بناؤ اوربگاڑ

May 10, 1947

یہ تقریر10مئی 1947ء کودارالاسلام ، نزد پٹھان کوٹ( مشرقی پنجاب) کےجلسہ عام میں کی گئی تھی- سامعین میں مسلمانوں کےعلاوہ بہت سےہندواورسکھ حضرات بھی شریک تھے- پس منظرمیں اس حقیقت کوبھی پیش نظررکھاجائےکہ یہ وہ زمانہ تھاجب سارا مشرقی پنجاب ایک کوہ آتش فشاں کی طرح پھٹنےکے لیےتیارتھا اورتین ہی مہینےبعد وہاں فتنہ وفساد کی وہ آگ بھڑکنےوالی تھی- جس کی تباہ کاریاں اب تاریخ انسانی کا ایک دردناک ترین باب بن چکی ہیں-

حمد وثناء

تعریف اورشکراس خدا کےلیےہیں جس نےہمیں پیداکیا، عقل اورسمجھ بوجھ عطا کی، برےاوربھلے کی تمیزبخشی ، اورہماری ہدایت ورہنمائی کےلیےاپنےبہترین بندوں کوبھیجا، اورسلام ہوخدا کے ان نیک بندوں پرجہنوں نےآدم علیہ السلام کی اولاد کوآدمیت کی تعلیم دی ، بھلےمانسوں کی طرح رہنا سکھایا، انسانی زندگی کے اصل مقصد سےآگاہ کیا اوروہ اصول ان کوبتائےجن پرچل کروہ دنیا میں سکھ اورآخرت میں نجات پاسکتے ہیں-

حاضرین وحاضرات ، یہ دنیا جس خدا نےبنائی اورجس نےاس زمین کا فرش بچھاکر اس پرانسانوں کو بسایا ہے- وہ کوئی اندھا دھند اورالل ٹپ کام کرنےوالا خدا نہیں- وہ چوپٹ راجہ نہیں ہےکہ اس کی نگری اندھیرنگری ہو- وہ اپنےمستقبل قانون ، پختہ ضابطےاورمضبوط قاعدےرکھتاہے- جن کےمطابق وہ سارے جہاں پرخدائی کررہاہے- اس کےقانون سےجس طرح سورج ، چاند ، زمین اورتارےبندھےہوئےہیں، جس طرح ہوا، پانی، درخت اورجانوربندھےہوئےہیں- اسی طرح ہم آپ سب انسان بھی بندھے ہوئےہیں- اس کا قانون جس طرح ہماری پیدائش اورموت پرہمارےبچپن اورجوانی اوربڑھاپےپر، ہمارےسانس کی آمدورفت پرہمارےہاضمےاورخون کی گردش پر، اورہماری بیماری اورتندرستی پربےلاگ اوراٹل طریقے سےچل رہا ہے، ٹھیک اسی طرح اس کا ایک اورقانون بھی ہےجوہمارےتاریخ کےاتارچڑھاؤ پر، ہمارےگرنے اوراٹھنےپر، ہماری ترقی اورتنزل پراورہماری ذاتی، قومی اورملکی تقدیروں پرحکومت کررہاہےاوریہ قانون بھی اتنا ہی بےلاگ اوراٹل ہے- اگریہ ممکن نہیں ہےکہ آدمی ناک سےسانس لینےکےبجائےآنکھوں سےسانس لینےلگےاورمعدےمیں کھانا ہضم کرنےکےبجائےدل میں ہضم کرنےلگے، تویہ بھی ممکن نہیں ہےکہ خدا کےقانون کی رو سےجس راہ پرچل کرکسی قوم کونیچےجانا چاہیےوہ اسےبلندی پرلےجائے- اگرآگ ایک کےلیےگرم اوردوسرےکےلیےٹھنڈی نہیں ہےتوبرےکرتوت بھی، جوخدا کےقانون کی رو سےبرےہیں، ایک کوگرانےوالےاوردوسرےکواٹھانےوالےنہیں ہوسکتے- جواصول بھی خدا نےانسان کی بھلی اوربری تقدیربنانے کےلیےمقررکیےہیں وہ نہ کسی کےبدلےبدل سکتےہیں، نہ کسی کےٹالےٹل سکتےہیں، اورنہ ان میں سےکسی کےساتھ دشمنی اورکسی کےساتھ رعایت ہی پائی جاتی ہے-

(1) خدا کےاس قانون کی پہلی اورسب سےاہم دفعہ یہ ہےکہ :-

خدا اپنی زمین کا انتظام کس کودیتاہے؟

مالک ہونےکی حیثیت سےاس کی خواہش یہ ہےکہ اس کی دنیا کا انتظام ٹھیک کیا جائے- اس کوزیادہ سےزیادہ سنوارجائے- اس کےدیئےہوئےذرائع اوراس کی بخشی ہوئی قوتوں اورقابلیتوں کو زیادہ سے زیادہ بہترطریقےسےاستعمال کیا جائے- وہ اس بات کوہرگز پسند نہیں کرتا------ اوراس سےیہ توقع کی بھی نہیں کی جاسکتی کہ وہ کبھی اسےپسند کرےگا----- کہ اس کی دنیا بگاڑی جائے، اجاڑی جائے، اوراس بد نظمی سے، گندگیوں سےاورظلم وستم سےخراب کرڈالا جائےانسانوں میں سےجو لوگ بھی دنیا کےانتظام کے امیدواربن کرکھڑےہوتےہیں، جن کےاندربنانےکی زیادہ سےزیادہ صلاحیت ہوتی ہے، انہی کووہ یہاں انتظام کےاختیارات سپردکرتاہے-

پھروہ دیکھتارہتاہےکہ یہ لوگ بناتےکتناہیں اوربگاڑتےکتناہیں- جب تک ان کا بناؤ ان کےبگاڑسے زیادہ ہوتاہےاورکوئی دوسرا امیدواران سےاچھا بنانےوالا اوران کم بگاڑنےوالا میدان میں موجود نہیں ہوتا، اس وقت تک ان کی ساری برائیوں اوران کےتمام قصوروں کےباوجود دنیا کا انتظام انہی کےسپردرہتاہے- مگروہ جب کم بنانےاورزیادہ بگاڑنےلگتےہیں تو خدا انہیں ہٹا کرپھینک دیتاہےاوردوسرےامیدواروں کواسی لازمی شرط پرانتظام سونپ دیتاہے-

یہ قانون بالکل ایک فطری قانون ہےاورآپ کی عقل گواہی دےگی، کہ اس کو ایسا ہی ہونا چاہیے- اگرآپ میں سےکسی شخص کا کوئی باغ ہواوروہ اسےایک مالی کےسپرد کردےتوآپ خود بتائیےکہ وہ اس مالی سےاولین بات کیا چاہےگا؟ باغ کا مالک اپنےمالی سےاس کےسوااورکیا چاہ سکتاہےکہ وہ اس کےباغ کو زیادہ سےزیادہ بہترحالت میں رکھا جائے- زیادہ سےزیادہ ترقی دی جائے- اس کے حسن میں، اس کی صفائی میں، اس کی پیداوارمیںزیادہ سےزیادہ اضافہ ہو- جس مالی کو وہ دیکھےگاکہ وہ خوب محنت سےجی لگا کرسلیقےاورقابلیت کےساتھ اس کےباغ کی خدمت کررہا ہے، اس کی روشوں کوسنواررہاہے، اس کےاچھے درختوں کی پرورش کررہاہے، اس کی بری ذات کےدرختوں اورجھاڑجھنکاڑسےصاف کررہا ہےاوراس میں جدت اورجودت سےعمدہ پھلوں اورپھولوں کی نئی نئی قسموں کا اضافہ کررہاہے، توضرورہےکہ وہ اس سےخوش ہو، اسےترقی دےاورایسےلائق ، فرض شناس اورخدمت گزارمالی کو نکالنا کبھی پسند نہ کرے- لیکن اس کےبرعکس اگروہ دیکھےکہ مالی نالائق بھی ہےاورکام چوربھی ہے، اورجان بوجھ کریا بےجانے بوجھےاس باغ کےساتھ بدخواہی کررہاہے، ساراباغ گندگیوں سےاٹا پڑاہے- روشیں ٹوٹ پھوٹ رہی ہیں پانی کہیں بلا ضرورت بہہ رہاہےاورکہیں قطعےکےقطعےسوکھتےچلےجارہاہیں، گھاس پھونس اورجھاڑجھنکاڑ بڑھتےجاتےہیں اورپھولوں اورپھلداردرختوں کےبےدردی کےساتھ کاٹ کاٹ کراورتوڑتوڑکرپھینکا جارہاہے، اچخھےدرخت مرجھارہےہیں اورخاردارجھاڑیاں بڑھ رہی ہیں، توآپ خود ہی سوچنےکہ باغ کا مالک ایسےمالی کوکیسےپسند کرسکتاہے- کون سی سفارش ، کون سی عرض ومعروض اوردست بستہ التجائیں، اورکون سےآبائی حقوق یا دوسرےخود ساختہ حقوق کا لحاظ اس کواپنا باغ ایسےمالی کےحوالےکیےرہنےپرآمادہ کرسکتا ہے؟ زیادہ سےزیادہ رعایت وہ بس اتنی ہی توکرےگا کہ اسےتنبیہہ کرکےپھرایک موقع دیدے- مگرجومالی تنبیہہ پربھی ہوش میں نہ آئے، اورباغ کواجاڑےہی چلا جائےاس کا علاج اس کےسوااورکیا ہے کہ باغ کا مالک کان پکڑکراسےنکال باہرکرےاوردوسرا مالی اس کی جگہ رکھ لے-

اب غورکیجیئےکہ اپنےایک ذرا اسےباغ کےانتظام میں جب آپ یہ طریقہ اختیارکرتےہیں توخدا جس نےاپنی اتنی بڑی زمین اتنےسروسامان کےساتھ انسانوں کےحوالہ کی ہے، اوراتنےوسیع اختیارات ان کو اپنی دنیا اوراس کی چیزوں پردیئےہیں، وہ آخراس سوال کونظراندازکیسےکرسکتاہےکہ آپ اس کی دنیا بنا رہے ہیں یا اجاڑرہےہیں- آپ بنا رہےہوں توکوئی وجہ نہیں ہےکہ وہ آپ کوخواہ مخواہ ہٹا دے لیکن اگرآپ بنائیں کچھ نہیں اوراس کےعظیم الشان باغ کوبگاڑتےاوراجاڑتےہی چلےجائیں توآپ نےاپنےدعوی اپنی دانست میں خواہ کیسی ہی زبردست من مانی بنیادوں پرقائم کررکھےہوں، وہ اپنےباغ پرآپ کےحق کوتسلیم نہیں کرےگا- کچھ تنبیہات کرکے، سنبھلنےکےدوچارمواقع دےکر، آخرکاروہ آپ کوانتظام سےبے دخل کر کےہی چھوڑے گا-

خدائی اورانسانی نقطہ نظرکا فرق

اس معاملہ میں خدا کا نقطہ نظرانسانوں کے نقطہ نظرسےاسی طرح مختلف ہے- جس طرح خود انسانوں میں ایک باغ کےمالک کا نقطہ نظراس کی مالی کےنقطہ نظرسے مختلف ہوا کرتاہے- فرض کیجیئےکہ مالیوں کا ایک خاندان دوچارپشت سےایک شخص کےباغ میں کام کرتاچلا آرہا ہے- ان کا کوئی دادا پردادا اپنی لیاقت و قابلیت کی وجہ سےیہاں رکھاگیا تھا- پھراس کی اولاد نےبھی اچھا کام کیا- مالک نےسوچاکہ خواہ مخواہ نہیں ہٹانےاورنئےآدمی رکھنےکی کیا ضرورت ہے- جب کام یہ بھی اچھا کررہےہیں توان کاحق ہےکہ انہیں برقراررکھ لیتےاس کےبرعکس اگروہ سرےسےنہایت نالائق، بےسلیقہ، کام چوراورنافرض شناس ثابت ہوئےہیں-باغبانی کی کوئی صلاحیت ان کےاندرنہیں ہے-سارےباغ کا ستیاناس کیے ڈالتےہیں اوراس پران کا دعوےہےکہ ہم باپ دادا کےوقتوں سےاس باغ میں رہتےچلےآتےہیں، ہمارےپرداداہی ہاتھوں اول اول یہ باغ آباد ہواتھا، لہذاہمارےاس پر پیدائشی حقوق ہیں، اوراب کسی طرح یہ جائزنہیں کہ ہمیں بےدخل کرکےکسی دوسرےکویہاں کا مالی بنادیاجئے- یہ ان نالائق مالیوں کا نقطہ نظر ہے- مگرکیا باغ کےمالک کا نقطہ نظر بھی یہی ہوسکتاہے؟ کیا وہ یہ نہ کہےگا کہ میرےنزدیک توسب سےمقدم چیزمیرےباغ کا حسن انتظام ہے- میں نےیہ باغ تمہارےپردادا کےلیےنہیں لگایا تھا بلکہ تمہارےپردادا کواس باغ کےلیے نوکررکھاتھا- تمہارےاس باغ پر جوحقوق بھی ہیں- خدمت اورقابلیت کےساتھ مشروط ہے- باغ کوبناؤ گےتو تمہارےسب حقوق کا لحاظ کیا جائےگا – اپنےپرانےمالیوں سےآخرمجھےکیا دشمنی ہوسکتی ہےکہ وہ کام اچھا کریں تب بھی انہیں خواہ مخوا ہ نکال ہی دوں اورنئےامیدواروں کا بلا ضرورت تجربہ کروں- لیکن اگراس باغ ہی کوتم بگاڑتےاوراجاڑتےرہوجس کےانتظام کی خاطرتمہیں رکھا گیا ہےتوپھرتمہارا کوئی حق مجھےتسلیم نہیں ہے- دوسرےامیدوارموجود ہیں، باغ کا انتظام ان کےحوالےکردوں گا اورتم کوان کےماتحت کی حیثیت پیش خدمت بن کررہنا ہوگا- اس پر بھی اگرتم درست نہ ہوئےاورثابت ہوا کہ ماتحت کی حیثیت سےبھی تم کسی کام کےنہیں ہو، بلکہ کچھ بگاڑنےہی والےہو، توتمہیں یہاں سےنکال باہرکیا جائےگا اورتمہاری جگہ خدمت گار بھی دوسرےہی لا کربسائےجائیں گے-

یہ فرق جومالک اورمالیوں کےنقطہ نظرمیں ہے، ٹھیک یہی فرق دنیا کےمالک اوردنیا والوں کے نقطہ نظرمیں بھی ہے- دنیا کی مختلف قومیں زمین کےجس جس خطہ میں بستی ہیں، ان کا دعوی یہی ہےکہ یہ خطہ ہماراقومی وطن ہے- پشت ہا پشت سےہم اورہمارےباپ دادا یہاں رہتے چلےآئےہیں- اس ملک پرہمارےپیدائشی حقوق ہیں- لہذا یہاں انتظام ہمار اپنا ہی ہونا چاہیے- کسی دوسرےکو حق نہیں پہنچتا ہےکہ باہرسےآکریہاں کا انتظام کرے- مگرزمین کےاصلی مالک خدا کا نقطہ نظر یہ نہیں ہے- اس نےکبھی ان قومی حقوق کوتسلیم نہیں کیا ہے- وہ نہیں مانتاکہ ہرمالک پراس کےباشندوں کا پیدائشی حق ہے، جس سےاس کو کسی حال میں بےدخل نہیں کیا جاسکتا- وہ تویہ دیکھتاہےکہ کوئی قوم اپنےوطن میں کیا کام کررہی ہے- اگروہ بناؤ اورسنوارکےکام کرتی ہو، اگروہ اپنی قوتیں زمین کی اصلاح و ترقی میں استعمال کرتی ہو، اگروہ برائیوں کی پیداوارروکنےاوربھلائیوں کی کھیتی سینچنےمیں لگی ہوئی ہوتومالک کائنات کہتاہےکہ بےشک تم اس کےمستحق ہوکہ یہاں کا انتظام تمہارےہاتھ میں رہنےدیاجائے، تم پہلےسےیہاں آباد بھی ہواوراہل بھی ہو- لہذا تمہارا ہی حق دوسروں کی بہ نسبت مقدم ہے- لیکن اگر معاملہ برعکس ہو، بناؤ کچھ نہ ہواورسب بگاڑ ہی کےکام ہوئےجارہےہوں، بھلائیاں کچھ نہ ہوں اوربرائیوں ہی سےخدانےزمین پیدا کیا ہے، اسےبےدردی کےساتھ تباہ کیا جارہا ہواورکوئی بہترکام اس سےلیا ہی نہ جاتاہوتوپھرخدا کی طرف سےپہلے کچھ ہلکی اورکچھ سخت چوٹیں لگائی جاتی ہیں، تاکہ یہ لوگ ہوش میں آئیں اوراپنا رویہ درست کرلیں- پھرجب وہ قوم اس پردرست نہیں ہوتی تو اس ملک کےانتظام سےبےدخل کردیا جاتاہےاورکسی دوسری قوم کو، جو کم ازکم اس کی بہ نسبت اہل ترہو، وہاں کی حکومت دےدی جاتی ہےاوربات اس پر بھی ختم نہیں ہوتی- اگرماتحت بننےکےبعد بھی باشندگان ملک کسی لیاقت واہلیت کا ثبوت نہیں دیتےاوراپنےعمل سےیہی ظاہرکرتےہیں کہ ان سےکچھ بھی بن نہ آئےگا بلکہ کچھ بگڑہی جائےگا، توخدا پھرایسی قوم کومٹا دیتاہےاوردوسروں کولےآتاہے جو اس کی جگہ بستےہیں- اس معاملہ میں خدا کا نقطہ نظرہمیشہ وہی ہوتاہےجو مالک کا ہونا چاہیے- وہ اپنی زمین کےانتظام میں دعوایدروں اورامیدواروں کےآبائی یا پیدائشی حقوق نہیں دیکھتا- وہ تو یہ دیکھتاہےان میں کون بناؤ کی زیادہ صلاحیت اوربگاڑ کی طرف کم سےکم میلان رکھتاہے- ایک وقت کےامیدواروں میں سےجو اس لحاظ سےاہل انتخاب انہی کاہوتاہےاورجب تک ان کےبگاڑسےان کا بناؤ زیادہ رہتاہے، یا جب تک ان کی نسبت زیادہ اچھا بنانےوالا اورکم بگاڑنےوالا کوئی میدان میں نہیں آجاتا، اس وقت تک انتظام انہی کے سپرد رہتاہے-

تاریخی شہادتیں:

یہ جوکچھ عرض کررہا ہوں، تاریخ گواہ ہےکہ خدا نےہمیشہ اپنی زمین کا انتظام اسی اصول پرکیا ہے- دورکیوں جائیے، خود اپنےاسی ملک کی تاریخ دیکھ لیجیئے- یہاں جو قومیں پہلےآباد تھیں ان کی تعمیری صلاحیتیں جب ختم ہوگئیں تو خدا نےآریوں کویہاں کےانتظام کا موقع دیاجو اپنےوقت کی قوموں میں سب سےزیادہ اچھی صلاحیتیں رکھتےتھے- انہوں نےیہاں آکرایک بڑےشاندارتمدن کی بنا رکھی، بہت سےعلوم وفنون ایجاد کیےزمین کےخزانوں کونکالااورانہیں بہتری میں استعمال کیا، بگاڑسےزیادہ بناؤ کے کام کرکےدکھائے- یہ قابلیتیں جب تک ان میں رہیں، تاریخ کے سارےنشیبوں اورفرازوں کےباوجود یہی اس ملک کےمنتظم رہے- دوسرےامیدواربڑھ بڑھ کرآگےآئےمگردھکیل دیئےگئے، کیونکہ ان کےہوتےدوسرےمنتظم کی ضرورت نہ تھی- ان کےحملےزیادہ سےزیادہ بس یہ حیثیت رکھتےتھےکہ جب کبھی یہ ذرابگڑنےلگتے تو کسی کوبھیج دیاجاتا، تاکہ انہیں متنبہ کردے، مگرجب یہ بگڑتےہی چلےگئےاورانہوں نےبناؤ کےکام کم اوربگاڑنےکےکام زیادہ کرنےشروع کردیئے، جب انہوں میں اخلاق میں وہ پستی اختیارکی کہ جس کےآثاربام مارگی تحریک میں آپ اب بھی دیکھ سکتےہیں ، جب انہوں نےانسانیت کی تقسیم کرکےخود اپنی ہی سوسائٹی کودرنوں اورذاتوں میں پھاڑڈالا، اپنی اجتماعی زندگی کوایک زینےکی شکل میں ترتیب دیا، جس کی ہرسیڑھی کا بیٹھنےوالا اپنےسےاوپرکی سیڑھی والےبندہ اورنیچےکی سیڑھی والےکاخدا بن گیا، جب انہوں نےخدا کےلاکھوں کروڑوں بندوں پروہ ظلم ڈھایا جو آج تک اچھوٹ پن کی شکل میں موجود ہے، جب انہوں نےعلم کےدروازےعام انسانوں پربند کردیئے، اوران کےپنڈت علم کےخزانوں پرسانپ بن کربیٹھ گئے، اورجب ان کےکارفرماطبقوں کےپاس اپنےزبردستی جمائےہوئےحقوق وصول کرنےاوردوسروں کی محنتوں پرداعیش دینےکےسواکوئی کام نہ رہا، توخدا نےآخر کار ان سےملک کا انتظام چھین لیا اوروسط ایشیا کی ان قوموں کویہاں کام کرنےکا موقع دیا جو اس وقت اسلامی تحریک سےمتاثر ہوکرزندگی کی بہترصلاحیتوں سےآرستہ ہوگئی تھی-

یہ لوگ سینکڑوں برس تک یہاں کےانتظام پرسرفرازرہے، اوران کےساتھ خود اس ملک کےبھی بہت سےلوگ اسلام قبول کرکےشامل ہوگئے- اس میں شک نہیں کہ ان لوگوں نےبہت کچھ بگاڑابھی، مگرجتنا بگاڑااس سےزیادہ بنایا- کئی سو برس تک ہندوستان میں بناؤ کاجوکام بھی ہوا، انہیں کےہاتھوں ہوایا پھران کے اثرسےہوا، انہوں نےعلم کی روشنی پھیلائی- خیالات کی اصلاح کی، تمدن ومعاشرت کوبہت کچھ درست کیا- ملک کےذرائع ووسائل کواپنےعہد کےمعیارکےلحاظ سےبہتری میں استعمال کیا اورامن وانصاف کا وہ عمدہ نظام قائم کیا جواگرچہ اسلام کےاصلی معیارسےبہت کم تھا مگرپہلےکی حالت اورگردوپیش کےدوسرےملکوں کی حالت سےمقابلہ کرتےہوئےکافی بلند تھا- اس کےبعد وہ بھی اپنےپیش روؤں کی طرح بگڑنےلگے- ان کےاندربھی بناؤ کی صلاحیتیں گھٹنی شروع ہوئیں اوربگاڑکےمیلانات بڑھتےچلےگئے- انہوں نےبھی اونچ نیچ اورنسلی امتیازات اورطبقاتی تفریقیں کرکےخود اپنی سوسائٹی کوپھاڑلیا- جس کےبےشماراخلاقی، سیاسی اورتمدنی نقصانات ہوئے- انہوں نےبھی انصاف کم اورظلم زیادہ کرنا شروع کردیا- وہ بھی حکومت کی ذمہ داریوں کوبھول کرصرف اس کےفائدوں اورزیادہ ترناجائزفائدوں پرنظررکھنےلگے- انہوں نےبھی ترقی اوراصلاح کےکام چھوڑکرخدا کی دی ہوئی قوتوں اورذرائع کوضائع کرنا شروع کیا- اوراگراستعمال کیا بھی تو زیادہ ترزندگی بگاڑنےوالےکاموں میں کیا-تن آسانی وعیش پرستی میں وہ اتنےکھوئےگئےکہ جب آخری شکست کھا کران کےفرماں رواؤں کودلی کےلال قلعہ سےنکلنا پڑاتوان کےشاہزادے------- وہی جو کل تک حکومت کےامیدوارتھے-------جان بچانےکےلیےبھاگ بھی نہ سکتےتھے- کیونکہ زمین پرچلنا انہوں نےچھوڑرکھا تھا- مسلمانوں کی عام اخلاقی پستی اس حد تک پہنچ گئی کہ ان کےعوام سےلےکربڑےبڑےذمہ دارلوگوں تک کسی میں بھی اپنی ذات کےسوا دوسری کسی چیزکی وفاداری باقی نہ رہی جوانہیں دین فروشی ، قوم فروشی اورملک فروشی سےروکتی- ان میں ہزاروں لاکھوں پیشہ ورسپاہی پیداہونےلگےجن کی اخلاقی حالت پالتوکتوں کی سی تھی کہ جو چاہیےروٹی دےکرانہیں پال لےاورپھرجس کا دل چاہےان سےشکارکرالے- ان میں یہ احساس بھی باقی نہ رہا کہ یہ ذلیل ترین پیشہ ، جس کی بدولت ان کےدشمن خود ان ہی کےہاتھوں ان کا ملک فتح کررہےتھے، اپنےاندرکوئی ذلت کا پہلوبھی رکھتا ہے- غالب جیسا شخص فخریہ کہتاہےکہ:-

یہ بات کہتےہوئےاتنےبڑےشاعرکوذراخیال تک نہ گزراکہ پیشہ ورانہ سپہ گری کوئی فخرکی بات نہیں، ڈوب مرنےکی بات ہے-

جب یہ ان کی حالت ہوگئی توخدا نےان کی معزولی کا بھی فیصلہ کرلیا- اورہندوستان کےانتظام کا منصب پھرنئےامیدواروں کےلیےکھل گیا اس موقع پرچارامیدوارمیدان میں تھے- مرہٹے، سکھ، انگریز اور بعض مسلمان رئیس- آپ خود انصاف کےساتھ، قومی تعصب کی عینک اتارکراس دورکی تاریخ اوربعد کے حالات کودیکھیں گےتوآپ کا دل گواہی دےگا کہ دوسرےامیدواروں میں سےکسی میں بھی بناؤ کی وہ صلاحیتیں نہ تھیں جوانگریزوں میں تھیں اورجتنا بگاڑانگریزوں میں تھا اس سےکہیں زیادہ بگاڑ، مرہٹوں ، سکھوں اورمسلمان امیدواروں میں تھا- جوکچھ انگریزوں نےبنایا وہ ان میں سےکوئی نہ بناتااورجوکچھ انہوں نےبگاڑااس سےبہت زیادہ یہ امیدواربگاڑکررکھ دیتے-مطلقا دیکھئےتوانگریزوں میں بہت سےپہلوؤں سےبےشمار برائیاں آپ کونظرآئیں گی- مگرمقابلتا دیکھئےتواپنےہم عصرحویفوں سےان کی برائیاں بہت کم اوران کی خوبیاں بہت زیادہ نکلیں گی- یہی وجہ ہےکہ خدا کےقانون نےپھرایک مرتبہ انسانوں کےاس من مانےاصول کوتوڑدیا- جوانہوں نےبغیرکسی حق کےبنارکھا ہے'' ہرملک خود ملکیوں کےلیےہےخواہ وہ اسے بنائیں یا بگاڑیں''- اس نےتاریخ کےاٹل فیصلہ سےثابت کیا کہ نہیں- مالک توخدا ہے، وہی یہ طے کرنےکا حق رکھتاہےکہ اس انتظام کس کےسپرد کرےاورکس سےچھین لے- اس کا فیصلہ کسی نسلی، قومی یاآبائی حق کی بنا پرنہیں ہوتابلکہ اس بنیاد پر ہوتاہےکہ مجموعی بھلائی کون سےانتظام میں ہے-

اس طرح اللہ تعالی ہزاروں میل کےفاصلہ سےایک ایسی قوم کولےآیا- جوکبھی یہاں تین چار لاکھ کی تعدادسےزیادہ نہیں رہی اوراس نےیہیں کےذرائع اوریہیں کےآدمیوں سےیہاں کی ہندو، مسلم، سکھ سب طاقتوں کوزیرکرکےملک کا انتظام اپنےہاتھ میں لےلیا- یہاں کروڑوں باشندےان مٹھی بھرانگریزوں کےتابع فرمان بن کررہے- ایک ایک انگریزنےتن تنہاایک ایک ضلع پرحکومت کی، بغیراس کےکہ اس کی قوم کا کوئی دوسرا فرداس کا ہاتھ مضبوط کرنےکےلیےاس کےپاس موجود ہوتا- اس تمام دوران میں ہندوستانیوں نےجو کچھ کیا پیش خدمت کی حیثیت سےکیا نہ کہ کارفرماکی حیثیت سےہم سب کویہ ماننا پڑےگا، اورنہ مانیں گےتوحقیقت کوجھٹلائیں گےکہ اس ساری مدت میں، جب کہ انگریزیہاں رہے، بناؤ کاجوکچھ بھی کام ہوا، انگریزوں کےہاتھوں سےاوران کےاثرسےہوا- جس حالت میں انہوں نےہندوستان کوپایاتھا- اس کےمقابلہ میں آج کی حالت دیکھئےتوآپ اس بات سےانکارنہ کرسکیں گےکہ بگاڑ کےباوجود بناؤ کا بہت سا کام ہوا جس کےخود اہل ملک کےہاتھوں انجام پانےکی ہرگزتوقع نہ کی جاسکتی تھی- اس لیےتقدیرالہی کاوہ فیصلہ غلط نہ تھا جواس نےاٹھارہویں صدی کےوسط میں کردیاتھا-

اب دیکھئےکہ جو کچھ انگریزبناسکتےتھےوہ بنا چکےہیں- ان کےبناؤ کےحساب میں اب کوئی خاص اضافہ نہیں ہوسکتا- اس حساب میں جواضافہ وہ کرسکتےہیں وہ دوسروں کے ہاتھوں بھی ہوسکتاہے- مگردوسری طرف ان کےبگاڑکاحساب بہت بڑھ چکا ہےاورجتنی مدت بھی وہ یہاں رہیں گےبناؤ کی بہ نسبت بگاڑہی زیادہ بڑھائیں گے----- ان کےفرد جرم اتنی لمبی ہےکہ اسےایک صحبت میں بیان کرنا مشکل ہےاوراس کےبیان کی کوئی حاجت بھی نہیں ہے، کیونکہ وہ سب کےسامنےہے----- اب تقدیرالہی کا فیصلہ یہی ہےکہ وہ یہاں کےانتظام سےبےدخل کردیئےجائیں- انہوں نےبہت عقل مندی سےکام لیا کہ خود سیدھی طرح رخصت ہونےکےلیےتیارہوگئے- سیدھی طرح نہ جاتےتوٹیڑھی طرح نکالےجاتے، کیوں کہ خدا کےاٹل قوانین اب ان کےہاتھ میں یہاں کا انتظام رکھنےکےروادارنہیں ہیں-

تاریخی شہادتیں:

یہ موقع جس کےعین سرےپرہم آپ کھڑےہیں، تاریخ کےان اہم مواقع میں سےہےجب زمین کا اصلی مالک کسی ملک میں ایک انتظام کوختم کردیتا ہےاوردوسرےانتظام کا فیصلہ کرتاہے- بظاہرجس طرح یہاں انتقال اختیارات کامعاملہ طےہوتانظرآرہا ہےاس سےیہ دھوکہ نہ کھایا جائےکہ یہ قطعی فیصلہ ہےجوملک کا انتظام خود اہل ملک کےحوالےکیےجانےکےحق میڑ ہورہاہے- آپ شاید معاملہ کی سادہ سی صورت سمجھتےہوں گےکہ اجنبی لوگ جوباہرسےآکر حکومت کررہےتھےواپس جارہےہیں، اس لیےاب یہ آپ سےآپ ہونا ہی چاہیےکہ ملک کا انتظام خود ملکیوں کےہاتھ آئے- نہیں، خدا کےفیصلےاس طرح کےنہیں ہوتےوہ ان اجنبیوں کونہ پہلےبلاوجہ لایا تھا نہ اب بلاوجہ لےجارہا ہے- نہ پہلےالل ٹپ اس نےآپ سےانتظام چھینا تھا اورنہ اب الل ٹپ وہ اسےآپ کےحوالہ کردےگا- دراصل اس وقت ہندوستان کےباشندےامیدوار کی حیثیت رکھتےہیں- ہندو، مسلم ، سکھ سب امیدوارہیں- چونکہ یہ پہلےسےیہاں آباد چلےآرہےہیں، اس لیےپہلا موقع انہی کودیاجارہاہے- لیکن یہ مستقبل تقریرنہیں ہےبلکہ محض امتحانی موقع ہے- اگرفی الواقع انہوں نے ثابت کیا کہ ان کےاندربگاڑ سےبڑھ کربناؤ کی صلاحیتیں ہیں تب توان کا تقریرمستقل ہو جائےگا – ورنہ اپنےبناؤ سے بڑھ کراپنا بگاڑ پیش کرکےیہ بہت جلدی دیکھ لیں گےکہ انہیں پھراس ملک کےانتظام سےبےدخل کردیا جائےگا اوردور ونزدیک کی قوموں میں سےکسی ایک کواس خدمت کےلیےمنتخب کرلیا جائےگا- پھراس فیصلےکےخلاف یہ کوئی فریادتک نہ کرسکیں گے- دنیا بھرکےسامنےاپنی لائقی کا کھلا ثبوت دے چکنےکےبعد ان کا منہ کیا ہوگا کہ کوئی فریاد کریں اورڈھیٹ بن کرفریاد کریں گےبھی توان کوداد کون دےگا-

اب ذرا آپ جائزہ لےکردیکھیں کہ ہندوستان کےلوگ-------- ہندومسلمان سکھ------- اس امتحان کےموقع پراپنےخدا کےسامنےاپنی کیا صلاحیتیں اورقابلیتیں اوراپنےکیا اوصاف اورکارنامےپیش کررہےہیں جن کی بنا پریہ امیدکرسکتےہیں کہ خدا اپنے ملک کا انتظام پھران کےسپرد کردےگا- اس موقع پراگرمیں بےلاگ طریقےسےکھلم کھلا وہ فرد جرم سنادوں جواخلاق کی عدالت میں ہندوؤں ، مسلمانوں اورسکھوں سب پر لگتی ہے، تو میں امید کرتاہوں کہ آپ برانہ مانیں گے- اپنی قوم اوراپنےوطنی بھائیوں کےعیوب بیان کرکے خوشی تومجھےبھی نہیں ہوتی – کیوں کہ میں گویا اپنی آنکھوں سےانجام کودیکھ رہا ہوں جو ان عیوب کی بنا پر کل انہیں دیکھنا ہی نہیں، بھگتنا بھی پڑےگا- مجھےاندیشہ ہےکہ یہ عیوب انہیں لےڈوبیں گے- ہم، آپ، کوئی بھی ان کےانجام بد سےنہ بچےگا- اس لیے میں انہیں دلی رنج کےساتھ بیان کرتاہوں تا کہ جن کےکان ہوں وہ سنیں اوراصلاح کی کچھ فکرکریں-

ہماری اخلاقی حالت:

ہمارےافراد کی عام اخلاقی حالت جیسی کچھ ہے، آپ اس کا اندازہ خود اپنےذاتی تجربات ومشاہدات کی بنا پرکیجئے- ہم میں کتنےفی صد آدمی ایسےپائےجاتےہیں جوکسی کا حق تلف کرنےمیں، کوئی ناجائزہ فائدہ اٹھانےمیں، کوئی ''مفید'' جھوٹ بولنےاورکوئی '' نفع بخش'' بےایمانی کرنےمیں صرف اس بنا پرتامل کرتےہوں کہ ایسا کرنا اخلاقا برا ہے؟ جہاں قانون گرفت نہ کرتاہو، یا جہاں قانون کی گرفت سےبچ نکلنےکی امید ہو، وہاں کتنےفی صدی اشخاص محض اپنےاخلاقی احساس کی بنا پرکسی جرم اورکسی برائی کا ارتکاب کرنےسےبازرہ جاتےہیں؟ جہاں اپنےکسی ذاتی فائدےکی توقع نہ ہو، وہاں کتنےآدمی دوسروں کےساتھ بھلائی، ہمدردی، ایثار، حق رسانی اورحسن سلوک کابرتاؤ کرتےہیں؟ ہمارےتجارت پیشہ لوگوں میں ایسےتاجروں کا اوسط کیا ہے، جودھوکےاورفریب اورجھوٹ اورناجائز نفع اندوزی سےپرہیزکرتےہوں؟ ہمارےصنعت پیشہ لوگوں میں ایسےافراد کاتناسب کیا ہےجو اپنےفائدےکےساتھ کچھ اپنےخریداروں کےمفاد اوراپنی قوم اوراپنے ملک کی مصلحت کابھی خیال رکھتےہیں ؟ ہمارےزمینداروں میں کتنےہیں جوغلہ روکتےہوئےاوربےحد گراں قیمتوں پربیچتےہوئےیہ سوچتےہوں کہ اپنی اس نفع اندوزی سےوہ کتنےلاکھ بلکہ کتنےکروڑانسانوں کوفاقہ کشی کاعذاب دےرہےہیں؟ ہمارےمالداروں میں کتنےہیں جن کی دولت مندی میں کسی ظلم ، کسی حق تلفی کسی بددیانتی کا دخل نہیں ہے؟ ہمارےمحنت پیشہ لوگوں میں کتنےہیں جوفرض شناسی کےساتھ اپنی اجرت اوراپنی تنخواہ کاحق اداکرتےہیں؟ ہمارےسرکاری ملازموں میں کتنےہیں جورشوت اورخیانت سے، ظلم اورمردم آزادی سے، کام چوری اورحرام خوری سے، اوراپنےاختیارات کےناجائزاستعمال سےبچےہوئےہیں؟ ہمارےوکیلوں میں، ہمارےڈاکٹروں اورحکیموں میں، ہمارےاخبارنویسوں میں ہمارےناشرین و مصنفین میں، ہمارےقومی '' خدمت گذاروں '' میں کتنےہیں جواپنےفائدےکی خاطر ناپاک طریقےاختیارکرنےاورخلق خدا کوذہنی، اخلاقی ، مالی اورجسمانی نقصان پہنچانےمیں کچھ بھی شرم محسوس کرتےہوں؟ شاید میں مبالغہ نہ کروں گااگریہ کہوں کہ ہماری آبادی میں بمشکل 5فیصدی لوگ اس اخلاقی عذاب سےبچےرہ گئےہیں، ورنہ 95فیصدی کویہ چھوٹ بری طرح لگ چکی ہے- اس معاملہ میں ہندو، مسلمان، سکھ ، عیسائی اورہریجن کےدرمیان کوئی امتیازنہیں سب کےسب یکساں بیمارہیں، سب کی اخلاقی حالت خوفناک حد تک گری ہوئی ہے، اورکسی گروہ کا حال دوسرےسےبہترنہیں ہے- اخلاقی تنزل کی یہ وباجب افراد کی ایک بہت بڑی اکثریت کواپنی لپیٹ میں لےچکی تو قدرتی بات تھی کہ وسیع پیمانےپراجتماعی شکل میں اس کا ظہورشروع ہوجائے- اس آنےوالےطوفان کی پہلی علامت ہمیں اس وقت نظرآتی جب جنگ کی وجہ سےریلوں میں مسافروں کا ہجوم ہونےلگا وہاں ایک قوم اورایک ہی ملک کے

لوگوں نےاس میں ایک دوسرےکےساتھ جس خود غرضی، بےدردی اورسنگ دلی کا سلوک کیا، وہ پتہ دےرہ تھا، کہ ہمارےعام اخلاق کس تیزرفتاری کےساتھ گررہےہیں- پھراشیاء کی کیمابی وگرانی کےساتھ ذخیرہ اندوزی اورچوربازاری بڑےوسیع پیمانےپرشروع ہوئی- پھربنگال کا وہ ہولناک مصنوعی قحط رونماہوا- جس میں ہمارےایک طبقہ نےاپنےہی ملک کےلاکھوں انسانوں کواپنےنفع کی خاطربھوک سےتڑپاتڑپا کرماردیا- یہ سب ابتدائی علامات تھیں- اس کےبعد خباثت، کمینہ پن، درندگی اوروحشت کاوہ لاوا یکایک پھوٹ پڑا، جوہمارےاندرمدتوں سےپک رہا ہےاوراب وہ فرقہ وارانہ فساد کی شکل میں ہندوستان کوایک کونےسےلےکر دوسرےکونےتک بھسم کررہاہےکلکتہ کےفساد کےبعد سےہندوؤں ، مسلمانوں اورسکھوں کی قومی کشمکش کا جونیاباب شروع ہواہےاس میں یہ تینوں قومیں اپنی ذلیل ترین صفات کا مظاہرہ کررہی ہیں- جن افعال کا تصور تک نہیں کیا جاسکتاتھا کہ کوئی انسان ان کا مرتکب ہوسکتاہے، آج ہماری بستیوں کےرہنےوالےعلانیہ ان کا ارتکاب کررہےہیں- بڑےبڑےعلاقوں کی پوری پوری آبادیاں غنڈہ بن گئی ہیں اوروہ کام کررہی ہیں جو کسی غنڈےکےخواب وخیال میں بھی کبھی نہ آئےتھے- شیرخواربچوں کوماؤں کےسینوں پررکھ کرذبح کیا گیاہے- زندہ انسانوں کوآگ میں بھونا گیا ہے- شریف عورتوں کوبرسرعام ننگاکیاگیا ہے- اورہزاروں کےمجمع میں ان کےساتھ بدکاری کی گئی ہے- باپوں، شوہروں اوربھائیوں کےسامنےان کی بیٹیوں ، بیویوں اوربہنوں کوبے عزت کیا گیا ہے- عبادت گاہوں اورمذہبی کتابوں پرغصہ نکالنےکی ناپاک ترین شکلیں اختیارکی گئی ہیں- بیماروں اورزخمیوں اوربوڑھوں کوانتہائی بےرحمی کےساتھ ماراگیاہے- مسافروں کوچلتی ریل پرسےپھینکا گیاہے- زندہ انسانوں کےاعضاء کاٹےگئےہیں، نہتےاوربےبس انسانوں کاجانوروں کی طرح شکارکیاگیا ہے- ہمسایوں نےہمسایوں کولوٹاہے- دوستوں نےدوستوں سےدغا کی ہے- پناہ دینےوالوں نےخود اپنی ہی دی ہوئی پناہ کوتوڑاہے- امن وامان کےمحافظوں (پولیس، فوج اورمجسٹریٹوں) نےعلانیہ فساد میں حصہ لیاہے، بلکہ خود فساد کیا ہے، اپنی حمایت ونگرانی میں فساد کرایاہے- غرض ظلم وستم وسنگ دلی وبےرحمی و کمینگی اوربدمعاشی کی کوئی قسم ایسی نہیں رہ گئی ہے جس کا ارتکاب ان چند مہینوں میں ہمارےملک کےرہنےوالوں نےاجتماعی طورپر نہ کیا ہو- اورابھی دلوں کاغبار پوری طرح نکلا نہیں ہے- آثاربتارہےہیں کہ یہ سب کچھ اس سےبہت زیادہ بڑےپیمانےپراوربدر جہاتر صورت میں ابھی ہونےوالا ہے-

اخلاقی تنزل کےاسباب :

کیا آپ سمجھتےہیں کہ یہ سب کچھ محض کسی اتفاقی ہیجان کا نتیجہ ہے؟ اگریہ آپ کا گمان ہے تو آپ سخت غلط فہمی میں مبتلا ہیں-ابھی میں آپ کوبتا چکا ہوں کہ اس ملک کی آبادی 95 فی صد افراد اخلاقی حیثیت سےبیمارہوچکےہیں- جب افراد کی اتنی بڑی اکثریت بد اخلاق ہوجائےتو قوموں کا اجتماعی رویہ آخرکیسےدرست رہ سکتاہے- یہی وجہ ہےکہ ہندو، مسلمان اورسکھ تینوں قوموں میں سچائی، انصاف اورحق پسندی کی کوئی قدروقیمت باقی نہیں رہی ہے- راست باز،دیانت داراورشریف انسان ان کے اندرنکوبن کررہ گئےہیں –برائی سےروکنا اوربھلائی کی نصیحت کرنا ان کی سوسائٹی میں ایک ناقابل برداشت جرم ہوگیا ہے- حق اورانصاف کی بات سننےکےلیےوہ تیارنہیں ہیں- ان میں سےہرایک قوم کووہی لوگ پسند ہیں جواس کی حد سےبڑھی ہوئی خواہشات اوراغراض کی وکالت کریں، دوسروں کےخلاف اس کےتعصبات کوبھڑکائیں اوراس کےجائزو ناجائزمقاصد کےلیےلڑنےکوتیارہوں- اسی بناء ان قوموں نےچھانٹ چھانٹ کراپنےاندربدترین آدمیوں کوچنا ، اورانہیں اپنا نمائندہ بنالیا- انہوں نےاپنےاکابرمجرمین کوڈھونڈ ڈھونڈ کرنکالا اورانہیں اپنا سربراہ کاربنالیا- ان کی سوسائٹی میں جو لوگ سب سےزیادہ پست اخلاق، بےضمیراوربےاصول تھےوہ ان کی ترجمانی کےلیےاٹھےاوراخبارنویسی کےمیدان میں وہی سب سےبڑھ کرمقبول ہوئےپھریہ سب لوگ بگاڑ کی راہ پراپنی اپنی بگڑی ہوئی قوموں کوسرپٹ لےچلے- انہوں نےمتضاد قومی خواہشات کوکسی نقطہ انصاف پرجمع کرنےکےبجائےاتنا بڑھایا کہ وہ آخرکارنقطہ تصادم پرپہنچ گئیں انہوں نےمعاشی وسیاسی اغراض کی کشمکش میں غصےاورنفرت اورعداوت کازہرملایا اوراسےروزبروزبڑھاتےچلےگئے- انہوں نےبرسوں اپنی زیراثرقوموں کواشتعال انگیزتقریروں اور تحریروں کےانجکشن دےدےکریہاں تک بھڑکاکہ وہ جوش میں آکرکتوں اوربھیڑیوں کی طرح لڑنےکھڑی ہوگئیں- انہوں نےعوام وخواص کےدلوں کوناپاک جذبات کی سنڈاس اوراندھی دشمنی کاتنوربناکررکھ دیا- اب جوطوفان آپ کی نگاہوں کےسامنےبرپاہےیہ کوئی وقتی اورہنگامی چیزنہیں ہےجواچانک رونماہوگئی ہے- یہ تو قدرتی نتیجہ ہےبگاڑکےان بےشماراسباب کاجومدتوں سےہمارےاندرکام کررہےتھےاوریہ نتیجہ بس ایک ہی دفعہ ظاہرہوکرنہیں رہ جائےگا، بلکہ جب تک وہ اسباب اپناکام کیےجارہےہیں یہ روزافزوں ترقی کےساتھ ظاہرہوتا چلاجائےگا- یہ ایک بس بھری فصل ہےجوبرسوں کی تخم ریزی وآبیاری کےبعد اب پک کرتیارہوئی ہےاوراسےآپ کو اورآپ کےنسلوں کونہ معلوم کب تک کاٹناپڑےگا-

حضرات! آپ ٹھنڈےدل سےسوچیں کہ عین اس وقت جب کہ قانون قدرت کےمطابق اس ملک کی قسمت کا نظام انتظام درپیش ہے، ہم مالک زمین کےسامنےاپنی اہلیت وقابلیت کاکیا ثبوت پیش کررہےہیں- موقع تویہ تھا کہ ہم اپنےطرزعمل سےیہ ثابت کرتےکہ اگروہ اپنی زمین کا انتظام ہمارےحوالےکرےگا، توہم اسے خوب بنا سنوارگلزاربنادیں گے- ہم اس میں انصاف کریں گے- اسےہمدردی اورتعاون اوررحمت کا گہوارہ بنائیں گے- اس کےوسائل کواپنی اورانسانیت کی فلاح میں استعمال کریں گے- اس میں بھلائیوں کوپروان چڑھائیں گےاوربرائیوں کودبائیں گے- لیکن ہم اسےبتارہےہیں کہ ہم ایسےغارت گر، اس قدرمفسد اوراتنےظالم ہیں- کہ اگرتونےیہ زمین ہمارےحوالےکی تو ہم اس کی بستیوں کواجاڑدیں گےمحلےکےمحلےاورگاؤں کےگاؤں پھونک دیں گے، انسانی جان کومکھی اورمچھرسےزیادہ بےقیمت کردیں گے، عورتوں کوبےعزت کریں گے- چھوٹےبچوں کوشکارکریں گے، بوڑھوں اوربیماروں اورزخمیوں پربھی کھائیں گے- عبادت گاہوں اورمذہبی کتابوں تک کواپنےنفس کی گندگی سےلیس دیں گے- اورجس زمین کوتونےانسانوں سےآباد کیا ہےاس کی رونق ہم لاشوں اورجلی ہوئی عمارتوں سےبڑھائیں گے- کیا آپ واقعی آپ کا ضمیریہ گواہی دیتاہےکہ اپنی یہ خدمات، یہ اوصاف یہ کارنامےپیش کرکےآپ خدا کی نگاہ میں اس کی زمین کےانتظام کےلیے اہل ترین بندےقرارپائیں گے؟ کیا یہ کرتوت دیکھ کروہ آپ سےکہےگا کہ '' شاباش !'' اےمیرےپرانےمالیوں کی اولاد ! تم ہی سب سےبڑھ کرمیرےاس باغ کی رکھوالی کےقابل ہو- اسی اکھاڑپچھاڑ، اسی اجاڑاوربگاڑ، اس تباہی وبربادی اورگندگی وغلاظت کےلیےتومیں نےیہ باغ لگایا تھا- لواب اسےاپنےہاتھ میں لےکر خوب خراب کرو''-

میں یہ باتیں آپ سےاس لیےنہیں کہہ رہاہوں کہ آپ اپنےآپ سےاوراپنےمستقبل سےمایوس ہو جائیں- میں نہ توخود مایوس ہوں، نہ کسی کومایوس کرنا چاہتا ہوں- دراصل میرامدعا آپ کویہ بتانا ہےکہ ہندوستان کےلوگ اپنی حماقت اورجہالت سےاس زرین موقع کوکھونےپرتلےہوئےہیں جوکسی ملک کی قسمت بدلتےوقت صدیوں کےبعد خداوند عالم اس کےباشندوں کودیا کرتاہے- یہ وقت تھا کہ وہ ایک دوسرےسےبڑھ چڑھ کر، اپنےاعلی اوصاف اوراپنی بہترصلاحیتوں کا ثبوت پیش کرتےتاکہ خدا کی نگاہ میں انتظام زمین کے اہل قرارپاتے- مگرآجان کےدرمیان مقابلہ اس چیزمیں ہورہا ہےکہ کون زیادہ غارت گر، زیادہ سفاک اورزیادہ ظالم ہےتاکہ سب سےبڑھ کرخدا کی لعنت کا وہی مستحق قرارپائے- یہ لچھن آزادی اورترقی اورسرفرازی کےنہیں ہیں- ان سےتواندیشہ ہےکہ کہیں پھرایک مدت درازکےلیےہمارےحق میں غلامی اورذلت کا فیصلہ نہ لکھ دیا جائے- لہذا جولوگ عقل وہوش رکھتےہیں انہیں ان حالات کی اصلاح کےلیےکچھ فکرکرنی چاہیے-

اس مرحلہ پرآپ کےدل میں یہ سوال خود بخود پیدا ہوگا کہ اصلاح کی صورت کیا ہے؟ اس کا جواب دینےکےلیےحاضرہوں-

امید کی کرن:

اس تاریکی میں ہمارےلیےامید کی ایک ہی شعاع ہے، اوروہ یہ ہےکہ ہماری پوری آبادی بگڑکرنہیں رہ گئی ہےبلکہ اس میں کم ازکم چارپانچ فیصد لوگ ایسےضرورموجود ہیں جو اس عام بداخلاقی سےبچےہوئےہیں- یہ وہ سرمایہ ہےجس کواصلاح کی ابتدا کرنےکےلیے استعمال کیا جاسکتاہے- اصلاح کی راہ میں یہ پہلا قدم ہےکہ اس صالح عنصرکوچھانٹ کرمنظم کیا جائے- ہماری بدقسمتی کی وجہ یہی ہےکہ ہمارےہاں بدی تومنظم ہے- اورپوری باقاعدگی کےےساتھ اپنا کام کررہی ہے- لیکن نیکی منظم نہیں ہے- نیک لوگ موجود ضرورہیں مگرمنتشرہیں- ان اندرکوئی رابطہ اورتعلق نہیں ہے- کوئی تعاون اوراشتراک عمل نہیں ہے- کوئی لا ئحہ عمل اورکوئی مشترک آوازنہیں ہے- اسی چیز نےان کو بالکل بےاثربنادیاہے- کبھی کوئی اللہ کابندہ اپنےگردوپیش کی برائیوں کودیکھ کرچیخ اٹھتاہے، مگرجب کسی طرف سےکوئی آوازاس کی تائید میں نہیں اٹھتی تومایوس ہوکربیٹھ جاتا ہے، کبھی کوئی شخص حق اورانصاف کی بات علانیہ کہہ بیٹھتاہے- مگرمنظم بدی زبردستی اس کا منہ بندکردیتی ہےاورحق پسند لوگ اپنی جگہ چپکےسےاس کوداددےکررہ جاتےہیں- کبھی کوئی شخص انسانیت کا خون ہوتےدیکھ کرصبرنہیں کرسکتااوراس پراحتجاج کرگزرتاہے، مگرظالم لوگ ہجوم کرکےاسےدبا لیتےہیں اوراس کاحشردیکھ کربہت سےان لوگوں کی ہمتیں پست ہوجاتی ہیں- جن کےضمیرمیں ابھی کچھ زندگی باقی ہے- یہ حالت اب ختم ہونی چاہیے- اگرہم یہ نہیں چاہتےکہ ہمارا ملک خدا کےعذاب میں مبتلا ہواوراس عذاب میں نیک وبدسب گرفتارہوجائیں تو ہمیں کوشش کرنےچاہیےکہ ہمارےاندرجوصالح عناصراس اخلاقی وباسےبچےرہ گئےہیں- وہ اب مجتمع اورمنظم ہوں اوراجتماعی طاقت سےاس بڑھتےہوئےفتنہ کا مقابلہ کریں جوتیزی کےساتھ ہمیں تباہی کی طرف لےجارہاہے-

اصلاح کی صورت:

آپ اس سےنہ گھبرائیں کہ یہ صالح عنصراس وقت بظاہربہت ہی مایوس کن اقلیت میں ہے- یہی تھوڑےسےلوگ اگرمنظم ہوجائیں ، اگران کا اپنا ذاتی اوراجتماعی رویہ خالص راستی، انصاف ، حق پسندی اورخلوص و دیانت پرمضبوطی کےساتھ قائم ہوا، اوراگروہ مسائل زندگی کابہترحل اوردنیا کےمعاملات کودرست طریقےپرچلانےکےلیےایک اچھا پروگرام بھی رکھتےہوں، تویقین جانئےکہ اس منظم نیکی کے مقابلہ میں منظم بدی اپنےلشکروں کی کثرت اوراپنےگندےہتھاروں کی تیزی کےباوجودشکست کھاکررہےگی- انسانی فطرت شرپسندنہیں ہے- اسےدھوکاضروردیاجاسکتاہے، اورایک بڑی حد تک مسخ بھی کیا جاسکتاہے- مگراس کےاندربھلائی کی قدرکاجومادہ خالق نےودیعت کردیاہے، اسےبالکل معدوم نہیں کیا جاسکتا- انسانوں میں ایسےلوگ تھوڑےہی ہوتےہیں جوبدی ہی سےدلچپسی رکھتےہوں اوراس کےعلمبردار بن کرکھڑےہوں- اورایسےلوگ بھی کم ہوتےہیں جنہیں نیکی سےعشق ہواوراسےقائم کرنےکی جدوجہد کریں- ان دونوں گروہوں کےدرمیان عام انسان نیکی اوربدی کےملےجلےرجحانات رکھتےہیں- وہ نہ بدی کےگرویدہ ہوتےہیں اورنہ نیکی ہی سےانہیں غیرمعمولی دلچپسی ہوتی ہے- ان کےکسی ایک طرف جھک جانےکا انحصارتمام تراس پرہوتاہےکہ خیراورشرکےعلمبرداروں میں سےکون آگےبڑھ کرانہیں اپنےراستہ کی طرف کھینچتا ہے- اگرخیرکےعلمبردارسرےسےمیدان میں آئیں ہی نہیں اوران کی طرف سےعوام الناس کوبھلائی کی راہ پرچلانےکی کوشش ہی نہ ہوتولامحالہ میدان علمبرداران شرہی کےہاتھ رہےگا اوروہ عام انسانوں کواپنی راہ پرکھینچ لےجائیں گے- لیکن اگرخیرکےعلمبرداربھی میدان میں موجود ہوں- اوروہ اصلاح کی کوشش کاحق ٹھیک ٹھیک اداکریں توعوام الناس پرعلمبرداران شرکااثرزیادہ دیرتک قائم نہیں رہ سکتا- کیونکہ ان دونوں کا مقابلہ آخرکاراخلاق کےمیدان میں ہوگا ، اوراس میدان میں نیک انسانوں کوبرےانسان کبھی شکست نہیں دےسکتے- سچائی کےمقابلہ میں جھوٹ ، ایمانداری کےمقابلہ میں بےایمانی ، اورپاک بازی کےمقابلہ میں بدکرداری خواہ کتنا ہی زورلگائے، آخری جیت بہرحال سچائی، پاک بازی اورایمان داری کی ہو گی- دنیا اس قدر بےحس نہیں ہےکہ اچھےاخلاق کی مٹھاس اوربرےاخلاق کی تلخی کوچکھ لینےکےبعد آخرکاراس کا فیصلہ یہی ہوکہ مٹھاس سےتلخی زیادہ بہترہے-

اصلاح کےلیےنیک انسانوں کی تنظیم کےساتھ دوسری ضروری چیزیہ ہے کہ ہمارے سامنے بناؤ اوربگاڑکا ایک واضع تصورموجود ہو- ہم اچھی طرح یہ سمجھ لیں کہ بگاڑ کیا ہےتاکہ اسے دورکرنےکی کوشش کی جائےاوربناؤ کیا ہےتاکہ اسےعمل میں لانےپرسارا زورلگا دیا جائے- تفصیلات میں جانےکا اس وقت موقع نہیں ہے- میں بڑےاختصارکےساتھ آپ کےسامنےان دونوں چیزوں کی ایک تصویر پیش کروں گا-

عنوانات کےتحت جمع کرسکتےہیں-

  • (1) خدا سےبےخوفی، جودنیامیں بےانصافی ، بےرحمی، خیانت اورساری اخلاقی برائیوں کی جڑہے
  • (2) خدا کی ہدایت سےبےنیازی، جس نےانسان کےلیےکسی معاملہ میں بھی ایسےمستقل اخلاقی اصول باقی نہیں رہنےدیئےہیں جن کی پابندی کی جائےاسی چیزکی بدولت اشخاص اورگروہوں اورقوموں کا سارا طرزعمل مفادپرستی اورخواہشات کی غلامی پرقائم ہوگیا ہے- اسی کا نتیجہ ہےکہ وہ نہ اپنےمقاصد میں جائزوناجائزکی تمیزکرتےہیں اورنہ ان مقاصد کوحاصل کرنےکیلئےکسی قسم کےبرےسےبرےذرائع اختیار کرنےمیں انہیں ذراساتامل ہوتاہے-
  • (3) خودغرضی ، جو صرف افرادہی کوایک دوسرےکی حق تلفی پرآمادہ نہیں کرتی بلکہ بڑےپیمانےپرنسل پرستی ، قوم پرستی اورطبقاتی امتیازات کی شکل اختیارکرلیتی ہےاوراس سےفساد کی بےشمارصورتیں پیدا ہوتی ہیں-
  • (4) جمود، یا بےراہ روی، جس کی وجہ سےانسان یا توخدا کی دی ہوئی قوتوں کواستعمال ہی نہیں کرتا، یا غلط استعمال کرتاہے، یا توخدا کےبخشےہوئےذرائع سےکام نہیں لیتا، یا غلط کام لیتاہے- پہلی صورت میں اللہ تعالی کا قانون یہ ہےکہ وہ کاہل اورنکھےلوگوں کوزیادہ دیرتک اپنی زمین پرقابض نہیں رہنےدیتابلکہ ان کی جگہ ایسےلوگوں کولےکرآتاہےجوکچھ نہ کچھ بنانےوالےہوں- دوسری صورت میں جب غلط کارقوموں کی تخریب ان کی تعمیرسےبڑھ جاتی ہےتووہ ہٹاکرپھینک دی جاتی میں اوربسا اوقات خود اپنی ہی تخریبی کاروائیوں کا لقمہ بنا دی جاتی ہیں-


اس کےمقابلےمیں وہ چیزیں بھی، جن کی بدولت انسانی زندگی بنتی اورسنورتی ہے، چارہی عنوانات کے تحت تقسیم ہوتی ہے-


  • (1) خدا کا خوف ، جوآدمی کوبرائیوں سےروکنےاورسیدھا چلانےکےلیےایک ہی قابل اعتماد ضمانت ہے- راست بازی، انصاف، امانت ، حق شناسی ، ضبط نفس اوروہ تمام دوسری خوبیاں جن پرایک پرامن اورترقی پذیرتمدن و تہذیب کی پیدائش کا انحصارہے، اسی ایک تخم سےپیدا ہوتی ہیں – اگرچہ بعض دوسرےعقیدوں کےذریعےسےبھی کسی نہ کسی حد تک انہیں پیدا کیا جا سکتاہے، جس طرح مغربی قوموں نےکچھ نہ کچھ اپنےاندرپیدا کیا ہے- لیکن ان ذرائع سےپیدا کی ہوئی خوبیوں کا نشوونما بس ایک حد پرجاکررک جاتاہےاوراس حد میں بھی ان کی بنیاد متزلزل رہتی ہے- صرف خدا ترسی ہی وہ پائیداربنیاد ہےجس پرانسان کےاندربرائی سےروکنےاوربھلائی پرچلنےکی صفت مضبوطی کےساتھ قائم ہوتی ہےاورمحدود پیمانےپرنہیں بلکہ نہایت وسیع پیمانےپرتمام انسانی معاملات میں اپنا اثر دکھاتی ہے-
  • (2) خدائی ہدایت کی پیروی، جوانسان کےشخصی، اجتماعی ، قومی اوربین الاقوامی رویہ کواخلاق کے مستقل اصولوں کا پابندکرنےکی ایک ہی صورت ہے- جب تک انسان اپنےاخلاقی اصولوں کا خود واضع اورمنصف رہتاہےاس کےپاس باتیں بنانےکےلیےکچھ اوراصول ہوتےہیں اورعمل میں لانےکےلیےکچھ اورکتابوں میں آب زرسےوہ ایک قسم کےاصول لکھتا ہےاورمعاملات میں اپنےمطلب کےمطابق بالکل دوسری ہی قسم کےاصول برتتا ہے- دوسروں سےمطالبہ کرتےوقت کچھ موقع اورمصلحت اورخواہش اورضرورت کےدباؤ سےاس کےاصول ہرآن بدلتےہیں- وہ اخلاق کا اصل محور '' حق '' کونہیں بلکہ '' اپنےمفاد'' کوبناتاہے- وہ اس بات کومانتاہی نہیں کہ اس کےعمل کوحق کےمطابق ڈھلناچاہیے- اس کےبجائےوہ چاہتا ہےکہ حق اس کےمفاد کےمطابق ڈھلے- یہی وہ چیزہےجس کی بدولت افراد سےلےکرقوموں تک سب کا رویہ غلط ہوجاتاہےاوراسی سےدنیا میں فساد پھیلتاہے- اس کےبرعکس جوچیزانسان کوامن ، خوشحالی اورفلاح و سعادت بخش سکتی ہے، وہ یہ ہےکہ اخلاق کےکچھ ایسےاصول ہوں جو کسی کےمفاد کےلحاظ سےنہیں بلکہ حق کےلحاظ سےبنےہوئےہوں اورانہیں اٹل مان کرتمام معاملات میں ان کی پابندی کی جائے- خواہ وہ معاملات شخصی ہوں یا قومی، خواہ وہ تجارت سےتعلق رکھتےہوں یا سیاست اورصلح وجنگ سے- ظاہرہےکہ ایسےاصول صرف خدائی ہدایت ہی میں ہمیں مل سکتےہیں، اوران پرعمل درآمد کی صرف یہی ایک صورت ہےکہ انسان ان کےاندرردوبدل کےاختیارسےدست بردارہوکرانہیں واجب الا تباع تسلیم کرلے-
  • (3) نظام انسانیت، جوشخصی، قومی ، نسلی اورطبقاتی خودغرضیوں کےبجائےتمام انسانوں کےمساوی مرتبے اورمساوی حقوق پرمبنی ہو- جس میں بےجاامتیازات نہ ہوں جس میں اونچ نیچ ، چھوٹ چھات اورمصنوعی تعصبات نہ ہوں- جس میں بعض کےلیےمخصوص حقوق اوربعض کےلیےبناوٹی پابندیاں اوررکاوٹیں نہ ہوں، جس میں سب کویکساں پھولنےپھلنےکا موقع ملے- جس میں اتنی وسعت ہوکہ روئےزمین کےسارےانسان اس میں برابری کےساتھ شریک ہوسکتےہوں-
  • (4) عمل صالح۔ یعنی خدا کی دی ہوئی قوتوں اوراس کےبخشےہو‏ئےذرائع کوپوری طرح استعمال کرنا اورصحیح استعمال کرنا-

حضرات یہ چارچیزیں ہیں جن کےمجموعےکا نام '' بناؤ '' اور ''اصلاح'' ہےاور ہم سب کی بہتری اس میں ہےکہ ہمارےاندرنیک انسانوں کی ایک ایسی تنظیم موجود ہوجوبگاڑکےاسباب کوروکنےاوربناؤ کی ان صورتوں کوعمل میں لانےکےلیےپہیم جدوجہد کرے- یہ جدوجہد اس ملک کےباشندوں کوراہ راست پرلانےمیں کامیاب ہوگئی توخدا ایسا بےانصاف نہیں ہےکہ وہ خواہ مخواہ اپنی زمین کا انتظام اس کےاصلی باشندوں سےچھین کرکسی اورکودےدے- لیکن اگرخدانخواستہ یہ ناکام ہوئی تو ہم نہیں کہہ سکتےکہ ہمارا آپ کا اوراس سرزمین کےرہنےوالوں کا کیا انجام ہو گا!

ماخذ: بناؤ اوربگاڑ

مصنف: مولاناابوالاعلی مودودی

پبلشرز: ادارہ

ایڈیشن:1

تاریخ اشاعت: May 10, 1947

ریڈنگ کاؤنٹر: 19