپنا ایک الگ فرقہ تیار کر رہے ہیں۔ مگر مولانائے محترم نے شعوری طور پر اپنا دامن ہر طرح کے ادعا سے پاک صاف رکھا۔ وہ تو بس کام کرتے رہے اور اسلامی مورخ ان کے کاموں ہی سے ان کا مقام اور مرتبہ متعین کرے گا اور جب تعصب کا غبار بیٹھ جائے گا اور وقت کی کسوٹی خوب اور ناخوب کو جدا جدا کر دے گی تو مولانا پر سب و شتم کے پتھر پھینکنے والے اپنے افعال پر یقینا" شرمندہ ہوں گے مگر اس لمحے کوئی خلافی نہ ہو سکے گی۔

سید مودودی نے اسلام کے لئے اتنے محاذوں پر جنگ لڑی ہے اور ایسے ایسے پیرایے میں اسے سر بلند رکھنے کی جہدوجہد کی ہے کہ اس کا احاطہ کسی ایک مضمون میں شاید ہی ہو سکے۔ وہ مسلسل ساٹھ برس جاہلیت اور طغیان کے خلاف جہاد کرتے رہے اور ساتھ ہی ساتھ مثبت قوتوں کی تنظیم اور تربیت میں ہمہ وقت مستعد نظر آئے اور خدا کے فضل و کرم سے ان کی مساعی برگ و بار لائیں۔ اسلامی قوتیں جو نصف صدی پہلے ہر محاذ پر شکست کھا رہی تھیں۔ آج انسانیت کے مستقبل کی امید بن گئی ہیں۔ اس عظیم تغیر میں سید ابو الاعلیٰ مودودی کا تاریخی کردار بڑا ہی کلیدی اور حد درجہ منفرد ہے۔

انہوں نے اسلامی نظام کی تشریح و تعبیر میں لاکھوں صفحات قلمبند کیے ہیں اور ان کی ضخیم کتابوں کی تعداد ساٹھ سے متجاوز ہے اور چھوٹے چھوٹے کتا بچوں کی تعداد تو خاصی بڑی ہے۔ وہ کتابیں اردو زبان میں لکھی گئیں اور ان کا ترجمہ دنیا کی ہر بڑی زبان میں ہوچکا ہے یا ہو رہا ہے۔ اس کرہ ارض پر جہاں کہیں اسلامی تحریک اٹھی ہے وہاں مولانا کے لٹریچر کی پیاس محسوس ہوئی ہے۔ آج یہ عالم ہے کہ اسلام کے موضوع پر جو بھی کانفرنس ہوتی ہے اس میں مولانا کی کتابیں حوالے کے طور پر پیش کی جاتی ہیں اور ان کی رائے کو بڑے احترام کی نظر سے دیکھا جاتا ہے۔ اسلام کی نشاۃ ثانیہ کا بہار آفریں منظر ابھرا ہے، اس میں بھی انہی جیسی بزرگ ہستیوں کا خون اور عرق شامل ہے۔

سید مودودی مرحوم و مغفور نے اپنی طرف سے کوئی اچھوتا نظریہ اور کوئی نیا فکر پیش نہیں کیا۔ انہیں امامت اور قیادت کا شوق نہ تھا۔ ان کی یہ آرزو بھی نہ تھی کہ تاریخ میں ان کا نام ایک نئے دبستان فکر کے بانی کی حیثیت سے آئے۔ وہ تو فقط اسلام کو اس کی خالص شکل میں دنیا کے سامنے رکھ دینا چاہتے تھے۔ اوہام اور رسوم و رواج کی آلائشوں سے پاک صاف اسلام _____ نئی اور پرانی جاہلیتوں سے منزہ اور پاکیزہ اسلام _____ زنده متحرک اور انقلاب آفرین اسلام ______ ایک نظام ایک تہذیب اور ایک تمدن کی صورت میں اسلام ______ دلوں میں اتر جانے والا اور ذہنوں کو مسخر کر دینے والا اسلام _____ نوجوانوں میں امید یقین اور عمل کی صلاحیتیں بیدار کر دینے والا اسلام _____ غالب اور کار فرما اسلام _______ ترقی تعمیر کی ہر امکانی صورت سے بھی آگے اسلام _______

سید ذی وقار نے اسلام کا نیا ایڈیشن تیار نہیں کیا۔ جیسا کہ اس عہد میں ہوتا رہا ہے، بلکہ خالق اور مخلوق کے درمیان جو پردے حائل کر دیئے گئے تھے انہیں چاک کر ڈالا۔ فرسودہ تصورات نے جو بیچ دار جالے بن رکھے تھے۔ انہیں حکمت و دانائی ۔ تار تار کیا اور جمود کے سارے ہی بت پاش پاش کر دیئے یہ کام کچھ سہل نہ تھا۔ مگر بڑے آدمی تو ہاتھ ہی بڑے کاموں میں ڈالتے ہیں اور جنگل کے جنگل صاف کر کے شاہراہیں بنا لیتے ہیں۔

ایسا معلوم ہوتا ہے کہ سید مودودی نے اسلام کو پورے شعور کے ساتھ قبول کیا تھا اور غالبا قبولیت کا یہ عمل برسوں جاری رہا ہوگا۔ وہ خود بتایا کرتے تھے کہ نوجوانی کے دنوں میں ان کا ذہن قرآن اور حدیث کے بارے میں طرح طرح کے شکوک و شبہات سے اٹا رہتا تھا اور وہ تمام سوالات اٹھتے رہتے تھے۔ جو مغربی علوم و تہذیب کی یلغار نے بالعموم مسلم نوجوانوں میں پیدا کر دیئے تھے۔ پھر وہ تلاش حق میں نکلے اور ہر مذہب کا لٹریچر پڑھ ڈالا۔ مغرب کے جملہ علوم کا غور سے مطالعہ کیا۔ تاریخ کے زیر و بم کھنگال ڈالے۔ اسلام کے عروج و زوال کی داستان پر برسوں غور و فکر کیا۔ قانون، منطق، عمرانیات، اخلاقیات، معاشی رجحانات اور علمی و تہذیبی تحریکوں پر دسترس حاصل کی اور پھر وہ قرآن کے مطالب میں گم ہو گئے۔ ایک ایک مقام پر ہفتوں غور کرتے رہے اور جب تک ذہن مطمئن اور سیراب نہ ہو گیا، آگے نہ بڑھے۔ اسی انداز سے احادیث کا مطالعہ کیا اور پھر پورے اسلامی لٹریچر کو سامنے رکھ کر اسلام کی ایک مکمل تصویر بنا ڈالی۔ امام غزالی گیارہ برس، حقیقت کی جستجو کرتے رہے تھے۔ ان پر بھی بے یقینی اور شکوک و شبہات کا ایک دور آیا تھا اور جب وہ اس دور سے عین الیقین کی طرف آئے، تو امام کے منصب پر فائز ہوئے۔ کچھ یہی کیفیت جناب مورودی پر گزری۔ ان کا عہد جستجو نبتا" مختصر تھا اور جب دل اور ذہن کو یکسوئی حاصل ہو گئی تو پوری قوت سے اسلام کی حمایت میں نکل آئے اور دشمنوں پر وہ تابڑ توڑ حملے کئے کہ انہیں بالا خر پسپا ہونا پڑا- - - - اور اسلام کی آواز اور اس کے اثرات پہلے سے کہیں زیادہ پھیل گئے۔

مولانا کا سب سے بڑا کارنامہ یہ ہے کہ انہوں نے اسلام کو ایک مکمل نظام حیات کی حیثیت سے پیش کیا۔ نظام زندگی کے حوالے مسلم مفکرین کے ہاں پہلے بھی موجود تھے ، مگر وہ صرف اشارے ہی تھے۔ ان کی تحریروں سے مکمل نظام حیات کا واضح نقشہ تھے ، مگر وہ صرف اشارے ہی تھے۔ ان کی تحریروں سے مکمل نظام حیات کا واضح نقشہ مرتب نہ ہوتا تھا۔ سید مودودی نے بے پناہ ریاض اور کاوش سے کام لے کر قرآن و حدیث کے حوالے سے ایک جامع منصوبہ تیار کیا جس میں نظام عقائد، نظام عبادات نظام اخلاق، نظام قانون نظام معیشت اور نظام معاشرت باہم مربوط اور ایک دوسرے سے پیوست نظر آتے ہیں۔ ایک درخت کی مانند جس میں جڑ اور کونپلوں کے درمیان گہرا تعلق ہوتا ہے۔

اس واضح نقشے نے تعلیم یافتہ نوجونواں کی سب سے زیادہ متاثر کیا۔ غیر مسلم اہل قلم نے اسلام کے خلاف مدتوں یہ زہریلا پروپیگنڈہ کیا تھا کہ اسلام چند منتشر اور فرسودہ تعلیمات کا نام ہے۔ اس میں کوئی ادارہ ہے، نہ کوئی نظام معاشیات کے اصول ہیں، نہ دستور سازی کے امکانات وہاں تو غلام ہیں، لونڈیاں ہیں، خونی جنگیں ہیں، بد قسمتی سے مغرب کا یہ پروپیگنڈہ مسلم ذہنوں پر بھی اثر کر گیا۔ اور انہوں نے بھی اسلام میں کیڑے ڈالنے شروع کر دیے اور اور بعض بدبخت اس حد تک جا پہنچے کہ انہوں نے ا سلام کا ایک ایسا ایڈیشن تیار کر لیا جس کا مقصد فرنگی حکمرانوں کو خوش کرنا اور ملت بہ کی قوت کو توڑ دینا تھا۔ ہمارے بعض اچھے اچھے دماغ مغربی علوم و فنون سے اس درجہ مرعوب ہوئے کہ انہوں نے قرآن کی اصطلاحات کو عجیب عجیب معنی پہنا دے۔ ان کی تحریروں سے اسلام کے لئے کوئی ولولہ اور جوش اور اعتماد پیدا ہونے کے بجائے ایک طرح کی ندامت اور ایک نوع کی شکست کا احساس پیدا ہو تا تھا۔

سید ابو الاعلیٰ مودودی نے ایک طرف مغربی تہذیب سے پیدا ہونے والی تباہ کاریوں پر سے پردہ اٹھایا اور مغربی علوم کی لغزشوں پر سخت گرفت کی اور دوسری طرف اسلام کے اعلیٰ و ارفع نظام کی ہیئت ترکیبی پر روشنی ڈالی اور دلائل و براہین سے یہ ثابت کیا کہ انسانیت کے دکھوں کا مداوا صرف اسلامی زندگی میں ہے۔ ان کی باتیں واعظ کی ہی نہ تھیں بلکہ اعلیٰ درجے کی تحقیق سے مزین ہوتی تھیں۔ انہوں نے قطعیت کے ساتھ بتایا کہ اسلام کے اندر اقتدار کا تصور کیا ہے، حکومت کی نوعیت کیا ہے، حکمرانوں اور عام شہریوں کے حقوق و فرائض کس انداز کے ہیں مشاورت کی جدید شکلیں کیا ہو سکتی ہیں، بنیادی حقوق کا پھیلاؤ کیا ہے، حکومت فرد کی آزادی پر کیا کیا قدغن لگا سکتی ہے۔ اور فرد حکومت پر کہاں تک تنقید کر سکتا ہے۔ اسی طرح اسلام کے معاشی اصول جدید زندگی میں کیا انقلاب لائیں گے، محنت کا اجر کیا ملے گا سرمایے کو کس حد تک پروان چڑھنے کی اجازت ہوگی آجر اور اجیر کا باہمی رشتہ کیا ہو گا دولت کی تقسیم کس بنیاد پر ہوگی، پیداوار میں کس کس کا حصہ ہوگا، مٹھی ملکیت کی اجازت کس حد تک ہو گی اور اجتماعی مصالح اور مفادات کا خیال کہاں تک رکھا جائے گا، چونکہ مولانا نے ان مباحث میں جدید اصطلاحات استعمال کیں اور جدید ترین معاشی نظریات اور تکنیک پر ناقدانہ نظر ڈالی اس لئے جدید تعلیم یافتہ طبقے کو ان کی باتیں سمجھنے میں کم وقت محسوس ہوئی اور وہ بھی اسلام کی عظمت پر کامل شعور کے ساتھ ایمان لاتا چلا گیا۔

سید ابو الاعلیٰ مودودی کا دوسرا عظیم کارنامہ یہ ہے کہ انہوں نے مسلمانوں کے اندر قرآن ضمی کا صحیح معنوں میں ذوق و شوق پیدا کیا قرآن حکیم جو اللہ تعالی کی ہدایت کا سب سے مستند اور محفوظ سر چشمہ ہے ہم اس سے غافل ہو گئے تھے۔ ۔۔۔ ہمارے بعض علماء نے قرآن سے زندگی کے معاملات میں رہنمائی حاصل کرنے کے بجائے اسے جھاڑ پھونک تک محدود کر لیا ادھر مستشرقین نے ایسے ایسے رکیک حملے کئے کہ ہمارے تجدد پسند اسکالر ڈگمگا گئے اور انہوں نے بعض مقامات پر الفاظ کے معانی یکسر بدل ڈالے۔ پھر یہ بھی ہوا کہ بعض مفسرین نے تفسیر و تشریح کے ضمن میں ایسے ایسے مباحث چھیڑ دیے جن کا زندگی سے کوئی تعلق تھا اور نہ قرآن سے۔ بیشتر تراجم اتنے لجھے اور ٹوٹے ہوئے تھے کہ اللہ تعالی کا مدعا سمجھ ہی میں نہ آتا تھا۔

مولانا نے اس میدان میں اس قدر مہتم بالشان کام کیا ہے کہ لاکھوں سینوں سے ان کے لئے ہر وقت دعائیں نکلتی ہیں۔ تقسیم القران نے زبردست ذہنی انقلاب برپا کر دیا ہے نوجوان کا قرآن حکیم سے شغف بڑھتا جا رہا ہے اور انہیں اللہ کی کتاب کے مطالعے میں لذت آنے لگی ہے اردو زبان میں قرآن کی ترجمانی اتنے عمدہ انداز میں ہوئی ہے کہ زبان پر چھوٹے چھوٹے جملے از خودرواں ہو جاتے ہیں اور تاثیر کے نشتر بن کر سینے میں پیوست ہوتے ہیں آسمانی کتاب کا زور بلاغت اور حسن فصاحت جوں کا توں اردو زبان میں منتقل تو نہ ہو سکتا تھا لیکن مولانا نے ترجمانی کے لئے جو زبان استعمال کی ہے، اس سے بہتر زبان شاید ہی اس دور میں لکھی جاسکے عام فہم اتنی کہ سهل ممتنع بھی رشک کرے ، اور رواں دواں ایسی کہ موجوں کی روانی ٹھر ٹھر جائے ، جلال بھی ہے اور جمال بھی بوندوں کی پھوار ہے اور بجلی کا کڑکا بھی، جیسے جیسے مضامین بیان ہوتے ہیں، الفاظ انہی کیفیات میں ڈھلتے چلے جاتے ہیں۔

زبان میں قوت اور تاثیر کے علاوہ تقسیم القرآن میں اس امر کا خاص طور سے اہتمام کیا گیا ہے کہ اسلام کا نظام حیات مربوط انداز میں قاری کے سامنے رہے تقسیم القرآن کی چھ جلدوں میں اتنی وسعتیں سمٹی ہوئی ہیں کہ حیرت بھی ہوتی ہے اور خوشی بھی۔ قرآن کے مطالعے سے اگر اس نظام زندگی کا بنیادی ڈھانچہ نہیں ملتا جسے قائم کرنے کے لئے یہ کتاب اتاری گئی، اور خدا کا رسول بھیجا گیا تو پھر مقصد پورا نہیں ہوتا۔ سید ابوالاعلیٰ نے اس نظام حیات کا پورا نقشہ اور مکمل عمارت فراہم کر دی ہے ور اس محسن انسانیت کی ساری زندگی بھی سامنے آگئی ہے جس نے تئیس برسوں میں ڈیزائن کے مطابق عمارت مکمل کی تھی۔

تفہيم القرآن کی یہ خصوصیت بڑی ہی منفرد ہے کہ آپ اسے جوں جوں پڑھتےجائیں گے توں توں اپنے اندر اسلامی تحریک میں حصہ لینے کی آمادگی پائیں گے آپ کاجی چاہے گا کہ خیرو شر اور حق و باطل کی کش مکش میں کود پڑیں اور اللہ کا غشاء زمین پر نافذ کرکے ہی دم لیں قرآن حکیم ایک مسلمان کی زندگی میں جو انقلابی روح پھونک دینا چاہتا ہے، تفہیم القرآن میں اس کا بڑی حد تک سامان موجود ہے۔ قلوب و اذہان کو مسخر کرلینے والی اس تفسیر کو مختلف زبانوں میں منتقل ہونے دیجئے اور پھر دیکھئے کہ انقلابی جذبوں کی فراوانی کا عالم کیا ہوتا ہے۔

سید ابوالاعلیٰ مودودی نے مسلمانوں پر ایک عظیم احسان یہ کیا کہ انہیں احساس کمتری اور عذرخواہانہ رویوں اور شکست خوردہ ذہنیت سے بڑی حد تک نجات دلا دی۔ اسلام کے حق میں اٹھارویں اور انیسویں صدیاں بڑی ہی مہلک ثابت ہوئیں مسلمان مفکر اور سائنس دان عہد زوال میں تحقیق و جستجو سے دور ہوتے چلے گئے اور یورپ میں احیائے علوم کی تحریک نے علم و ہنر کے نئے نئے راستے کھول دیئے۔ ہمارے زیادہ تر علماء فقتی اور فروعی بحثوں میں الجھے رہے اور علوم و فنون کی نئی یلغار سے دامن بچاتے بچاتے خانقا ہوں اور مدرسوں میں محدود ہو گئے، زندگی کے حقیقی میدان میں مغربی مفکروں، دانش وروں اور ہنر مندوں کا غلبہ ہوگیا اور انہوں نے بے رحمی اور سفاکی اور بددیانتی سے اسلامی تہذیب و تمدن کے نقوش مٹانے شروع کئے اور اسلام کے خلاف جرائد و کتب کا سیلاب سا امڈ آیا جس میں یہ تاثر دیا گیا کہ مسلمان جلاد ہیں اور ہر آن تلوار سونتے انسانی بستیوں پر پل پڑنے کے لئے مستعد رہتے ہیں، پادری مستشرقین کے روپ میں نمودار ہوئے۔ انہوں نے حضرت محمد صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی ذات مطہر پر نازیبا حملے کئے اور ان کی مقدس زندگی کے اردگرد بہت سے رومانوی فسانے تراش لئے۔ اس خونخوار مہم کا عالم اسلام پر گہرا اثر پڑا اور اسلام سے عام بیزاری اور بے تعلقی بڑھتی گئی۔ سب سے پہلے علامہ اقبال نے مغربی علوم کے سمندر پی لینے کے بعد مغربی مفکروں کو چیلنج کیا اور اسلام کی صحیح اور سچی تصویر بڑی چابک دستی سے پیش کی، ان کی فلسفیانہ تحریروں نے مغرب کے ممتاز مفکروں کو اپنی طرف متوجہ کیا دوسری طرف ان کی شاعری نے مسلمانوں میں فرنگی تہذیب کے خلاف شورش سی بپا کر دی اور ان کے اندر کسی حد تک خودی کا شعور بیدار ہوا۔ علامہ اقبال ۱۹۳۸ء ہی میں رحلت فرما گئے اور ان کا عہد آفریں کام سید ابوالاعلی نے جاری رکھا دراصل وہ علامہ ہی کی دعوت پر پنجاب منتقل ہوئے تھے۔

مولانا کا اپنا اسلوب جداگانہ تھا۔ انہوں نے فلسفیانہ لب ولہجہ اختیار کرنے کے بجائے سادہ طاقت ور اور دلنشین طرز ادا التیار کی علمی شان و وجاہت کے ساتھ مغربی تہذیب کے بخیے ادھیٹر ڈالے اور فکری بالا دستی کا سحر توڑ ڈالا اور آگے بڑھ کر اس قدرجارحانہ حملے کئے کہ کفر کی دنیا میں کھلبلی سی مچ گئی۔ ان کی زندہ جاوید کتاب " بہاد فی ' 'لاسلام" نے علامہ اقبال کو غیر معمولی طور پر متاثر کیا۔ وہ ایک خط میں لکھتے ہیں :

"کتاب الجہاد فی الاسلام کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ اس میں مولانا ابو علیٰ مودودی نے معذرت خواہانہ لہجہ اختیار نہیں کیا بلکہ جنگ اور جہاد سے متعلق اسلام کے جو نظریات ہیں انہیں کسی تاویل یا تفسیر کے بغیر بڑے کروفر سے پیش کیا ے۔ اسلام کے نظریہ جہاد اور اس کے قانون صلح و جنگ پر مولانا ابو الاعلیٰ مودودی کی كتاب الجهاد فی الاسلام ایک بہترین تصنیف ہے میں ہر ذی علم آدمی کو مشورہ دیتا ہوں کہ وہ اس کا مطالعہ کرے"۔

وہ اسلام کی صداقتوں اور قدروں کو پورے اعتماد کے ساتھ اجاگر کرتے ہیں اور ان صداقتوں کو ماننے والوں میں زبردست جوش و خروش اور بے پایاں عزم و یقین پیدا کر دیتے ہیں، مسلمانوں کو احساس ہزیمت سے نکال کر انہیں آزادی کی جدوجہد سے روشناس کرا دینا اور ایک غالب و کار فرما تہذیب و تمدن کا شعور بخش دینا اور حکمرانی کے اسلامی اصولوں کو دنیا بھر کے لئے ایک چیلنج بنا دینا در حقیقت ایک ایسا عظیم کارنامہ ہے جس پر موجودہ نسل اور آنے والی نسلیں فخر کریں گی۔ اور ان کا تجدیدی کام بھی کسی اعتبار سے کم نہیں کہ انہوں نے اسلامی تاریخ کو مسلمانوں کی تاریخ سے ممیز کیا۔ ان کا تاریخی شعور غایت درجہ مستحکم اور حد درجہ لطیف تھا، انہوں نے سیاسی مصلحتوں ۔ سے بالا ہو کر اسلامی تحریک اور اسلامی تہذیب کے عروج و زوال کا ناقدانہ جائزہ لیا اور جو نتائج مرتب ہوئے انہیں بے کم و کاست قلمبند کر دیا ۔ رسول کریم حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے انسانی معاشرے میں جو انقلاب برپا کیا تھا اور وہ جس قوت سے آگے پھیلا تھا اور بعد میں جو طاقتیں مزاحم ہوئی تھیں ان کو اسباب و علل کے اصولوں پر اچھی طرح پر کھا اور انسانوں کو انسانی سطح پر رکھتے ہوئے ان کی خوبیوں اور کمزوریوں کی نشاندہی کی۔ یہ جرح و تنقید "خلافت و ملوکیت میں اپنے عروج پر نظرآتی ہے تجدید و احیائے دین میں بھی اسی قسم کا تنقیدی عمل موجود ہے ہمارے علماء کی اچھی خاصی تعداد ان دونوں کتابوں سے برہم دکھائی دیتی ہے اور اس نے مختلف مواقع پر مخالفت کے طوفان بھی اٹھائے اور مسلمانوں کو احترام اور عقیدت کے نام پر طرح طرح سے اکسایا بھی، یہ روش آج بھی قائم ہے۔ دراصل دینی مدرسوں میں تربیت یافتہ حضرات بالعموم تاریخی علوم اور تاریخی اصول اور تاریخی شعور سے کم ہی آشنا ہیں وہ کسی تہذیب اور کسی انقلاب کے عروج و زوال میں دلچسپی نہیں رکھتے، انہوں نے بزرگ ہستیوں کے ارد گرد تقدس کے ہالے بنا رکھے ہیں اور وہ صحابہ کرام اور اولیائے عظام کو غلطیوں اور خطاؤں سے بلند تر سمجھتے ہیں اور اسی پر قانع ہیں۔ اب اگر کوئی شخص اسی انقلاب کو دوبارہ زندہ کرنا چاہتا ہے جو قرآن حکیم نے عرب کی سر زمین پر برپا کیا تھا تو وہ لامحالہ تاریخ میں اتر کر یہ معلوم کرنا چاہے گا کہ اسلامی تہذیب کو روبہ زوال کن کن عوامل نے کیا؟ کیا فتنے اٹھے اور کس کس سے کیا لغزش ہوئی اس بے لاگ تجزیے کے بغیر احیائے دین کی کوئی بھی کوشش کامیاب نہیں ہو سکتی۔ دو راستوں میں سے ایک ہی راستہ اختیار کیا جاسکتا تھا یا تاریخ کو سرے سے ہاتھ ہی نہ لگایا جائے اور اسلام کو سرنگوں ہی رکھا جائے یا پھر واقعات و عوامل کی چیر پھاڑ کی جائے اوراسلامی انقلاب کو ماضی کی غلطیوں سے محفوظ رکھتے ہوئے ایک زندہ قوت بنا دیا جائے مولانا نے اپنے لئے دوسرا راستہ منتخب کیا اور پامردی سے ہر مخالف کا وار سہا اور اپنا مشن جاری رکھا کہ روح عصر سے واقف انسانوں کا یہ شیوہ رہا ہے۔

سید ابو الاعلیٰ مودودی نے ایک طرف تاریخی واقعات کا بے لاگ محاکمہ کیا اور دوسری طرف ان اداروں، ان شعبوں اور ان تحریکوں کا بھی حکیمانہ جائزہ لیا جو مسلمانوں کے انحطاط اور زوال کا باعث بنی ہوئی تھیں انہوں نے اصول تفسیر، علوم حدیث، اصول فقہ علم کلام نظام تصوف اور فلسفہ و منطق کے مختلف دبستانوں پر دینی اور تاریخی پس منظر میں شرح و بسط کے ساتھ لکھا اور کسی رو رعایت کے بغیر امراض کی نشان دہی کر دی مگر جہاں جہاں نشتر اترا ایک ہنگامہ اٹھتا چلا گیا۔ دین اور مذہب کے نام پر صدیوں سے جو اجارہ داریاں قائم تھیں ان کے مجاور سخت طیش میں آگئے اور وہ ارباب دانش" بھی بل کھانے لگے جو عصر حاضر کا لیبل لگا کر مسلمانوں کو دین سے بیزار اور بے تعلق کر رہے تھے۔ مولانا کا محکم استدلال یہ تھا کہ اسلام ایک زندہ متحرک اور روزمرہ کے معاملات میں رہنمائی بہم پہنچانے والا دین ہے اس کے مزاج کا اولین تقاضا یہ ہے کہ غور و فکر اور سوچ بچار کا عمل جاری و ساری رہے اور اس کی فطری نشوونما پر جمود طاری ہونے نہ پائے۔ اس مقصد کے لئے استنباط استخراج اور جھاد کی اشد ضرورت ہے مگر ہمارے ہاں جو بیشتر مدر سے اور دارالعلوم قائم ہیں وہ طالب علموں میں وہ نگاہ اور بصیرت پیدا نہیں کرتے جو مزاج شناس رسول ہو اور حاضر کے مسائل اسلام کی روشنی میں حل کر سکتی ہو؟ اس لئے ہمیں ایک ایسا نظام تعلیم قائم کرنا ہو گا جو قرآن و سنت کا صحیح فہم عطا کرے اور جدید علوم کو اسلامی نقطہ نظر کے تابع کر دے، اس کے علاوہ مولانا نے تصوف کے موجودہ نظام پر بھی تنقید نقطہ نظر کے تابع کر دے، اس کے علاوہ مولانا نے تصوف کے موجودہ نظام پر بھی تنقید میں ہاؤ ہو کے سوا اور کچھ نہیں رہا جب کہ اسلام دنیا کا سب سے بڑا انقلابی مذہب ہے اور وہ مسلسل عمل اور پیہم جدوجہد کا تقاضا کرتا ہے۔

مولانا کی ان تنقیحات نے بعض قدامت پسند علماء کے اندر بے حد اضطراب پیدا کیا انہوں نے حقیقت حال پر ٹھنڈے دل و دماغ سے سوچنے اور اصلاحی تجاویز پر عمل کرنے کے بجائے نئی آواز کو دبا دینا چاہا اور الزام تراشیوں اور بہتان طرازیوں کا طوفان اٹھا دیا، مولانا غیر معمولی صبر و تحمل سے کام لیتے ہوئے ان کی بے سروپا باتیں سنتے رہے اور خاموشی سے ذہنوں کا آپریشن کرتے چلے گئے۔

دوسری طرف تجدد پسند طبقہ ان کا بہت زیادہ مخالف ہو گیا انگریزوں کےزیر اثر مسلمانوں میں ایسا ذہن بھی پیدا ہو گیا تھا جو اسلام کےاندر سےاس کی روح نکال دینا چاہتا تھا کسی نے کہا اب جہاد حرام ہو چکا ہے دوسرے نےکہا اب احادیث کا ذخیرہ نا قابل اعتبار ہے،اس لئے قرآن ہی سب کچھ ہے اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حیثیت (خاکم بدہن) ایک ہرکارے یا ایک ایلچی کی سی ہے کہیں سےآواز بلند وئی کہ اجتہاد کےذریعے نئے زمانےسے ہم آہنگ ایک نیا نظام وضع کیا جاسکتا تھا کسی نے فتویٰ دیا کہ سود کی موجودہ صورت کسی بھی طور حرام نہیں۔ بعض فتنہ سامانوں نے یہ شوشہ بھی چھوڑا کہ قرآن میں شراب کی تحریم کا حکم ہے ہی نہیں۔ اور -ایک گروہ نے یہ تاویل بھی پیش کی کہ انگریزوں کی اطاعت قرآن کی رو سے لازم قرار پاتی ہے۔ مغربی علوم و فنون کی آب و تاب سے خیرہ ہو جانے والے بعض دماغوں نے دو قرآن اور دو اسلام کی اصطلاح بھی وضع کی اور مسلمانوں کے ذہنی انتشار میں اضافہ کیا۔

سید ابوالاعلیٰ نے ان تمام غلط اور گمراہ کن رجحانات اور تحریکات کا ڈٹ کر مقابلہ کیا اور اپنے قلم سے جو خداداد قوتوں اور صلاحیتوں سے آراستہ تھا شب و روز کام لیا اور شکوک و شبہات کے سارے ہی کانٹے صاف کر دیئے اور اٹھنے والے فتنوں کا وہ اور شکوک و شبہات کے سارے ہی کانٹے صاف کر دیئے اور اٹھنے والے فتنوں کا وہ سدباب کیا کہ نوجوان ذہنوں کی کایا ہی پلٹ گئی، مولانا نے اسلام کے تاریخی تسلسل اور عظیم روایات کے درمیان مضبوط رشتہ قائم رکھا اور اجتہاد کا حق فقط ان اصحاب کو دیا جو قرآن و سنت اور پورے اسلامی لڑیچر پر کامل دسترس رکھتے ہوں جن کی سیرت و کردار اسلام کے سانچے میں ڈھلی ہو اور جو نئے مسائل کا ادراک اور حل تلاش کرنے کی صلاحیت رکھتے ہوں، ان حدود و قیود نے تجدد پسند حضرات کے سارے ہی عزائم خاک میں ملا دیئے۔ اس طرح اسلام کے اندر پاپائیت کے لئے بھی کوئی گنجائش نہ رہی اور دین کی قیود سے آزاد ہو کر من مانی کرنے کا حق بھی نہ ملا۔ پھر مولانا نے پردے کی حمایت میں ایک ایسی معرکہ آراء کتاب تصنیف کی کہ اسلام کا مکمل معاشرتی اور تہذیبی نظام بھی سامنے آگیا اور مغربی تہذیب کی ہولناکیاں اور ہوس رانیاں بھی بے نقاب ہو گئیں، اس کے علاوہ جب سود کے موضوع پر قلم اٹھایا تو دنیا بھر کے معاشی تصورات کے اچھے اور برے پہلو اس طرح اجاگر کئے کہ اسلام کا اقتصادی نظام عدل و توازن کا شاہکار نظر آنے لگا پھر قرآن کی چار بنیادی اصطلاحیں اس طور قلم بند کیں کہ نو آبادیاتی نظام کو ملیامیٹ کر دینا ہر مسلمان کے لئے لازم قرار پایا اور طاغوت سے ٹکرا جانا جہاد کا اہم حصہ ٹھہرا اور عالمی سطح پر ایک عادلانہ نظام کا قیام قرآن کا منتہائے مقصود بن کر سامنے آیا۔ اس قلمی جہاد نے تجدد پسند گردہ کو مولانا کا بد ترین دشمن بنا دیا دین کو اپنی مرضی کے تابع رکھنے والے حضرت سید ابوالا علیٰ مودودی کو رجعت پسند اور کٹر ملا اور انتہا پسند مجنون کے خطابات سے نوازتے رہے اور قدامت پسند علماء کا ایک طبقہ انہیں گستاخ قرار دیتا رہا۔ دونوں طبقے اپنے اپنے مفادات کے لئے شعلے بھڑکاتے رہے لیکن اس سے بڑی اور کوئی حقیقت نہیں ہو سکتی کہ سید مودودی نے سیرتِ رسول جس انداز سے مرتب کی اور نبوت کا صحیح مقام جس قوت، جس بصیرت اور جس عشق و محبت سے اپنی تحریروں، تقریروں اور عملی جدوجہد میں واضح کیا، اس کی مثال ان حلقوں میں شاید ہی مل سکے گی جو میلے سجانے اور محفلیں منعقد کرنے سے یہ سمجھ بیٹھے ہیں کہ اطاعت رسول کا حق ادا ہو گیا۔

اور اسی طرح یہ حقیقت بھی ناقابل تردید ہے کہ مولانا اپنے عہد کے بڑے ہی روشن خیال اور بڑے ہی معتدل مزاج اور بڑے ہی جدید ذہن کے انسان تھے انہوں نے دینی معاملات کی تشریح اور تعبیر میں حیاتیاتی، نفسیاتی، معاشی، عمرانی اور بین الاقوامی تقاضے جس عمدگی اور حسن و خوبی سے جذب کئے ہیں وہ انہی کا حصہ ہے اس الاقوامی تقاضے جس عمدگی اور حسن و خوبی سے جذب کئے ہیں وہ انہی کا حصہ ہے اس لئے ان کے ہاں شدت نہیں۔ وہ انسانی فطرت کا پورا پورا خیال رکھتے ہیں اور دین میں بے جا سختی اور تنگی پیدا کرنے کے زبر دست مخالف انسانی جذبوں اور داعیوں کے وہ زبردست نبض شناس تھے اس لئے انہوں نے رسائل و مسائل میں غیر معمولی حکمت، میانہ روی اور حقیقت پسندی سے کام لیا ان جیسا بالغ النظر اور وسیع الظرف دینی رہنما خدا جانے کب پیدا ہو۔

سید ابوالاعلیٰ مودودی بیسویں صدی کے آغاز میں پیدا ہوئے یہ عہد بڑا ہی پرفتن تھا۔ یورپ میں خدا اور مذہب کے خلاف عام بغاوت کی تھی فلسفی، مورخ، ادیب اور سائنس دان اور سیاسی مفکرین نت نئے نظریات پیش کر رہے تھے، سب نے مل جل کر ایک ہی تاثر دیا کہ دنیا کی زندگی ہی سب کچھ ہے اور انسان تخلیق کے اعتبار سے ایک حیوان ہی تو ہے اس لئے حیوانی خواہشات کی تکمیل میں وہ پوری طرح آزاد اور خود مختار ہے اور خدا کا کہیں وجود نہیں۔

ان افکار و نظریات کی تبلیغ و اشاعت بڑے پیمانے پر ہوئی اور علوم و فنون کے مختلف شعبوں میں جو نئی نئی دریافتیں اور انکشافات ہو رہے تھے انہیں مذہب اور خدا کے خلاف استعمال کیا گیا ایک دنیا مبہوت ہو گئی اور الحاد اور دہریت کا ایک طوفان سا امڈ آیا خدا سے بیزاری ایک فیشن سا بن گیا۔

اس زمانے میں ڈارون کا طوطی بولنے لگا اور پھر کارل مارکس کے اقتصادی نظریات سامنے آئے اور ادھر فرائڈ نے جنسی بے راہ روی کے سارے دروازے کھول دیئے ہر قدر اور ہر اصول طوفان کی زد میں تھا اور یوں محسوس ہوتا تھا کہ مسلمان اپنی میراث شاید ہی محفوظ رکھ سکیں۔ ہندوستان کی سرزمین سے سب سے پہلے علامہ اقبال نے کفر و الحاد کی تحریکوں اور اس کے اساسی نظریات کو چیلنج کیا اور علمی انداز میں یورپ کے مفکرین اور محققین کی فکری لغزشیں بے نقاب کیں اور اسلام کےتصورات، عقائد اور اخلاقی اور سیاسی نظام کوانی کے اسلوب اور انہی کے پیرایے میں پیش کیا۔ ان کی کاوشوں ۔ مسلمانوں میں اعتماد پیدا ہوا۔

علامہ اقبال کی تحریریں بہت گہری اور دقیق تھیں، انہیں سمجھنے کے لئے اعلیٰ ذہنی صلاحیتوں کی ضرورت تھی ان کے چھ خطبات جس قدر بلند پایہ ہیں اسی قدر کم سمجھےگئے ہیں اسی طرح ان کی شاعری نے فرنگی استعماریت کے خلاف جذبات میں طوفان سا اٹھا دیا اور ملت اسلامیہ کو اپنی ذات کا شعور بخشا اور اس کے اندر حضرت محمد صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی محبت کا رس بھر دیا مگر شاعری ایک مفصل نظام فکر و عمل تخلیق نہ کر سکتی تھی، اس میں تو بلیغ اشارے اور پر تاثیر کنایے ہی ممکن تھے۔ نہ کر سکتی تھی، اس میں تو بلیغ اشارے اور پر تاثیر کنایے ہی ممکن تھے۔

سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ نے ان اشاروں اور کنایوں سے آگے بڑھ کر مستقل کتابیں تصنیف کیں۔ پہلے مغربی علوم کا برسوں مطالعہ کیا ایک دریافت اور ایک ایک نظریے کی حقیقت سمجھی، تاریخ کے سارے ہی زیروبم دیکھے فلسفیوں اور مفکروں کی زندگی کا مطالعہ کیا ادب اور لٹریچر پر ناقدانہ نظر ڈالی۔ یورپ میں کلیسا نے کیا کیا گل کھلائے تھے ان کا تفصیلی جائزہ لیا اور پھر قرآن اور سنت کے مطالعے سے جو نور بصیرت حاصل ہوا اور ان پر عمل کرنے سے جو شرح صدر میسر آیا، اس سے بھرپور کام لیتے ہو۔ ہوئے مولانا نے دہریت ، الحاد سرمایہ داری اشتراکیت اور قومیت کے خلاف جہاد کا آغاز کر دیا ان کی تنقید اس قدر جامع مدلل اور سائنٹیفک ہوتی کہ دوسری طرف سے اس کا معقول جواب کم ہی بن پڑتا تھا خدا کے وجود اور یوم آخرت کے جواز میں انہوں نے ایسی ایسی دلیلیں فراہم کیں کہ ہر ذی علم انہیں مانے پر مجبور تھا ان کے علم کلام میں سادگی، سلاست اور تاثیر تھی، ان کا زور بیان اور نفس موضوع پر ان کی کامل دسترس عقل و فکر کو تسخیر کرتی ہوئی قلب و جگر میں اتر جاتی تھی مولانا کی تقسیمات اور تنقیحات کا باوقار اور جادو اثر لہجہ دیکھنے کی چیز ہے وہ تمام بڑے بڑے مرض جن میں یورپ کی مادہ پرستانہ تہذیب مبتلا تھی مولانا کا نشتر قلم ان کے اندر ست ہو گیا انہوں نے خالص تحقیقی اور سائنسی زبان میں ان تصورات پر کاری ضرب لگائی جو مادیت الحاد اور اشتراکیت کی بنیاد بنے ہوئے تھے ان حملوں سے اہل یورپ گھبرا گئے اور دوسری طرف مسلم نوجوانوں میں بلا کا جوش اور ولولہ پیدا ہوا۔مولانا کے لٹریچر نے جس جواں نسل کو سیراب کیا وہ دیوانہ وار اخلاق اور مذہب کی طرف لپکی اور خود مغرب اور مشرق میں روحانیات اور اخلاقیات کی پیاس بڑی ہی شدت سے محسوس کی جانے لگی۔

علامہ الشیخ مصطفیٰ زرقا جو شام کے جید علماء میں شامل ہیں ، مولانا مودودی کے قلم کی قوت اور کاٹ کو محسوس کرتے ہوئے فرماتے ہیں

"حضرت مولانا سید ابوالاعلیٰ دینی فکر کے اعتبار سے امام غزالی اور امام ابن تیمیہ کی صف کے مفکر ہیں۔" اور علامہ سید سلیمان ندوی ان کو برسر پیکار دیکھتے ہوئے پکار اٹھے تھے ”مولانا مورودی صاحب سے علمی دنیا پورے طور پر واقف ہو چکی ہے اور یہ حقیقت ہے کہ آپ اس دور کے متکلم اسلام اور ایک بلند پایہ عالم دین ہیں۔ یورپ سے الحادود ہر یت کا جو سیلاب ہندوستان میں آیا تھا، قدرت نے اس کے سامنے بند باندھنے کا انتظام بھی ایسے ہی مقدس اور پاک طینت ہاتھوں سے کرایا ہے جو خود یورپ کے قدیم و جدید خیالات سے نہایت اعلیٰ طور پر کما حقہ واقفیت رکھتا ہے اور پھر اس کے ساتھ قرآن و سنت کا اتنا گہرا اور واضح علم رکھتا ہے کہ موجودہ دور کے تمام مسائل پر اس کی روشنی میں تسلی بخش طور پر گفتگو کر سکتا ہے۔"

سید ابو الاعلیٰ مودودی نے اسلام کا نظام فکر و عمل مجموعی حیثیت سے واضح کرنے، مسلمانوں کو جاهلانه اور مشرکانه رسم و رواج سے بلند تر کر دینے گروہ بندیوں اور فرقہ پرستیوں سے نجات دلانے اور الحاد و مادیت کی یلغار کی روک تھام کے لئے نهایت جلیل القدر کتابیں تصنیف کیں اور سعید اور پاکیزه روحوں کو یکجا کرکے اسلامی انقلاب کےلئے جاں گسل کشمکش کی بنا ڈالی مگر وہ ایک بار بھی اپنی خدمات اور احسانات کا ذکر زبان پر نہ لائے اس سے بڑھ کر یہ کہ سب سےالگ اور سب جدا چلنے کے بجائے ہمیشہ اپنے آپ کو اسلامی تحریکوں کا ایک فرد اور اک خادم جانا اور دنیا بھر کے تمام علماء اور صلحا کو مشترکہ پلیٹ فارم پر اکٹھا کر کے ان کے پہلو بہ پہلو چلنے کی سعادت حاصل کی۔

وہ انفرادیت سے زیادہ اجتماعیت کے قائل تھے امام خمینی ہوں یا قطب شہید حسن النبا ہوں یا عبد القادر عودہ وہ سب ہی کے معترف اور سب ہی کے ہم سفر تھے اسلام پر اچھی کتاب کہیں شائع ہوئی تو انہوں نے اسے اپنی متاع گراں مایہ سمجھا اور پھر مختلف زبانوں میں منتقل کرانے کا خاص طور سے اہتمام کرایا۔ ان رویوں سے یہی پتہ چلتا ہے کہ وہ اپنی ذات اپنی شہرت یا اپنی مقبولیت کے بجائے اسلام کے فروغ اور اسے غالب کر دینے کے آرزومند تھے نام و نمود کے ہر رنگ سے گریزاں اور ذاتی نمائش کے ہر پہلو سے بالا تر جانتے تھے کہ ماضی میں مسلمانوں کی بڑی تحریکیں کسی ایک فرد کی انا پر قربان ہو گئیں یا پھر معتقدین کے والہانہ پن نے قائد کو فریب نفس میں بلا کر دیا اور ہزاروں نئے جاگ اٹھے مولانا نے اپنی ذات نہ کسی پر مسلط کی اور نہ اسے مرکز پرستش بننے دیا، حزم و احتیاط کا یہ عالم کم کم ہی دکھائی دیتا ہے اور جہاں ہے وہاں حقیقی عظمت بھی ہے۔

سید مودودی نے قلمی جہاد جس تندہی اور عرق ریزی سے کیا اس سے بہت بڑا جہاد یہ تھا کہ سیرت و کردار میں عظیم انقلاب پیدا کر دیا۔ بعض کتابیں انہوں نے اس طرح تصنیف کیں کہ رات کے وقت لکھنے بیٹھتے اور صبح ہونے تک مکمل کرکے اٹھتے ایک بار دوران گفتگو فرمایا۔ ایک زمانے میں خیالات و افکار یوں اٹڈ اٹڈ کے آتے تھے کہ انہیں سمیٹ لیتا دشوار ہو جاتا مجھ پر خدا کا یہ ہمیشہ ہی خاص فضل رہا کہ لکھنے سے پہلے کسی موضوع پر کچھ سوچنے کی ضرورت محسوس ہی نہ ہوتی۔ بلاشبہ ان کی خداداد صلاحیتوں اور توانائیوں نے جو کچھ تخلیق اور تصنیف کر دیا ہے اور اسے جو شہرت دوام حاصل ہوئی ہے وہ دنیا کے بڑے سے بڑے ادارے اور بڑے سے بڑے دماغ نہیں کرسکتے ہیں کارنامہ کچھ کم بڑا نہ تھا کہ انہوں نے سیرت سازی کا دشوار تر فریضہ اپنے ذمے لے لیا اور یہاں بھی انہوں نے ابتداء اپنی ذات ہی سے کی۔

پہلے اپنی زندگی کو خدا اور رسول کی تعلیمات کے مطابق ڈھالنے کا بیڑہ اٹھایا اور مصنوعی طور طریق اختیار کرنے کے بجائے فطری اور شعوری راستہ اپنایا، ان کی آرزو تھی کہ ہر نوع کی تبدیلی قلب و ذہن کی کامل آمادگی کے ساتھ آنی چاہیے لہذا ذہن کو تیار کرتے رہے ڈاڑھی رکھنے سے متعلق مولانا نے ذہنی کشمکش کی ایک رات روداد سنائی۔

احادیث کے مطالعے سے مجھ پر یہ ظاہر ہوچکا تھا کہ ڈاڑھی رکھنا سنت کے درجےمیں ہے چنانچہ شیو کرتے وقت یہ بات ذہن میں ڈالتا گیا اور ڈاڑھی مونڈنے کے خلاف دل میں نفرت بٹھاتا رہا یہ عمل خاصی مدت اسی صورت میں جاری رہا اور پھرایک صبح دل نے شیو بنانے سے انکار کر دیا اور میرا ہاتھ وہیں رک گیا وہ دن اور آج کا دن اس کے بعد ڈاڑھی پر کوئی آنچ نہ آئی۔

یہ تھا مولانا کا مخصوص طریقہ ۔ وہ کوئی قدم اٹھانے سے پہلے جسم کی پوری قوتوں کو اپنا ہمنوا بناتے اور پھر جب قدم اٹھ جاتا، تو دنیا کی کوئی طاقت اسے واپس نہ لاسکتی تھی پھر کوئی خوف لاحق ہوتا نہ ملال کوئی پریشانی نہ کسی قسم کی پشیمانی یکسوئی کے ساتھ آگے بڑھتے چلے جاتے۔

مولانا کے ذی شان مقام نے سیرت و کردار کے سلسلے میں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اسوہ حسنہ کو سامنے رکھا اور اسی کے اتباع کو زندگی کا ماحصل اور آخرت کا زادراہ سمجها اور اپنے اندر وہ تمام بنیادی صفات پیدا کرلیں جو اسلامی تہذیب کے بھر پور اظہار کے لئے ناگزیر تھیں۔

رحمت دو عالم کی حیات طیبہ کا نمایاں پہلو ان کی حق پرستی اور صداقت شعاری ہے۔ مولانا نے اس آئیڈیل تک پہنچنے کے لئے مسلسل جدوجہد کی اور حق شناسی اور حق گوئی کو اپنا شعار بنالیا، قرآن اور حدیث سے جو بات ثابت ہو گئی، کمال آمادگی سے اپنائی، پھر اس کی حمایت اور اشاعت میں زندگی کا ایک ایک لمحہ صرف کر دیا وہ عمر بھر حق کا بول بالا کرنے کے لیے اذیتیں جھیلتے اور مصیبتیں اٹھاتے رہے اپنوں کے وار بھی سے اور غیروں کے زخم بھی لیکن صراط مستقیم پر ڈٹے رہے۔ سچ بات کے اظہار میں ذرہ برابر مصلحت سے کام نہ لیا اور مخالفتوں اور مزاحمتوں کا خندہ پیشانی سے استقبال کیا۔ بعض مقامات پر دوستوں نے انہیں خاموش رہنے یا سکوت فرمانے کا مشورہ بھی دیا مگر انہوں نے ان مشوروں کے علی الرغم سچی بات کسی اور نتائج سے بے نیاز ہو کر کہی۔ وہ فرمایا کرتے تھے کہ رسول خدا کی غلامی کا دعویٰ کرنے کے بعد یہ ممکن ہی نہیں کہ انسان حق سے دستبردار ہو جائے اس کی طرف سے آنکھیں بند کرلے، چنانچہ انہوں نے داعی حق کی حیثیت سے باطل کی قوت کا ڈٹ کر مقابلہ کیا اور جسم و جان کی ساری توانائیاں اسی مقصد عظیم میں کھپا دیں اور بس یہی آرزو رہی کہ اللہ تعالی میری سعی اور میری تگ و دو کو قبول فرمائے اور میری لغزشوں اور کوتاہیوں سے صرف نظر کرے حق کے راستے پر چلنے کے سارے ہی عواقب و نتائج ان کے سامنے تھے چنانچہ ان کی تحریروں اور ان کی تقریروں میں واضح اشارے اور نقشے ملتے ہیں' ایک موقع پر ان کے الفاظ یہ تھے۔

"حق کے متعلق یہ بات اچھی طرح سمجھ لیجئے کہ وہ بجائے خود حق ہے وہ ایسی مستقل اقدار کا نام ہے جو سراسر صحیح اور صادق ہیں اگر تمام دنیا اس سے منحرف ہو جائے تب بھی وہ حق ہی ہے ۔۔۔ مصائب حق پر نہیں، اہل حق پر آتے ہیں لیکن جو لوگ سمجھ کر کامل قلبی اطمینان کے ساتھ یہ فیصلہ کر چکے ہوں کہ انہیں بہرحال حق ہی پر قائم رہنا اور اسی کا بول بالا کرنے کے لئے اپنا سارا سرمایہ حیات لگا دینا ہے وہ مصائب میں مبتلا ضرور ہوتے ہیں، لیکن ناکام کبھی نہیں ہو سکتے“۔

مولانا کو اپنے مقصد کی سچائی اللہ تعالی کی تائید و حمایت اور حق و صداقت پر قائم رہنے والوں کی کامیابی پر اس قدر ماتہ یقین تھا کہ بدترین حالات میں بھی وہ گھبراتے نہ تھے کیا کیا وقت نہیں گذرا ان پر ! حکومت شدید مخالف عوام سخت برہم اور حق پرستوں کی مٹھی بھر جماعت راہ چلتے تو لوگ کانٹے کو دوڑتے یہ محمد طویل تر ہوتا گیا مگر مولانا یہی فرماتے رہے کہ ہم حق پر ہیں اور ایک دن قوم اپنی غلطی محسوس کرے گی حق کے لئے یہ استقامت دامن رسول" کے وابستگان ہی میں پیدا ہو سکتی ہے۔

سیرت رسول میں رزق حلال، حمیت اور عزت نفس کو غیر معمولی مقام حاصل ہےمولانا نے اپنی زندگی میں ان تینوں باتوں کا خاص طور پر اہتمام فرمایا وہ تاریخ کے حوالے سے اس حقیقت تک پہنچ گئے تھے کہ دعوت حق وہی شخص لے کر اٹھ سکتاہے اور اسے آبرومندی سے آگے بڑھا سکتا ہے جس کے پاس جائز وسائل اور اچھے انسانوں کی ایک جماعت ہو وہ قائد جو اپنے اخراجات کے لئے دوسروں کے ہاتھوں کی طرف دیکھتا ہو کم ہی آزادی، بے خوفی اور خود داری سے کام کر سکتا ہے، چنانچہ سید ابولاعلیٰ مودودی نے سب سے پہلے اپنے لئے اور اپنے خاندان کے لئے رزق حلال کا باعزت انتظام کیا، کتابوں کی تصنیف و اشاعت کے ذریعے شروع میں بس اتنا میسر آگیا کہ تنگی ترشی سے گزر بسر ہو سکے، خاص مدت تک یہی عالم رہا۔ مولانا کے کپڑوں پر بسا اوقات پیوند لگے ہوتے پھر اپنی قلیل آمدنی کا ایک حصہ جماعت اسلامی کے لئے وقف کر دیا۔ دعوت حق کی خاطر وہ جس ایثار کا مطالبہ دوسروں سے کرتے تھے، سب سے ہلے اس ایثار کا نمونہ خود قائم کیا، برسوں جیل میں رہے لیکن کسی کو کانوں کان خبر نہ ہونے دی کہ ان کا گھر کس حال میں ہے جاں نثار رفقاء نے از خود ان کے معاملات میں دلچسپی لی مگر ان کی طرف سے کبھی تقاضا نہ ہوا۔-

خود دار اس قدر کہ حکومت سے کبھی کوئی درخواست نہ کی جیل کے حکام نے بتایا کہ ہم نے مولانا کی زبان سے کبھی کوئی حرف شکایت نہ سنا خدا کے سوا کسی اور سے التجا کرنا یا اس کے آگے ہاتھ پھیلانا ان کے تصورات ہی سے خارج تھا جب وہ پہلی بار جیل گئے تو اپنے مضبوط کیریکٹر کے ان مٹ نقوش چھوڑ کر آئے اس زمانے کا ایک سینئر وارڈن مجھ سے ملا اس نے بتایا کہ مولانا کو جیل خانے میں جو کمرہ دیا گیا وہ بڑا ہی گرم تھا سخت گرمیوں میں بالکل تندور کی مانند تپنے لگتا مولانا نے اف تک نہ کی اور پنکھے کا مطالبہ بھی نہ کیا کچھ عرصے کے بعد انہیں ٹیبل فین فراہم کیا گیا، مگر وہ چلتا کم اور شور زیادہ کرتا تھا مولانا وہ عذاب بھی خندہ پیشانی سے برداشت کر گئے ان کی پیشانی پر کوئی بل تھا نہ کوئی عکس ملال۔ وہ تو رضائے الہی کی لذتوں سے سرشار تھے۔

مولانا نے دعا کی قبولیت کے زیر عنوان تفہیم القرآن میں اپنا ایک واقعہ درج فرمایا ہے اس کے پڑھنے سے اندازہ ہوتا ہے کہ وہ زندگی اور موت کے نازک ترین لمحات میں بھی اپنی عزت نفس کے کس حد تک پاسدار تھے اور صرف اللہ تعالی ہی کے آگے حرف مدعا بیان فرماتے تھے تفہیم القرآن کی چھٹی جلد میں صفحہ نمبر ۵۶۰ پر ایک عجیب و غریب حاشیہ درج ہے۔

۱۹۴۸ء میں جب مجھے نظر بند کیا گیا، تو چند روز بعد ایک پتھری میرے مثانے میں آکر اڑ گئی اور سولہ گھنٹے تک پیشاب بند رہا میں نے اللہ تعالی سے دعا کی کہ میں ظالموں سے علاج کی درخواست نہیں چاہتا تو ہی میرا علاج فرمادے چنانچہ وہ پتھری پیشاب کے راستے سے ہٹ گئی اور ہیں برس تک ہٹی رہی یہاں تک ۱۹۷۸ء میں اس نے پھر تکلیف دی اور اسے آپریشن کر کے نکالا گیا"۔

چند ہی سال بعد ۵۲ء میں قادیانیوں کے خلاف تحریک چلی۔ مولانا نے ”قادیانی مسئلہ" کے عنوان سے ایک فکر انگیز پمفلٹ لکھا، ان دنوں لاہور میں مارشل لاء نافذ تھا۔ نئے ضابطوں کے تحت یہ پمفلٹ فوجی حکام کو پیش کر دیا گیا مارشل لاء کے ذمے دار افراد نے پمفلٹ پر تو پابندی عائد نہ کی، البتہ مولانا اور ان کے رفقاء گرفتار کرلئے گئے پھر فوجی عدالت میں مقدمہ چلا۔ میں نے عدالت کی کارروائی سنی تھی صاف نظر آتا تھا کہ پہلے ہی سے کوئی فیصلہ ہو چکا ہے اور جلد ہی ہم نے یہ بری خبر بھی سن لی کہ مولانا کو سزائے موت سنا دی گئی ۔ موت سنا دی گئی ہے میں ان دنوں پنجاب یونیورسٹی میں ایم اے علوم اسلامیہ کا طالب علم تھا۔ مولانا کی سزائے موت کی خبر سنتے ہی دل کا برا حال ہو گیا تھا سےاس روز ہمارے شعبےمیں کوئی تقریب تھی میں نے استاد محترم علامہ علاؤ الدین صدیقی صاحب کو فون کیا کہ آپ یہ تقریب ملتوی کو دیجئے کہ آج موقعہ غم ہے وہ بولے یہ تو نہ ہو سکے گا مجھے شدید جھٹکا سا لگا اور میں دیر تک جذبات کی لہروں پر ہچکولے کھاتا رہا ذہن نے کیا کیا سوچا تھا اب کچھ یاد نہیں صرف اتنا یاد ہےکہ سزائےموت کےخلاف ایک طوفان سا اٹھ کھڑا ہوا تھا، پاکستان کے اندر ہیجان تھا اور باہر شدید اضطراب مگر مولانا جیل کی سلاخوں کے پیچھے پر سکون اور باوقار رہے پھر فوجی حکام کی طرف سے رحم کی اپیل کا شاخسانہ اٹھا اور جب پس دیوار زنداں مولانا کو یہ پیغام دیا گیا تو ان کا چہرہ انگارے کی مانند تمتما اٹھا اور ان کی طرف سے گرجدار آواز میں یہ الفاظ سنائی دیے۔

خدا کی ذات پر غیر متزلزل یقین اسی شخص کے اندر پیدا ہو سکتا ہے جس نے اپنے آپ کو پہچان لیا ہو اور آخرت کو اس دنیا پر ترجیح دے چکا ہو۔ اور مخلوق کے آگے اپنی گردن جھکانے کو تیار نہ ہو مولانا نے جب اپیل کی پیش کش نوک پائے استحقار سے ٹھکرا دی تو اس کے بعد کیا کچھ وقوع پذیر ہوا وہ تو ایک لمبی داستان ہے مگر یہاں فقط یہ بتانا مقصود ہے کہ مولانائے ذی شان اس مقام پر بھی چٹان کی طرح جے رہے جہاں انسان کا پورا وجود لرز اٹھتا ہے کچی بات یہ ہے کہ ان کے اس دلیرانہ اور شجاعت مندانہ طرز عمل نے جہاں لاکھوں انسانوں کے دلوں میں جگہ بنالی وہاں انسان کی عظمت میں بھی غیر معمولی اضافہ کر دیا۔

اس واقعے کے بعد سید ابوالاعلیٰ مودودی ۲۶ سال اور زندہ رہے اور اس پورے عرصے میں ایک بار بھی انہوں نے دست طمع دراز نہیں کیا، کوئی موقع ایسا یاد نہیں آتا جب انہوں نے کسی صاحب اقتدار سے ملنے کی خواہش کی ہویا اپنے لیے کچھ طلب فرمایا ہو حالانکہ اکثر حکمران اس انتظار ہی میں رہے کہ مولانا کی طرف سے کوئی اشارہ ہی ہو جائے ۔ 1943ء میں لاہور کے بھائی گیٹ اور لوہاری گیٹ کے درمیان جماعت اسلامی کا سالانہ اجتماع ہوا حکومت نے ہر معقول جگہ دینے سے انکار کردیا تو اہل حق نے اسی تنگ پٹی پر خیموں کا شہر بسا دیا۔ ارباب اقتدار اس اجتماع سے اس قدر خائف تھے کہ انہوں نے لاؤڈ سپیکر استعمال کرنے کی اجازت نہ دی ان کا خیال تھا کہ مولانا اس ضمن میں ذاتی طور پر درخواست کریں گے مگر ایسا نہ ہوا اور مقرر کی آواز سامعین تک پہنچانے کا ایک انوکھا نظام وضع کیا گیا، پہلے مقرر چند جملے ادا کرتا اور وہی جملے مختلف اشخاص مختلف مقامات پر دہراتے چلے جاتے اور آخری کونے تک بات پہنچ جاتی، اس اجتماع میں مجھے بھی شرکت کا شرف حاصل ہوا ایک ڈیڑھ لاکھ کے اجتماع میں بلا کا نظم اور کامل سکوت کار فرما تھا اتنا گہرا سکوت کہ سوئی کرنے کی آواز بھی سنی جاسکے۔ سامعین گوش بر آواز تھے اتنے میں پنڈال کے آخری حصے میں کچھ شور سا اٹھا کرائے کے غنڈوں نے اپنے ہی وطن کے شریف لوگوں پر حملہ کردیا تھا طنا میں کائی جارہی تھیں اور قرآن کے نسخے اچھالے جارہے تھے اور پھر ایک شخص کو پستول کی گولی لگنے کی خبر پھیلی، غنڈے مولانا کی طرف بڑھ رہے تھے اور کچھ ان خیموں کیی طرف جہاں خواتین جمع تھیں۔ مولانا عزیمت واستقامت کی چٹان بنے اپنی جگہ طرفڑے رہے اور ان کے ایک اشارے پر ایک بار پھر نظم قائم ہو گیا اور مختلف حفاظتی ٹولیوں نے اپنے اپنے فرائض سنبھال لیے حملہ آوروں کے تیور دیکھ کر بعض حفاظتی ٹولیوں نے اپنے اپنے فرائض سنبھال لیے حملہ آوروں کے تیور دیکھ کر بعض عشاق نے مولانا کو بیٹھ جانے کا بلند آواز میں مشورہ دیا اس پر ان کی زبان سے بے اختیار ایک عظیم جملہ ادا ہوا وہ یہ تھا۔

ان الفاظ میں کتنا اعتماد تھا! اور گردو پیش پر کس قدر بھر پور مطنز! اس رقت آمیز نظر کو میں نے آگے چل کر ایک شعر کے قالب میں یوں ڈھالا تھا۔

گر رہی ہیں وفا کی دیواریں
ایک عالم ہے اور ہم نها

سالانہ اجتماع پر غنڈوں کی چڑھائی سے شہر لاہور پر گہرے اثرات مرتب ہوئے وگوں کی نفرت نواب کالا باغ اور ایوب خان کے خلاف شدید تر ہوگئی ہر شخص کی زبان پر یہی تھا کہ وہ شخص جو راہ خدا میں شہید ہوا، اس کا خون ضرور رنگ لائے گا۔ دوسرے روز اسی جگہ پھر اجتماع ہوا اس بار حاضری پہلے سے بھی زیادہ تھی ماحول قدرے سوگوار تھا مگر خوف وہراس یا شکست و ہزیمت کے آثار دور دور تک نہ تھے وقت مقررہ پر مولانا تشریف لائے اور انہوں نے روح کو گرما دینے والی ایک پر عزم تقریر کی جس میں اور باتوں کے علاوہ یہ بات بھی کی گئی تھی کہ جماعت اسلامی کا ایک رکن شہید ہوا ہمیں قاتلوں کا علم ہے، لیکن ہم نے یہاں عدالت میں قتل کا مقدمہ درج کرانے کے بجائے خدا کی عدالت میں مقدمہ درج کرادیا ہے اور اب ادھر ہی سے کوئی فیصلہ صادر ہوگا اور قدرت کی طرف سے فیصلہ صادر ہوا نواب کالا باغ کا حشر سب کے سامنے آگیا خدا کی لاٹھی بے آواز ہے۔

مولانا کی ساری زندگی اسی طرح کے واقعات سے معمور ہے انہوں نے اپنی عزت نفس پر کبھی حرف نہ آنے دیا کچھ مانگا تو اپنےرب سے مانگا مصیبت کے وقت پکارا تو اسی کو پکارا دستگیری کے لیے دیکھا تو اسی طرف دیکھا حال دل سنایا تو اسی کو سنایا اور یہی وجہ ہے کہ مرد درویش سےکاخ و ایوان کانپتے تھے اور اختیارات کے مالک اچھی طرح سمجھتے تھے کہ اس درویش صفت انسان کو خریدا جاسکتا ہے اور نہ جھکایا جاسکتا ہے اور نہ اس کی کمزوریوں سے فائدہ اٹھانے کی گنجائش ہے۔

خدا پرستی اور خود نگری کی صفات پیدا کر لینے کے ساتھ ساتھ مولانا نے سادہ پاکیزہ اور سیدھی زندگی گزارنے کا پورا پورا اہتمام کیا ایک وضع جو انہوں نے اپنالی تھی، اس پر آخری دم تک قائم رہے شان شوکت سے طبیعت کو ذرہ برابر لگاؤ نہ تھا ضروریات زندگی کم سے کم اور جو کچھ میسر آیا اسے قرینے اور سلیقے سے استعمال کیا صفائی ستھرائی ان کے مزاج کا سب سے اہم حصہ بن چکی تھی لباس میں پیوند تو ہو سکتے ہیں مگر اس پر دھبے اور داغ کبھی نہ ہوں گے میں نے انہیں ہمیشہ سفید کپڑوں میں ملبوس دیکھا سفید کرتا اور پاجامہ کسی تقریب یا جلسے میں گئے تو شیروانی زیب تن کرلی۔ شیروانی کا کپڑا بہت زیادہ قیمتی نہ ہو تا گذشتہ سال میں ان کے لیے باہر سے شیروانی کا پڑا لایا۔ بڑی شفقت سے قبول کرتے ہوئے فرمایا۔

”اب میں عمر کے اس حصے میں ہوں کہ شایدا سے استعمال نہ کرسکوں“

میری آنکھوں میں بے اختیار آنسو آگئے دل کٹنے لگا اور میری حالت غیر ہو گئی پھر پنے آپ پر قابو پایا اور مولانا کے چہرے کی طرف دیکھا وہی اطمینان تھا اور وہی سکون میں نے عرض کیا۔ "آپ تو ماشاء اللہ صحت مند نظر آتے ہیں اور ذہنی طور پر پہلے ہی کی طرح چاق و چوبند ، پھر آپ عمر کے حصے کی بات کیوں کرتے ہیں فرمایا ”میرا چہرہ دراصل میری اندرونی کیفیات کا آئینہ دار نہیں۔ بیماری نے مجھے بالکل کھو کھلا کر دیا ہے اب مجھ سے لکھا ذرا نہیں جاتا یہ بھی اللہ کا فضل ہے کہ اس حالت میں بھی پڑھ لیتا ہوں کتنا اچھا ہو کہ سیرت کا کام مکمل کرنے کی مہلت اور ہمت مل جائے مگر قدرت کا اپنا اور ہی نظام ہے مولانا کی آرزو تشنہ تکمیل ہی رہی اور بلاوا آگیا۔

مولانا کی سادہ زندگی میں نفاست بڑی تھی ان کے بالوں کی تراش خراش سلیقے کی وتی میں نے ان کے بال الجھے اور بکھرے نہیں دیکھے داڑھی بھی ترشی ہوئی رہتی وہ پنی وضع قطع سے ایک متوازن خوش ذوق اور وضعدار انسان معلوم ہوتے تھے ہمارے بعض علماء نے تقوی کو بے ترتیبی بدو ضعی اور بے سلینگی کا مترادف بنارکھا تھا سید اابوالاعلیٰ نے اس تاثر کو زائل کرنے کی شعوری کوشش کی اور اسلام کے منشا اور مزاج کے عین مطابق سادگی، پاکیزگی اور اجلے پن کو اپنایا تاکہ لوگ قریب آنے سے ہچکچا میں نہیں بلکہ کھنچے چلے آئیں اور ملنے جلنے میں ایک گونہ خوشی حاصل کریں۔

اس اجلے پن کے پہلو بہ پہلو مولانا نے اپنی زندگی میں ریا کاری تصنع اور دکھاوے کو داخل نہ ہونے دیا وہ جو کچھ ظاہر میں تھےوہی باطن میں ان کےہاں دو شخصیتیں تھیں نہ دو معیار ان کی شفقت ان کا دھیما پن ان کی قلتگی سب کےلیےتھی کسی کے ساتھ بھی امتیازی سلوک روانہ رکھتے۔ پاکستان کی سیاسی زندگی جس میں سےبہت سےمرحلے فریب اور تصنع ہی سے سرکئے جاتے ہیں بار بار مولانا سے روپ دھارنے کا تقاضا کرتی رہی۔ لیکن انہوں نےایک راست باز انسان کی حیثیت سے اس طرح کی ہر پیش کش ٹھکرا دی بعض دوستوں نے بھی مشورے دیئے کہ پنجاب میں پیری مریدی کا سلسلہ شروع کر دیجئے، سیاسی اثرات میں بہت زیادہ اضافہ ہو جائے گا ان کا ایک جواب تھا کہ میں سوانگ رچانے کو تیار نہیں بعض حلقوں کی طرف سے یہ تجویز بھی آئی کہ مشرقی پاکستان میں مقبولیت حاصل کرنے کے لیے بنگلہ زبان کے چند جملے سیکھ لیجئے اور ہر جلسے میں دہراتے رہیے مولانا نے فرمایا ”میں اپنی بساط کی حد تک وہ زبان سیکھنے کی کر کوشش تو کروں گا تاکہ وہاں کے حالات سے براہ راست آگاہی حاصل ہو جائے مگر میں ایک مداری کا کردار ادا نہیں کر سکتا اسی طرح ان کی خدمت میں یہ خیال بھی پیش کیا گیا کہ سندھ کے دورے پر جاتے ہوئے اجرک اوڑھ لیجئے یہاں بھی ا ن کا جواب یہی تھا کہ میں تو حق کی دعوت لے کر اٹھا ہوں اور وہ دعوت چھچھورے پن سے نہیں پھیل سکتی۔

درجے میں کوئی چھوٹا ہو یا بڑا وہ سب سے ایک طرح ملتے اسلامی جماعت کا ایک غریب ترین کارکن انہیں کج کلاہوں سے زیادہ عزیز تھا وہ خوش بھی ایسے مہی لوگوں میں بیٹھ کر ہوتے تھے۔ خواجہ ناظم الدین سے لے کر جنرل ضیاء الحق تک تقریباً ہر فرمانروا سے کسی نہ کسی صورت میں ملاقات ہوتی رہی ان ملاقاتوں کے دوران مولانا گفتگو میں کم ہی پیش قدمی کرتے اور نہ کسی کے استقبال میں تصنع سے کام لیتے کام کی بات کرتے اور خاموش ہو جاتے یاوہ گوئی اور طول کلامی سے انہیں بے پناہ نفرت اور مغائرت سی تھی۔ ایک بار ایوب خان نے ملاقات کی غرض سے مولانا کو گورنر ہاؤس بلایا مولانا چلے گئے اور ملاقات گاہ میں ایوب خان سے آمنا سامنا ہوا ایوب خاں چند انیے اس انتظار میں رہے کہ مولانا بات کا آغاز شکریے کے ساتھ کریں گے مگر ادھر سے علیک سلیک کے بعد خاموشی ہی رہی۔

ایوب خاں لب کشا ہوئے مولانا سیاست تو بے حد گندا کھیل ہے آپ یہاں کس لئے ا آگئے مولانا نے بے محابا جواب دیا۔

"کیا آپ یہی چاہتے ہیں کہ یہ گندا ہی رہے"-

ایوب خاں لاجواب ہو گئے تاہم بات آگے بڑھانے کے لیے بولے۔ آپ اسلام کی تبلیغ واشاعت پر ساری توجہ مرکوز کردیجئے ہماری حکومت بھی جو خدمت کرسکتی ہے ضرور کرے گی۔

مولانا آہستگی سے لب کشا ہوئے۔

"اسلام کے اندر مذہب اور سیاست دوالگ الگ چیزیں نہیں حکومت میں اچھے لوگ ہوں گے تو وہ دین کی بہتر اشاعت کر سکیں گے اور صالح لوگ ہی اچھی حکومت چلا سکتے ہیں ایوب خاں نے اپنے دل میں ضرور سوچا ہوگا کہ آج وہ جس شخص سے ملے ہیں وہ باقی سب لوگوں سے مختلف ہے نہ جھک کر آداب بجالایا نہ اس نے چکنی چپڑی باتیں کیں نہ اپنے لیے کچھ مانگا اور نہ خدمت کا مقسوم سمجھا۔ حواریوں نے ان کے کان میں ڈال دیا ہوگا کہ بڑا ہی خود سرکلا ہے اور آپ کی جگہ لینا چاہتا ہے چنانچہ حکومت کے رویے میں سختی پیدا ہو گئی تھی اور مولانا کے خلاف پاکستان کی مخالفت کا پروپیگینڈا اور شدت اختیار کر گیا تھا۔

مسٹر بھٹو بھی مولانا مودودی سے کئی بار ملے ۔ بھٹو بلا کا عیار تھا اور مولانا بلا کے زیرک - - - ان ملاقاتوں میں سب سے مشکل بات یہ تھی کہ مسٹر بھٹو کے لیے جھوٹ بولنا، فریب دینا اور وقت پر گدھے کو باپ بنالینا بڑا ہی آسان تھا مگر مولانا یہ جانتے ہوئے بھی کہ ایک بدخو سے پالا پڑا ہے دھوکہ بازی سے کام نہیں لے سکتے تھے چنانچہ مسٹر بھٹو نے ہر بار سیاسی فائدہ حاصل کرنا چاہا اور وقتی طور پر کچھ ہاتھ آبھی گیا مگر آخر کار مولانا کی راست بازی اور صاف گوئی ہی غالب آئی اور سکہ اسی کا رواں ہوا۔

جنرل ضیاء الحق مولانا سے کئی مواقع پر ملنے آئے مگر ان ملاقاتوں کے دوران میں مولانا نے کسی بھی مرحلے پر تصنع سے کام نہیں لیا اور اپنے مقام اور منصب سے فروتر کوئی بات نہیں کی اور کسی اینچ بیچ کا مظاہرہ نہیں کیا وہ تو ایک کھلی کتاب کی طرح تھے جن کا ایک ایک فعل ذمے داری کے جذبے سے لبریز تھا اس عہد پیچ وخم میں ان سے کئی بار کہا گیا کہ آپ بھی خفیہ سیل قائم کردیں اور ڈھکے چھپے انداز میں اہم اور نازک معلومات جمع کریں اس نوع کی باتوں کے جواب میں وہ بس اتنا کہہ کر خاموش ہو جاتے کہ میرا یہ مزاج ہی نہیں میں تو کھلی باتوں اور کھلی سرگرمیوں کا قائل ہوں ایک صاحب سے ان کے مراسم خاصے پرانے تھے یا وہ صاحب یہ تاثر دیتے تھے کہ میری مولانا سے بہت پرانی یاد اللہ ہے گذشتہ سال انہوں نے مولانا کے نام ایک خط لکھا جس میں تحریر تھا کہ میں آپ کی ہر خدمت بجا لانے کو تیار ہوں یہاں تک کہ آپکے لیے جاسوسی بھی کر سکتا ہوں مولانا کو یہ خط پڑھ کر شدید صدمہ پہنچا اور انہوں نے اپنی عادت کے بالکل ہی خلاف اس خط کا جواب نہیں دیا۔ ہائے وہ کیسی پیاری صورت تھی جو خاک میں پنہاں ہو گئی۔

سرور دو عالم کے اسوہ حسنہ میں عفو و درگزر کو ایک خاص مقام حاصل ہے آپ نے اعلیٰ وصف کے ذریعے انسانی تاریخ کا دھارا ہی موڑ دیا۔ سید ابوالاعلیٰ مودودی نے اپنے آئیڈیل کی اطاعت و اتباع میں جذبات کے شدید ترین بحران پر بھی قابو پائے رکھا اور دشمنوں سے ہمیشہ اچھا برتاؤ کیا وہ ۴۰ برس پہلے دعوت حق کی خاطر نکلے تھے۔

اس موقع پر مٹھی بھر ساتھیوں کے سامنے انہوں نے جو تقریر کی اس کے بیشتر حصے سنہری حروف میں لکھنے کے قابل ہیں۔ بے پایاں غم خواری اور دل سوزی اور بے کار جذبوں کے ساتھ فرمایا تھا۔ ” برادران اسلام! میں ایک دور دراز علاقے کا رہنے والا اپنا گھر بار اور اپنے عزیزوں اور دوستوں کو چھوڑ کر آپ کی اس بستی میں صرف اس لیے آیا ہوں کہ میں اسلام اور مسلمانوں کی خدمت کرنا چاہتا ہوں ۔

مجھے یہاں کوئی لالچ کھینچ کر نہیں لایا نہ میں آپ سے کسی اجرت کا طالب ہوں۔ میں صرف آپ کے لیے اور سب مسلمانوں کے لیے دنیا اور عاقبت کی بھلائی چاہتا ہوں اور اس کام میں مجھے اگر کوئی لالچ ہے تو بس اتنا کہ شاید اس طرح میرا مالک مجھ سے راضی میں مجھے اگر کوئی لالچ ہے تو بس اتنا کہ شاید اس طرح میرا مالک مجھ سے راضی ہو جائے اور میرے گناہوں کو بخش دے۔

بھائیو! اگر تمہارا دل گواہی دے کہ اس کام میں مدد کرنا تمہارا فرض ہے تو میری مدد کرو اور میری مدد اس کے سوا اور کچھ نہیں ہے کہ خدا اور اس کے رسول کی تعلیم کے مطابق جو کچھ میں تم سے کہوں اسے قبول کردا ورجس بات سے منع کروں اس سے باز آجاؤ اور تمہاری فلاح دارین کے لیے جو کام میں کروں اس میں میرا ساتھ دو اگر تم ایسا کروگے تو خدا اپنے فضل سے میری اور تم سب کی تائید کرے گا اور ہمیں کامیابی عطا کرے گا۔

بھائیو! مجھے علم میں کامل ہونے کا دعوئی ہے نہ عمل میں کامل ہونے کا میں تو میں توگناہوں کی دنیا سے بھاگ کر یہاں پناہ لینے آیا ہوں تاکہ مجھ کو اپنی اصلاح کرنے اورپورا مسلمان بن جانے کا موقع مل جائے جس طرح دوسرے انسانوں کے علم اور عمل میں تو تاہیاں ہیں، اسی طرح میرے علم و عمل میں بھی ہیں۔ اس لیے میں کبھی یہ نہ چاہوں گا کہ تم آنکھیں بند کرکے میری پیروی کرو' '

لعل و گہر میں تلنےکے قابل اس تقریر کےبعد مولانا نےدعوت حق کو منظم طور پر آگےبڑھانے کا منصوبہ تیار کیا۔ اور اسی روز سےمخالفتیں شروع ہو گئیں۔ انگریز اس لیے مخالف کہ اس کی حکومت پر سب سی بڑی تنقید ادھر ہی سے ہوئی تھی۔ طاغوتی نظام کے خلاف علم بغاوت ادھر ہی سے بلند ہوا تھا۔ انگریزی حکومت میں ملازمت کرنے کو مولانا ہی نے حرام قرار دیا تھا۔

مغربی تہذیب و افکار پر تابڑ توڑ حملے انہی کا قلم سب سے زیادہ کر رہا تھا ہندو اس لیے برہم تھے کہ وطینت اور متحدہ قومیت کے نظریے کے تار و پود مولانا ہی نے بکھیرے تھے اور ان علماء کی علمی اور دینی لغزشوں پر زبردست لے دے کی تھی جو مسلمانوں کو وٹنیت کی بنیاد پر ہندوؤں کا غلام بنا دینا چاہتے تھے۔ اور کانگرس کے حامی تھے-

مسلمانوں کا ایک طبقہ بھی دعوت حق کے خلاف اٹھ کھڑا ہوا تھا۔ اسے چند کج فہم مولویوں اور بے عمل صوفیوں نے مشتعل کیا تھا۔ پھر یہ بھی ہوا کہ مولانا کی اواز جن پر علماء نے لبیک کہا تھا۔ ان میں سےبیشتر چند قدم ساتھ چلنےکےبعد ساتھ چھوڑ گئے بعض نے سکوت اختیار کیا اور کچھ مخالفت پر تل گئے اور انتہائی اوچھے حملے چھوڑ گئے بعض نے سکوت اختیار کیا اور کچھ مخالفت پر تل گئے اور انتہائی اوچھے حملےکیے

سید ابوالاعلیٰ مودودی نے غیر معقول باتوں کا سرے سے نوٹس ہی نہ لیا اور وہ پنوں اور بیگانوں کے تیر ستم مردانگی سے کھاتے رہے، گالیوں کے جواب میں ہدایت پالینے کی دعائیں دیں اور جہاں تک ہو سکا ان سے بھلائی اور خیر خواہی کا رویہ اختیارکیا-

. پاکستان بنا تو ایک طرف لادینی اور اشتراکی عناصر مولانا کے منہ لگے اور دوسری طرف حکومتوں نے معاندانہ روش کا مظاہرہ کیا۔ مخالفتیں اور مخاصمتیں بڑھتی گئیں اورمختلف عناصر نے مل جل کر اسلامی تحریک اور مولانا کی آواز کو خاموش کردینا چاہا۔ مگرتائید ایزدی سے یہ چراغ جلتا ہی رہا اور بہت سے چراغ روشن ہوتے رہے اور جوں جوں درد فروزاں کی روشنیاں بڑھیں، مقابلے میں حرص وہوا کی آندھیاں اور تیز ہو گئیں۔ کیا کیا چر کے نہ لگے۔ مولانا کو راہ حق میں گالیاں، پھبتیاں گھناؤ نے الزامات گھٹیا پروپیگنڈہ سلاخیں زنجیریں، زنداں کے اندھیرے، اذیتیں اور پھانسی کے پھندے۔ ان سب کے باوجود انہوں نے ایک شخص کے سوا کسی کو بددعا نہ دی۔ جس شخص نے ایک منصوبے کے تحت مولانا کو جہاد کشمیر کے مسئلے میں الجھایا تھا اور اسی کے نتیجے میں انہیں سلاخوں کے پیچھے بند ہونا پڑا تھا، کچھ عرصہ گزر جانے کے بعد مولانا کی خدمت میں حاضر ہوا اور سارا واقعہ کہہ سنایا۔ آپ ایسی خندہ پیشانی سے ملے کہ وه حیران و ششدر رہ گیا اور حسن سلوک کا گہرا نقش لے کر اٹھا۔ اسی طرح اس فوجی عدالت کے جج صاحبان ایک مدت بعد مولانا سے ملنے آئے جس نے سزائے موت سنائی تھی۔ ان کے ساتھ بھی محبت اور شفقت کا وہی برتاؤ ہوا جو آپ کی فطرت ثانیہ بن چکا تھا۔

یہ عجیب اتفاق ہے کہ جن جن لوگوں نے مولانا کو ظلم وستم کا نشانہ بنایا۔ ان میں سے بیشتر تو اللہ کے عذاب سے اس دنیا ہی میں بچ نہ سکے اور کچھ ایسے بھی تھے۔ جن کو بعد میں مولانا کی تائید و حمایت کا سہارا لینا پڑا اور ادھر سے ایک لمحے کا توقف بھی نہ ہوا۔ وہی گرم جوشی، وہی سینے کی کشادگی اور وہی خوش مزاجی جو اپنے رفیقوں کے لیے عام تھی، ان کے لیے بھی فراواں جو ایک عہد میں ظالم تھے اور دوسرے عہد میں مظلوم بن گئے تھے۔-

مولانا کی پہلی گرفتاری ۴۸ء میں ہوئی۔ اس وقت پنجاب میں دولتانہ اور محروٹ چھائے ہوئے تھے۔ بعد میں یہ دونوں سیاست دان مولانا کا تعاون حاصل کرنے پر مجبورہوئے۔ گورنر جنرل ملک غلام محمد نے اسلام کو رسوا کرنا چاہا اور ان لوگوں کو زک پہنچانے کے لیے مکرو فریب سے کام لیا جو پاکستان میں اسلامی نظام قائم کرنا چاہتے تھے۔ قدرت نے اسے عبرت ناک انجام سے دوچار کیا۔ سکندر مرزا نے مذہب کے خلاف زبردست مہم شروع کر دی تھی۔ اس نے مولانا مودودی پر بھی بے سروپا الزام لگائے تھے۔ اس کو بھی ذلت آمیز طریقےسے اقتدار کو خیر باد کہنا پڑا ایوب خاں کے عہد میں نواب کالا باغ نے جماعت اسلامی پر غنڈوں سے حملہ کروایا اور ان کی درپردہ مدد کی۔ وہ بھی کیفر کردار کو پہنچا۔ شیخ مجیب الرحمن نے پلٹن میدان میں جماعت اسلامی کےساتھ ظالمانہ اور بہیمانہ سلوک روارکھا۔ اللہ تعالی نے اسے بڑی ہی عبرت ناک سزادی۔ مسٹر بھٹو اسلام کے دشمن اور مولانا مودودی کے سخت مخالف تھے۔ انہوں نے ہر موقع پر خونخوار وار کیا اور تہذیب و شائستگی کے سارے ہی بند توڑ ڈالے - - - - - ان کا حشر بھی وہی ہوا جو اللہ کے دین کے ساتھ کھلا اور سنگین مذاق کرنے والوں کا۔ ہوتا ہے۔

۵۷ء میں جماعت اسلامی سے اچھے اچھے ساتھیوں کا ایک حصہ کٹ گیا۔ ان میں سے بعض دوست جدائی کے صدمے ہی سے خاموش ہو گئے۔ کچھ احباب نے مخالفت نجی محفلوں ہی تک محدود رکھی اور چند افراد ایسےبھی تھے جو انتقام لینے پر تل گئے اورمولانا کی ذات پر شدید حملے کرتے اور مصیبت کےوقت شعلے بھڑکاتے رہے۔ مگر مولانا نے کوئی جواب نہ دیا۔ کہیں بھی شکایت نہ کی اور سارا غم یوں پی گئے جیسے کچھ ہوا ہی نے کوئی جواب نہ دیا۔ کہیں بھی شکایت نہ کی اور سارا غم یوں پی گئے جیسے کچھ ہوا ہی ذکر چھیڑ دیا تو اس مقام سے باد نسیم کی طرح گزر گئے۔ میں سوچتا ہوں وہ کتنے گہرے سمندر تھے۔ محبتوں اور شفقتوں کے ! کتنا وسیع ظرف تھا ان کا کہ نفرت اور انتقام کا ہر خنجر کند ہو تا گیا۔ آج تو ذرا ذراسی بات پر صدیوں کے یارانے ٹوٹ جاتے ہیں، خلیجیں اور جزیرے بن جاتے ہیں اور انسان تقسیم ہی رہتا ہے۔ مولانا کی عظمت کردار کا سب سے اہم پہلو یہ تھا کہ انہوں نے ہوائے نفس کو پوری طرح زیر کر رکھا تھا۔ قرآن اور حدیث میں ڈوب جانے کے بعد جب وہ ابھرتےتھے تو یہ گوہر یکتا ساتھ لائے تھے کہ انسان کی تکمیل ذات، تخلیقی عمل اور خالق سےسچا رشتہ قائم کرنے میں نفس سب سے زیادہ حائل ہوتا ہے۔ اس حقیقت کو پاجانےکے بعد انہوں نے تزکیہ نفس کا وہی راستہ اختیار کیا جو اسلام نے تجویز کیا تھا، یعنی دنیا کے سارے معاملات میں اس طرح حصہ لیا جائے کہ دامن آلائشوں سے تر نہ ہونےپائے، چنانچہ یہی بات ان کی تحریروں میں تھی اور یہی بات ان کے عمل میں۔ ان کا خیال اور ان کا عمل یک جان ہونے کی وجہ سے ایک ناقابل تقسیم اکائی بن گئی تھی۔

سید ابوالاعلیٰ مودودی نے ایک بھر پور زندگی گزاری اور کسی مقام پر بھی نفس پرستی کا مظاہرہ نہیں کیا، بلکہ یوں کہنا زیادہ صحیح ہوگا کہ بے نفسی کا اس مادیت پرست دنیا میں وہ معیار قائم کر دیا جو آنے والی صدیوں کے لیے ایک روشن روایت بن جائے گا۔

وہ ہر نوع کی ذاتی عصبیت سے چھٹکارا پاچکے تھے۔ اپنے نفس کو اخلاقی ضابطوں میں اس طرح جکڑے رہے کہ راہ سلوک کی بلندیاں قریب آگئیں۔

ڈسپلن اور نظم وضبط ہی کا عالم دیکھیے کہ شاید ہی کوئی رہنما مولانا کی طرح منضبط اور منتظم ہوگا اس برصغیر میں وقت کی پابندی کو سرے ہی سے کوئی اہمیت حاصل نہ تھی بڑے سے بڑا عالم دین اور عظیم سےعظیم سیاست دان کسی ضابطے کا پابند نہ ہوتا۔ قائد اعظم کے سوا مسلمانوں میں اور کوئی رہنما ڈسپلن کا پیکر نظر نہیں آیا۔ سید ابو الاعلیٰ مودودی نے سب سے پہلے اپنے آپ کو نظم کےتابع کیا۔ ہر دن کا ایک پروگرام بنایا اور ایک ایک منٹ کا خیال رکھا۔ انہوں نے اپنی عادات میں تنظیم پیدا کی اور بے ہنگم وقت گزارنے کو ایک ناقابل معافی جرم سمجھا۔ یہ اسی نظم وضبط ہی کا نتیجہ ہے کہ مولانا نے تصنیف و تالیف کا کام بھی اتنے وسیع پیمانےپر کرلیا اور ایک عظیم الشان تحریک بھی مضبوط بنیادوں پر منتظم کرڈالی، بین الاقوامی کانفرنسوں میں بھی حصہ لیا اور معاشرتی حقوق العباد بھی ادا کیے۔ ایک موقع پر اپنی زندگی کے حالات سناتے ہوئے فرمایا کہ ایک زمانے میں کھانے پینے کے اوقات کا اس قدر پابند تھا کہ اگر مجھے کسی سے ملنے جانا پڑتا اور ملاقات کے دوران میں کھانے کا وقت آجانے کا امکان ہوتا تو کھانا اپنے ساتھ لے جاتا اور معذرت کرکے کھانا شروع کردیتا۔ ان کا یہ اہتمام پوری زندگی کم و بیش قائم رہا۔

پھر کھانے کی مقدار بھی مقرر تھی۔ اس سے زیادہ کھاتے نہ کم۔ ایک بار لاہورکے بہت بڑے زمیندار نے کھانے کی دعوت دی جو ایک مشترک دوست کے اصرار پرقبول کرلی گئی۔ مولانا نے اپنی طے شدہ مقدار کے کھانے پر اصرار کیا۔ مولانا نے بڑےجھے ہوئے لہجے میں فرمایا۔ اب جنت کے پھل بھی میرے سامنے رکھ دیے جائیں تومیں انہیں ہاتھ نہ لگاؤنگا" ضبط نفس کا یہ بڑا ہی انوکھا اور اچھوتا اظہار تھا ______ اور اس اظہار کے پیچھے معافی کی ایک دنیا بسی ہوئی تھی۔

کھانے پینے کے علاوہ ان کے سبھی مشاغل کے اوقات مقرر تھے۔ باقاعدگی سےسیر کرتے، عمر کے آخری دس بارہ برسوں میں گھر سے دور نہ جاسکتے تھے، چنانچہ اپنی کوٹھی کے لان ہی میں گن کر چکر لگاتے اور یہ معمول بڑی باقاعدگی سے جاری رہا ملاقاتوں کا وقت بھی طے تھا۔ اس کے بعد وہ صرف انتہائی باتوں کے لیے ٹائم نکالتے عصر اور مغرب کے درمیان ان کی نشست عام کسی وقفے کے بغیر دو چار برس نہیں پچیس تیس برس منعقد ہوتی رہی۔ ایک تھوڑا سا وقفہ ضرور آیا تھا جب وہ علاج کی غرض سے ملک سے باہر چلے گئے تھے یا پاکستان ہی میں اس قدر علیل ہو گئے تھے کہ اٹھنے اور چلنے کی طاقت نہ رہی۔

مولانا میں غیر معمولی قوت برداشت نفس کی باگیں کھینچے رکھنے ہی سے پیدا ہوئی تھی موت کی سزا ہو یا بھائی گیٹ کا سانحہ،جماعت اسلامی پرحکومت کا عتاب ہو یا طویل قیدوبند کی صعوبتیں، اپنوں کی بے وفائی ہو یا غیروں کی ستم کیشی، ان کے چہرے کا رنگ ایک موقع پر بھی متغیر نہ ہوا۔ میں نے اپنی ساری زندگی میں انہیں صرف ایک بار غیر معمولی طور پر مضطرب اور پریشان دیکھا وہ تھا ۲۷ ستمبر ۱۹۷۰ء کا وہ منحوس دن جب قوم نے اپنی تباہی اور بربادی کو مسند اقتدار پیش کی تھی۔ اس وقت ہمیں شدید حیرت ہوئی تھی کہ مولانا ایسے کوہ گراں کیوں ہل گئے، بعد میں حالات نے احساس دلایا کہ وہ انتخابات میں وسیع پیمانے پر دھاندلیوں کی خبر سن کر بالکل صحیح تڑپ اٹھے تھے کہ انہیں مستقبل کی تیرہ بختی صاف نظر آرہی تھی۔

مولانا کو نفس امارہ پر اس قدر کنٹرول حاصل تھا کہ اُسے بے انجام ہونے کا موقع ہی نہ ملتا۔ وہ کسی کو زبان سے برا کہتے اور نہ کسی کا برا چاہتے۔ دل دکھانا ان کے مسلک ہی میں نہ تھا۔ ہر آنے والے سے یوں ملتے اور اس پر اس انداز سے توجہ دیتے کہ وہ یہی سمجھتا کہ مولانا کے مجھ سے خصوصی تعلقات ہیں۔ دوسروں کے لیے خیر خواہی ان کے خمیر میں موجود تھی۔

ان سے زیادہ ٹھنڈے مزاج کے لوگ شاید ہی ہمارے آس پاس مل سکیں مشتعل حالات پر یا خاموش رہتے یا مسکرادیتے۔ انہیں برہم کرنا اور ذرا بھی غصےمیں لے آنا بڑا ہی دشوار تھا۔ جذبات پر ان کی گرفت اس قدر مضبوط اور کڑی تھی کہ بسااو۔یہ احساس ہونے لگتا کہ مولانا کے اندر سرے سے جذباتی ہیجان ہے ہی نہیں، مگر ایسا نہ تھا۔ وہ محسوس سبھی کچھ کرتے تھے۔ مگر اس کا اظہار نہ ہونے دیتے۔ کیا مجال کہ ان کی زبان پر ثقاہت سے گرا ہوا کوئی لفظ آجائے۔

۱۹۴۸ء میں جب مولانا پہلی بار گرفتار ہوئے، تو ان کےجذبات میں بھی طوفان اٹھا تھا اوران کی امیدوں پر بھی چوٹ پڑی تھی۔ وہ ایک بشرہی تو تھے مگر انہوں نےدھیمی دھیمی آنچ پر اپنے نفس کو دھیسے پن کا خوگر بنادیا اور یہ دھیما پن نکھرتا گیا سنور تا گیا اور کائنات دوست سجاتا چلا گیا۔ وہ دکھی دنیا کے لیے ایک آواز، گمراہیوں میں بھٹکی ہوئی انسانیت کے لیے ایک دل کشا اذان اور مضطرب ذہنوں کے لیے ایک میٹھا نغمہ تھے۔ ان کے نفس نفس سےجاوداں گلابوں کی خوشبو پھوٹتی تھی۔ ان کے الفاظ مسکتے تھے۔ ان کے خیال روشنیوں میں دھلے ہوئے تھے۔

نفس کی قوتِ شر پر مکمل قابو پالینے کے بعد انہوں نے ایک نیا سفر اختیار کیا تھا۔جہانِ رنگ و بو کو تہ و بالا کردینے والا سفر۔ وہ تاریخ کے دھارے پر بہنے کے بجائے ایک نئی تاریخ ایک نیا محور اور ایک نیا مرکز تخلیق کر رہے تھے۔ ایک انقلاب اٹھا رہے تھے، شیروں کا انقلاب، دیوانوں کا انقلاب زندگی نچھاور کر کے حیات ابدی پالینے کا انقلاب -

مولانا کی زندگی بجھ گئی مگر موت کے بعد اسی دنیا میں ان کی ایک معنوی زندگی شروع ہوئی ہے وہ زندگی جس میں اہل دنیا ان کو دریافت کریں گے۔

ہم جس یہ مررہے ہیں وہ ہے بات ہی کچھ اور عالم میں تجھ ہے لاکھ سہی تو مگر کہاں

کشا اذان اور مضطرب ذہنوں کے لیے ایک میٹھا نغمہ تھے۔ ان کے نفس نفس سے

ماخذ: سید مودودی مرد عصر و صورتگر مستقبل

پبلشرز: ادارہ ترجمان القرآن, ایڈیشن1

ایڈیشن:1

مصنف: الطاف حسن قریشی

تاریخ اشاعت: Jan. 1, 1996

ریڈنگ کاؤنٹر: 36

ٹیگ: maududi