(احسان دانش کی دوسری غیر مطبوعہ آپ بیتی "جهان ثانی" سے چند اوراق)
مولانا ابوالاعلیٰ مودودی مرحوم و مغفور کے متعلق سب سے پہلے میرے ایک مہربان عاشق عمر عباسی نے ذکر کیا تھا اور کہا تھا کہ یہ ابھی تو نہیں لیکن دو چار برس کے بعد اس ملک کا سب سے بڑا فاضل، فلسفی، عالم اور سیاسی رہنما قرار پائے گا اس بنیاد پرمیں نے مولانا کی تحریروں کو ادبی نقطہ نظر سے دیکھنا شروع کیا وہ دینی اور معاشری مشکل سے مشکل مسائل کو اپنی تحریر میں پانی کر دیتے تھے۔ اور یہی وصف مجھے آج تک مسحور کئے ہوئے ہے ۔ میں جس قدر ان کی طرف بڑھا، انہیں دیکھا اور پرکھا اسی در فاصلہ کم ہوتا گیا اور میرے ذہن و فکر پر جو میلی مٹی کے لیپ چڑھے ہوئے تھےسوکھ سوکھ کر گرتے گئے۔ اس وقت تک ایسا فاضل اجل شخص میری نظر میں نہیں آیا تھا۔ جو بیک وقت زندگی کے ہر شعبے پر بے لاگ تنقیدی نظر رکھنے کے ساتھ تعمیری تصورات کا حامل اور زندگی کے ہر پرت کو پھرول کر دیکھتا ہو۔
جن دنوں لاہور میں مارشل لاء لگا ہوا تھا اور ہر گلی میں نیلے رنگ کا سیاسی دھواں چکر لگا رہا تھا ہر کوچہ مخدوش اور مکان پر اسرار معلوم ہوتا تھا، فوجیوں نے شہرکی ناکہ بندی کر رکھی تھی اور کوئی گلی آزاد نہ تھی، انہی دنوں مولانا ابو الاعلیٰ مودودی کو وجی عدالت سے سزائے موت کی تجویز ہوئی۔ اور یہ خبر سب اخبارات کی سرخی بنی۔ سینے میں ایک دھچکا سا لگا اور کلیجے پر کوئی تھتھاتی ہوئی شے ڈھلک آئی، میں گھبرا کر بیٹھ گیا اور پانی پیا۔ بڑی دیر میں محسوس ہوا کہ روشنی کی طرح ایک لہر جسم میں گردش کر گئی ہے اور میں کھڑا ہو گیا۔ اپنے سے نزدیک کے ہر شخص سے پوچھتا تھا کہ اب کیا ہو گا۔ اس حادثے کو وہ قومی اور مذہبی نقصان بتاتے تھے اور بعض ایسے بھی تھے، جوکہتے تھے کہ دنیا میں کونسی کمی آجائے گی۔ حیات و موت کی موجیں تو کائنات میں اٹھتی ہی رہتی ہیں۔ میں تھا کہ بار بار اسی خیال میں غلطاں و پیچاں تھا کہ اس صدی کا سب سے عظیم انسان رخصت ہو جائے گا اور تمدن ہی کا نہیں تاریخ کا سب سے بڑا حادثہ ہو گا۔ ایسا کاشف المسائل انسان اس پوری صدی میں پیدا نہیں ہوا۔
مجھے کتنے آدمیوں نے کہا کہ ہمارے ساتھ چلو۔ مولانا مودودی سے ملاقات کر کے ائیں۔ جانے پھر یہ صورت نظر آئے یا نہ آئے۔ مگر میں نے اپنے دل سے کہا کہ میں انہیں پھانسی پانے والے ملزموں کے لباس میں کیسے دیکھوں گا میں نے اپنے ایک دوست سے کہا کہ مولانا کو میرا سلام کہیں اور میری طرف سےیہ بھی کہیں کہ آپ پھانسی پر تیار نہ ہوں اور کہیں کہ پھانسی اسلامی سزا نہیں ہے۔میں مسلمان ہوں اور مجھے اسلامی طریقے سے سزادی جائے۔
تیسرے چوتھے دن مجھے انہوں نے بتایا کہ انہوں نے رحم کی اپیل کے لیے انکار کر دیا اور کہا کہ رقم تو میں خدا کے علاوہ کسی سے طلب نہیں کر سکتا۔ ایک شخص نے یہ بھی بتایا کہ انہوں نے کہا کہ موت اور زندگی خدا کے قبضہ قدرت میں ہے، اگر میرا وقت آگیا تو زندگی ناممکن اور وقت نہیں آیا تو پھر موت ناممکن ہے۔ اس میں فکر کی کونسی بات ہے۔
ایک شخص نے آکر یہ بھی کہا کہ سزائے موت کے اسیروں کو پائجامے کےزار بند نہیں دیتے کہ مبادا پھانسی سے پہلے پھندا ڈال کر خود کشی نہ کرے۔ جب مولانا و یہ بات معلوم ہوئی تو انہوں نے فرمایا
میں بزدلوں میں نہیں ہوں۔ کیا میں شہادت جیسی رحمت کو چھوڑ کر خود کشی کر کے حرام موت مروں گا۔؟ موت تو مسلمان کے لیے عقبی کے راستے کی روشنی ہے"۔ یہ سنکر میری آنکھیں ڈبڈبا گئیں کہ اللہ اکبر کس قدرپختہ ایمان اور کامل استقامت ہے، خدا آخرت اور شہادت پر۔
مولانا مودودی اسلامی جماعت نہیں اسلامی تحریک کے سالار کارواں تھے۔ ایسا عظیم مفکر اور بیدار دل و دماغ کا انسان صدیوں میں پیدا ہوتا ہے، مولانا نےجہاں بڑے بڑے جغادریوں کو راہ راست دکھائی اور بوڑھوں کے ذہن صاف کیے، وہیں انہوں نے نوجوانوں کو حوصلہ یقین اور راہ مستقیم پر چلنے کی جرات و ہمت دلائی ہے۔مولانا یوں دیکھنے میں تو ایک فرد فرید تھے لیکن یہ تسلیم کرنا ہو گا کہ وہ تنہا نہیں تھے۔ایک دور تھے، ایک عہد تھے ، ایک مشن تھے۔ مولانا کی زندگی ایک پیغام تھی، تنظیم تھی، اور ایک دعوت تھی، جو علم و آگہی کے خزانے دامن میں لیے ہوئے تھی۔ان کے خیالات و نظریات نوجوانوں کے سینوں کی دھڑکنوں میں کار فرما تھے۔ ان کے افکار کے سوتے اسلامی دنیا کے کانوں اور نگاہوں سےدلوں تک مار کرتے تھے۔ وہ جماعت کی تاریخ میں نظم و ضبط کےایسےنمونے چھوڑ گئے ہیں کہ جب وہ سامنےآئیں گے تو بڑے بڑے ملکوں کی تنظیمیں انگشت بدنداں رہ جائیں گی۔ وہ نوجوان نسل کے سینوں میں ایسی قندیلیں جلا گئے اور خون میں ذرات کو روشنی دے گئے جو قیامت تک دنیا کے اجالوں کا ساتھ دیں گی۔ اور صاحبان عزم و ہمت انقلابات کی منزلیں مارتے رہیں گے اور نتیجتا اسلامی شعار اور محمدی اقدار سے بھٹکی ہوئی دنیا اور غلط روانسانیت کا ملجا و ماوی بن کر رہیں گی۔
آج مولانا دنیا میں نہیں، لیکن مجھے یقین ہے کہ وہ جو کام چھوڑ گئے ہیں، وہ صدیوں کی وسعتیں اور ان گنت پہنائیاں رکھتا ہے جس میں قوم کی تقدیر سازی اور ملک کی دستگیری کے روشن امکان ہیں۔
ایک دفعہ میں جناب راز کاشمیری کو مولانا کے ہاں لے گیا کیونکہ ان کی دلی آرزو تھی۔ عصر کا وقت تھا۔ مولانا گھٹنوں کی تکلیف میں مبتلا تھے۔ مگر رشدو ہدایت کا سلسلہ جاری تھا۔ مولانا نے مجھے اپنے پاس بیٹھنے کو کہا لیکن میں ان کے قدموں سے بھی دور بیٹھا اور جب تک بیٹھا رہا میری پلکوں میں اس خیال سے آنسو سرسراتےرہے کہ ایک دن یہ شخص ہم میں نہیں ہو گا اور لاکھوں کروڑوں انسان سوگوار ہوں گے۔ پاکستان میں نہیں، دنیا میں عموما" اور اسلامی ممالک میں خصوصا" بساط ماتم بچھ جائے گی۔ اور زندہ دل و دماغ کے لوگ تو بجھ کے رہ جائینگے۔جائے گی۔ اور زندہ دل و دماغ کے لوگ تو بجھ کے رہ جائینگے۔
مولانا کی جوانی کا بھی کیا جواب ہو سکتا ہے، جس میں انہوں نے تحریک اسلامی کاآغاز کیا جو ہزاروں مخالفتوں کے باوصف روبہ ترقی ہے، سینکڑوں نہیں، ہزاروں لاکھوں نوجوان راہ راست پر آگئے۔
جن دنوں مولانا نےاپنی جماعت کےساتھ اسلامی انقلاب کا نعرہ بلند کیا اس وقت یہاں کمیونزم چاروں طرف اپنے دروازے کھول چکا تھا۔ شاعر، ادیب اور پست طبقے کے شعور آشنا لوگ دن رات پروپیگنڈے میں مصروف تھے۔مغربی تہذیب انواع واقسام کےآلات علوم سےلیس ملک کےگلی کوچوں میں اپنا زہریل دھواں پھیلا رہی تھی، الحاد اور بے دینی کے نئے نئے اصولوں کی یلغار نے معاشرے میں کھڑدو مچا رکھا تھا۔ نا پختہ اذہان روز بروز اس شیریں زہر سے مسموم ہو رہے تھے۔ نوجوان طبقہ اپنےعلمی تیزاور تہذیبی ورثے سے دور اور بد اخلاقی بے حیائی، عیاشی اور خود غرضی کی جھانجھ میں دیوانہ ہوا جا رہا تھا۔ جبلی عادت اور خیالات و نظریات کے علاوہ ملی اور تمدنی کھڑنچے اس سیلاب میں اپنی جگہیں چھوڑتے جا رہے تھے بڑی بڑی معاشری اور معاشرتی تنظیمیں متزلزل ہو چکی تھیں۔
دشمنان اسلام خدا اور رسول پر رکیک حملوں سے باز نہیں آتے تھے۔ علماء و دانشوروں میں ان کا شافی جواب دینے کا ہوتا نہیں تھا۔ اہل علم اور صاحبان بصیرت لوگوں کا ذہنی خلفشار دیوانگی کی حدوں پر ہمک رہا تھا۔ اس وقت پورے ملک میں صرف ابو الاعلیٰ مودودی تھے جوان دشمنان اسلام کے اعتراضات کے شافی جواب دیتے تھےاور اسی عالم میں مولانا نے علمی دلائل و براہین کے ساتھ پورے بحران سے ٹکرلی اور اس قدر لٹریچر دیا کہ بڑے بڑے دفتروں کے چھکے چھوٹ گئے اور مولانا تھے کہ تنقید و تغلیط سے قطع نظر کر کے صرف اسلامی برتری اور محمدی ضابطہ حیات کا درس دیتے رہے۔-
مولانا موصوف کا سب سے بڑا اور تابناک کام یہ ہے کہ انہوں نے اسلامی تعلیمات کو دور جدید کے تقاضوں کے مطابق ڈھال کر اسلامی اقدار کی وسعت اورجامعیت کو اجاگر کر کے دنیا سے اسلامی اصولوں کی گہرائی اور گیرائی کو منوایا۔
مولانا مودودی اسلامی شاہراہوں پر ایسے پودے لگا گئے ہیں جن کے سائے ہمیشہ مسافروں کو تسکین دل اور راحت جاں دیتے رہیں گے۔ ہر دور کے بحران میں قوم کو حوصلہ مندی کی تعلیم ان کا شعار حیات رہا ہے اور جب بھی کسی تھے نے سرابھارا ہے مولانا نے سینہ سپر ہو کر اس کا سدباب کیا ہے اور ان کے بعد اب ان کی تحریریں دی کام کریں گی۔ ان کی رہنمائی سے دشوار راستوں کے موڑ کٹتے چلے جائیں گے۔ صرف ضرورت اس بات کی ہے کہ مولانا کی تعلیم کو عام کرنے کے لیے جلد سے جلد اکیڈمی قائم کی جائے۔ جس میں صرف مولانا کی تحریروں پر کام کیا جائے اور انہی خطوط پرآگے کے لیے مشکلیں جلائی جائیں اور ثابت قدمی سے منزلیں طے کی جائیں۔
مولانا کے تحریری ذخیرے میں قوم و ملک کی حوصلہ افزائی کے ساتھ ساتھ نوجوانوں کے لیے عزائم اور بوڑھوں کے لیے فراست مومن کے دفاتر موجود ہیں۔ ان کی کتابوں نے ہمارے ذہنی راستوں کو فراخی عوام کو حوصلہ مندی اور سہولت پسندوں کے عزائم کو استقلال و استحکام بخشا ہے۔ ان کے ہاں صحیح معنوں میں انقلاب اور اصول انقلاب کی تعلیم ملتی ہے۔ اس لیے ہمیں کالجوں اور ہائی سکولوں میں، مولانا موصوف کا لٹریچر اور اس سے ماخوذ مضامین آسان زبان میں پڑھانے چاہئیں۔
ماخذ: سید مودودی مرد عصر و صورتگر مستقبل
پبلشرز: ادارہ ترجمان القرآن, ایڈیشن1
ایڈیشن:1
مصنف: احسان دانش
تاریخ اشاعت: Jan. 1, 1996
ریڈنگ کاؤنٹر: 36