مولانامودودی اورقدرت اللہ شہاب

محمدصلاح الدین

۶۹ مولانا مودودی اور قدرت اللہ شہاب مرحوم محمد صلاح الدین

٢٩ دسمبر ١٩٨١ء بات ہے۔ اہل قلم کانفرنس ک مولانا اجلاس کے بعد میں اور جناب الطاف حسن قریشی اسمبلی کی برقی سیڑھیوں کے قریب کھڑے واپسی کے پروگرام پر گفتگو کر رہے تھے، تھوڑی دیر میں جناب نعیم صدیقی اور جناب مجیب الرحمٰن شام بھی ادھر آنکلے۔ ہم کہیں مل بیٹھنے کا منصوبہ بنا رہے تھے کہ اچانک ایک صاحب آہستگی سے میرے سامنے آکر کھڑے ہوئے اور بڑے دھیمے اور محبت آمیز لہجے میں پہلے اپنی داخلت" پر معذرت چاہی اور پھر مجھ سے پوچھا کیا آپ ہی کا نام محمد صلاح الدین ہے؟ میں نے اثبات میں جواب دیا۔ درمیان میں الطاف حسن قریشی صاحب بول اٹھے کیسے شہاب صاحب کیا حال ہے؟ یہ نام سنتے ہی میں چونکا۔ جناب قدرت اللہ شهاب صاحب جواب مرحوم ہو چکے ہیں، میرے سامنے تھے اور یہ ان سے میری پہلی ملاقات تھی۔ وضع قطع کی تبدیلی کے باعث میں انہیں پہچان نہ سکا تھا۔ شہاب صاحب نے سب کا حال احوال دریافت کیا اور پھر ان سے اجازت لے کر مجھے ایک طرف لے گئے۔ سرگوشی کے سے انداز میں گویا ہوئے صلاح الدین صاحب دو باتوں کے لیے آپ کو زحمت دی ہے، ایک معذرت اور دوسرے درخواست۔ معذرت اس جہل پر جس کا مظاہرہ مجھ سے مولانا مودودی کے بارے میں ہوا اور آپ نے میری گرفت فرمائی اور درخواست یہ ہے کہ میرے ساتھ چل کر گھر پر ایک کپ کشمیری چائے پیجئےاور اسے میری طرف سے اظہار تشکر سمجھیے"۔ میں شہاب صاحب کے اس انداز گفتگو پر حیران رہ گیا میرے مبلغ علم اور ان کے وسعت علم کو بھلا کیا نسبت تھی۔ میں نے کچھ کہنا چاہا تو پہلے اپنی معذرت اور درخواست کے جواب پر اصرار کرنے لگے۔ میں نے عرض کیا کہ "شہاب صاحب معذرت کیسی؟ آپ کو اپنی ایک غلطی کا احساس ہو گیا، اس کا اعتراف ہی کافی ہے، میں تو آپ کی وسعت نظر اور عظمت کردار پر خودہی آپ کا شکر گزار ہوں"۔ امر واقعہ بھی یہی تھا کہ زندگی میں کسی شخص کو اور وہ بھی ایسے شخص کو جو ممتاز ادیب، افسانہ نگار ، آئی سی ایس افسر اور حکومت پاکستان کی مختلف وزارتوں میں سیکرٹری اور ایوب خان کے معاون خصوصی کی حیثیت سے عالمگیر شہرت رکھتا ہو، اپنی کسی لغزش یا کوتا ہی پر اس طرح اعتراف و معذرت کرتے کبھی نہ دیکھا تھا۔ میرے دل میں قدرت اللہ شہاب کی عظمت وکردار کا گہرا نقش قائم ہو گیا۔ چند منٹ کی گفتگو میں وہ مجھے اپنی محبت کا اسیر بنا چکے تھے اور اس محبوب شخصیت سے مزید گفتگو کی خواہش مجھے ان کی درخواست قبول کر لینے پر آمادہ کر چکی تھی۔ چنانچہ چائے کی دعوت شکریہ کے ساتھ قبول کر لی گئی۔ میں نے تجویز پیش کی کہ کیوں نہ باقی دوستوں کو بھی ساتھ لے لیں، انہوں نے بڑی مسرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا ایسا ہو جائے تو کیا کہنے ، یہ تو میری خوش قسمتی ہو گی"۔ شہاب صاحب کی دعوت جناب نعیم صدیقی، جناب الطاف حسن قریشی اور جناب مجیب الرحمان شامی بھی رد نہ کر سکے۔ ہم ان کی گاڑی میں ان کے گھر گئے تقریباً ایک گھنٹے کی نشست رہی۔ شہاب صاحب نے جس کشمیری چائے سے ہمار تواضع کی، اس کی لذت مجھے آج تک یاد ہے۔ اس موقع پر شہاب صاحب نے اپنی معذرت کو دوبارہ دہرایا۔ یہ معذرت اردو ڈائجسٹ کے مولانا مودودی نمبر شمارہ ستمبر ۸۱ء میں مولانا مرحوم کے بارے میں ایک سوالنامہ کے جواب میں اپنی تحریر سے متعلق تھی، جس پر نومبر ۱۹۸۷ء کے شمارہ میں ”مولانا مودودی اورصالحیت" کے عنوان سے میرا ایک ناقدانہ تبصرہ شائع ہوا تھا۔ قارئین کی دلچسپی کے لئے یہ دونوں تحریریں ذیل میں پیش کی جا رہی ہیں:۔

شهاب صاحب نے اپنے گھر پر جس انکساری بلکہ خاکساری کا مظاہرہ کیا اس نے ہم سب کو بہت متاثر کیا ان کا کہنا تھا کہ ”ہمارا علم سے کیا واسطہ ساری زندگی غیروں کی زبان سیکھتے اور فائلیں پڑھتے گذر گئی۔ دفتر ہو یا گھر ان فائلوں ہی میں الجھے رہے کبھی کبھار کچھ پڑھنے کو جی چاہا تو ہاتھ کسی انگریزی کتاب کی جانب بڑھ گیا۔ دینی لٹریچر کے مطالعہ کا موقع ہی نہ ملا یہ لٹریچر عربی میں ہے یا اردو میں۔ دینی علوم سے بس معمولی شد بدھ رہی ہمیں اندازہ تھا کہ یہ محض اظہار انکسار ہے ورنہ اردو ڈائجسٹ میں ان کی تحریر اور متعدد اخبارات میں شائع شدہ انٹرویو اس حقیقت کے گواہ تھے کہ شهاب صاحب اس میدان میں بھی خاصا درک رکھتے تھے۔ چائے کے بعد وہ ہمیں اپنی لائبریری میں لے گئے جہاں انہوں نے تقسیم القرآن کی پہلی جلد نکال کر ہمیں بتایا کہ دیکھئے یہاں تک اس کا مطالعہ کر چکا ہوں۔ یہ تقسیم کا آخری حصہ تھا اور جگہ جگہ پنسل سے شہاب صاحب کے ریمارکس بھی لکھے تھے۔ انہوں نے بتایا کہ میں آجکل تفاسیر کا مطالعہ کر رہا ہوں اور اس کا آغاز تقسیم القرآن سے کیا ہے۔ انہوں نے اپنے تاثرات بھی بیان کئے اور کہا کہ مجھے تو ایسا محسوس ہو رہا ہے کہ علم حاصل کرنا اب شروع کیا ہے۔ شہاب صاحب نے اپنی آنکھوں کی تکلیف کا بھی ذکر کیا اور بتایا کہ آجکل لکھنے پڑھنے سے بالکل معذور ہو کر رہ گیا ہوں۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ میں کانفرنس کے بعض مقالات اور کچھ ادبی رجحانات پر بھی تبادلہ خیال ہوا۔ افسوس لندن سے ان کی واپسی کے بعد دوبارہ ملاقات نہ ہو سکی، مارچ ۱۹۸۴ء میں تکبیر شائع ہوا تو ان کا مبارکباد کا خط موصول ہوا اور ساتھ ہی سالانہ خریداری کے چندہ کا چیک۔جولائی ۸۶ء کا آخری عشرہ میں نے سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں گزارا جہاں مقامی انگریزی اور عربی روزنامہ الریاض" کا اردو ایڈیشن شائع کرنے کی ذمہ داری سونپی گئی تھی۔ ۲۶ جولائی کو ہم اس کی کاپیوں کی تیاری میں مصروف تھے کہ قدرت اللہ شہاب کے انتقال کی خبر ملی۔ چنانچہ ۲۷ جولائی کو شائع ہونے والا اردو ایڈیشن کا پہلا شمارہ اس افسوسناک خبر کے ساتھ شائع ہوا۔

ہمارے ہاں اختلاف اور عناد اب ہم معنی الفاظ بن کر رہ گئے ہیں۔ مخلصانہ رائے کو بھی بالعموم عناد پر محمول کیا جاتا ہے اور اختلاف کرنے والوں کو دشمنوں کی صف میں شامل کر کے سب و شتم کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ شہاب صاحب کا رویہ اس کے بالکل برعکس تھا۔ اختلاف کرنے بلکہ جارحانہ انداز میں گرفت کرنے والے کے سامنےبراه راست نہ صرف اپنی غلطی کا اعتراف بلکہ غلطی کی نشاندہی پر اظہار تشکر ایک ایسا رویہ ہے جواب تقریباً ناپید اور ناقابل تصور ہو کر رہ گیا ہے۔ یہ وسعت قلب و نظر اور عظمت کردار کی دلیل ہے۔ بلاشبہ اس معاملہ میں قدرت اللہ شهاب ایک منفرد شخصیت تھے اللہ ان کی مغفرت فرمائے ، ان کی لغزشوں کو معاف کرے اور ان کے حسن عمل پر انہیں بهترین اجر سے نوازے۔

اردو ڈائجسٹ نے جو سوال نامہ ارسال کیا تھا پہلے اسے ملاحظہ فرمائے پھر قدرت اللہ شہاب مرحوم کے جوابات اور میرا تبصرہ دیکھئے

  • ١- مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی ایک نامور صاحب قلم تھے، اگر ان سے کبھی ملنے کا اتفاق ہوا ہو تو آپ کے ذاتی تاثرات کیا تھے؟
  • ٢-مولانا کا اسلوب نگارش آپ نے کیسا پایا؟ کیا اس میں کوئی ادبی محاسن یا ندرت محسوس کی؟
  • ٣- انہوں نے اپنی زندگی میں متعدد کتابیں تحریر فرمائیں، کیا آپ میں ان کی کسی کتاب سے فکری تحریک پیدا ہوئی؟
  • ٤- اہل قلم ہمیشہ معاشرے کی بہتر تشکیل کے لئے جد و جہد کرتے ہیں۔ کیا آپ نے مولانا کی تحریروں میں کوئی مثبت شعور محسوس کیا جس سے کوئی خوشگوار تبدیلی کی راہ ہموار ہو سکتی ہو؟

٥- کجھ لکھنے والے مولانا کی تحریروں سے نظریاتی ہم آہنگی محسوس کرتے ہیں- اص ضمن میں آپ کی رائے کیا ہے ؟

قدرت اللہ شهاب

١- مولانا سید ابو الاعلی مودودی کے ایک نامور صاحب قلم ہونے میں کسے کلام ہو سکتا ہے- انہوں نے تصنیف و تالیف کی دنیا میں جو مقام حاصل کیا ، وہ بہت کم لوگوں کو میسرآیا ہے - وہ اپنے دلکّش طرز نگارش اور سادہ انداز بیاں کے اعتبار سے ، جس میں استدلالی رنگ غالب ہے, دوسروں سے ممتاز نظر اتے ہیں -

مجھے مولانا سے ملنے کا کئی بار اتفاق ہوا اور میں نے ہمیشہ انہیں ایک دانشور مدیر اور مفکر کے روپ میں پایا۔ ان کی شخصیت پرکشش تھی اور گفتگو باوقار اور مشفقانه ہوتی تھی، البته علمی مسائل یا سیاسی افکار جب موضوع گفتگو ہوتے تو اس میں تفوق و برتری کا رنگ جھلکنے لگتا تھا۔

۲۔ عموما" اہل علم جب کسی موضوع پر قلم اٹھاتے ہیں تو ان کی تحریر میں بھاری بھر کم الفاظ و تراکیب اور ادق اصطلاحات و تشبیهات کے باعث عام ادراک و فہم سے بالا ہو جاتی ہیں یا پھر ادبیت کی چاشنی ان میں اتنی شامل ہو جاتی ہے کہ موضوع کی ثقاہت اس سے متاثر ہو جاتی ہے۔ اس کے برعکس مولانا کی تحریر کی خوبی یہ ہے کہ وہ خالص علمی و فکری موضوعات پر بھی جب قلم اٹھاتے ہیں تو ان کا وہ مخصوص انداز قائم رہتا ہے جس سے اہل علم بھی استفادہ کر سکتے ہیں اور ایک معمولی پڑھے لکھے کے لئے بھی اس کے معنی اور مفہوم تک رسائی آسان ہوتی ہے۔ تاریخ و تفسیر کے سلسلے میں بھی ان کی تحریروں میں علم بیان کی یہ خوبیاں برقرار رہتی ہیں۔

۳۔ مجھے مولانا کی اکثر تصانیف کا مطالعہ کرنے کا موقع ملا ہے۔ ان میں سے بعض تصانیف سے نظریاتی و اعتقادی نوعیت کا اختلاف بھی ہوا ہے، لیکن اس میں شک نہیں کہ اس اختلاف کے باوجود ان کے مطالعے سے یک گونہ فکری تحریک پیدا ہوئی ہے جس نے مزید تحقیق و تفحص کی طرف مائل کیا ہے۔ اس سلسلے میں ان کی تصنیف خلاف و ملوکیت خاص طور پر قابل ذکر ہے۔

٤- کوئی کلیہ استثنا سے خالی نہیں ہوتا۔ تاریخ میں ایسے اہل قلم بھی ملتے ہیں جنہوں نے معاشرے میں مثبت کردار ادا کرنے کے بجائے منفی کردار ادا کیا ہے، لیکن بالعموم اہل قلم معاشرے کی بہتر تشکیل کے لئے ہی جد وجہد کرتے ہیں خواہ ان کے طرز فکر اور طرز کار سے کسی کو اختلاف ہی کیوں نہ ہو۔

جہاں تک مولانا مودودی کی تحریروں کا تعلق ہے، وہ اپنے تمام تر اختلافی پہلوؤں کے باوجود خیر کے جذبے سے عاری نہیں۔ وہ پاکستان میں اسلامی نظام کے قیام کے علمبردار تھے۔ اس سلسلے میں انہوں نے عملی جد و جہد کے ساتھ تصنیف و تالیف سے بھی کام لیا جس نے ایک حد تک ذہنوں کو متاثر بھی کیا۔ اس لئے یہ کہنا تو صحیح نہیں ہو گا کہ مولانا کی تصانیف میں مثبت شعور نہیں، لیکن انکی جماعتی دائرہ بندی جو صالحیت کے سیاست آمیز مذہبی تصور پر مبنی تھی، میری دانست میں اسلامی تاریخ و ثقافت کے منافی تھی اور اس کے اچھے اثرات مرتب نہیں ہوئے بلکہ اس طرز فکر نے ایک مخصوص گروہ میں مذہبی فاشیت کا رنگ پیدا کردیا۔ روح عصر تخرب و تفریق میں مبتلا ہو گئی اور قوم مذہب پرست اور دنیا پرست کے فرقوں میں بٹ گئی۔ میں اپنی اس رائے کو ذرا تفصیل سے بیان کروں گا۔

حقیقت یہ ہے کہ دنیا پرست ہر زمانے میں بکثرت رہے ہیں، اس تفریق کا نتیجہ یہ ہوا کہ ملک میں مذہبی لوگ ایک نہایت مختصر حزب اختلاف میں سمٹ سمٹا کر رہ گئے۔یہ صحیح ہے کہ عمل اور تقوے کے لحاظ سے مختلف مدارج ہیں اور تفاعل و تقابل کا سلسلہ لامتناہی ہے۔ ہم میں اچھے بھی ہیں، برے بھی، اہل بصیرت بھی ہیں اور مست سے پندار بھی، مگر ہیں سب مسلمان اور یہ بھی صحیح ہے کہ ہمارے عوام کی اکثریت شریعت کا احترام کرتی ہے اور شرعی قوانین کے نفاذ کی خواهشمند ہے، لیکن عمل کی کوتاہیاں اور فکر و نظر کی نارسائیاں بھی اپنی جگہ موجود ہیں۔ اس عالم کا مزاج ترکیبی علم و عمل اور تقویٰ و طہارت کے اعتبار سے اختلاف و تفاوت کا مقتضی ہے۔ اشیاء اپنے وجود کے لئے اضداد کا تقاضا کرتی ہیں۔ خیر و شر نیک و بد مومن و فاسق، متقی و فاجر لازم و ملزوم کا اعتبار رکھتے ہیں اوراس اختلاف کی گوناگونی اور بو قلونی پر اس عالم شہادت کا ظہور اور کاروبار کثرت و تفصیل کا وجود منحصر ہے۔ ہاں خیر و شر کی باہمی نسبت و اضافت میں کمی بیشی ہوتی رہتی ہے۔ علمائے حق کا یہ فرض ہے کہ وہ عوام کے اخلاق و اطوار کی اصلاح کریں اور ان کے معتقدات و افکار قانون شریعت یعنی فطرت اللہ کے مطابق استوار کرنے کی کوشش کریں۔ یہی منشائے الہی ہے اور اسی پر سنت الہی جاری ہے۔ اس مقصد کے حصول کے لئے وعظ و تبلیغ اور پند و نصیحت کا کاروبار ازل سے ابد تک جاری رہے گا۔

مولانا نے اس سلسلے میں تصنیف و تالیف کے محاذ پر جو کام کیا ہے وہ قابل قدر ہے، لیکن اس مقصد کے لئے حصول حکومت اور طلب جاہ و امارت جو ان کے پروگرام میں شامل ہو گئی وہ مناسب نہ تھی۔ داعیان حق کے لئے یہ زیبا نہیں کہ وہ دنیا طلبی میں ملوث ہو کر خواہشات نفسانی کے بھنور میں پھنس جائیں جو خود مادیت و نفسانیت میں گم گشتہ ہوں وہ دوسروں کو اس دلدل سے کیسے نکال سکتے ہیں اور رشد و ہدایت کا کام کس طرح انجام پاسکتا ہے؟

ه نظریاتی ہم آہنگی کے لئے ہم مسلک و ہم عقیدہ ہونا ضروری ہے۔ جو لوگ مولانا کی تحریروں سے نظریاتی ہم آہنگی محسوس نہیں کرتے ان کی راہ میں یہی مسلک اور عقیدہ رکاوٹ بنتا ہے۔ مجھے خود مولانا کی وہی تحریریں پسند آئی ہیں جن کا میرے عقائد اور مسلک سے ٹکراؤ نہ ہو۔ اگر اہل قلم عقائد کی بحث سے بالا تر ہو کر لکھیں اور کسی دوسرے مکتب فکر کو ہدف تنقید بنائے بغیر اپنا نظریہ پیش کریں، تو اس کی مقبولیت کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں۔

مولانا کا یہ نظریہ کہ ملک میں قرآن و سنت پر عمل کرنے کا سازو سامان ہو، غیر اختلافی ہے۔ ہر مسلمان یہی خواہش رکھتا ہے، لیکن جب مسلمانوں میں دائرہ بندی کی جاتی ہے اور صالح و غیر صالح کی بات کی جاتی ہے تو مسلمان دو گروہوں میں بٹ جاتے ہیں۔ قرآن حکیم اس قسم کے اختلاف و افتراق کی تائید نہیں کرتا۔ قرآن سب سےزیادہ جس چیز کا علمبردار ہے، وہ امر بالمعروف و نہی عن المنکر ہے۔ وہ چاہتا ہے کہ دنیا میں امن و امان ہوتا کہ اعلائے کلمتہ الحق ہو سکے، یعنی توحیدی تخیل و تصور پر بنی نوع انسان متحدد متفق ہو جائیں، اور پھر اس مقصد حقیقی کی طرف متوجہ ہو سکیں جو غایت الغایات ہے اور یہ منتا و مقصود معرفت نفس ہے جس کے بغیر معرفت الہی محال ہے۔جہاں تک اچھے برے کی تمیز کا تعلق ہے اس سلسلے میں شریعت اسلامی کا یہ اصول ہے کہ خدا ہی جانتا ہے اور بہتر جانتا ہے کہ کون اچھا اور کون برا ہے۔ البته وجدانی طورپر کراہت و استحباب یعنی پسندیدگی و ناپسندیدگی کا حق انسان کو ہے، لیکن کفر و ایمان یا فسق و فجور کے بارے میں کوئی فتوی کسی جزوی یا فروعی معلومات کی بنا پر صادر نہیں کیا جاسکتا۔ اسی لئے حضرت امام اعظم نعمان بن ثابت نے یہ فرمایا تھا کہ اگر کسی شخص میں ستر وجوہ ایمان سے ایک وجہ بھی ہو تو اس کو کافر نہیں کہنا چاہئے۔ تقویٰ و صالحیت ایک کیفیت باطنی اور نور ایمان کا نام ہے جس کا علم ظاہر بین نگاہوں کو نہیں ہو سکتا۔ اس بنا پر کوئی تفریق من حیث الجماعت صالح یا غیر صالح کی نہیں ہو سکتی۔ فقہ نفی کا یہ مسلمہ اصول ہے کہ اعمال صالحہ حقیقت ایمان کا جزو نہیں۔ ہر دور میں لوگوں کے اعمال کی نیکی و بدی کے اعتبار سے عروج و تنزل اور ترقی و انحطاط ہوتا رہتا ہے لیکن خود مسلمانوں میں اعمال کی بنا پر دو جداگانہ جماعتیں کبھی نہیں بنیں اور یہ کبھی نہیں ہوا کہ ایک جماعت کو اسلامی قرار دیا گیا ہو اور دوسری کو غیر اسلامی۔

میرے خیال میں جو لوگ اس انداز فکر کے حامل ہیں۔ انہیں مولانا کی تحریروں سے ہم آہنگی کیسے محسوس ہو سکتی ہے!

محمد صلاح الدین

اردو ڈائجسٹ کا سید مودودی نمبر نظر سے گزرا۔ اس خصوصی شمارے کے لئےمولانا مودودی کی شخصیت ان کے اسلوب اور تعمیری کردار سے متعلق پانچ متعین سوالات کے جواب میں مختلف اکابرین کی رائے اور ان کے تاثرات کا بھی مطالعہ کیا۔اس تحریری مذاکرے میں جن اصحاب نے حصہ لیا، ان میں انڈین سول سروس اوربعد ازاں پاکستان کی سول سروس کے ایک ممتاز رکن عہد ایوبی کے وفاقی سیکرٹری بھٹو دور کے سیکرٹری تعلیم و ثقافت، رائٹرز گلڈ کے بانی اور ترقی پسند تحریک کے معروف ادیب جناب قدرت اللہ شہاب بھی شامل تھے۔ جمعہ ۱۸ ستمبر نوائے وقت کراچی کے ادبی صفحات پر ان کا ایک طویل انٹرویو ان کی چند تازہ ترین تصاویر کے ساتھ نظر نواز ہوا۔ چہرے پر بھر پور شرعی داڑھی اور پھر انٹرویو میں شریعت اور تصوف وغیرہ پر ان کے خیالات دیکھ کر محسوس ہوا کہ وہ مذہب کے بارے میں معاندانہ نہیں، ہمدردانہ رویہ رکھتے ہیں، اسلام اور شعائر اسلام سے ان کا قلبی و ذہنی رشتہ قائم ہے اور وہ ایمان کی روشنی سے بہرہ مند ہیں۔

قدرت اللہ شہاب صاحب نے اردو ڈائجسٹ میں مولانا مودودی کی تحریک اسلامی اور ان کے مقاصد اور نصب العین کے بارے میں تفصیل سے اظہار خیال کیا ہے۔ ان کا نقطہ نظر اگر محض ایک فرد کی رائے ہوتی تو اسے نظر انداز کیا جا سکتا تھا، لیکن حقیقت یہ ہے کہ انہوں نے ایک مخصوص، اعلیٰ تعلیم یافتہ اور مقتدر گروہ کی ترجمانی کی ہے اور وہی باتیں پھر دہرائی ہیں جو اس طبقے کے ہر فرد کی زبان پر آتی رہی ہیں۔ اس لئے ضروری محسوس ہوتا ہے کہ قدرت اللہ شہاب صاحب اور ان کے ہم خیال لوگوں کے نقطہ نظر کا سنجیدگی سے جائزہ لے لیا جائے۔ شہاب صاحب نے خود بھی یہ بات واضح کر دی ہے کہ وہ صرف اپنا انفرادی نقطہ نظر پیش نہیں کر رہے، بلکہ ایک گروہ کی ترجمانی کر رہے ہیں۔ وہ اپنی گفتگو کا انتقام اس جملے پر کرتے ہیں:

"میرے خیال میں جو لوگ اس انداز فکر کے حامل ہیں، انہیں مولانا کی تحریروں سے ہم آہنگی کیسے محسوس ہو سکتی ہے"-

اب یہ انداز فکر کیا ہے، اسے خود شہاب صاحب کے اپنے الفاظ میں ملاحظہ فرمائے۔ (مکمل عبارت کے لئے اوپر سوال نمبر ۴ اور ۵ کا جواب دیکھئے۔)

وہ فرماتے ہیں:

"یہ کہنا تو صحیح نہیں ہو گا کہ مولانا کی تصانیف میں مثبت شعور نہیں، لیکن ان کی جماعتی دائرہ بندی جو صالحیت کے سیاست آمیز مذہبی تصور پر مبنی تھی، میری دانست میں اسلامی تاریخ و ثقافت کے منافی تھی اور اس کے اچھے اثرات مرتب نہیں ہوئے، بلکہ اس طرز فکر نے ایک مخصوص گروہ میں مذہبی فاشیت کا رنگ پیدا کر دیا۔ روح عصر تحزب و تفریق میں جتلا ہو گئی اور قوم مذہب پرست اور دنیا پرست کے فرقوں میں بٹ گئی”۔

اس کے بعد وہ یہی رائے ذرا تفصیل سے بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں:

"علمائے حق کا یہ فرض ہے کہ وہ عوام کے اخلاق اور اطوار کی اصلاح کریں اوران کے معتقدات و افکار قانون شریعت یعنی فطرت الیہ کے مطابق استوار کرنے کی کوشش کریں۔ یہی منشائے الہی ہے اور اسی پر سنت الہی جاری ہے۔ اس مقصد کے حصول کے لئے وعظ و تبلیغ اور پند و نصیحت کا کاروبار ازل سے ابد تک جاری رہے گا"-

یہ "اصول" بیان کرنے کے بعد اب وہ مولانا مودودی کی گرفت کرتے ہیں:

مولانا نے اس سلسلے میں تصنیف و تالیف کے محاذ پر جو کام کیا ہے، وہ قابل قدر ہے، لیکن اس مقصد کے لئے حصول حکومت اور طلب جاہ و امارت جو ان کے پروگرام میں شامل ہو گئی، وہ مناسب نہ تھی۔ داعیان حق کے لئے یہ زیبا نہیں کہ وہ خود دنیا طلبی میں ملوث ہو کر خواہشات نفسانی کے بھنور میں پھنس جائیں۔ جو خود مادیت و نفسانیت میں گم گشتہ ہوں وہ دوسروں کو اس دلدل سے کیسے نکال سکتے ہیں اور رشد و ہدایت کا کام کس طرح انجام پاسکتا ہے؟" پانچویں سوال کا جواب دیتے ہوئے وہ ارشاد فرماتے ہیں۔

"نظریاتی ہم آہنگی کے لئے ہم مسلک و ہم عقیدہ ہونا ضروری ہے۔ جو لوگ مولانا کی تحریروں سے نظریاتی ہم آہنگی محسوس نہیں کرتے، ان کی راہ میں یہی مسلک اور عقیدہ رکاوٹ بنتا ہے، مجھے خود مولانا کی وہی تحریریں پسند آتی ہیں جن کا میرے عقائد اور مسلک سے ٹکراؤ نہ ہو"۔

اب "اتفاق" اور "اختلاف" کا یہ انداز ملاحظہ ہو:

"مولانا کا یہ نظریہ کہ ملک میں قرآن و سنت پر عمل کرنے کا سازو سامان ہو، غیر اختلافی ہے ہے۔ ہر مسلمان یہی خواہش رکھتا ہے، لیکن جب مسلمانوں میں دائرہ بندی کی جاتی ہے تو مسلمان دو گروہوں میں بٹ جاتے ہیں۔ قرآن حکیم اس قسم کے اختلاف و افتراق کی تائید نہیں کرتا۔ قرآن سب سے زیادہ جس چیز کا علمبردار ہے، وہ "امر بالمعروف اور نہی عن المنکر’’ ہے

آگے ارشاد ہوتا ہے :

جہاں تک اچھے برے کی تمیز کا تعلق ہے، اس سلسلے میں شریعت اسلامی کا اصول یہ ہے کہ خدا ہی جانتا ہے اور بہتر جانتا ہے کہ کون اچھا اور کون برا ہے، البته وجدانی طور پر کراهت و استحباب ، یعنی پسندیدگی اور ناپسندیدگی کا حق انسان کو ہے، لیکن کفر و ایمان یا فسق و فجور کے بارے میں کوئی فتوی کسی فروعی معلومات کی بنا پر صادر نہیں کیا جا سکتا"۔ اس کی مزید تشریح یوں ہوتی ہے:

تقویٰ اور صالحیت ایک کیفیت باطنی اور نور ایمان کا نام ہے جس کا علم ظاہر بین نگاہوں کو نہیں ہو سکتا۔ اس بنا پر کوئی تفریق من حيث الجماعت صالح یا غیر صالح کی نہیں ہو سکتی۔

تاریخ کا فیصلہ سناتے ہوئے شہاب صاحب فرماتے ہیں:

"خود مسلمانوں میں اعمال کی بناء پر دو جداگانہ جماعتیں کبھی نہیں بنیں اور یہ کبھی نہیں ہوا کہ ایک جماعت کو اسلامی قرار دیا گیا ہو اور دوسری کو غیر اسلامی ان اقتباسات کے حوالے سے ہم مولانا مودودی کے خلاف قدرت اللہ شہاب کی مرتب کردہ فرد جرم کا خلاصہ تیار کرنا چاہیں، تو اس کے اہم نکات یہ ہوں گے: ١- مولانا نے جماعتی دائرہ بندی کی جو صالحیت کے سیاست آمیز مذہبی تصور پر مبنی تھی اور اسلامی تاریخ و ثقافت کے منافی تھی۔ ٢۔ ان کے طرز فکر نے ایک مخصوص گروہ میں مذہبی فاشیت کا رنگ پیدا کر دیا اور قوم مذہب پرست اور دنیا پرست دو فرقوں میں بٹ گئی۔ ٣- علمائے حق کا اصل کام اخلاق واطوار کی اصلاح، وعظ و تلقین اور پند و نصیحت ہے۔اس کاروبار کو وہ ابد تک جاری رکھ سکتے ہیں۔ منشائے الہی بھی یہی ہے، مگر مولانا مودودی نے اپنے پروگرام میں حصول حکومت اور طلب جاہ و امارات کو بھی ملوث کر لیا جو مناسب نہ تھا۔ ٤- وہ دنیا طلبی میں ملوث ہو کر خواہشات نفسانی کے بھنور میں پھنس گئے۔ ٥-مولانا کا مسلک و عقیدہ ان سے نظریاتی ہم آہنگی میں رکاوٹ بن گیا ہے اور ہمارے عقائد و مسلک سے ٹکراتا ہے۔ ٦- ملک میں قرآن و سنت پر عمل کے سازو و سامان کا نظریہ تو غیر اختلافی ہے اور ہر مسلمان کی خواہش سے مطابقت رکھتا ہے، لیکن مولانا نے صالح اور غیر صالح کی بات کر کے مسلمانوں کو دو گرو ہوں میں بانٹ دیا - جبکہ قرآن اس قسم کے اختلاف اور افتراق کی تائید نہیں کرتا۔ ٧۔ قرآن امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا علمبردار ہے، لیکن مولانا کا کام اس سے ہم آہنگ نہیں۔ ٨۔ اچھے برے کی ہم کوئی تمیز نہیں کر سکتے۔ خدا ہی بہتر جانتا ہے کہ کون اچھا اور کون برا ہے، لیکن مولانا مودودیؒ صالح اور غیر صالح کی تفریق کرتے ہیں؟ حالا کہ تقویٰ اور صالحیت ایک باطنی کیفیت کا نام ہے، ظاہر بین نگاہوں کو اس کا علم کیسے ہو سکتا ہے؟ ٩۔ مسلمانوں میں اعمال کی بنا پر دوجداگانہ جماعتیں کبھی نہیں بنیں اور ایک جماعت کو اسلامی اور دوسری کو غیر اسلامی قرار دینے کا واقعہ تاریخ میں کبھی رونما نہیں ہوا۔ یہ ناخوشگوار کام صرف مولانا مودودی نے انجام دیا ہے۔

شهاب صاحب اور ان کے ہم خیال گروہ کی جانب سے عائد کردہ ان الزامات کا مفصل جواب ایک پوری کتاب کا تقاضا کرتا ہے، لیکن ہم ایک مضمون کی تنگ دامنی کے پیش نظر انتہائی اختصار سے چند اصولی باتوں اور غلط بیانی یا غلط فہمی کے ازالے ہی پر اکتفا کرتے ہیں۔

شهاب صاحب ، اور جس گروہ کی وہ ترجمانی کرتے ہیں، اس کی اصل مشکل یہ ہے کہ وہ مغرب کے سیکولر نظام تعلیم و تربیت کی پیداوار ہے اور بنیادی طور پر دین اور دنیا کی علیحدگی پر ایمان رکھتا ہے۔ یہ مغرب کی روایت کے مطابق مذہب کو انسان کا نجی معاملہ سمجھتا ہے اور اجتماعی زندگی میں اس کی دخل اندازی پسند نہیں کرتا۔ اس کا نقطہ نظر یہ ہے کہ دنیا پر ہماری اور مسجد و مدرسے میں خدا کی حکمرانی ہو۔ جو علماء اس فارمولے پر ہم سے سمجھوتہ کر لیں، انہیں تقدس و احترام کے طاق میں سجایا اور اعزاز و اکرام سے نواز جائے، ان کی لیت، بے غرضی اور زہد و تقویٰ کا خوب چرچا ہو اور جو ہمارے قائم کردہ حصار سے باہر نکل کر ہماری عمل داری میں مداخلت کرے اسے جاہ طلبی، دنیا داری اور امارت و حکومت کی حرص و طمع کے طعنوں کی زد میں لے کر ایسی تیر اندازی کی جائے کہ وہ مسجد و مدرسہ کی حدود میں پناہ لینے اور وہیں پڑاؤ ڈالے رکھنے پر مجبور ہو جائے۔ مولانا مودودیؒ کا ناقابل معافی جرم یہ ہے کہ انہوں نے ایک طرف تو دین و دنیا کی علیحدگی کے نظریے پر کاری ضرب لگا کر ادخلوا في السلم كا فتہ کا قرآنی مطالبہ دہرایا اور انسان پر انسان کی حکمرانی کا خاتمہ کرنے کے لئے خدا کی کامل، ہمہ گیر اوربلا شرکت غیر حکمرانی کا قرآنی تصور پیش کر دیا اور دوسری طرف خدا کی نیابتی حکمرانی کے لئے شرط "صالحیت" عائد کر کے اقتدار پر پہلے سے قابض گروہ کو نہ صرف اقتدار و حکمرانی کے منصب سے بے دخل کر دیا، بلکہ اس کے لئے نااہل (Disqualified) بھی قرار دے دیا۔ یہ دو طرفہ حملہ ایسا نہ تھا جسے مفاد پرست گروہ خاموشی سے پی جاتا۔اس پر چیخ پکار ہونا بالکل فطری امر تھا۔ مشتعل گروہ کا اصل ذہنی خلجان یہ ہے کہ اب تک حکومت و امارت کے لئے اعلیٰ تعلیم، مخصوص مفاد یافتہ گروہ سے تعلق اور مغربی تهذیب و ثقافت سے وابستگی کی سند کافی تھی اور ہم نے یہ ساری شرائط پوری کر دی تھیں۔ اب یہ "صالحیت" کی بلا کہاں سے نازل ہو گئی۔ اس گز سے اگر ہمیں ناپا گیا تو کتے ہیں جو مسند اقتدار پر باقی رہیں گے؟

"صالحیت" کی خوفناک اصطلاح اس گروہ کے دل و دماغ پر کنکھجورے کی طرح چپک کر رہ گئی اور اس نے بدحواسی میں "صلاحیت“ اور ”صالحین" سے جان چھڑانے کے لئے اپنی آہ و بکا سے آسمان سر پر اٹھا لیا حالانکہ یہ ایسے الفاظ نہ تھے جنہیں مولانا مودودی نے اسلامی لٹریچر میں پہلی بار استعمال کیا ہو، یہ اصطلاح خود قرآن کی دی ہوئی ہے۔ سورہ توبہ کی آیت نمبر ۱۲۰ میں اور پھر مزید ۳۶ مقامات پر عمل صالح" اور سورہ "ہود کی آیت نمبر ٤٦ میں "عمل غیر صالح " کا ذکر موجود ہے۔ ۳ مقامات پر "صالحون اور ۲۷ مقامات پر "صالحین" کے الفاظ اللہ کے نیک بندوں کے لئے اور ۶۲ مقامات پر نیک اعمال اور پاکیزہ کردار مسلم خواتین کے لئے ”صالحات" کا لفظ استعمال ہوا ہے۔قرآن میں "صالح" اور "صالحین" کے الفاظ جن معنوں میں استعمال ہوئے ہیں، بالکل انہی معنوں میں مولانا مودودی نے انہیں استعمال کیا ہے اور پھر احادیث نبوی کتب سیرت، فقہ اور پوے اسلامی لٹریچر میں نیک سیرت مسلمان کے لئے یہ اصطلاح بکثرت موجود ہے۔ مسلمانوں کا پورا نظام تعلیم صالح انسان تیار کرنے کے نصب العین ہی پر مبنی ہے، بلکہ نزول قرآن اور بعثت نبوی کا اصل مقصد بھی صالح انسان بنانا اور نا اور صالح معاشرہ قائم کرنا ہی ہے۔

یہ طرز عمل خود اس حقیقت کی غمازی کرتا ہے کہ نیکی اور شرافت ہر جگہ مطلوب ہے، مگر سیاست اور حکومت و امارت کی سطح پر اس کی ضرورت نہیں، اور یہی وہ مرحلہ ہے جہاں مولانا مودودی دلائل کے ساتھ ثابت کرتے ہیں کہ نیکی اور شرافت کی سب سے زیادہ ضرورت اسی سطح پر ہے اور چونکہ یہ سطح اس وقت اس صفت سے خالی ہے اس لئے بگاڑ اپنی جگہ قائم ہے۔ وہ معاشرے کے ایک ایک صالح آدمی کو پکارتے اور اس کے سامنے یہ دعوت پیش کرتے ہیں کہ سب مل کر، متحد ہو کر اور پوری قوت لگا کر صالحیت کو سیاست کے میدان میں داخل کرو۔ جب تک اس ایوان پر ضلالت و گمراہی کا قبضہ جما رہے گا۔ انسانی معاشرہ کبھی امن و سکون اور عدل و مساوات کی فضا کا منہ نہ دیکھ سکے گا۔

مولانا مودودی چونکہ "صالحیت" کو کتابوں کے اوراق اور مسجد اور مدرسے کی حدود سے باہر نکال کر ایوان اقتدار کے در و بام تک لے آئے ہیں، اس لئے وہ اس ایوان کے غیر صالح" مکینوں کو بری طرح کھٹکتے ہیں۔ تبلیغی جماعت اپنے تبلیغی نصاب" میں اسی صالحیت پر زور دے تو کسی کی جبین شکن آلود نہیں ہوتی۔ دارالعلوم میں اس کی تعلیم و تربیت ہو تو کسی کو پریشانی لاحق نہیں ہوتی۔ مساجد میں اس کی ضرورت و اہمیت پر تقاریر ہوں تو کسی کی طبیعت میں خلجان پیدا نہیں ہوتا، لیکن یہی صالحیت اگر مسند اقتدار پر آدھمکے تو نیندیں حرام ہو جاتی ہیں، توپوں کے دہانے گالیوں کے گولے برسانے لگتے ہیں۔

سیکولر ذہن اور اس کی مخصوص نفسیاتی کیفیت کے تجزیے کے بعد اب اسلام کی روشنی میں اس فرد جرم کا جائزہ لیجئے جو قدرت اللہ شہاب صاحب نے مولانا مودودیؒ کے خلاف مرتب کی ہے:

١- پہلا اعتراض یہ ہے کہ مولانا نے صالحیت کے سیاست آمیز مذہبی تصور پر مبنی جماعتی دائرہ بندی کی۔ اسلام میں دائرہ بندی صرف رنگ، نسل، علاقے، زبان اور دیگر تعصبات کے حوالے سے ممنوع ہے۔ اعمال کے اعتبار سے تو خود اللہ اور اس کے رسول نے درجہ بندی کی ہے۔ یہ سابقون الاولون کی دائرہ بندی اہل بدر کی دائرہ بندی، عشرہ مبشرہ کی دائرہ بندی مهاجر و انصار کی دائرہ بندی، مومنین اور منافقین کی دائره بندی سب اعمال و صفات پر مبنی دائرہ بندیاں ہیں اور ان سب میں سے کوئی بھی خلاف اسلام نہیں۔ قرآن تو خود ایک دائرہ بندی کی دعوت دیتا ہے۔

”اور تم میں سے ایک جماعت ایسی ہونی چاہیے جو نیکی کی طرف بلائے، بھلائی کا حکم دے اور برائی سے روکے جو لوگ یہ کام کریں گے وہی فلاح پائیں گے۔ایک اور دائرہ بندی دیکھئے (ترجمه - آل عمران ۱۰۴)

یہ دائرہ بندی بھی ملاحظہ فرمائیے:

"اللہ تمہیں حکم دیتا ہے کہ امانتیں (اعتماد کی ذمے داریاں) اہل امانت (اہل اور امین لوگوں) کے سپرد کرو "۔ (ترجمه - النساء - ۱۵۸) ”زمانے کی قسم انسان در حقیقت خسارے میں ہے۔ سوائے ان لوگوں کے جو ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے اور جو ایک دوسرے کو حق کی نصیحت اور صبر کی تلقین کرتے رہے۔ ( ترجمہ - سورة العصر )

کہاں تک مثالیں دی جائیں۔ کتب احادیث بھی اسی نوعیت کی درجہ بندی سےبھری پڑی ہیں۔ برائی کو بزور مٹا دینے، زبان سے اس کے خلاف صدائے احتجاج بلند کرنے اور دل سے برا جاننے کی مختلف کیفیات کے ساتھ ایمان کے درجے ہیں۔ کہیں جھوٹ، بد عہدی اور بدگوئی کی بری عادتوں کے حوالے سے منافق کی پہچان ہے۔ غرض عمال کی بنا پر دائرہ بندی کا ایک لامتناہی سلسلہ ہے جو دنیا کی زندگی سے لے کر آخرت اور وہاں اپنے اپنے درجے کے مطابق جنت و دوزخ اور پھر اس جنت اور دوزخ کے اندر بھی کئی کئی درجوں تک پھیلا ہوا ہے۔

اب اگر مولانا مودودیؒ بھی اعمال صالح کی بنیاد پر ایک جماعت بنا کر دائرہ بندی کرتے ہیں اور اس دائرے میں کام کرنے والے افراد کو تزکیہ نفس اور تعلیم و تربیت کے مختلف مراحل سے گزار کر معاشرے کے لئے ایک صالح قیادت تیار کرتے اور اسے پورے معاشرے کو صالح بنانے کے کام پر لگاتے ہیں، تو یہ منافی اسلام حرکت کیسے ہو گئی؟ اس دائرہ بندی میں نہ نسلی، لسانی، علاقائی، گروہی، طبقاتی اور مسلکی تعصب ہے، نہ اس اجتماعی نظم میں خود اسلام کی عائد کردہ کم سے کم مطلوبہ شرائط کردار سے زیادہ کوئی شرط رکنیت ہے۔ اسلامی تاریخ و ثقافت میں شہاب صاحب کو کہیں سیاست آمیز دائرہ بندی نظر نہیں آتی۔ سقیفہ بنی ساعدہ میں مہاجرین، انصار اور بنو ہاشم کی دائرہ بندی سیاست آمیز تھی، لیکن یہ سیاست چونکہ ”صالحیت" کی صفت سے متصف تھی،اس لئے کسی بگاڑ کے بجائے خیر کا ذریعہ بنی۔

حضرت علیؓ کے دور میں بنی امیہ اور بنی ہاشم کی دائرہ بندی ہوئی، پھر خوارج کی دائرہ بندی ہوئی اور ہمارے دور تک آتے آتے بریلوی ، دیوبندی، اہلحدیث اور اہل قرآن وغیرہ کی دائرہ بندی ہوئی۔ سیاسی محاذ پر مسلم لیگ، جمعیت علمائے اسلام احرار،خاکسار، خدائی خدمت گار اور خدا جانے کس کس نام سے کتنی دائرہ بندیاں ہوئیں، لیکن شہاب صاحب ان میں سے کسی کا تاریخی وجود تسلیم نہیں کرتے۔ انہیں صرف مولانا مودودی کی جماعتی دائرہ بندی نظر آتی ہے۔ تحریک مجاہدین، تحریک ریشمی رومال اور خود مسلم لیگ کے پرچم تلے تحریک پاکستان کیا ”سیاست آمیز" تحریکیں نہ تھیں؟ ان کے بارے میں شہاب صاحب کا فتویٰ کیا ہے؟

٢- مولانا مودودیؒ پر دوسرا الزام یہ ہے کہ ان کے طرز فکر نے ایک مخصوص گروہ میں مذہبی فاشیت کا رنگ پیدا کر دیا اور قوم مذہب پرست اور دنیا پرست فرقوں میں بٹ گئی۔ فاشیت کے معنی قدرت اللہ شہاب صاحب سے پوشیدہ نہ ہوں گے۔ یہ نسلی برتری کے جذبے پر مبنی طاقت اور ظلم و استبداد کے ہر ہتھکنڈے کے ذریعے دوسروں پر غلبہ حاصل کرنے اور اسے مستحکم و وسیع کرتے جانے کے جنون کا نام ہے۔ کیا مولانا مودودی واقعی اسی فکر کے علمبردار ہیں؟ یہ الزام عائد کرتے وقت شہاب جیسے ذی علم آدمی کو لمحہ بھر سوچنا چاہیے تھا۔ طبقاتی شعور اور تاریخ کے جدلیاتی تصور کے تحت روس میں اور پھر اس کے ہاتھوں مشرقی یورپ اور اب افغانستان میں جو کچھ ہوا ہے اس کے لئے شہاب صاحب نے اپنی لغت میں کونسی اصطلاح بچا کر رکھی ہے؟ مولانا مودودی پر امن اسلامی انقلاب کے داعی ہیں۔ ہمارا چیلنج ہے کہ کوئی شخص ان کی ۵۰ سالہ تحریروں میں اور ان کی جماعت کے لٹریچر سے تشدد کے پرچار کا ایک فقرہ نکال کر دکھا دے۔ وہ اس اصول پر یقین نہیں رکھتے کہ "اقتدار بندوق کی نالی سے جنم لیتا ہے"۔ ان کا تو دعوی ہی یہ ہے کہ حقیقی انقلاب دل و دماغ کی گہرائیوں سے ابھرتا ہے اور دل و دماغ کی دنیا اخلاقی انقلاب سے بدلتی ہے۔ اس انداز فکر پر فاشیت کی کھیتی کرنا شہاب صاحب ہی کا حوصلہ ہے۔ جہاں تک قوم کو مذہب پرست اور دنیا پرست فرقوں میں تقسیم کرنے کا سوال ہے، یہ کام عہد رسالت سے ہوتا آیا ہے۔قرآن اسے آخرت کی طلب اور دنیا کی طلب سے تقسیم کرتا ہے اور ہمارا قدیم لٹریچر بھی دنیا دار" اور دیندار" کی اصطلاحوں سے بھرا پڑا ہے۔ اعمال و افکار کی روشنی میں یہ تقسیم ازل تک جاری رہے گی۔ تنہا مولانا مودودی کو اس کا سارا کریڈٹ دینا دوسروں کے ساتھ زیادتی ہے۔

٣- تیسرا الزام طلب جاہ و امارت کا ہے۔ علمائے حق شہاب صاحب کے نزدیک صرف وعظ و تلقین اور پند و نصیحت کی حدود تک اپنا کاروبار جاری رکھتے ہیں اور ابد تک جاری رکھ سکتے ہیں۔ یہ وہی سیکولر ذہن بول رہا ہے جو جاہ و امارت کو اپنا پیدائشی حق اور علمائے حق کے لئے صرف وعظ و نصیحت کے مشاغل کا قائل ہے۔ مولانا مودودی اگر جاہ و امارت کے طلب گار ہوتے تو اس کے حصول میں انہیں وقت کیا تھی ؟ جاه و امارت تو ان کے گھر کی لونڈی تھی۔ کونسا حکمران ہے جس نے انہیں شریک اقتدار ہونے کی پیش کش نہ کی ہو ؟ کوئی رات کی تاریکیوں میں ان کی دہلیز پر پہنچا، کسی نے خفیہ پیغامبر بھیجے ، مگر اسلام کا یہ بے لوث خادم اپنی جگہ پہاڑ کی طرح قائم رہا۔ مولانا مودودی بلاشبہ حصول حکومت و امارت کے لیے کوشاں تھے بلکہ یہی ان کا اور ان کی تحریک کا اولین مقصد رہا ہے مگر وہ حکومت اور امارت اپنی ذات کے لئے نہیں، قرآن اور سنت کی مکمل حکمرانی کے لئے چاہتے تھے۔ یہ کیسی ستم ظریفی ہے کہ جو لوگ اپنی خواہشات نفس اور خالص استحصال و استکبار کے لئے حکومت و امارت سنبھالیں وہ خواہ غیر ملکی انگریز آتا ہوں، ایوب خان کی طرح فوجی آمر ہوں یا بھٹو کی طرح مطلق العنان ظالم حکمران، ان سب کے لئے تو اقتدر شیر مادر ہے اور خود شہاب صاحب کو بھی ان میں سے کسی کی خدمت گزاری پر کوئی تکدر محسوس نہیں ہوتا لیکن یہی اقتدار کوئی اللہ کی اور اس کے رسول کی حاکمیت کے لئے نظام خلافت قائم کرنے کی غرض سے حاصل کرنا چاہے تو یہ ”جاہ طلبی اور خواہش نفس" ہے۔ سچ ہے تعصب بری بلا ہے، عقل و فہم کو دیمک کی طرح چاٹ جاتا ہے۔

٤- چوتھا الزام وہی ہے جس کا جواب اوپر دیا جا چکا ہے۔

٥- پانچواں الزام مسلک کا ہے جو شہاب صاحب کے اپنے مسلک اور عقیدے سے ٹکراتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ مولانا اپنا مسلک و عقیدہ دریا برد کر دیں، تو کیا شهاب صاحب کا مسلک اور عقیدہ ٹکراؤ کی مصیبت سے نجات پا جائے گا؟ اس عصبیت کے خاتمے کی ایک ہی صورت ہے کہ امت کا ہر فرد شہاب صاحب کے عقیدے اور مسلک کو اختیار کر لے۔ مگر کیا یہ عملاً ممکن ہے؟ مولانا مودودیؒ نے اس کا ایک حل نکالا ہے۔ شہاب صاحب اس سے بہتر حل تجویز فرمادیں۔ مولانا کا مسلک یہ ہے کہ ہم سب اپنی اپنی انا اور روایتی تصور دین چھوڑ کر حضور اکرم کا مسلک اپنا لیں۔ ہر ذریعہ علم سے یہ جاننے کی کوشش کریں کہ خدا اور خدا کے رسول نے جو ہمارے لئے اسوہ حسنہ ہیں، کسی معاملے میں کیا فیصلہ یا حکم دیا ہم اس کو بغیر چون و چرا تسلیم کرلیں۔آپس میں تبادلہ خیال کر کے اور اپنے اپنے علم اور دلائل کا جائزہ لے کر نکتہ اتفاق تک پہنچیں۔ اس کے سوا ہم آہنگی کی اور کیا صورت ہو سکتی ہے۔

٦- چھٹا الزام وہی امت کو دو گروہوں میں بانٹ دینے کا ہے۔ اس دلچسپ ابتدا کے ساتھ کہ ملک میں قرآن و سنت پر عمل کے سازو سامان کا نظریہ تو غیر اختلافی ہے اور ہر مسلمان کی خواہش ہے، لیکن مولانا نے صالح اور غیر صالح کی بات کر کے معاملہ خراب کر دیا۔ شہاب صاحب ہر منصب اور عہدے کے لئے اہلیت (Qualification) کی ضرورت و اہمیت سے بے خبر نہ ہوں گے۔ ان کا طرز استدلال یہ ہے کہ صحت کی ضرورت اور بیماریوں سے نجات کے سامان پر تو سب کا اتفاق ہےمگر یہ نہ کہو کہ ڈاکٹر کم سے کم ایم بی بی ایس ضرور ہو۔ درسگاہوں میں اعلیٰ سیرت و کردار کی تشکیل پر سب کا اتفاق ہے، مگر یہ قید نہ لگاؤ کہ استاد بھی صاحب کردار ہو۔وہ قرآن و سنت پر عمل کے سازو سامان کے نظریہ کو تو غیر اختلافی قرار دیتے ہیں، لیکن انہیں اصل اختلاف اس سے ہے کہ عمل اور ساز و سامان (علم دین) سے واقف ہونے کی شرط بھی لگائی جائے۔ یہاں آکر وہ پٹری سے اتر جاتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ قرآن صالح اور غیر صالح کی تفریق نہیں کرتا اور ہمیں قرآن کا کوئی ایک صفحہ نظر نہیں آتا جہاں یہ تفریق نہ ہو۔

٧- ساتواں اعتراض بھی بڑا دلچسپ ہے۔ قرآن امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا علمبردار ہے اور مولانا مودودیؒ کی دعوت اس سے ہم آہنگ نہیں۔ ”ماروں گھٹنا پھوٹے آنکھ کی کہاوت تو بارہا سنی ہے، مگر اس کا ایسا خوبصورت اطلاق شاید ہی کہیں اور ہوا ہو۔ شہاب صاحب عربی زبان سے واقف ہیں۔ انہیں ”امر“ کے معنی ضرور معلوم ہوں گے۔ خود قرآن نے اسے جن معنوں میں استعمال کیا ہے، وہ ملاحظہ کیجئے لاله الخلق والامر -( اعراف - ٥٤ )

"خبردار! خلق بھی اسی کی ہے اور امر بھی اسی کا ہے" یہاں امر کے معنی حکم اور فرمان کے ہیں۔ حکم بالکل بے معنی لفظ ہے اگر اس کے پیچھے اختیار و قوت کارفرما نہ ہو۔

امر بالمعروف کا حکومت اور امارت سے کیا تعلق ہے، شہاب صاحب یہ بھی ملاحظہ فرمائیں:

الذين ان مكنهم في الارض اقامو الصلوة واتو الذكوة وامرو بالمعروف و نهوا عن المنكر (الحج ۴۱)

"یہ وہ لوگ ہیں۔ جنہیں ہم اگر زمین میں اقتدار بخشیں، تو یہ نماز قائم کریں گے، زکوۃ دیں گے، نیکی کا حکم دیں گے اور بدی سے روکیں گے۔"

اسلامی ریاست میں اقتدار کی قوت امر بالمعروف اور نہی عن المنکر ہی کے لئے استعمال کی جاتی ہے۔ اب شہاب صاحب کا کہنا یہ ہے کہ ”امر“ اور ”نہمی کا اختیار تو غیر صالح اور غیر مذہبی آدمی کے ہاتھ میں ہونا چاہیے اور معروف کو پھیلانے اور منکر کو مٹانے کی ذمہ داری علمائے حق کو ادا کرنی چاہیے۔ یہ علمائے حق اس کام کے لئے التيار و اقتدار کی قوت بھی اپنے ہاتھ میں لینا چاہیں گے تو دنیا طلبی کی دلدل اور خواہشات نفسانی کے بھنور میں پھنس جائیں گے۔ مطالب قرآن کا یہ فہم و شعور خلفائے راشدین کے حصے میں نہ آسکا' ورنہ وہ امارت و خلافت کی گندگی سے اپنا دامن بچائے رکھتے اور مسجد میں بیٹھ کر اللہ اللہ کرتے!

٨- الزام پھر وہی ہے کہ مولانا مودودی صالح اور غیر صالح کی تفریق کرتے ہیں۔مگر انداز ذرا مختلف ہے۔ اچھے برے کی ہم تمیز نہیں کرسکتے، خدا ہی بہتر جانتا ہے کون اچھا اور کون برا ہے۔ ظاہر بین نگاہوں کو اس کا علم کیسے ہو سکتا ہے؟ قرآن اچھائیوں کو «معروف" کا نام دے رہا ہے، یعنی ایسی صفات جو مسلمان ، کافر، مشرک سب جانتے ہیں کہ یہ اچھی ہیں اور ان کا اچھا ہونا دنیا بھر میں معروف ہے، لیکن شہاب صاحب جو خیر سے قدرت اللہ بھی ہیں اچھائیوں اور برائیوں میں تمیز کرنے کی قدرت نہیں رکھتے۔ وہ اعمال کے فرق سے چور، ڈاکو، خائن، شرابی، جعلساز، راشی اور کسی شریف و دیانت دار اور پاکیزہ کردار آدمی میں فرق نہیں کرسکتے۔ انہیں جاہل اور عالم میں بھی تمیز کرنا مشکل ہوگا، کیونکہ یہ سب باتیں صرف اللہ ہی کے علم میں ہیں۔پوری دنیا کا نظام قانون و تعزیر ظاہری اعمال ہی کی بنیاد پر چل رہا ہے اور ہر جگہ کوئی نہ کوئی معیار خیر و شر بھی موجود ہے۔ اس کے بغیر اجتماعی زندگی کا تصور ہی نہیں کیا جا سکتا، لیکن شہاب صاحب ظاہر میں نگاہوں کی بے بصری اور باطن ہیں نگاہوں سے محرومی کی بنا پر اچھے برے کی تمیز اٹھا دینا چاہتے ہیں۔ یہ کہیں موجود بھی ہو تو کم سے کم سیاست سے اسے دور ہی رکھا جائے۔ یہ تو ہوا شہاب صاحب کا فہم دین اب دیکھئے اس معاملے میں مزاج شناس دین حضرت عمر کیا فرماتے ہیں۔ خلافت کا عہدہ سنبھالنے کے بعد ایک خطبے میں ارشاد ہوتا ہے۔

"سنو! قرآن پڑھو اور صرف اجر خداوندی کے متلاشی بنو اور اپنے اعمال سے اس کا ارادہ کرو۔ جب وحی نازل ہوتی تھی تو ہم تمہیں اس کے ذریعے پہچان جاتے تھے۔ کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہم میں موجود تھے۔ اب وحی کا سلسلہ ختم ہو چکا ہے اور رسول اللہ تشریف لے جاچکے ہیں۔ اب تو میں تمہیں ان باتوں ہی سے پہچان سکوں گا جو میں نے بتائی ہیں۔ سنو ! جو کوئی بھلائی کا اظہار کرے گا، ہم اسے بھلا ہی سمجھیں گے اور اس کی تعریف کریں گے اور جو کوئی برائی کا اظہار کرے گا اس کے ساتھ برا گمان کریں گے اور اس سے کراہت محسوس کریں گے۔ (عمر بن خطاب طنطاوی مطبوعہ البیان۔ لاہور صفحہ ۲۸۶)

اس خطبے سے صاف ظاہر ہے کہ اب معاملہ پوشیدہ نیتوں پر نہیں، ظاہر پر طے ہوگا۔ مسلمانوں کا پورا نظام شہادت انہی ظاہر بین نگاہوں ہی سے گواہی پر مبنی ہو گا۔ مسلمانوں نے خلفائے راشدین کو ظاہر بین نگاہوں ہی سے پرکھ کر خلافت پر بٹھایا تھا۔ آج ہمارے معاشرے میں جس کا اعتبار قائم ہے، اسی ظاہر میں نگاہ کے بل پر قائم ہے۔ یہی نگاہ امام حسین اور یزید امام قبل اور قاضی ابوداؤد امام ابو حنیفہ اور ہارون الرشید و منصور، حضرت مجدد الف ثائی اور اکبر، جہانگیر اور اورنگ زیب اور رنگیلے شاہ کا فرق واضح کرتی چلی آرہی ہے، اب خدا جانے اس پر کیا مار پڑی ہے کہ قدرت اللہ شہاب صاحب کو اچھے برے میں کوئی تمیز قائم کرنے میں مدد نہیں دے رہی۔ ٩- آخری الزام مولانا مودودی پر یہ ہے کہ اعمال کی بنا پر دو جدا گانہ جماعتیں کبھی نہیں بنیں۔ انہوں نے ایک جماعت کو اسلامی اور دوسری کو غیر اسلامی کیسے قرار دے ڈالا؟ مسلمانوں کی جماعت کو غیر اسلامی قرار دینے کا اضافہ شہاب صاحب کا اپنا ہے۔ مولانا مودودی کا دامن اس نوعیت کی فتوے بازی سے پاک ہے۔ جہاں تک دو جداگانہ جماعتیں نہ بننے کی تاریخی حقیقت کا سوال ہے، اسے پہلے ہی نمٹایا جاچکا ہے۔ تاریخ جماعت سازی سے بھری پڑی ہے اور آج تو ان کی تعداد سینکڑوں تک جاپہنچی ہے۔ کوئی اپنے غلط موقف پر ڈٹے رہنے کے لئے حقائق کے اعتراف پر آمادہ نہ ہو تو اس کا کوئی علاج نہیں۔

شہاب صاحب اپنے اعتراضات اور ہماری گزارشات پر سنجیدگی سے توجہ دیں گے تو اپنے موقف کی کمزوری ان پر خود کھل جائے گی۔ افسوس اس کا ہے کہ ایسے ذی علم آدمی کو اسلام کی بنیادی تعلیمات کے حوالے سے بہت سی باتیں سمجھنا پڑیں۔ خدا ہم سب کو فہم و شعور کی روشنی عطا کرے۔ آمین۔

ماخذ: سید مودودی مرد عصر و صورتگر مستقبل

پبلشرز: ادارہ ترجمان القرآن, ایڈیشن1

ایڈیشن:1

مصنف: محمدصلاح الدین

تاریخ اشاعت: Jan. 1, 1996

ریڈنگ کاؤنٹر: 58

ٹیگ: maududi