ضمیمہ: جیسا کہ دیا چہ طبع پنجم میں عرض کیا جا چکا ہے، اس کتاب کے ساتھ یہ ضمیمہ اس غرض کے لیے لگایا جا رہا ہے کہ ناظرین کو ان شبہات و اعتراضات کا جواب بر وقت اور یک جامل جائے جو اس کتاب کے موضوع سے متعلق میری تصریحات پر وقتاً وقتاً پیش کیے جاتے رہے ہیں۔ ذیل میں وہ سوالات جو مختلف اوقات میں مختلف اصحاب کی طرف سے میرے پاس آئے ہیں مع جواب درج کیے جا رہے ہیں۔امید ہے کہ ان کا مطالعہ بڑی حد تک ان دوسرے حضرات کے لیے بھی تشفی بخش ثابت ہو گا جن کے ذہن میں اسی طرح کے اعتراضات و شبہات موجود ہوں۔
سوال: "کتاب" تجدید و احیائے دین“ جس قدر بلند پایہ ہے اس کا اندازہ تو ” کارِ تجدید کی نوعیت“ کے عنوان سے تحریر شدہ مضمون اور مختلف مجددین امت کےکارناموں کی تفصیل سے ایک صاحب بصیرت بخوبی کر سکتا ہے۔ تاہم چند پہلو تشریح کے محتاج ہیں اور وہ درج ذیل ہیں:
(الف) امام غزالی " کے تذکرے کے آخر میں تین کمزوریاں جو آپ نے بیان کی ہیں، یعنی (الف) علم حدیث میں امام کا کمزور ہونا۔ (ب) عقلیات کا غلبہ اور (ج) تصوف کی طرف ضرورت سے زیادہ مائل ہونا، کیا ان کا ثبوت امام کی مشہور کتب احیاء العلوم اور کیمیائے سعادت سے ملتا ہے؟ اور کیا وہ تصوف جس کا بیان انہوں نے ان کتابوں میں کیا ہے ایک مستحسن چیز نہیں ہے؟ نیز کیا مجد دوقت کو تمام ہم عصروں کے مقابلہ میں علم کی زیادہ نہیں دیا جا تا؟ اگر نہیں تو زمانے بھر میں اس کو ایک امتیاز خاص کیوں حاصل ہوتا ہے؟
(۲) مجددالف ثانی اور شاہ ولی اللہ صاحب کے متعلق آپ نے تحریر فرمایا ہےکہ پہلی چیز جو مجھ کو حضرت مجددالف ثانی کے وقت سے شاہ ولی اللہ صاحب اور ان کے خلفاء تک کے تجدیدی کام میں کھٹکی ہے وہ یہ ہے کہ انہوں نے تصوف کےبارے میں مسلمانوں کی بیماری کا پورا اندازہ نہیں لگایا اور ان کو پھر وہی تعداد ے دہی جس سے مکمل پر ہیز کرانے کی ضرورت تھی ۔ اس کے متعلق بھی یہ باور کرنا مشکل ہے کہ حضرت مجدد اور شاہ صاحب اتنے ناقص البصیرت تھے کہ تصوف کی بیماری کا پورا اندازہ نہ لگا سکے۔ یہ حضرات علوم ظاہری کے ساتھ علوم باطنی (بطریق کشف و الهام) سےبھی بہرہ وافر رکھتےتھے۔ پھر ان حضرات نے مجدد ہونے کا دعویٰ بھی کیا ہے جس کا ذکر مولانا آزاد نے اپنے تذکرے میں کیا ہے۔ خودحضرت مجدد نےاپنے مکتوبات میں لکھا ہے کہ دور نبوت سے ہزار سال بعد جو مجد د آیا ہے وہ آپ کی ذات گرامی ہے۔ ان باتوں کے پیش نظر قدرتی طور پر حسب ذیل سوالات پیداہوتے ہیں:
(الف ) کیا ان دونوں حضرات کا اعلان مجددیت حکم خداوندی کے تحت نہ تھا نیز کشف والہامات جن کا ذکر ان کی تصانیف میں ملتا ہے اس کی حقیقت کیا ہے؟ آخر وہ مجد دامر شرعی سے ہوئے یا امر تکوینی سے!
(ب) کیا لوگوں کا یہ خیال صحیح ہے کہ مجدد لا ز ما اپنے دور کا وہ ممتاز انسان ہوتا ہے جو شریعت کے علوم کا مع اسرار دین سب سے بڑا عالم ہو اور اقرب الی اللہ ہو؟ اگر ایسا نہیں ہے تو دوسروں کو چھوڑ کر اس کا راہم کے لیے اسے کیوں مامور کیا جاتا ہے؟
(۳) الامام المہدی کے متعلق آپ نے تحریر فرمایا ہے کہ وہ عام علماء کے بیان سے بہت مختلف ہوں گئے حالانکہ علماء سے یہ سنا ہے کہ امام کا نام اور نسب تک علاوہ دیگر علامات کے احادیث میں مذکور ہے۔ وہ خاص ماحول میں اور خاص علامات کے ساتھ نمودار ہوں گے لوگ ان کو پہچان لیں گے اور زبردستی بیعت کر کے حاکم بنائیں گے اور اسی دوران میں آسمان سے آواز آئے گی کہ یہ اللہ تعالیٰ کے خلیفہ الامام المہدی ہیں ۔ لیکن آپ فرماتے ہیں کہ نبی کے سوا کسی کا یہ منصب ہی نہیں ہے کہ دعوے سے کام کا آغاز کرے اور نہ نبی کے سوا کسی کو یقینی طور پر یہ معلوم ہوتا ہے کہ وہ کس خدمت پر مامور ہوا ہے۔ مہدویت دعوے کرنے کی چیز نہیں، کر کے دکھا جانے کی چیز ہے۔ اس قسم کے دعوے جولوگ کرتے ہیں اور جوان پر ایمان لاتے ہیں میرے نزدیک دونوں اپنے علم کی کمی اور اپنے ذہن کی پستی کا ثبوت دیتے ہیں۔
میرا سوال یہ ہے کہ مذکورہ بالا علامات و کوائف جواکثر اہل علم ( مثلاً مولانا اشرف علی تھانوی کی کتاب بہشتی زیور ملاحظہ ہو ) نے بیان کیے ہیں کیا احادیث صحیحہ پر بنی نہیں ہیں؟ اگر ہیں تو آپ کے بیان کی پشت پر کون سے دلائل موجود ہیں؟
جواب: آپ کے سوالات کا جواب دینے کے بجائے میں ضروری سمجھتا ہوں کہ چند امور کی توضیح کر دوں جن کو سمجھ لینے سے آپ کی بہت سی الجھنیں خود بخو وصاف ہو جائیں گی۔
اول یہ کہ ہمارے پاس کوئی ذریعہ ایسا نہیں جس سے ہم یقین کے ساتھ یہ کہہ سکیں کہ ال شخص مجدد تھا اور فلاں شخص نہ تھا۔ یہ تو ایک شخص کےکام کو دیکھ کر بعد کے لوگ یا خود اس کے ہم فلاں عصر لوگ یہ رائے قائم کرتے رہے ہیں کہ وہ مجدد تھا یا نہ تھا۔ اس میں اختلافات بھی بہت کچھ ہوئے ہیں۔ پچھلے زمانے کے متعد دلوگوں کے متعلق بہت سے اہل علم کی یہ رائے ہے کہ وہ مجدد تھے مگر بعض نے ان کو مجدد نہیں مانا ہے۔ کوئی خاص علامت کسی کے ساتھ بھی لگی ہوئی نہیں ہے جس سے اس کے مرتبے کا تعین ہو سکے۔
دوم یہ کہ تجدید کسی دینی منصب کا نام نہیں ہے جس پر کوئی شخص اللہ تعالیٰ کی طرف سےبامر شرعی مامور ہوتا ہو اور اس کو مجدد مانے یا نہ مانے سے کسی شخص کے عقیدہ دینی پر کوئی اچھا یا برا اثر پڑتا ہو۔ یہ تو ایک لقب ہے جو کسی آدمی کو اس کے کارنامے کے لحاظ سے دیا جاتا ہے۔ ہمارے علم میں جس شخص نے بھی دین کو از سرنو تازہ کرنے کی کوئی خدمت انجام دی ہو، ہم اسے مجدد کہہ سکتےہیں۔ اور دوسرے شخص کی رائے میں اگر اس کا کارنامہ اس مرتبے کا نہ ہو تو وہ اسے اس لقب کا مستحق ٹھیرانے سے انکار کر سکتا ہے۔ نادان لوگوں نے اس معاملے کو خواہ مخواہ اہم بنا دیا ہے۔نبی ﷺ نے جو خبر دی تھی وہ صرف یہ تھی کہ اللہ تعالیٰ اس دین کو مٹنے نہیں دے گا کہ بلکہ ہر صدی کےسرے پر ایسے شخص یا اشخاص کو اٹھا تارہے گا جو اس کے دھند لے ہوتے ہوئے آثار کو پھر سے تازہ کر دے گا یا کر دیں گے۔ حدیث میں من کا لفظ عربیت کے لحاظ سے اس بات کا متقاضی نہیں ہےکہ ضرور وہ کوئی ایک ہی شخص ہو۔ اس کا اطلاق متعدد اشخاص پر بھی ہو سکتا ہے۔ اور حدیث میں کوئی لفظ ایسا بھی نہیں ہے جس سے یہ نتیجہ نکالا جا سکے کہ مجددکو اپنے مجدد نہ ہونے کا شعور بھی ہونا چاہیے یا یہ کہ لوگوں کے لیے مجدد کا پہچانا بھی ضروری ہے۔
سوم کسی شخص کےمجدد ہونے کےیہ معنی نہیں ہیں کہ وہ ہر لحاظ سے مرد کامل ہےاور اس کا کام نقائص سے پاک ہے۔ اس کو مجدد قرار دینے کے لیے صرف اتنی بات کافی ہے کہ اس کا مجموعی کارنامہ تجدیدی خدمت کی شہادت دیتا ہو۔ لیکن ہم سخت غلطی کریں گے اگر کسی کو مسجد دقرار دینے کے بعد اس کو بے خطا سمجھ لیں اور اس کی ہر بات پر ایمان لے آئیں۔ نبی کی طرح مجدد معصوم نہیں ہوتا۔
چهارم مجددین امت کے کام پر میں نے جو تبصرہ کیا ہے وہ بہر حال میری اپنی رائےہے۔ ہر شخص کو اختیار ہے کہ میری جس رائے سے چاہے اختلاف کرے۔ میں نے جن دلائل کی بنا پر کوئی رائے قائم کی ہے ان پر آپ کا اطمینان ہو تو اچھا ہے۔ نہ اطمینان ہو تو مضائقہ نہیں ۔ البتہ میں یہ ضرور چاہوں گا کہ آپ کسی رائے کہ ڈ یا قبول کرنے کا انحصار دلیل اور تحقیق پر رکھیں اکابر پرستی کے جذبے سے متاثر نہ ہوں۔
پنجم، پچھلےزمانے کے بعض بزرگوں نے بلاشبہ اپنے متعلق کشف والہام کے طریقےسےیہ خبر دی ہے کہ وہ اپنے دور کےمجدد ہیں،لیکن انہوں نےاس معنی میں کوئی دعویٰ نہیں کیا کہ ان کو مجدد تسلیم کرنا لوگوں کےلیےضروری ہےاور جو ان کو نہ مانے وہ گمراہ ہے۔ دعویٰ کر کے اس کو مانےکی دعوت دینا اور اسےمنوانےکی کوشش کرنا سرے سے کسی مجدد کا منصب ہی نہیں ہے۔ جو شخص یہ حرکت کرتا ہے دو خود اپنے اس فعل ہی سے یہ ثابت کرتا ہے کہ وہ فی الواقع مسجد دنہیں ہے۔
ششم، کشف والہام وحی کی طرح کوئی یقینی چیز نہیں ہے۔ اس میں وہ کیفیت نہیں ہوتی که صاحب کشف کو آفتاب روشن کی طرح یہ معلوم ہو کہ یہ کشف یا یہ الہام خدا کی طرف سے ہو رہا ہے۔ اس میں غلط فہمیوں کا کم و بیش امکان ہوتا ہے۔ اسی لیے اہل علم اس بات کے قائل ہیں کہ کشف والہام کے ذریعے سے کوئی حکم شرعی ثابت نہیں ہوتا، نہ اس ذریعہ علم سے حاصل کی ہوئی کوئی چیز حجت ہے نہ خود صاحب کشف کے لیے یہ جائز ہے کہ کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ پر پیش کیے بغیر کسی کشف والہامی چیز کی پیروی کرے۔
ہفتم امام مہدی کے بارے میں جو کچھ میں نے لکھا ہے اس کی مزید توضیح اپنی کتاب رسائل و مسائل میں کر چکا ہوں ۔ براہ کرم ان سب تو ضیحات کو ملاحظه فرمالیں۔ ان سے آپ کو معلوم ہو جائے گا کہ ان روایات کے بارے میں میری تحقیق کیا ہے جن کی بناء پر علما نےاتنی تفصیلات مرتب کر دی ہیں۔ میں ان تمام علماء کا دل سے احترام کرتا ہوں مگر کسی عالم کی ہر بات کو مان لینے کی عادت مجھے کبھی نہیں رہی۔ ( ترجمان القرآن، جنوری فروری ۱۹۵۱ء)
"پچھلے زمانہ کے بعض بزرگوں نے بلاشبہ اپنے متعلق کشف و الهام کے طریقہ سے خبر دی ہے کہ وہ اپنے زمانہ کے مجدد ہیں لیکن انہوں نے اس معنی میں کوئی دعویٰ نہیں کیا کہ ان کو مسجد و تسلیم کرنا لوگوں کے لیے ضروری ہے اور جوان کو نہ مانے گمراہ ہے۔ آپ کا یہ قول درست معلوم نہیں ہوتا۔ کیونکہ حضرت شاہ ولی اللہ صاحب دہلوی نے بڑے دھڑلے سے یہ دعوئی فرمایا ہے کہ مجھے اللہ تعالیٰ نے مطلع فرمایا ہے کہ تو اس زمانہ کا امام ہے۔ چاہیے کہ لوگ تیری پیروی کو ذریعه نجات سمجھیں۔ مثال کےطور پر ملاحظہ ہو تفہیمات الہیہ جلد دوم صفحہ ۱۲۵۔ کیا جناب شاہ صاحب کا یہ دعویٰ درست تھا یا نہیں؟ اگر ان کا دعویٰ درست تھا تو پھر آپ کا یہ قول درست نہیں جو آپ نے عبارت مذکورہ بالا کے آگے تحریر فرمایا ہے:
" کشف و الهام وحی کی طرح کوئی یقینی چیز نہیں ۔ اس میں وہ کیفیت نہیں ہوتی کہ صاحب کشف والہام کو آفتاب روشن کی طرح یہ معلوم ہو کہ یہ کشف والہام خدا تعالیٰ کی طرف سے ہورہا ہے ۔“ جناب کا یہ ارشاد بھی اپنے ذاتی تجربہ کی بناء پر ہے یا آپ کا اجتہاد ہے؟ یا قرآن مجید اور احادیث کے ارشادات عالیہ کی بنا پر ہے؟ اگر امت محمدیہ کے کاملین کے الہام و کشوف کی یہ حقیقت ہے تو پھر ان کے خیر امت ہونے کی حالت معلوم شد ۔ حلانکہ پہلی امتوں میں عورتیں تک وحی یقینی سےمشرف ہوتی رہی ہیں۔ اور خدا کے ایسے بندے بھی ہوتے رہے کہ جن کے کشف والہام کا یہ عالم تھا کہ ایک اولو العزم نبئی کو بھی سوال کر کے ندامت اٹھانی پڑی۔ مگر سبحان اللہ امت محمدیہ کے کاملین کے کشوف والہامات عجیب قسم کے تھے کہ ان کو خود یقین نہ تھا کہ یہ خدا تعالیٰ کی طرف سے ہیں یا نہیں۔پھر اللہ تعالیٰ کو ان کو اس قسم کےالہام و کشوف دکھانے کی ضرورت کیا پڑ گئی، جن سے نہ کوئی دینی فائدہ متصور تھا اور نہ ہی صاحب کشف والہام کے لیے وہ موجب از دیا دایمان تھے بلکہ الٹا موجب تردد ہونے کے باعث ایک قسم کی مصیبت ہی تھے۔
آپ کی غلطی یہ ہے کہ آپ نےوحی و الهام کےمختلف مفہومات کو گڈمڈ کر دیا ہےایک قسم کی وحی وہ ہے جسے وحی جبلی یا طبیعی کہا جا سکتا ہے، جس کے ذریعہ سے اللہ ہر مخلوق کو اس کےکرنے کا کام سکھاتا ہے۔ یہ وحی انسانوں سے بڑھ کر جانوروں اور شایدان سے بھی بڑھ کر نباتات و جمادات پر ہوتی ہے۔ دوسری قسم وہ ہے جسے وحی جزئی کہا جاسکتا ہے،جس کے ذریعےسےکسی خاص موقع پر اللہ تعالیٰ اپنے کسی بندے کو امور زندگی میں سے کسی امر کے متعلق کوئی علم یا کوئی ہدایت یا کوئی تدبیر سمجھا دیتا ہے۔ یہ وحی آئے دن عام انسانوں پر ہوتی رہتی ہے۔ دنیا میں بڑی بڑی ایجاد میں اس وحی کی بدولت ہوئی ہیں۔ بڑے بڑے اہم علمی انکشافات اسی وحی کےذریعےسے ہوئے ہیں۔ بڑے بڑے اہم تاریخی واقعات میں اسی وحی کی کارفرمائی نظر آتی ہےجب کہ کسی شخص کو کسی اہم موقع پر کوئی خاص تدبیر با انور دیگر اچانک سوجھ گئی اور اس نے تاریخ کی رفتار پر ایک فیصلہ کن اثر ڈالا دیا۔ ایسی ہی وحی حضرت موسیٰ کی والدہ پر بھی ہوئی تھی۔ ان دونوں قسم کی وحیوں سے بالکل مختلف نوعیت کی وحی وہ ہےجس میں اللہ تعالیٰ اپنےکسی بندے کو حقائق غیبیہ پر مطلع فرماتا ہے۔ اور اسے نظامِ زندگی کے متعلق ہدایت بخشتا ہے تا کہ وہ اس علم اور اس ہدایت کو عام انسانوں تک پہنچائے اور انہیں تاریکیوں سے نکال کر روشنی میں لائے ۔ یہ وتی انبیاء کے لیے خاص ہے۔ قرآن سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ اس نوعیت کا علم، خواہ اس کا نام القاءر کھیےکشف رکھیے الہام رکھیے یا اصطلاحا اسے وحی سے تعبیر کیجیے انبیاء ورسل کے سوا کسی کو نہیں دیا جاتا۔ اور یہ علم صرف انبیاء ہی کو اس طور پر دیا جاتا ہے کہ اس کے من جانب اللہ ہونے اور شیطان کی دراندازی سےبالکل محفوظ ہونے اور خود اپنےذاتی خیالات،تصورات اور خواہشات کی آلائشوں سےبھی پاک ہونے کا پورا یقین ہوتا ہے۔نیز یہی علم حجت شرعی ہےاس کی پابندی ہر انسان پر فرض ہے۔ اور اس کو دوسرے انسانوں تک پہنچانے اور اس پر ایمان کی دعوت سب بندگان خدا کو دینے پر انبیاء علیہم السلام مامور ہوتے رہے ہیں۔
انبیاء کےسوا دوسرے انسانوں کو اگر اس تیسری قسم کےعلم کا کوئی جزو نصیب بھی ہوتا ہے، تو وہ ایسے دھند کے اشارے کی حد تک ہوتا ہےجسےٹھیک ٹھیک سمجھنےکے لیے وحی نبوت کی روشنی سے مدد لینا ( یعنی کتاب وسنت پر پیش کر کےاس کی صحت و عدم صحت کو جا نچنا اور بصورت صحت اس کا منشا متعین کرنا ضروری ہے۔ اس کے بغیر جو شخص اپنے الہام کو ایک مستقل بالذات ذریعہ ہدایت سمجھے اور دکی نبوت کی کسوٹی پر اس معاملے کو پر کھے بغیر اس پر عمل کرے اور دوسروں کو اس کی پیروی کی دعوت دے اس کی حیثیت ایک جعلی سکہ ساز کی سی ہوتی ہے جو شاہی ٹکسال کے مقابلہ میں اپنی ٹکسال چلاتا ہے۔ اس کی یہ حرکت خود ہی ثابت کرتی ہے کہ فی الواقع خدا کی طرف سے اس کو الہام نہیں ہوتا۔
آپ اگر اسبات کو سمجھنےکی کوشش فرما ئیں تو آپ کو خود معلوم ہو جائیگا کہ امت کےصالح و مصلح آدمیوں کو نبی کا ساکشف والہام نہ دینےاور اس سےکم تر ایک طرح کا تابعانہ کشف و الهام دینےمیں کیا مصلحت ہے۔ پہلی چیز عطا نہ کرنے کی وجہ یہ ہے کہ یہی چیز نبی اور امتی کےدر میان بنائے فرق ہے اسے دور کیسے کیا جا سکتا ہے۔ اور دوسری چیز دینے کی وجہ یہ ہے کہ جولوگ بنی کے بعد اس کے کام کو جاری رکھنے کی کوشش کریں وہ اس بات کے محتاج ہوتے ہیں کہ دین میں ان کو حکیمانه بصیرت اور اقامت دین کی سعی میں ان کو صحیح رہنمائی اللہ کی طرف سے حاصل ہو۔ یہ چیز غیر شعوری طور پر تو ہر مخلص اور صحیح الفکر خادم دین کو بخشی جاتی ہے، لیکن اگر کسی کو شعوری طور پر بھی دے دی جائے تو یہ اللہ کا انعام ہے۔ دوسری بنیادی غلطی جو آپ نے کی ہے یہ ہے کہ آپ مقامِ نبی اور مقام غیر نبی کے اصولی فرق کو سرے سے سمجھے ہی نہیں ہیں۔ قرآن کی رو سے یہ حیثیت صرف ایک نبی ہی کو حاصل ہوتی ہے کہ وہ امر تشریعی سے مامور من اللہ ہوتا ہے اور خلق کو یہ دعوت دینے کا مجاز ہوتا ہے کہ وہ اس پر ایمان لائیں اور اس کی اطاعت قبول کریں، حتی کہ جو اس پر ایمان نہ لائے وہ خدا کو ماننے کے باوجود کافر ہوتا ہے۔ یہ حیثیت نبی کے سوا کسی کو بھی نظامِ دین میں حاصل نہیں ہے۔ اگر کوئی اس حیثیت کا مدعی ہو تو ثبوت اسے پیش کرنا چاہیے نہ یہ کہ ہم اس کےدعوے کی نفی کا ثبوت پیش کریں۔ وہ بتائے کہ قرآن وحدیث میں کہاں نبی کے سوا کسی کا یہ منصب مقرر کیا گیا ہے کہ وہ لوگوں کے سامنے اس منصب پر مامور کیے جانے کا دعوی کرے اور اپنے اس دعوے کو ماننے کی لوگوں کو دعوت دے اور جو اس کا دعوی تسلیم نہ کرے وہ مجرد اس بناء پر کافر اور جہنمی ہو کہ اس نے مدعی کے اس دعوے کو تسلیم نہیں کیا۔
اس کے جواب میں اگر کوئی شخص حدیث مـن يـجــدد لها دينها كا حوالہ دے یا ان احادیث کو پیش کرے جو مہدی کی آمد کے متعلق ہیں، تو میں عرض کروں گا کہ ان میں کہیں بھی مجد دیا مہدی کے منصب کی وہ حیثیت نہیں بیان کی گئی ہے، جس کا یہاں ذکر ہورہا ہے۔ آخران میں کہاں یہ لکھا ہے کہ یہ لوگ اپنے مسجد داور مہدی ہونے کے دعوے کریں گئے اور جوان کے دعوے کو مانے گا وہی مسلمان رہے گا، باقی سب کا فر ہو جائیں گے؟
نیز اس کے جواب میں یہ بحث چھیڑ نا بھی خلط مبحث ہے کہ جو شخص تجدید و احیائے دین اور اقامت دین کا برحق کام کر رہا ہو اس کا ساتھ نہ دینا یا اس کی مخالفت کرنا کسی طرح موجب نجات نہیں ہو سکتا ۔ اس میں شک نہیں ہے کہ اس طرح کا کام جب بھی ہوتا ہے وہ فارق بین الحق والباطل ہو جاتا ہے اور آدمی کے حق پرست ہونے کی پہچان یہی ہوتی ہے کہ وہ ایسے کام کا ساتھ دے۔ لیکن اس فرق و امتیاز کی بنیاد در اصل یہ ہوتی ہے کہ دین کی تجدید واقامت میں سعی کرنا ہر مسلمان کا فرض ہے نہ یہ کہ کسی مدعی کے دعوئی کو مانا اس کے ایمان کا تقاضا ہو اور مجرد اس بنا پر وہ نجات سے محروم ہو جائے کہ اس نے ایک شخص کے دعوائے مجددیت یا مہدویت کو نہیں مانا۔
اب شاہ ولی اللہ صاحب اور مجد دسر ہندی رحمہما اللہ کے دعووں کو لیجیئے ۔ میں اس لحاظ سے بہت بدنام ہوں کہ اکا بر سلف کو معصوم نہیں مانتا اور ان کے صحیح کو صحیح کہنے کے ساتھ ان کے غلط کو غلط بھی کہہ گزرتا ہوں۔ ڈرتا ہوں کہ اس معاملہ میں بھی کچھ صاف صاف کہوں گا تو میری فرد قراردادِ جرم میں ایک جریمہ کا اور اضافہ ہو جائے گا۔ لیکن آدمی کو دنیا کے خوف سے بڑھ کر خدا کا خوف ہونا چاہیے۔ اس لیے خواہ کوئی کچھ کہا کرے میں تو یہ کہنے سے باز نہیں رہ سکتا کہ ان دونوں بزرگوں کا اپنےمجدد ہونے کی خود تصریح کرنا اور بار بار کشف والہام کے حوالہ سے اپنی باتوں کو پیش کرنا ان کے چند غلط کاموں میں سے ایک ہے اور ان کی یہی غلطیاں ہیں جنہوں نے بعد کے بہت سے کم ظرفوں کو طرح طرح کے دعوے کرنے اور امت میں نت نئے فتنے اٹھانے کی جرات دلائی۔ کوئی شخص اگر تجدید دین کے لیے کسی قسم کی خدمت انجام دینے کی توفیق پا تا ہو تو اسے چاہیے کہ خدمت انجام دے اور یہ فیصلہ اللہ پر چھوڑے کہ اس کا کیا مقام اس کے ہاں قرار پاتا ہے۔ آدمی کا اصل مقام وہ ہے جو آخرت میں اس کی نیت و عمل کو دیکھ کر اور اپنے فضل سے اس کو قبول کر کے اللہ تعالیٰ اسے دئے نہ کہ وہ جس کا وہ خود دعوی کرے یا لوگ اسے دیں۔ اپنے لیے خود القاب و خطابات تجویز کرنا اور دعووں کےساتھ انہیں بیان کرنا اور اپنے مقامات کا ذکر زبان پر لانا کوئی اچھا کام نہیں ہے۔ بعد کے ادوار میں تو صوفیانہ ذوق نے اسے اتنا گوارا کیا کہ خوشگوار بنا دیا، حتی کہ بڑے بڑے لوگوں کو بھی اس فعل میں کوئی قباحت محسوس نہ ہوئی مگر صحابہ کرام اور تابعین و تبع تابعین وائمہ مجتہدین کے دور میں یہ چیز بالکل ناپید نظر آتی ہے۔ میں شاہ صاحب اور مجد دصاحب کے کام کی بے حد قدر کرتا ہوں اور میرے دل میں ان کی عزت ان کے کسی معتقد سے کم نہیں ہے۔ مگر ان کے جن کاموں پر مجھے بھی شرح صدر حاصل نہیں ہوا ان میں سے ایک یہ ہے۔ اور حقیقت یہ ہے کہ میں نے ان کی کسی بات کو بھی اس بناء پر کبھی نہیں مانا کہ وہ اسے کشف یا الہام کی بنا پر فرمارہے ہیں، بلکہ جو بات بھی مانی ہے اس وجہ سے مانی ہے کہ اس کی دلیل مضبوط ہے یابات بجائے خود معقول و منقول کے لحاظ سے درست معلوم ہوتی ہے۔ اسی طرح میں نے جوان کو مجددمانا ہے تو یہ ایک رائے ہے جو ان کا کام دیکھ کر میں نے خود قائم کی ہے نہ کہ ایک عقیدہ ہے جو ان کے دعوؤں کی بناء پر اختیار کرلیا گیا ہے۔
سوال: ” میں نے پورے اخلاص و دیانت کےساتھ آپ کی دعوت کا مطالعہ کیا ہے۔باوجود سلفی المشرب ہونے کے آپ کی تحریک اسلامی کا اپنےآپ کو اوئی خادم اور ہمدرد تصور کرتا ہوں اور اپنی بساط بھر اسےپھیلانےکی جدو جہد کرتا ہوں۔حال میں چند چیزیں تصوف اور تصور شیخ سےمتعلق نظر سے گزریں جنہیں پڑھ کر میرے دل و دماغ میں چند شکوک پیدا ہوئے ہیں۔آپ عجمی بدعات کو مباح قرار دےرہے ہیں،حالانکہ اب تک کا سارالٹر پچر ان کے خلاف زبردست احتجاج رہا ہے جب کہ ہماری دعوت کا محور ہی فریضہ اقامت دین ہے تو اگر ہم نے خدانخواستہ کسی بدعت کو انگیز کیا تو اس کے معنی یہ ہوں گے کہ ساری بدعات کو تحریک میں تھس آنے کا موقع دے دیا گیا۔ آپ براہ کرم میری ان معروضات پر غور کر کے بتائیے کہ کتاب وسنت کی روشنی میں تصوف اور تصور شیخ کے متعلق آپ کے کیا خیالات ہیں اور فی نفسہ یہ مسلک کیا ہے۔ امید ہے کہ ترجمان میں پوری وضاحت کر کے ممنون فرمائیں گے-
جواب: آپ کو میرے کسی ایک فقرے سے جو شبہات لاحق ہو گئے ہیں وہ کبھی پیدا نہ ہوتے اگر اس مسئلے کے متعلق میرے دوسرےواضح بیانات آپ کی نگاہ میں ہوتے بهرحال اب میں واضع الفاظ میں آپ کے سوالات کا مختصر جواب عرض کیے دیتا ہوں۔
(۱) تصوف کسی ایک چیز کا نام نہیں ہے، بلکہ بہت سی مختلف چیز میں اس نام سے موسوم ہوگئی ہیں۔ جس تصوف کی ہم تصدیق کرتے ہیں وہ اور چیز ہے،جس تصوف کی ہم تردید کرتےہیں وہ ایک دوسری چیز ہےاور جس تصوف کی ہم اصلاح چاہتے ہیں وہ ایک تیسری چیز ہے۔
ایک تصوف وہ ہے جو اسلام کے ابتدائی دور کے صوفیہ میں پایا جاتا تھا۔ مثلاً فضیل بنعیاض، ابراہیم ادھم معروف کرخی و غیر ہم رحمہم اللہ اس کا کوئی الگ فلسفہ نہ تھا، اس کا کوئی الگ طریقہ نہ تھا، وہی افکار اور وہی اشغال و اعمال تھے جو کتاب وسنت سے ماخوذ تھے اور ان سب کا وہی مقصود تھا جو اسلام کا مقصود ہے یعنی اخلاص اللہ اور توجہ الی الله وَمَا أُمِرُوا إِلَّا لِيَعْبُدُوا اللَّهَ مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ حُنَفَاء ۔ اس تصوف کی ہم تصدیق کرتے ہیں اور صرف تصدیق ہی نہیں کرتے بلکہ اس کو زندہ اور شائع کرنا چاہتے ہیں۔
دوسرا تصوف وہ ہے جس میں اشراقی اور رواقی اور زرتشتی اور ویدانتی فلسفوں کی آمیزش ہو گئی ہے، جس میں عیسائی راہبوں اور ہندو جوگیوں کے طریقےشامل ہو گئے ہیں، جس میں مشرکانہ تخیلات و اعمال تک خلط ملط ہو گئےہیں۔جس میں شریعت اور طریقت اور معرفت الگ الگ چیزیں ایک دوسرےسے کم و بیش بے تعلق، بلکہ بسا اوقات باہم متضاد ... بن گئی ہیں اور جس میں انسان کو خلیفۃ اللہ فی الارض کے فرائض کی انجام دہی کے لیے تیار کرنے کے بجائے اس سے بالکل مختلف دوسرے ہی کاموں کے لئے تیار کیا جاتا ہے اس کو مٹانا خدا کے دین کو قائم کرنے کے لیے اتنا ہی ضروری ہے جتنا جاہلیت جدیدہ کو مٹانا۔
ان دونوں کےعلاوہ ایک اور تصوف بھی ہےجس میں کچھ خصوصیات پہلی قسم کےتصوف کی اور کچھ خصوصیات دوسری قسم کےتصوف کی ملی جلی پائی جاتی ہیں۔اس تصوف کےطریقوں کو متعدد ایسے بزرگوں نےمرتب کیا ہےجو صاحب علم تھےنیک نیت تھے مگر اپنےدور کی خصوصیات اور پچھلےادوار کے اثرات سے بالکل محفوظ بھی نہ تھے۔ انہوں نے اسلام کےاصلی تصوف کو سمجھنے اور اس کے طریقوں کو جاہلی تصوف کی آلودگیوں سے پاک کرنےکی پوری کوشش کی لیکن اس کے باجود ان کے نظریات میں کچھ نہ کچھ اثرات جاہلی فلسفه تصوف کئے اور ان کےاعمال واشغال میں کچھ نہ کچھ اثرات باہر سے لیے ہوئے اعمال و اشغال کے باقی رہ گئے جن کےبارے میں ان کو یہ اشتباہ پیش آیا کہ یہ چیزیں کتاب وسنت کی تعلیم سے متصادم نہیں ہیں یا کم از کم تاویل سے انہیں غیر متصادم سمجھا جا سکتا ہے۔ علاوہ بریں اس تصوف کے مقاصد اور نتائج بھی اسلام کے مقصد اور اس کے مطلوبہ نتائج سے کم و بیش مختلف ہیں ۔ نہ اس کا مقصد واضح طور پر انسان کو فرائض خلافت کی ادائیگی کے لیے تیار کرنا اور وہ چیز بنانا ہے جسے قرآن نے لِتَكُونُوا شُهَدَاءَ عَلَى النَّاسِ کے الفاظ میں بیان کیا ہے اور نہ ان کا نتیجہ ہی یہ ہو سکا ہے کہ اس کے ذریعہ سے ایسےآدمی تیار ہوتے جو دین کے پورے تصور کو سمجھتے اور اس کی اقامت کی فکر انہیں لاحق ہوتی اور وہ اس کام کو انجام دینے کے اہل بھی ہوتے۔ اس تیسری قسم کے تصوف کی نہ ہم کلی تصدیق کرتے ہیں اور نہ کی تردید ۔ بلکہ اس کے پیروؤں اور حامیوں سے ہماری گذارش یہ ہے کہ براہ کرم بڑی بڑی شخصیتوں کی عقیدت کو اپنی جگہ رکھتے ہوئے آپ اس تصوف پر کتاب وسنت کی روشنی میں تنقیدی نگاہ ڈالیں اور اسے درست کرنے کی کوشش کریں نیز جو شخص اس تصوف کی کسی چیز سے اس بناء پر اختلاف کرے کہ وہ اسے کتاب وسنت کے خلاف پاتا ہے تو قطع نظر اس سے کہ آپ اس کی رائےسے موافقت کریں یا مخالفت، بہر حال اس کے حق تنقید کا انکار نہ فرمائیں اور اسے خواہ مخواہ نشانہ ملامت نہ بنانے لگیں۔
پہلی حیثیت میں اس فعل کے صرف جائز یا نا جائز ہونے کا سوال پیدا ہوتا ہے، اور اس کے فیصلے کا انحصار اس پر ہے کہ آدمی کس نیت سے یہ فعل کرتا ہے؟ ایک نیت ایسی ہے جس کا لحاظ کرتے ہوئے اسے حرام کہنے کے سوا چارہ نہیں ہے۔ دوسری نسیت ایسی ہے جس کا لحاظ کرتےہوئے یہ مشکل ہے کہ کوئی فقیہ اسے ناجائز کہہ سکے۔ اس کی مثال ایسی ہے جیسے میں کسی شخص کو کسی اجنبیہ کے حسن کا نظارہ کرتے ہوئے دیکھوں اور اس حرکت کی غرض دریافت کرنے پر وہ مجھےبتائے کہ میں اپنے ذوق جمال کو تسکین دے رہا ہوں۔ ظاہر ہے کہ مجھے کہنا پڑے گا کہ تو یقینا ایک نا جائز کام کر رہا ہے۔ دوسرے کو یہی حرکت کرتے دیکھوں اور میرے پوچھنے پر وہ مجھے جواب دے کہ میں اس سے نکاح کرنا چاہتا ہوں۔اس صورت میں مجھے مجبور آیہ کہنا پڑے گا کہ تیرا یہ فعل نا جائز نہیں ہے اس لیے کہ وہ اپنے فعل کی ایک ایسی وجہ بیان کر رہا ہے جسے شرعاً میں غلط نہیں کہہ سکتا۔
اب رہی اس تصور شیخ کی دوسری حیثیت تو مجھے اس امر میں نہ کبھی شک رہا ہے اور نہ آج تک شک ہے کہ اس حیثیت سےیہ فعل قطعی غلط ہےخواہ اس کی نسبت کیسے ہی بڑے لوگوں کی طرف کی گئی ہو۔ میں کہتا ہوں کہ اللہ سےتعلق پیدا کرنےاور بڑھانے کےذرائع بتانےمیں خود اللہ اور اس کےرسول نے ہرگز کوئی کوتاہی نہیں کی ہے۔ پھر کیوں ہم ان کے بتائے ہوئے ذرائع پر قناعت نہ کریں اور ایسے ذرائع ایجاد کرنے لگیں جو بجائے خود بھی مخدوش ہوں اور جن کے اندر ذراسی بے احتیاطی آدمی کو قطعی اور صریح ضلالتوں کی طرف لے جاسکتی ہو؟
اس معاملہ میں یہ بحث پیدا کرنا اصولاً غلط ہے کہ جب دوسرے تمام معاملات میں ہم مقاصد شریعت کو حاصل کرنے کے لیے وہ ذرائع اختیار کرنے کے مجاز ہیں جو مباحات کے قبیل سے ہوں، تو آخرتز کیہ نفس اور تقرب الی اللہ کے معاملہ میں ہم کیوں انہیں اختیار کرنے کے مجاز نہ ہوں؟ یہ استدلال اصولاً اس لیے غلط ہے کہ دین کے دو شعبے ایک دوسرے سے الگ نوعیت رکھتےہیں۔ ایک شعبہ تعلق باللہ کا ہے اور دوسرا شعبہ تعلق بالناس اور تعلق بالڈ نیا گا ۔ پہلے شعبے کا اصول یہ ہے کہ اس میں ہم کو انہی عبادات اور انہی طریقوں پر انحصار کرنا چاہیے جو اللہ اور اس کے رسول نےبتا دیئے ہیں، ان میں کوئی کمی کرنے یا ان پر کسی نئی چیز کا اضافہ کرنے کا ہمیں حق نہیں ہے۔ کیونکہ اللہ کی معرفت اور اس کے ساتھ تعلق جوڑنے کے ذرائع کی معرفت کا ہمارے پاس کوئی ذریعہ کتاب اللہ وسنت رسول اللہ کے سوا نہیں ہے۔ اس معاملہ میں جو کمی یا بیشی بھی کی جائے گی وہ بدعت ہوگی اور ہر بدعت ضلالت ہے۔ یہاں یہ اصول نہیں چل سکتا کہ جو کچھ ممنوع نہیں ہے وہ مباح ہے۔ بلکہ اس کے برعکس یہاں اصول یہ ہے کہ جو کچھ منصوص نہیں ہے وہ بدعت ہے۔ یہاں اگر قیاس سے بھی کوئی مسئلہ نکالا جائے گا تو لازماً اس کا کوئی مبنی کتاب وسنت میں موجود ہونا چاہیے۔ بخلاف اس کے تعلق بالناس اور تعلق بالد نیا کے شعبے میں مباحات کا باب کھلا ہوا ہے۔ جو حکم دے دیا گیا ہے اس حکم کی اطاعت کیجئے، جو کچھ منع کیا گیا ہے اس سے رک جائیے، اور جس معاملہ میں حکم نہیں دیا گیا ہے اس میں اگر کسی ملتے جلتے معاملے پر کوئی حکم ملتا ہو تو اس پر قیاس کر لیجئے یا قیاس کا بھی موقع نہ ہو تو اسلام کے اصول عامہ کے تحت مباحات میں سے جس چیز اور جس طریقے کو نظام اور اسلامی کے مزاج سے مطابق پائیے اسے قبول کر لیجئے ۔ اس شعبے میں یہ آزادی ہمیں اس لیے دی گئی ہے کہ دنیا اور انسان اور دنیوی معاملات کے متعلق مصلحت کو جاننے کے عقلی اور علمی ذرائع کم از کم اس حد تک ہمیں ضرور حاصل ہیں کہ کتاب اللہ وسنت رسول اللہ کی رہنمائی سے مستفید ہونے کے بعد ہم خیر کو شر سے اور صحیح کو غلط سےممیز کر سکتے ہیں ۔ پس یہ آزادی صرف اس شعبے تک محدود رہنی چاہیے۔ اسے پہلے شعبے تک وسیع کر کے اور جو کچھ ممنوع نہیں ہے، اسےمبارح سمجھ کر، تعلق باللہ کے معاملے میں نئے نئے طریقے نکالنا یا دوسروں سے اخذ کر کے اختیار کر لینا بنیادی طور پر غلط ہے۔ اسی غلطی میں مبتلا ہو کر نصاری نے رہبانیت ایجاد کر لی تھی جس کی قرآن میں مذمت کی گئی۔
سوال: آپ پر یہ الزام عائد کیا جاتا ہے کہ آپ دراصل خود مجدد یا مہدی ہونے کے مدعی ہیں یا در پردہ اپنے آپ کو مجدد یا مہدی یا تسلیم کرانے کے لیے کوشاں ہیں۔ اس الزام کی حقیقت کیا ہے؟
جواب: اس الزام کا جواب متعدد مرتبہ ترجمان القرآن میں دیا جا چکا ہے، اس لیے اب کوئی نیا جواب دینے کے بجائے میں اپنے سابق جوابات ہی کو نقل کیے دیتا ہوں۔
سب سے پہلے ۱۹۴۱ء میں جناب مولانا مناظر احسن صاحب گیلانی نے از راہ عنایت دبی زبان سے میرے متعلق اس شبہ کا اظہار فرمایا تھا۔ اس پر میں نے اپنے مضمون ” رفع شبہات میں عرض کیا:
"آپ کو میرے جرات آمیز الفاظ سے شاید یہ گمان گزرا ہو گا کہ میں اپنے آپ کو بڑی چیز سمجھتا ہوں اور کسی بڑے مرتے کی توقع رکھتا ہوں۔ حالانکہ میں جو کچھ کررہا ہوں صرف اپنے گناہوں کی تلافی کے لیے کر رہا ہوں اور اپنی حقیقت خوب جانتا ہوں۔ بڑے مراتب تو در کنار اگر صرف سزا سے بچ جاؤں تو بھی میری امیدوں سے بہت زیادہ ہے۔“ ( ترجمان القرآن - ستمبر اکتوبر ونومبر ۶۵۱)
اس کے بعد اسی زمانہ میں جناب مولانا سید سلیمان ندوی نے میری ایک عبارت کو توڑ کروڑ کر اس سے یہ معنی نکالے کہ میں مجدد ہونے کا مدعی ہوں، حالانکہ میں نے اس عبارت میں اپنی حقیر کوششوں کو تجدید دین کی مساعی میں سے ایک سعی قرار دیا تھا۔ ان کے اس صریح الزام کےجواب میں میں نے عرض کیا تھا:
"کسی کام کو تجدیدی کام کہنےسےیہ لازم نہیں آتا کہ جو تجدیدی کام کرےوہ مجدد کےلقب سےبھی ملقب ہو صدی کا مجدد ہونا تو اس سےبلند تر بات ہےاینٹیں چن کر دیوار بنانا بہر حال ایک تعمیری کام ہے،مگر کیا یہ لازم ہےکہ جو چند اینٹیں چن دےوہ انجینئر بھی کہلائے اور پھر انجینئر بھی معمولی نہیں بلکہ اپنی صدی کا انجینئر ؟ اسی طرح کسی کا اپنےکام کو تجدیدی کام یا تجدیدی کوشش کہنا جبکہ فی الواقع وہ تجدید دین حق ہی کی غرض سےیہ کام کر رہا ہو،محض ایک امر واقعہ کا اظہار ہےاور اس کےیہ معنی نہیں ہیں کہ وہ مجدد ہونےکا دعویٰ کر رہا ہےاور اس صدی کا مجدد بننا چاہتا ہےکم ظرف لوگ بیٹک تھوڑا سا کام کر کےاونچےاونچے دعوے کرنے لگتے ہیں بلکہ کام کا ارادہ ہی دعوے کی شکل میں کرتے ہیں۔ لیکن کسی ذی فہم آدمی سے یہ توقع نہیں کی جاسکتی کہ وہ کام کرنےکےبجائےدعوےکرے گا۔ تجدید دین کا کام ہندوستان میں اور دنیا کے دوسرے حصوں میں بہت سے لوگ کر رہے ہیں۔ خود مولانا ( حضرت معترض) کو بھی ہم انہی میں شمار کرتے ہیں۔ میں نے بھی اپنی حد استطاعت تک اس خدمت میں حصہ لینےکی سعی کی ہےاور اب ہم چند خدام دین ایک جماعت کی صورت میں اس کےلیے کوشش کرنا چاہتے ہیں۔ اللہ جس کے کام میں بھی اتنی برکت دے کہ واقعی اس کے ہاتھوں دین حق کی تجدید ہو جائے وہ در حقیقت مجدد ہو گا۔اصل چیز نہ آدمی کا اپنا دعوی ہے نہ دنیا کا کسی کو مجدد کے لقب سے یاد کرنا۔ بلکہ اصل چیز آدمی کا ایسی خدمت کر کے اپنے مالک کے حضور پہنچنا ہےکہ وہاں اسے مجدد کا مرتبہ حاصل ہو۔ میں مولانا کےحق میں اس چیز کی دعا کرتا ہوں اور بہتر ہو کہ وہ بھی ”عنقار ابلند است آشیانہ کہنے کے بجائے دوسروں کے حق میں دعا فرمائیں کہ اللہ ان سے اپنے دین کی ایسی خدمت لےلے۔مجھے یہ دیکھ کر تعجب ہوتا ہےکہ بعض اسلامی الفاظ کو خواہ مخواہ ہوا بنا کر رکھ دیا گیا ہےدنیا میں کوئی رومی عظمت کی اتجدید کا داعیہ لے کر اٹھتا ہے۔ اور رومیت کے پرستار اس کو مرحبا کہتےہیں، کوئی ویدک تہذیب کی تجدید کا عزم لےکر اٹھتا ہے اور ہندویت کے پرستاراس کی پیٹھ ٹھونکتے ہیں۔ کوئی یونانی آرٹ کی تجدید کے ارادہ سےاٹھتا ہےاور آرٹ کے پرستار اس کی ہمت افزائی کرتےہیں۔ کیا ان سب تجدیدوں کے درمیان صرف ایک اللہ کے دین کی تجدید ہی ایسا جرم ہے کہ اس کا نام لیتے ہوئے آدمی شرمائے اور اگر اس کا خیال ظاہر کر دے تو اللہ کے پرستار اس کے پیچھے تالی پیٹ دیں؟ (ترجمان القرآن۔ دسمبر ۴۱ ، وجنوری و فروری ۶۴۲)
ان تصریحات کے بعد بھی ہمارے بزرگانِ دین اپنے پرو پیگنڈے سے باز نہ آئے کیونکہ میرے خلاف مسلمانوں کو بھڑکانے کے لیے من جملہ اور ہتھکنڈوں کے ایک یہ ہتھکنڈا بھی ضروری تھا کہ مجھ پر کسی دعوے کا الزام چسپاں کیا جائے۔ چنانچہ ۴۵ ، اور ۴۶ء میں مسلسل یہ شبہ پھیلایا جاتا رہا کہ یہ شخص مہدویت کا دعویٰ کرنے والا ہے۔ اس پر میں نے جون ۴۶ ء کے ترجمان القرآن میں لکھا:
"جو حضرات اس قسم کے شبہات کا اظہار کر کے بندگانِ خدا کو جماعت اسلامی کی دعوت حق سے روکنے کی کوشش فرما رہے ہیں، میں نے ان کو ایک ایسی خطرناک سزا دینے کا فیصلہ کر لیا ہے جس سے وہ کسی طرح رہائی حاصل نہ کر سکیں گے۔ اور وہ سزا یہ ہے کہ انشاء اللہ میں ہر قسم کے دعوؤں سے اپنا دامن بچاتے ہوئے اپنے خدا کی خدمت میں حاضر ہوں گا اور پھر دیکھوں گا کہ یہ حضرات خدا کے سامنے اپنے ان شبہات کی اور ان کو بیان کر کر کے لوگوں کو حق سے روکنے کی کیا صفائی پیش کرتے ہیں۔“
اگر ان لوگوں کے دلوں میں خدا کا کچھ خوف اور آخرت کا کوئی یقین موجود ہوتا تو ممکن نہ تھا کہ میرے اس جواب کے بعد پھر بھی ان کی زبان پر یہ الزام آتا۔ لیکن آپ دیکھ رہے ہیں کہ آج کس جرات کے ساتھ اسے از سر نو پھیلایا جارہا ہے اور ترجمان القرآن کی قریبی اشاعتوں میں اس کے متعلق جو کچھ لکھ چکا ہوں اسے دیکھ لینے کے باوجود ان میں سے کسی کی زبان میں لکنت تک نہیں آتی۔ آخرت کا فیصلہ تو اللہ کے ہاتھ میں ہے مگر مجھے بتائیے کیا دنیا میں ایسی ہی حرکتوں سےعلماء کا وقار قائم ہونے کی توقع ہے؟
لطف یہ ہے کہ میری کتاب " تجدید و احیائے دین جس کی بعض عبارتوں پر ان شبہات کی بناء رکھی گئی ہے اور جس کے اقتباسات طرح طرح کی رنگ آمیزیوں کے ساتھ پیش کر کر کے لوگوں کو بہکایا جا رہا ہے اسی میں میرے یہ الفاظ موجود ہیں:
" نبی کے سوا کسی کا یہ منصب نہیں ہے کہ دعوے سے کام کا آغاز کرئے اور نہ نبی کےسوا کسی کو یقینی طور پر یہ معلوم ہوتا ہے کہ وہ کس خدمت پر مامور ہوا ہے۔مہدویت دعوی کرنے کی چیز نہیں ہے بلکہ کر کے دکھا جانے کی چیز ہے۔ اس قسم کے دعوے جو لوگ کرتے ہیں اور جو ان پر ایمان لاتے ہیں، میرے نزدیک دونوں ہی اپنے علم کی کمی اور اپنے ذہن کی پستی کا ثبوت دیتے ہیں۔“
آج جو لوگ میری اس کتاب کے اقتباسات پیش کر رہے ہیں ان سے پوچھیے کہ ان کو یہ عبارت نظر نہیں آئی یا انہوں نے دانستہ اسے چھپایا ہے؟
سوال: "ظہور مہدی کے متعلق آپ نے رسالہ تجدید و احیائے دین میں جو کچھ لکھا ہے اس میں اختلاف کا پہلو یہ ہے کہ آپ مہدی موعود کے لیے کوئی امتیازی و اختصاصی علامات تسلیم نہیں کرتے حالانکہ احادیث میں واضح طور پر علامات مہدی کا تذکرہ موجود ہے۔ آخر اس سلسلہ روایات سے چشم پوشی کیسے کی جاسکتی ہے؟
جواب: ظہور مہدی کے متعلق جو روایات ہیں، ان کے متعلق ناقدین حدیث نے اس قدر سخت تنقید کی ہے کہ ایک گروہ سرے سےاس بات کا قائل ہی نہیں رہا ہےکہ امام مہدی کا ظہور ہوگا۔ اسماء الرجال کی تنقید سے بھی معلوم ہوتا ہےکہ ان احادیث کےاکثر رواۃ شیعہ ہیں۔ تاریخ سےبھی یہ معلوم ہوتا ہے کہ ہر گروہ نے سیاسی و مذہبی اغراض کے لیے ان احادیث کو استعمال کیا ہے اور اپنے کسی آدمی پر ان کی مندرجہ علامات کو چسپاں کرنےکی کوشش کی ہے۔ ان وجوہ سے میں اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ نفس ظہور مہدی کی خبر کی حد تک تو یہ روایات صحیح ہیں لیکن تفصیلی علامات کا بیشتر بیان غالباً وضعی ہے اور اہلِ غرض نے شاید بعد میں ان چیزوں کو اصل ارشاد نبوی پر اضافہ کیا ہےمختلف زمانوں میں جن لوگوں نے مہدی موعود ہونےکے جھوٹے دعوے کیے ہیں، ان کے لٹریچر میں بھی آپ دیکھیں گے کہ ان کی ساری فتنہ پردازی کے لیے مواد انہی روایات نے ہم پہنچایا ہے۔
میں نے جہاں تک نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشین گوئیوں پر غور کیا ہے ان کا انداز یہ نہیں ہوتا کہ کسی آنے والی چیز کی علامات و تفصیلات اس طریقے سے کبھی آپ نے بیان کی ہوں جس طرح ظہور مہدی کی احادیث میں پائی جاتی ہیں۔ آپ بڑی بڑی اصولی علامات تو ضرور بیان فرما دیا کرتے تھے لیکن جزئی تفصیلات بیان کرنا آپ کا طریقہ نہ تھا۔
سوال: ضرورت بعثت مہدی کو تجدید و احیائے دین میں تسلیم تو کر لیا گیا ہےلیکن مہدی کا کیا کام ہوگا اس مسئلہ کو علی تائید کے بغیر محض اپنےلفظوں میں بیان کرنےکی کوشش کی گئی ہے۔احادیث شریفہ کی روشنی میں اس بیان کی تفصیل کی جائے تو مناسب ہےنیز مہدی موعود کے مراتب و خصوصیات اور ضرورت اطاعت مہدی وغیرہ پر کوئی بحث نہیں کی گئی ہےبلکہ عام مجددین میں شمار کر لیا گیا ہےاگرچہ مجدد کامل اور مجہود ناقص کی تقسیم سےیہ معلوم ہو سکتا ہےکہ غالبا یہاں مجدد کا لفظ بر بنائےلغت استعمال ہوا ہے اصطلاحا نہیں۔ تاہم جبکہ مجد دمعصوم عن الخطا نہیں ہوتا اور مہدی موعود کو معصوم عن الخطا ہونا ضروری ہے تو پھر اس بین فرق کے ہوتے ہوئے مہدی موعود کو مجدد کی فہرست میں کیسے شمار کیا جا سکتا ہے؟
جواب: اول تو خود لفظ ” مہدی“ پر غور کرنا چاہیے جو حدیث میں استعمال کیا گیا ہے۔حضور نے مہدی کا لفظ استعمال فرمایا ہے، جس کے معنی ہیں ہدایت یافتہ کے۔ ہادی“ کا لفظ استعمال نہیں کیا ہے۔ مہدی ہر وہ سردار لیڈر اور امیر ہو سکتا ہےجو راہِ راست پر ہو۔ ”المہدی“ زیادہ سے زیادہ خصوصیت کے لیے استعمال ہوگا جس سے آنےوالےکی کسی خاص امتیازی شان کا اظہار مقصود ہےاور وہ امتیازی شان حدیث میں اس طرح بیان کر دی گئی ہےکہ آنے والا خلافت على منهاج النبوۃ کا نظام درہم برہم ہو جانے اور ظلم وجور سے زمین کے بھر جانے کے بعد از سرنو خلافت کو منہاج نبوت پر قائم کرے گا اور زمین کو عدل سے بھر دے گا۔ بس یہی چیز ہے جس کی وجہ سے اس کو مختص و ممتاز کرنے کے لیے ” مہدی پر الف ل‘ داخل کیا گیا ہے۔ لیکن یہ سمجھنا بالکل غلط ہے کہ مہدی کے نام سے دین میں کوئی خاص منصب قائم کیا گیا ہے جس پر ایمان لانا اور جس کی معرفت حاصل کرنا ویسا ہی ضروری ہے جیسا انبیاء پر ایمان لانا'
اور اس کی اطاعت بھی شرط نجات اور شرط اسلام و ایمان ہو۔ نیز اس خیال کے لیے بھی حدیث میں کوئی دلیل نہیں ہے کہ مہدی کوئی امام معصوم ہوگا۔ دراصل یہ معصومیت غیر انبیاء کا تخیل ایک خالص شیعی تخیل ہے جس کی کوئی سند کتاب وسنت میں موجود نہیں ہے۔
یہ اچھی طرح سمجھ لینا چاہیے کہ جن چیزوں پر کفر و ایمان کا مدار ہے اور جن امور پر انسان کی نجات موقوف ہے انہیں بیان کرنے کا اللہ تعالیٰ نے خود ذمہ لیا ہے۔ وہ سب قرآن میں بیان کی گئی ہیں۔ اور قرآن میں بھی ان کو کوئی اشارۃ وکنایہ بیان نہیں کیا گیا ہے بلکہ پوری صراحت اور وضاحت کے ساتھ ان کو کھول دیا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ خود فرماتا ہے کہ إِنَّ عَلَيْـنَــا للهدى - لہذا جو مسئلہ بھی دین میں یہ نوعیت رکھتا ہو اس کا ثبوت لا ز ما قرآن ہی سے ملنا چاہیے۔مجرد حدیث پر ایسی کسی چیز کی بنا نہیں رکھی جاسکتی جسے مدار کفر و ایمان قرار دیا جائے ۔ احادیث چند انسانوں سے چند انسانوں تک پہنچتی ہوئی آئی ہیں جن سے حد سے حدا گر کوئی چیز حاصل ہوتی ہے تو وہ گمان صحت ہے نہ کہ علم یقین ۔ اور ظاہر ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو اس خطرے میں ڈالنا ہرگز پسند نہیں کر سکتا کہ جو امور اس کے دین میں اتنے اہم ہوں کہ ان سے کفر و ایمان کا فرق واقع ہوتا ہو انہیں صرف چند آدمیوں کی روایت پر منحصر کر دیا جائے۔ ایسے امور کی تو نوعیت ہی اس امر کی متقاضی ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کو صاف صاف اپنی کتاب میں بیان فرماتے اللہ کا رسول انہیں اپنےپیغمبرانہ مشن کا اصل کام سمجھتےہوئےان کی تبلیغ عام کرے اور وہ بالکل غیر مشتبہ طریقےسےہر ہر مسلمان تک پہنچا دیئےگئے ہوں۔
اب ” مہدی“ کے متعلق خواہ کتنی ہی کھینچ تان کی جائے بہر حال ہر شخص دیکھ سکتا ہے کہ اسلام میں اس کی حیثیت یہ نہیں ہے کہ اس کے جاننے اور ماننے پر کسی کے مسلمان ہونے اور نجات پانے کا انحصار ہو۔ یہ حیثیت اگر اس کی ہوتی تو قرآن میں پوری صراحت کے ساتھ اس کا ذکر کیا جاتا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم بھی دو چار آدمیوں سے اس کو بیان کر دینے پر اکتفانہ فرماتے بلکہ پوری امت تک اسے پہنچانے کی سعی بلیغ فرماتے اور اس کی تبلیغ میں آپ کی سعی کا عالم وہی ہوتا جو ہمیں تو حید اور آخرت کی تبلیغ کے معاملے میں نظر آتا ہے۔ درحقیقت جو شخص علوم دینی میں کچھ بھی نظر اور بصیرت رکھتا ہو وہ ایک لمحہ کے لیے بھی یہ باور نہیں کر سکتا کہ جس مسئلہ کی دین میں اتنی بڑی اہمیت ہوا سے محض اخبار آحاد پر چھوڑا جا سکتا تھا، اور اخبار آحاد بھی اس درجہ کی کہ امام مالک اور امام بخاری اور امام مسلم جیسے محدثین نے اپنے حدیث کے مجموعوں میں سرے سے ان کو لیتا ہی پسند نہ کیا ہو۔ ( ترجمان القرآن، ربیع الاول جمادی الآخر ۶۴ ھ مارچ جون ۶۴۵)
سوال:چند حضرات نے جو نہایت دیندار و مخلص ہیں، تجدید و احیائے دین کی ان سطور کے متعلق جو آپ نے امام مہدی کے متعلق تحریر فرمائی ہیں، احادیث کی روشنی میں اعتراضات پیش فرمائے ہیں، جنہیں آپ کے سامنے پیش کر رہا ہوں۔ یہ میں اس احساس کے ساتھ لکھ رہا ہوں کہ دعوتِ اقامت دین کے پورے کام میں شریعت کی پابندی ضروری ہے، پس لازم ہے کہ ہر وہ چیز جو آپ کے قلم سے نکلئےعین شریعت کے مطابق ہو اور اگر کبھی کوئی غلط رائے تحریر میں آئے تو اس سے رجوع کرنے میں کوئی تامل نہ ہونے پائے۔
امام مہدی کے متعلق جو سطور آپ نے ص ۳۱ تا ۳۳ ب تحریر فرمائی ہیں وہ ہمارے فہم کے مطابق احادیث کے خلاف ہیں۔ اس سلسلہ میں، میں نے ترمذی اور ابو داؤد کی تمام روایات کا مطالعہ کیا ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ بعض روایات کے راوی ضرور خارجی یا شیعہ ہیں، لیکن ابو داؤد و ترمذی وغیرہ کے ہاں ایسی احادیث بھی موجود ہیں جن کے راوی ثقہ اور صدوق ہیں اور وہ آپ کی رائے کی تصدیق نہیں بلکہ تردید کرتی ہیں۔ مثلاً ابو داؤد کی روایت ملاحظہ ہو:
اس روایت سے لیکر اخیر روایت تک ملاحظہ ہو تمام راوی ثقہ ہیں۔ نیز بیہقی کی بھی ایک روایت مشکوۃ کی کتاب الفتن میں تحریر ہے۔
مندرجہ بالا احادیث سے آپ کے اس بیان کی تردید ہوتی ہے کہ المہدی کو اپنےمہدی موعود ہونے کی خبر نہ ہوگی۔ خصوصاًیہ الفاظ ملاحظہ ہوں۔
(۲) جناب نے فرمایا ہے کہ مہدی موعود جدید ترین طرز کا لیڈر ہوگا.... وغیرہ ! آپ کے ان الفاظ کی کوئی سند احادیث میں نہیں ہے۔ اگر ہو تو تحریر فرما ئیں۔ جو لوگ آپ کے برعکس خیالات رکھتے ہیں ان کی واقعاتی دلیل یہ ہے کہ اب تک جتنے مجددین امت گزرے ہیں وہ عموماً صوفیائے کرام کے طبقہ میں ہوئے ہیں۔
(۳) جناب کی ان سطور سے کہ وہ جدید ترین طرز کا لیڈر ہو گا یہ شبہ کیا جا رہا ہے کہ آپ خود امام مہدی ہونے کا دعوی کریں گے۔
(۴) کتاب " علامات قیامت" (مولفہ مولانا شاہ رفیع الدین صاحب و مترجمه مولوی نورمحمد صاحب) میں امام مہدی کے متعلق مسلم و بخاری کے حوالہ سے چند روایات درج ہیں، لیکن تحقیق کرنے پر مسلم و بخاری میں مجھے اس قسم کی کوئی حدیث نہ مل سکی۔ اسی کتاب میں ایک روایت یہ بھی درج ہے کہ بیعت مہدی کے وقت آسمان سے یہ ندا آئے گی کہ هـذا خليفة الله المهدى فاستمعوا له واطیعوا۔ اس روایت کے متعلق آپ کی تحقیق کیا ہے؟
جواب: (۱) امام مہدی کےمتعلق جو احادیث مختلف کتب حدیث میں مروی ہیں ان کےمتعلق میں اپنی تحقیق کا خلاصہ اس سےپہلےعرض کر چکا ہوں۔جو لوگ امام مہدی کے متعلق کسی روایت کو ماننےکے لیے اتنی بات کو کافی سمجھتےہیں کہ وہ حدیث کی کسی کتاب میں درج ہےیا تحقیق کا حق ادا کرنےکےلیےصرف اس مرحلہ تک پہنچ سکتےہیں کہ راویوں کےمتعلق یہ معلوم کر لیں کہ وہ ثقہ ہیں یا نہیں،ان کے لیے یہ درست ہے کہ اپنا وہی عقیدہ رکھیں جو انہوں نےروایات میں پایا۔ ہے۔لیکن جو لوگ ان روایات کو جمع کر کے ان کا باہمی مقابلہ کرتےہیں اور ان میں بکثرت تعارضات پائےہیں،نیز جن کےسامنےبنی فاطمہ اور بنی عباس اور بنی امیہ کی کشمکش کی پوری تاریخ ہےاور وہ صحیح طور پر دیکھتےہیں کہ اس کشمکش کے فریقوں میں سےہر ایک کے حق میں متعدد روایات موجود ہیں اور راویوں میں سےبھی اکثر و بیشتر وہ لوگ ہیں جن کا ایک نہ ایک فریق سے کھلا ہوا تعلق تھا ان کے لیے یہ بہت مشکل ہے کہ ان روایات کی ساری تفصیلات کو صحیح تسلیم کر لیں۔ خود آپ نے جو احادیث نقل کی ہیں ان کے اندر بھی رایات السود ، یعنی کالے جھنڈوں کا ذکر موجود ہے اور تاریخ سے معلوم ہے کہ کالے جھنڈے بنی عباس کا شعار تھے۔ نیز یہ بھی تاریخ سے معلوم ہے کہ اس قسم کی احادیث کو پیش کر کر کے خلیفہ مہدی عباسی کو مہدی موعود ثابت کرنے کی کوشش کی جاتی رہی ہے۔ اب اگر کسی کو ان چیزوں کے ماننے پر اصرار ہے تو وہ مانے اور تجدید و احیائے دین میں جس رائے کا میں نے اظہار کیا ہے اس کو رڈ کر دے۔ کچھ ضرور نہیں ہے کہ ہر تاریخی، علمی اور فقہی مسئلہ میں میری ایک بات سب لوگوں کے لیے قابل تسلیم ہو ۔ اور یہ بھی صحیح نہیں ہے کہ ان مسائل میں میری کوئی تحقیق کسی کو پسند نہ آئے تو اصل دین کی سعی اقامت میں بھی میرے ساتھ تعاون کرنا اس کے لیے حرام ہو جائے۔ آخر یہ کوئی نئی بات تو نہیں ہے کہ حدیث، تفسیر، فقہ وغیرہ علوم میں اہل علم کی را ئیں مختلف ہوئی ہوں۔
(۲) میں نے یہ بات جو کہی ہے کہ مہدی موعود جدید ترین طرز کا لیڈر ہو گا اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ وہ ڈاڑھی منڈوائے گا کوٹ پتلون پہنے گا اور اپ ٹو دیٹ فیشن میں رہے گا۔بلکہ اس سے میرا مطلب یہ ہے کہ وہ جس زمانہ میں بھی پیدا ہوگا اس زمانہ کے علوم سے حالات سے اور ضروریات سے پوری طرح واقف ہو گا اپنے زمانہ کے مطابق عملی تدابیر اختیار کرے گا اور ان تمام آلات و وسائل سے کام لے گا جو اس کے دور میں سائنٹیفک تحقیقات سے دریافت ہوئےہوں۔ یہ تو ایک صریح عقلی بات ہے جس کے لیے کسی سند کی ضروریات نہیں ہے۔ اگر نبی اکرم اپنے زمانہ کی تدابیر مثلاً خندق دبابه منجنیق وغیرہ استعمال فرماتے تھے تو کوئی وجہ نہیں کہ آئندہ کسی دور میں جو شخص حضور کی جانشینی کا حق ادا کرنے اٹھے گا وہ ٹینک اور ہوائی جہاز سے سائنٹیفک معلومات سے اور اپنے زمانہ کے احوال و معاملات سے بے تعلق ہو کر کام کرے گا۔ کسی جماعت کے حصول مقصد اور کسی تحریک کے غلبہ کا فطری راستہ ہی یہی ہے کہ وہ قوت کے تمام جدید ترین وسائل کو قابو میں لائے اور اپنا اثر پھیلانے کے لیے جدید ترین علوم وفنون اور طریقہ ہائے کار کو استعمال کرے۔
(۳) یہ ارشاد کہ اس سے شبہ کیا جا رہا ہے کہ تو خود امام مہدی ہونے کا دعوی کرے گا۔‘ اس کے جواب میں بجز اس کے میں کچھ عرض نہیں کر سکتا کہ اس قسم کے شبہات کا اظہار کرنا کسی ایسے آدمی کا کام تو نہیں ہو سکتا جو خدا سے ڈرتا ہو جسے خدا کے سامنے اپنی ذمہ داری کا احساس ہو اور جس کو اللہ تعالیٰ کی یہ ہدایت بھی یاد ہو کہ اِجْتَنِبُوا كَثِيراً مِنَ الظَّنِّ إِنَّ بَعْضَ الظَّنِّ إِثْمٌ جو حضرات اس قسم کے شبہات کا اظہار کر کے بندگانِ خدا کو جماعت اسلامی کی دعوت حق سےروکنے کی کوشش فرما رہے ہیں، میں نے ان کو ایک ایسی خطرناک سزا دینے کا فیصلہ کر لیا ہے جس سے وہ کسی طرح رہائی حاصل نہیں کر سکیں گئے اور وہ سزا یہ ہے کہ انشاء اللہ میں ہر قسم کے دعوؤں سے اپنا دامن بچائے ہوئے اپنے خدا کی خدمت میں حاضر ہوں گا اور پھر دیکھوں گا کہ یہ حضرات خدا کےسامنے اپنے ان شبہات کی اور ان کو بیان کر کر کے لوگوں کو حق سے روکنے کی کیا صفائی پیش کرتے ہیں۔
(۴) کتاب علامات قیامت میں جس روایت کا ذکر ہے، اس کے متعلق میں نفیا یا اثباتا کچھ نہیں کہہ سکتا۔ اگر وہ صحیح ہے اور فی الواقع حضور نے یہ خبر دی ہے کہ مہدی کی بیعت کے وقت آسمان سے ندا آئے گی کہ ”هذا خليفة الله المهدى فاستمعوا له واطيعوا ويقيناً میری وہ رائے غلط ہے جو تجدید و احیائے دین میں، میں نے ظاہر کی ہے۔ لیکن مجھے یہ توقع نہیں ہے کہ حضور نے ایسی بات فرمائی ہوگی۔ قرآن مجید کے مطالعہ سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ کسی نبی کی آمد پر بھی آسمان سے ایسی ندا نہیں آئی۔ خود حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جو آخری نبی تھے اور نوع انسانی کے لیے جن کے بعد کفر و ایمان کے فیصلہ کا کوئی دوسرا موقع آنے والا نہ تھا، آپ کی آمد پر بھی ایسی کوئی ندا آسمان سے نہ سنی گئی۔ مشرکین مکہ مطالبہ کرتے ہی رہے کہ آپ کے ساتھ کوئی فرشتہ ہونا چاہیے جو ہمیں خبر دار کرے کہ آپ خدا کے نبی ہیں یا اور کوئی صریح بات ایسی ہونی چاہیے جس سےیقینی اور غیر مشتبہ طور پر ہمیں آپ کا نبی ہونا معلوم ہو جائے،لیکن اللہ تعالیٰ نے ان سارے مطالبوں کو ر فرما دیا اور انہیں قبول نہ کرنے کی یہ وجہ بھی متعدد مقامات پر قرآن میں ظاہر کر دی کہ حقیقت کو بالکل بے نقاب کر دینا جس سے عقلی آزمائش و امتحان کا کوئی موقع باقی نہ رہے حکمت خداوندی کے خلاف ہے۔ اب یہ کیسے باور کیا جا سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنی اس سنت کو صرف امام مہدی کے معاملہ ہی میں بدل دے گا اور ان کی بیعت کے وقت آسمان سے منادی کرائے گا کہ یہ ہمارا خلیفہ مہدی ہے اس کی سنو اور اطاعت کرو!“ ( ترجمان القرآن، رجب ۵۶۵ جون ۴۶)
| کتاب | تجدید و احیائے دین |
|---|---|
| مصنف | مولاناابوالاعلی مودودی |
| تاریخ اشاعت | None |
| پبلشرز | ادارہ |
| ٹیگ |