کار تجدید کی نوعیت اب قبل اس کے کہ ہم مجددین امت کے کارناموں کا جائزہ لیں ہمیں خود اس کا رتجدید کو اچھی طرح سمجھ لینا چاہیے۔
تجدد اور تجدید کا فرق : عموماً لوگ تجدد اور تجدید میں فرق نہیں کرتےاور سادہ لوحی سے ہر متجدد کو مجدد کہنے لگتے ہیں۔ ان کا گمان یہ ہے کہ ہر وہ شخص جو نیا طریقہ نکالے اور اس کو ذرا زور سے چلا دے وہ مجدد ہوتا ہے۔ خصوصا جولوگ کسی مسلمان قوم کو بر سر انحطاط دیکھ کر اس کو دنیوی حیثیت سےسنبھالنے کی کوشش کرتے ہیں اور اپنے زمانہ کی بر سر عروج جاہلیت سے مصالحت کر کے اسلام اور جاہلیت کا ایک نیا مخلوطہ تیار کر دیتے ہیں، یا فقط نام باقی رکھ کر اس قوم کو پورے جاہلیت کے رنگ میں رنگ دیتے ہیں، ان کو مجدد کے خطاب سے نواز دیا جاتا ہے حالانکہ وہ مجدد نہیں مسجد دہوتے ہیں اور ان کا کام تجدید نہیں تجدد ہوتا ہے۔ تجدید کا کام اس سے بالکل مختلف ہے۔ جاہلیت سےمصالحت کی صورتیں نکالنے کا نام تجدید نہیں ہے اور نہ اسلام اور جاہلیت کا کوئی نیا مرکب بنانا تجدید ہے بلکہ دراصل تجدید کا کام یہ ہے کہ اسلام کو جاہلیت کے تمام اجزاء سے چھانٹ کر الگ کیا جائےاور کسی نہ کسی حد تک اس کو اپنی خالص صورت میں پھر سے فروغ دینے کی کوشش کی جائے۔ اس لحاظ سے مجدد جاہلیت کے مقابلہ میں سخت غیر مصالحت پسند آدمی ہوتا ہے اور کسی خفیف سے خفیف جزء میں بھی جاہلیت کی موجودگی کا روادار نہیں ہوتا۔
مجدد کی تعریف: مجدد نبی نہیں ہوتا مگر اپنے مزاج میں مزاج نبوت سے بہت قریب ہوتا ہے۔نہایت صاف دماغ حقیقت اس نظر ہر قسم کی کبھی سے پاک بالکل سیدھا ذ ہن،افراط و تفریط سےبچ کر توسط واعتدال کی سیدھی راہ دیکھنےاور اپنا توازن قائم رکھنےکی خاص قابلیت اپنےماحول اور صدیوں کےجمےاور رچےہوئےتعصبات سےآزاد ہو کر سوچنےکی قوت،زمانہ کی بگڑی ہوئی رفتار سےلڑنےکی طاقت و جرات،قیادت و رہنمائی کی پیدائشی صلاحیت اجتہاد اور تعمیر نو کی غیر معمولی اہمیت اور ان سب باتوں کےساتھ اسلام میں مکمل شرح صدر،نقطہ نظر اور فہم و شعور میں پورا مسلمان ہونا،باریک سےباریک جزئیات تک میں اسلام اور جاہلیت میں تمیز کرنا اور مدتہائےدراز کی الجھنوں میں سے امر حق کو ڈھونڈ کر الگ نکال لینا۔ یہ وہ خصوصیات ہیں جن کے بغیر کوئی شخص مجدد نہیں ہو سکتا، اور یہی وہ چیزیں ہیں جو اس سے بہت زیادہ بڑے پیمانے پر نبی میں ہوتی ہیں۔
مجدد اور نبی کا فرق : لیکن وہ بنیادی چیز جو مجدد کو نبی سے جدا کرتی ہے، یہ ہے کہ نبی اپنےمنصب پر امر تشریعی سے مامور ہوتا ہے اس کو اپنی ماموریت کا علم ہوتا ہے اس کے پاس وحی آتی ہے وہ اپنی نبوت کے دعوے سے اپنے کام کا آغاز کرتا ہے اسے لوگوں کو اپنی طرف دعوت دینی پڑتی ہے اور اس کی دعوت ہی کو قبول کرنے یا نہ کرنے پرلوگوں کے کافر یا مومن ہونے کا مدار ہوتا ہے برعکس اس کے مجددکوان میں سے کوئی حیثیت بھی حاصل نہیں۔ وہ اگر مامور ہوتا ہے تو امر تکوینی سے ہوا کرتا ہے نہ کہ امر تشریعی سے۔ بسا اوقات اس کو خود اپنے مجدد ہونے کی خبر نہیں ہوتی بلکہ اس کے مرنے کے بعد اس کی زندگی کے کارنامے سے لوگوں کو اس کے مجدد ہونے کا علم ہوتا ہے۔اس پر الہام ہونا ضروری نہیں اور اگر ہوتا ہے تو لازم نہیں کہ اسے الہام کا شعور ہو ۔۔ وہ کسی دعوے سےاپنے کام کا آغاز نہیں کرتا نہ ایسا کرنےکا حق رکھتا ہے،کیونکہ اس پر ایمان لانے یا نہ لانے کا کوئی سوال نہیں ہوتا۔اس کےزمانےکے تمام اہل صلاح و خیر رفتہ رفتہ اس کے گرد جمع ہو جاتے ہیں اور صرف وہی لوگ اس سے الگ رہتے ہیں جن کی طبیعت میں کوئی ٹیڑھ ہوتی ہےمگر بہر حال اس کو ماننا مسلمان ہونے کی شرط نہیں ہوتا ۔ ان تمام فروق کے ساتھ مسجد کو فی الجمله اسی نوعیت کا کام کرنا ہوتا ہے جو نبی کے کام کی نوعیت ہے۔
١- بعض لوگ اس مقام پر یہ شبہ وارد کرتے ہیں کہ مجددین امت میں سے بعض نے خود اپنے مجدد ہونے کا دعوئی کیا ہے مثلاً مجددالف ثانی اور شاہ ولی اللہ صاحب۔ لیکن یہ لوگ اس بات کو بھول جاتے ہیں کہ ان بزرگوں نےصرف اپنے اس مقام پر فائز ہونے کا اظہار کیا ہے۔ کوئی دعوی نہیں کیا ہے۔ ان کے کسی فعل سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ انہوں نے لوگوں کو اپنی طرف دعوت دی ہو اور یہ مطالبہ کیا ہو کہ انہیں مجدد تسلیم کیا جائے یا یہ کہا ہو کہ جو انہیں مجدد مانے گا بس وہی مومن ہو گا اور نجات پائے گا۔
١- اپنے ماحول کی صحیح تشخیص، یعنی حالات کا پورا جائزہ لے کر یہ سمجھنا کہ جاہلیت کہاں کہاں کس حد تک سرایت کر گئی ہے کن کن راستوں سے آئی ہے۔ اس کی جڑیں کہاں کہاں اور کتنی پھیلی ہوئی ہیں اور اسلام اس وقت ٹھیک کس حالت میں ہے۔
٢- اصلاح کی تجویز یعنی یہ تعین کرنا کہ اس وقت کہاں ضرب لگائی جائے کہ جاہلیت کی گرفت ٹوٹے اور اسلام کو پھر اجتماعی زندگی پر گرفت کا موقع ملے۔
٣- خود اپنے حدود کا تعین، یعنی اپنے آپ کو تول کر صحیح اندازہ لگانا کہ میں کتنی قوت رکھتا ہوں اور کس راستہ سے اصلاح کرنے پر قادر ہوں۔
٤- ذہنی انقلاب کی کوشش، یعنی لوگوں کے خیالات کو بدلنا عقائد و افکار اور اخلاقی نقطہ نظر کو اسلام کے سانچے میں ڈھالنا نظام تعلیم وتربیت کی اصلاح اور علوم اسلامی کا احیاء کرنا اور فی الجمله اسلامی ذہنیت کو از سر نو تازہ کر دینا۔
٥- عملی اصلاح کی کوشش، یعنی جاہلی رسوم کو مٹانا اخلاق کا تزکیہ کرنا اتباع شریعت کےجوش سے پھر لوگوں کو سرشار کر دینا اور ایسے افراد تیار کرنا جو اسلامی طرز کے لیڈر بن سکیں۔
٦- اجتہاد فی الدین، یعنی دین کےاصول کلیہ کو سمجھنا اپنےوقت کےتمدنی حالات اور ارتقائے تمدن کی سمت کا اسلامی نقطہ نظر سے صحیح اندازہ لگانا اور یہ تعین کرنا کہ اصول شرع کے ماتحت تمدن کے پرانے متوارث نقشے میں کس طرح رد و بدل کیا جائے جس سے شریعت کی روح برقرار ہے اس کے مقاصد پورے ہوں اور تمدن کے صحیح ارتقاء میں اسلام دنیا کی امامت کر سکے۔
٧- دفاعی جدو جہد یعنی اسلام کو مٹانے اور دبانے والی سیاسی طاقت کا مقابلہ کرنا اور اس کے زور کو توڑ کر اسلام کے لیے ابھرنے کا راستہ پیدا کرنا۔
٨- احیائے نظام اسلامی، یعنی جاہلیت کے ہاتھ سے اقتدار کی کنجیاں چھین لیتا اور از سرنو حکومت کو عملاً اس نظام پر قائم کر دینا جسے صاحب شریعت علیہ السلام نے خلافت علی منهاج النبوۃ کے نام سے موسوم کیا ہے۔
(۹) عالمگیر انقلاب کی کوشش، یعنی صرف ایک ملک یا ان ممالک میں جہاں مسلمان پہلےسے موجود ہوں اسلامی نظام کےقیام پر اکتفانہ کرنا بلکہ ایک ایسی طاقت ور عالمگیر تحریک برپا کرنا جس سےاسلام کی اصلاحی و انقلابی دعوت عام انسانوں میں پھیل جائے وہی تمام دنیا کی غالب تہذیب بنے ساری دنیا کے نظام تمدن میں اسلامی طرز کا انقلاب بر پا ہو اور عالم انسانی کی اخلاقی، فکری اور سیاسی امامت دریاست اسلام کے ہاتھ میں آجائے۔
ان شعبوں پر غائر نظر ڈالنے سے معلوم ہوتا ہے کہ ابتدائی تین مدات تو ایسی ہیں جو ہر اس شخص کے لیے ناگزیر ہیں جو تجدید کی خدمت انجام دے لیکن باقی چھ دیں ایسی ہیں، جن کا جامع ہونا مجدد ہونے کے لیے شرط نہیں ہے بلکہ جس نے ایک دو تین یا چار شعبوں میں کوئی نمایاں کارنامہ انجام دیا ہو وہ بھی مجدد قرار دیا جا سکتا ہے۔ البته اس قسم کا مجدد جزوی مجدد ہوگا،کامل مجدد نہ ہو گا۔ کامل مجد دصرف وہ شخص ہو سکتا ہے جو ان تمام شعبوں میں پورا کام انجام دے کر وراثت نبوت کا حق ادا کر دے۔
مجدد کامل کا مقام : تاریخ پر نظر ڈالنے سے معلوم ہوتا ہے کہ اب تک کوئی مجدد کامل پیدا نہیں ہوا ہے۔ قریب تھا کہ عمر ابن عبد العزیز اس منصب پر فائز ہو جاتے مگر وہ کامیاب نہ ہو سکے۔ان کےبعد جتنے مجدد پیدا ہوئے ان میں سے ہر ایک نے کسی خاص شعبے یا چند شعبوں ہی میں کام کیا۔ مجددِ کامل کا مقام ابھی تک خالی ہے۔ مگر عقل چاہتی ہے، فطرت مطالبہ کرتی ہے اور دنیا کے حالات کی رفتار متقاضی ہے کہ ایسا لیڈر پیدا ہو خواہ اس دور میں پیدا ہو یا زمانے کی ہزاروں گردشوں کےبعد پیدا ہو۔ اس کا نام الامام المہدی ہو گا جس کے بارے میں صاف پیشین گوئیاں نبی علیہ الصلوۃ والسلام کے کلام میں موجود ہیں_١
١- اگر چہ یہ پیشین گوئیاں مسلم ترمذی، ابن ماجہ مستدرک و غیرہ کتابوں میں کثرت کے ساتھ موجود ہیں۔ مگر یہاں اس روایت کا نقل کرنا فائدہ سے خالی نہ ہو گا جو امام شاطبی نے موافقات میں اور مولانا اسماعیل شہید نے منصہ امامت میں نقل کی ہے:
سے حقیقت ہی نہ ہونی چاہیے۔ نیز وہ کہتے ہیں کہ تمام مذہبی قوموں میں کسی ” مردے از غیب“ کی آمد کا عقیدہ پایا جاتا ہے لہذا یہ محض ایک وہم ہے۔ لیکن میں نہیں سمجھتا کہ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم کی طرح پچھلے انبیاء نے بھی اگر اپنی قوموں کو یہ خوش خبری دی ہو کہ نوع انسان کی دنیوی زندگی ختم ہونے سے پہلے ایک دفعہ اسلام ساری دنیا کا دین بنے گا اور انسان کے بنائے ہوئےسارے ازموں کی ناکامی کے بعد آخر کار تباہیوں کا مارا ہوا انسان اس ازم کے دامن میں پناہ لینے پر مجبور ہو گا جسے خدا نے بنایا ہے اور یہ نعمت انسان کو ایک ایسے عظیم الشان لیڈر کی بدولت نصیب ہوگی جو انبیاء کے طریقہ پر کام کر کے اسلام کو اس کی صحیح صورت میں پوری طرح نافذ کر دے گا تو آخر اس میں وہم کی کون سی بات ہے؟ بہت ممکن ہے کہ انبیاءعلیہم السلام کے کلام سےنکل کر یہ چیز دنیا کی دوسری قوموں میں بھی پھیلی ہو اور جہالت نے اس کی روح نکال کر اوہام کےلبادے اس کے گرد لپیٹ دیئے ہوں۔
الامام المہدی: مسلمانوں میں جو لوگ الامام المہدی کی آمد کے قائل ہیں وہ بھی ان متجددین سے جو اس کے قائل نہیں ہیں، اپنی غلط فہمیوں میں کچھ پیچھے نہیں ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ امام مہدی کوئی اگلے وقتوں کےمولویانہ و صوفیانہ وضع وقطع کےآدمی ہوں گے۔تسبیح ہاتھ میں لیےیکایک کسی مدر سےیا خانقاہ کے حجرے سے برآمد ہوں گے۔ آتے ہی انا المہدی کا اعلان کریں گے۔ علماء اور مشائخ کتابیں لیے ہوئے پہنچ جائیں گے اور لکھی ہوئی علامتوں سے ان کے جسم کی ساخت وغیرہ کا مقابلہ کر کے انہیں شناخت کرلیں گے، پھر بیعت ہوگی اور اعلان جہاد کر دیا جائے گا۔ چلے کھینچےہوئے درویش اور سب پرانے طرز کے بقیۃ السلف ان کے جھنڈے تلے جمع ہوں گے۔ تلوار تو محض شرط پوری کرنے کے لیے برائے نام چلانی پڑے گی۔ اصل میں سارا کام برکت اور روحانی تصرف سے ہوگا۔ پھونکوں اور وظیفوں کے زور سے میدان جیتے جائیں گے۔ جس کافر پر نظر مار دیں گے تڑپ کر بے ہوش ہو جائے گا اور محض بددعا کی تاثیر سے ٹینکوں اور ہوائی جہازوں میں کیڑے پڑ جائیں گے۔
عقیدہ ظہور مہدی کے متعلق عام لوگوں کے تصورات کچھ اسی قسم کے ہیں ۔ مگر میں جو کچھ سمجھا ہوں اس سےمجھ کو معاملہ بالکل برعکس نظر آتا ہے۔ میرا اندازہ یہ ہے کہ آنے والا اپنے زمانہ میں بالکل جدید ترین طرز کا لیڈر ہوگا۔ وقت کے تمام علوم جدیدہ پر اس کو مجتہدانہ بصیرت حاصل ہوگی۔زندگی کے سارے مسائل مہمہ کو وہ خوب سمجھتا ہوگا۔ عقلی و ذہنی ریاست سیاسی تدبر اور جنگی مہارت کے اعتبار سے وہ تمام دنیا پر اپنا سکہ جما دے گا اور اپنے عہد کے تمام جدیدوں سے بڑھ کر جدید ثابت ہوگا۔ مجھے اندیشہ ہے کہ اس کی جد توں کے خلاف مولوی اور صوفی صاحبان ہی سب سےپہلے شورش برپا کریں گے۔ پھر مجھے یہ بھی امید نہیں کہ اپنی جسمانی ساخت میں وہ عام انسانوں سے کچھ بہت مختلف ہوگا کہ اس کی علامتوں سے اس کو تاڑ لیا جائے نہ میں یہ توقع رکھتا ہوں کہ وہ اپنے مہدی ہونے کا اعلان کرے گا۔ بلکہ شاید اسے خود بھی اپنے مہدی موعود ہونے کی خبر نہ ہوگی اور اس کی موت کے بعد اس کے کارناموں سے دنیا کو معلوم ہوگا کہ یہی تھا وہ خلافت کو منہاج النبوۃ پر قائم کرنے والا جس کی آمد کا مژدہ سنایا گیا تھا۔ جیسا کہ میں پہلے اشارہ کر چکا ہوں، نبی کے سوا کسی کا یہ منصب نہیں ہے کہ دعوے سے کام کا آغاز کرے اور نہ نبی کے سوا کسی کو یقینی طور پر یہ معلوم ہوتا ہے کہ وہ کسی خدمت پر مامور ہوا ہے۔ مہدویت دعوی کرنے کی چیز نہیں، کر کے دکھا جانے کی چیز ہے۔ اس قسم کے دعوے جو لوگ کرتے ہیں اور جو ان پر ایمان لاتے ہیں، میرے نزدیک دونوں اپنے علم کی کمی اور ذہن کی پستی کا ثبوت دیتے ہیں۔
مہدی کے کام کی نوعیت کا جو تصور میرےذہن میں ہے وہ بھی ان حضرات کےتصور سےبالکل مختلف ہے مجھے اس کے کام میں کرامات و خوارق کشف الهامات اور چلوں اور "مجاہدوں“کی کوئی جگہ نظر نہیں آتی۔ میں یہ سمجھتا ہوں کہ انقلابی لیڈر کو دنیا میں جس طرح شدید جد و جهد اور کشمکش کے مرحلوں سے گزرنا پڑتا ہے انہی مرحلوں سےمہدی کو بھی گزرنا ہوگا۔وہ خالص اسلام کی بنیادوں پر ایک نیا مذہب فکر (School of thougt) پیدا کرے گا۔ذہنیتوں کو بدلےگا ایک زبر دست تحریک اٹھائےگا جو بیک وقت تہذیبی بھی ہوگی اور سیاسی بھی،جاہلیت اپنی تمام طاقتوں کےساتھ اس کو کچلنے کی کوشش کرے گی، مگر بالآخر وہ جاہلی اقتدار کوالٹ کر پھینک دے گا اور ایک ایسی زبر دست اسلامی اسٹیٹ قائم کرےگا جس میں ایک طرف اسلام کی پوری روح کارفرما ہوگی اور دوسری طرف سائنٹیفک ترقی اوج کمال پر پہنچ جائے گی۔ جیسا کہ حدیث میں ارشاد ہوا ہے اس کی حکومت سے آسمان والے بھی راضی ہوں گے اور زمین والے بھی، آسمان دل کھول کر اپنی برکتوں کی بارش کرے گا اور زمین اپنے نیٹ کے سارے خزانے اگل دے گی۔“
| کتاب | تجدید و احیائے دین |
|---|---|
| مصنف | مولاناابوالاعلی مودودی |
| تاریخ اشاعت | None |
| پبلشرز | ادارہ |
| ٹیگ |