تجدید و احیائے دین

اسلام اور جاہلیت کی اصولی و تاریخی کشمکش

اسلام اور جاہلیت کی اصولی و تاریخی کشمکش

دنیا میں انسان کی زندگی کے لیے جو نظام نامہ بھی بنایا جائے گا اس کی ابتدا لا محاله بعد الطبیعی یا الہیاتی مسائل سے ہوگی ۔ زندگی کی کوئی اسکیم بن نہیں سکتی جب تک کہ انسان کے متعلق اور اس کائنات کے متعلق جس میں انسان رہتا ہے واضح اور متعین تصور نہ قائم کر لیا جائے۔ یہ سوال کہ انسان کا برتاؤ یہاں کیا ہونا چاہیے اور کس طرح اسے دنیا میں کام کرنا چاہیے دراصل اس سوال سےگہرا تعلق رکھتا ہے کہ انسان کیا ہے، اس کا ئنات میں اس کی حیثیت کیا ہے اور اس کا ئنات کا نظام کس ڈھنگ کا ہے جس سے انسان کی زندگی کی ڈھنگ کو ہم آہنگ ہونا چاہیے۔ اس سوال کا جوصل کے مطابق انسانی زندگی کے مختلف شعبوں کی تشکیل ہو گئی،پھر اسی سانچے کے اندر انفرادی سیرت و کردار اور اجتماعی تعلقات و معاملات کے قوانین اپنی تفصیلی صورتیں اختیار کریں گئے اور آخر کار تمدن کی پوری عمارت انہی بنیادوں پر تعمیر ہوگی۔ دنیا میں اس وقت تک انسانی زندگی کے لیے جتنےمذہب و مسلک بھی بنے ہیں ان سب کو بہر حال اپنا ایک بنیادی فلسفہ اور ایک اساسی نظریہ اخلاق مرتب کرنا پڑا ہے اور اصول سے لے کر چھوٹے چھوٹے جزئیات تک میں ایک مسلک کو دوسرےمسلک سے جو چیز ممتاز کرتی ہے وہ یہی فلسفہ اور یہی اخلاقی نقطہ نظر ہے۔ کیونکہ ہر دستور زندگی کا مزاج اس چیز کی طبیعت کے مطابق بنتا ہے اور یہ اس کے قالب میں روح کی حیثیت رکھتی ہے۔

زندگی کے چار نظریے

جزئیات و فروع سے قطع نظر اصولی حیثیت سے اگر دیکھا جائے تو انسان اور کائنات کےمتعلق چار مابعد الطبیعی نظریے قائم ہو سکتے ہیں اور دنیا میں جتنے دستور زندگی پائے جاتے ہیں انہوں نے انہی چار میں سے کسی ایک کو اختیار کیا ہے۔

جاہلیت خالصه: ان میں سے پہلے نظریے کو ہم جاہلیت خالصہ سے تعبیر کرتے ہیں اور اس کا خلاصہ یہ ہے:

کائنات کا یہ سارا نظام ایک اتفاقی ہنگامہ وجود وظہور ہے جس کے پیچھے کوئی حکمت، کوئی مصلحت اور کوئی مقصد کارفرما نہیں ہے۔ یونہی بن گیا ہے، یونہی چل رہا ہے۔ اور یونہی بے نتیجہ ختم ہو جائے گا۔ اس کا کوئی خدا نہیں ہے اور اگر ہے تو اس کے ہونے یا نہ ہونے کا انسان کی زندگی سے کوئی تعلق نہیں۔

انسان ایک قسم کا جانور ہے، جو دوسری چیزوں کی طرح شاید اتفاقاً یہاں پیدا ہو گیا ہے.ہمیں اس سے بحث نہیں کہ اس کو کس نے پیدا کیا اور کس لیے پیدا کیا۔ ہم تو صرف اتنا جانتے ہیں کہ یہ اس زمین پر پایا جاتا ہے، کچھ خواہشیں رکھتا ہے جنہیں پورا کرنے کے لیے اس کی طبیعت اندر سے زور کرتی ہے کچھ قومی اور کچھ آلات رکھتا ہے۔جوان خواہشوں کی تعمیل کا ذریعہ بن سکتےہیں، اور اپنے گردو پیش زمین کے دامن پر بہت سا سامان پھیلا ہوادیکھتا ہے جن پر یہ اپنے ان قومی اور آلات کو استعمال کر کے اپنی خواہشوں کی تکمیل کر سکتا ہے لہذا اس کی زندگی کا مقصد اس کے سوا کچھ نہیں کہ اپنی طبیعت حیوانی کے مطالبات پورے کرے اور اس کی انسانی استعدادوں کا مصرف اس سے زیادہ کچھ نہیں کہ ان مطالبات کو پورا کرنے کے بہتر سے بہتر ذرائع فراہم کرے۔

انسان سے مافوق کوئی علم کا منبع اور ہدایت کا سرچشمہ موجود نہیں ہے جہاں سے اس کو اپنی زندگی کا قانون مل سکتا ہوا لہذا اس کو اپنے گردو پیش کے آثار واحوال سے اور اپنی تاریخ کے تجربات سے خود ہی ایک قانون عمل اخذ کرنا چاہیے۔

بظاہر کوئی ایسی حکومت نظر نہیں آتی جس کے سامنے انسان جوابدہ ہو اس لیے انسان بجائےخود ایک غیر ذمہ دار ہستی ہے اور اگر یہ جوابدہ ہے بھی تو آپ اپنے ہی سامنے ہے یا پھر اس اقتدار کے سامنے جو خود انسانوں ہی میں سے پیدا ہو کر افراد پر مستولی ہو جائے۔

اعمال کے نتائج جو کچھ بھی ہیں اسی دنیوی زندگی کی حد تک ہیں ۔ اس کے ماسوا کوئی زندگینہیں ہے لہذا صحیح اور غلط مفید اور مصر قابل اخذ اور قابل ترک ہونے کا فیصلہ صرف انہی نتائج کےلحاظ سے کیا جائے گا جو دنیا میں ظاہر ہوتے ہیں۔

انسان جب جاہلیت محضہ کی حالت میں ہوتا ہے۔ یعنی جب اپنے محسوسات سے ماوراء کسی حقیقت تک وہ نہیں پہنچتا یا بندگی نفس کی وجہ سے نہیں پہنچنا چاہتا تو اس کےذہن پر یہی نظریہ حاوی ہوتا ہے۔دنیا پرستوں نے ہر زمانے میں یہی نظریہ اختیار کیا ہے۔ قلیل متثلیات کو چھوڑ کر بادشاہوں نے امیروں نے درباریوں اور ارباب حکومت نے خوش حال لوگوں اور خوشحالی کےپیچھے جان دینے والوں نے عموماً اسی نظریہ کو ترجیح دی ہے۔ اور جن قوموں کی تمدنی ترقی کے گیت تاریخ میں گائے جاتے ہیں، بالعموم ان سب کے تمدن کی جڑ میں یہی نظریہ کام کرتا رہا ہے۔ موجودہ مغربی تمدن کی بنیاد میں بھی یہی نظریہ کارفرما ہے اگر چہ اہل مغرب سب کے سب خدا اور آخرت کے منکر نہیں ہیں، نہ علمی حیثیت سے سب مادہ پرستانہ اخلاق کے قائل ہیں۔ لیکن جو روح ان کےپورے نظام تہذیب و تمدن میں کام کر رہی ہے وہ اس انکارِ خدا و آخرت اور اسی مادہ پرستانه اخلاق ہی کی روح ہے اور وہ کچھ اس طرح ان کی زندگی میں پیوست ہوگئی ہے کہ جو لوگ علمی حیثیت سےخدا اور آخرت کے قائل ہیں اور اخلاق میں ایک غیر مادہ پرستانہ نقطہ نظر اختیار کرتے ہیں وہ بھی غیر شعوری طور پر اپنی واقعی زندگی میں دہریے اور مادہ پرست ہی ہیں۔ کیونکہ ان کے علمی نظریہ کا ان کی عملی زندگی سے بالفعل کوئی ربط قائم نہیں ہے۔

ایسی ہی کیفیت ان سے پہلے کے مترفین اور خدا فراموش لوگوں کی بھی تھی۔ بغداد دمشق دہلی اور غرناطہ کے مترفین مسلمان ہونے کی وجہ سے خدا اور آخرت کے منکر نہ تھے مگران کی زندگی کا سارا پروگرام اس طرح بنتا تھا کہ گویا نہ خدا ہے نہ آخرت نہ کسی کو جواب دینا ہے، نہ کہیں سے ہدایت لینی ہے۔ جو کچھ ہیں ہماری خواہشات ہیں ان خواہشات کی تکمیل کے لیے ہر قسم کے ذرائع اور ہر قسم کے طریقے اختیار کرنے میں ہم آزاد ہیں اور دنیا میں جینے کی مہلت ملتی ہے اس کا بہترین مصرف بس یہ ہے کہ

بابر به عیش کوش کہ عالم دوباره نیست

جیسا کہ اوپر اشارہ کیا جا چکا ہے،اس نظریہ کی عین فطرت یہی ہےکہ اس کی بنیاد پر ایک خالص مادہ پرستانہ نظام اخلاق بنتا ہے،خواہ وہ کتابوں میں مدون ہو یا صرف ذہنیتوں ہی میں مرتب ہو کر رہ جائے، پھر اسی ذہنیت سے علوم و فنون اور افکار و آداب کی آبیاری ہوتی ہے اور پورے نظام تعلیم و تربیت میں الحادو مادیت کی روح سرایت کر جاتی ہے۔ پھر انفرادی سیرتیں اسی سانچے میں ڈھلتی ہیں، انسان اور انسان کے درمیان تعلقات و معاملات کی تمام صورتیں اسی نقشہ پر بنتی ہیں اور قوانین کا نشو و نما اسی ڈھنگ پر ہوتا ہے۔ پھر اس طرز کی سوسائٹی میں سطح پر وہ لوگ ابھر آتے ہیں جو سب سے زیادہ مکار بد دیانت، جھوٹے دغا باز سنگدل اور خبیث النفس ہوتےہیں۔ تمام سوسائٹی کی سیادت و قیادت اور مملکت کی زمام کار انہی کے ہاتھ میں ہوتی ہے اور وہ شتر بے مہار کی طرح ہر حساب سے بے خوف اور ہر مواخذہ سے بے پرواہ ہو کر خلق خدا پر ٹوٹ پڑتےہیں۔ میکیا دلی (Machiavelli) کے اصول سیاست پر ان کی ساری حکمت عملی بنی ہوتی ہے۔ان کی کتاب آئین میں زور کا نام حق اور بے زوری کا نام باطل ہوتا ہے۔ جہاں کوئی ماڈی رکاوٹ حائل نہیں ہوتی وہاں کوئی چیز ان کو ظلم سے نہیں روک سکتی۔ یہ ظلم مملکت کے دائرے میں یہ شکل اختیار کرتا ہے کہ طاقت ور طبقے اپنی ہی قوم کے کمزور طبقوں کو کھاتے اور دباتے ہیں اور مملکت کےباہر اس کا اظہار قوم پرستی امپیریلزم اور ملک گیری و اقوام کشی کی صورت میں ہوتا ہے۔

جاہلیت مشرکانه: دوسرا مابعد الطبیعی نظریہ شرک کے اصول پر مبنی ہے اور اس کا خلاصہ یہ ہے کہ کائنات کا نظام اتفاقی تو نہیں ہے اور نہ بے خداوند ہے مگر اس کا ایک خداوند (Master) نہیں بلکہ بہت سے خداوند ہیں۔

یہ خیال چونکہ کسی علمی ثبوت (Scientific proof) پر مبنی نہیں ہے۔ بلکہ محض خیال آرائی پر اس کی بنا ہے اس لیےموہوم محسوس اور معقول اشیاء کی طرف خداوندی والہیت کو منسوب کرنے میں مشرکین کے درمیان نہ کبھی اتفاق ہو سکتا ہےنہ کبھی ہوا ہے۔اندھیرے میں بھٹکنےوالوں کا ہا تھ جس چیز پر بھی پڑ گیا وہ خدا بنائی گئی اور خداؤں کی فہرست ہمیشہ گھٹتی بڑھتی رہی فرشتےجن ارواح سیارےزندہ اور مردہ انسان، درخت، پہاڑ، جانور دریا زمین، آگ، سب دیوتا بن ڈالے گئے ۔ بہت سے معانی مجروہ (Abstract Idea) مثلاً محبت، شہوت، قوت تخلیق بیماری، جنگ، کچھی، شکتی وغیرہ کو بھی خدائی کا مقام دیا گیا۔ طرح طرح کے خیالی مرکبات، مثلاً شیر انسان ، ماہی انسان، پرنده انسان چہار سرا ہزار دسته خرطوم بینی وغیرہ بھی مشرکین کے معبودوں میں جگہ پاتے رہے۔

پھر اس دیو مالا کے گرداوہام و خرافات (Mythology) کا ایک عجیب طلسم ہوش ربا تیار ہوا ہے جس میں ہر جاہل قوم کی قوت واہمہ نے اپنی شادابی و نادرہ کاری کے وہ دلچسپ نمونےفراہم کیے ہیں کہ دیکھ کر عقل دنگ رہ جاتی ہے۔ جن قوموں میں خداوند اعلیٰ یعنی اللہ کا تصور نمایاں پایا گیا ہے وہاں تو خدائی کا انتظام کچھ اس طرز کا ہے ہ گو یا اللہ تعالی بادشاہ ہے اور دوسرے خدا اس کے وزیر درباری، مصاحب، عہدہ دار اور اہل کار ہیں، مگر انسان بادشاہ سلامت تک راہ نہیں پاسکتا۔ اس لیے سارے معاملات ما تحت خداؤں ہی سے وابستہ رہتے ہیں، اور جن قوموں میں خداوند اعلیٰ کا تصور بہت دھندلا یا تقریباً مفقود ہےوہاں ساری خدائی ارباب متفرقین ہی میں تقسیم ہوکر رہ گئی ہے۔

جاہلیت خالصہ کے بعد یہ دوسری قسم کی جاہلیت ہے جس میں انسان قدیم ترین زمانہ سےآج تک مبتلا ہوتا رہا ہےاور ہمیشہ گھٹیا درجہ کی دماغی حالت ہی میں یہ کیفیت رونما ہوئی ہے۔ انبیاء علیہم السلام کی تعلیم کے اثر سےجہاں لوگ الله واحد قهار کی خدائی کےقائل ہو گئے،وہاں سےخداؤں کی دوسری اقسام تو رخصت ہو گئیں، مگر انبیاء اولیاء شہداء صالحین، مجاذيب اقطاب ابدال،علماء مشائخ اور ظل اللہوں کی خدائی پھر بھی کسی نہ کسی طرح عقائد میں اپنی جگہ نکالتی ہی رہی۔جاہل دماغوں نےمشرکین کے خداؤں کو چھوڑ کر ان نیک بندوں کو خدا بنالیا جن کی ساری زندگیاں بندوں کی خدائی ختم کرنے اور صرف اللہ کی خدائی ثابت کرنے میں صرف ہوئی تھیں ۔ ایک طرف مشرکانہ پوجاپاٹ کی جگہ فاتحہ زیارات نیاز نذر، عرس، صندل، چڑھاوے نشان، علم، تعزیے اور اسی قسم کے دوسرے مذہبی اعمال کی ایک نئی شریعت تصنیف کر لی گئی ۔ دوسری طرف بغیر کسی ثبوت علمی کے ان بزرگوں کی ولادت و وفات، ظہور و غیاب، کرامات و خوارق اختیارات و تصرفات اور اللہ تعالیٰ کے ہاں ان کے تقرب کی کیفیات کے متعلق ایک پوری میتھالوجی تیار ہو گئی جو بت پرست مشرکین کی میتھالوجی سے ہر طرح لگا کھا سکتی ہے۔ تیسری طرف توسل اور استمد اور وحانی اور اکتساب فیض وغیرہ ناموں کے خوشنما پردوں میں وہ سب معاملات جو اللہ اور بندوں کےدرمیان ہوتے ہیں، ان بزرگوں سے متعلق ہو گئے اور عملاً وہی حالت قائم ہوگئی جو اللہ کے ماننےوالے ان مشرکین کے ہاں ہے جن کے نزدیک پادشاہ عالم انسان کی رسائی سے بہت دور ہے اور انسان کی زندگی سے تعلق رکھنے والے تمام امور نیچے کے اہلکاروں ہی سے وابستہ ہیں، فرق صرف یہ ہے کہ ان کے ہاں اہلکار علانیہ اللہ دیوتا اوتار یا ابن اللہ کہلاتے ہیں اور یہ انہیں غوث، قطب ابدال اولیاء اور اہل اللہ وغیرہ الفاظ کے پردوں میں چھپاتے ہیں۔

یہ دوسری قسم کی جاہلیت تاریخ کے دوران میں عموماً پہلی قسم کی جاہلیت یعنی جاہلیت خالصہ کے ساتھ تعاون کرتی رہی ہے۔ قدیم زمانہ میں بابل، مصر، ہندوستان ایران، یونان، روم وغیرہ ممالک کے تمدن میں یہ دونوں جاہلیتیں ہم آغوش تھیں، اور موجودہ زمانہ میں جاپان کے تمدن کا بھی یہی حال ہے۔ اس موافقت کے متعدد اسباب ہیں جن میں سے چند کی طرف میں اشارہ کروں گا۔

اولا مشرکانہ جاہلیت میں آدمی کا کوئی تعلق اپنےمعبودوں کے ساتھ اس کےسوا نہیں ہوتا کہ یہ اپنے خیال میں ان کو صاحب اختیار اور نافع و ضار سمجھ لیتا ہے اور مختلف مراسم عبودیت کےذریعہ سے اپنے دنیوی مقاصد میں ان کی مہربانی واعانت حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ باقی رہا یہ امر کہ وہاں سے اس کو کسی قسم کی اخلاقی هدایت یا زندگی کا ضابطہ و قانون ملئے تو اس کا کوئی امکان ہی نہیں، کیونکہ وہاں کوئی واقع میں خدا ہو تو هدایت اور قانون بھیجے۔ پس جب ایسی کوئی چیز موجود نہیں ہے تو مشرک انسان لامحالہ خود ہی ایک اخلاقی نظریہ بناتا ہےاور خود ہی اس نظریہ کی بنیاد پر ایک شریعت تصنیف کرتا ہے۔ اس طرح وہی جاہلیت محضه برسر کار آجاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ خالص جاہلیت کے تمدن اور مشرکانہ تمدن میں اس کے سوا کوئی فرق نہیں ہوتا کہ ایک جگہ جاہلیت کے ساتھ مندروں، پجاریوں اور عبادات کا سلسلہ ہوتا ہے اور دوسری جگہ نہیں ہوتا ۔ اخلاق اور اعمال جیسے یہاں ہوتے ہیں، ویسے ہی وہاں بھی ہوتے ہیں۔ یونان قدیم اور بت پرست روم کے اخلاقی مزاج اور موجودہ یورپ کے اخلاقی مزاج میں جو مشابہت پائی جاتی ہے اس کا یہی سبب ہے۔

ثانيا، علوم و فنون، فلسفه و ادب اور سیاسیات و معاشیات وغیرہ کےلیےمشرکانہ نظریہ کوئی الگ مستقل بنیاد فراہم نہیں کرتا۔ اس باب میں بھی مشرک انسان جاہلیت محضہ ہی کا رخ اختیار کرتا ہے اور مشرک سوسائٹی کا سارا دماغی نشو ونما اُسی ڈھنگ پر ہوتا ہے جس پر خالص جاہلی سوسائٹی میں ہوا کرتا ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ مشرکین کی قوتِ واہمہ حد سے بڑھی ہوئی ہوتی ہے اس لیے ان کے افکار میں خیال آرائی کا عنصر بہت زیادہ ہوتا ہے اور ملاحدہ ذرا عملی قسم کے لوگ ہوتے ہیں،اس لیے نرے خیائی فلسفوں سے انہیں کوئی دلچسپی نہیں ہوتی ، البتہ جب یہ ملاحدہ خدا کے بغیر کائنات کے معمے کو حل کرنے کی کوشش کرتے ہیں تو ان کی استدلالی کھینچ تان بھی اتنی ہی غیر معقول ہوتی ہے جتنی مشرکین کی میتھالوجی ۔ بهرحال علمی حیثیت سے شرک اور جاہلیت خالصہ میں کوئی بنیادی اختلاف نہیں ہوتا اور اس کا روشن ثبوت یہ ہے کہ موجودہ یورپ اپنے موجودہ نظریات میں قدیم یونان و روم سے اس طرح سلسلہ جوڑتا ہے کہ گویا یہ بیٹا ہے اور وہ باپ۔

ثالثا ، مشرک سوسائٹی ان تمام تمدنی طریقوں کو قبول کرنے کے لیے پوری طرح مستعد رہتی ہے جن کو خالص جاہلی سوسائٹی اختیار کرتی ہے اگر چہ سوسائٹی کی ترتیب و تعمیر میں شرک اور جاہلیت خالصہ کے ڈھنگ ذرا ایک دوسرے سے مختلف ہیں۔ شرک کی مملکت میں بادشاہوں کو خدائی کا مقام دیا جاتا ہے روحانی پیشواؤں اور مذہبی عہدہ داروں کا ایک طبقہ مخصوص امتیازات کے ساتھ پیدا ہوتا ہے، شاہی خاندان اور مذہبی طبقے مل کر ایک ملی بھگت قائم کرتے ہیں، خاندانوں پر خاندانوں کے اور طبقوں پر طبقوں کے تفوق کا ایک مستقل نظریہ وضع کیا جاتا ہے اور اس طرح جاہل عوام پر مذہب کا جال پھیلا کر ظالمانہ تسلط قائم کر لیا جاتا ہے۔ بخلاف اس کے خالص جاہلی سوسائٹی میں یہ خرابیاں نسل پرستی قوم پرستی، قومی امپیریلزم ڈکٹیٹر شپ سرمایه داری اور طبقاتی نزاع کی شکل اختیار کرتی ہیں۔ لیکن جہاں تک روح اور جو ہر کا تعلق ہے انسان پر انسان کی خدائی مسلط کرنے انسان کو انسان سے پھاڑنے اور انسانیت کو تقسیم کر کے ایک ہی نوع کے افراد کو ایک دوسر کے لیے صیاد بنانے میں دونوں ایک سطح پر ہیں۔

جاہلیت راہبانہ: تیسر اما بعد الطبیعی نظریہ رہبانیت پرمبنی ہے اور اس کا خلاصہ یہ ہے کہ:

یہ دنیا اور یہ جسمانی وجود انسان کےلیےایک دار العذاب ہے۔انسان کی روح اس قفس عصری میں در اصل ایک سزا یافتہ قیدی کی حیثیت رکھتی ہے۔ لذات و خواہشات اور تمام و ضروریات جو اس جسمانی تعلق کی وجہ سےانسان کو لاحق ہوتی ہیں دراصل اس قید خانہ کےطوق سلاسل ہیں۔ انسان اس دنیا اور اس کی چیزوں سے جتنا تعلق رکھے گا اتنا ہی گندگی سے آلودہ ہوگا اور اسی قدر مزید عذاب کا مستحق بن جائے گا۔ نجات کی صورت اس کے سوا کوئی نہیں کہ اس زندگی کے بکھیڑوں سےقطع تعلق کیا جائے،خواہشات کو مٹایا جائے، لذات سےکنارہ کشی کی جائےجسمانی ضروریات اور نفس کے مطالبات کو پورا کرنےسےانکار کیا جائے، ان تمام محبتوں کو جو دنیوی اشیاء اور گوشت وخون کی رشتہ داریوں کے ساتھ پیدا ہوتی ہیں، دل سے نکال دیا جائے اور اپنے اس دشمن ، یعنی نفس و جسم کو مجاہدات وریاضات کے ذریعہ سے اتنی تکلیفیں دی جائیں کہ روح پر اس کا تسلط قائم نہ رہ سکے۔اس طرح روح ہلکی اور پاک صاف ہو جائےگی اور نجات کے بلند مقامات پر اڑنے کی طاقت حاصل کر لے گی۔

یہ نظریہ بجائے خود غیر تمدنی (Anti-Social) نظریہ ہے، مگر تمدن پر یہ متعدد طریقوں سے اثر انداز ہوتا ہے۔ اس کی بنیاد پر ایک خاص قسم کا نظام فلسفہ بنتا ہے جس کی مختلف شکلیں ویدانتزام، مانویت اشراقیت (Neo-Platonism) 'یوگ تصوف مسیحی رہبانیت اور بدھ ازم وغیرہ ناموں سے مشہور ہیں۔ اس فلسفہ کے ساتھ ایک ایسا نظامِ اخلاق وجود میں آتا ہے جو بہت کم ایجابی (Positive) اور بہت زیادہ بلکہ تمام ترسلبی (Negative) نوعیت کا ہے۔یہ دونوں چیزیں مل جل کر لٹریچر عقاید اخلاقیات اور عملی زندگی میں نفوذ کرتی ہیں اور جہاں جہاں ان کے اثرات پہنچتے ہیں وہاں افیون اور کوکین کا کام کرتے ہیں۔

پہلی دونوں قسم کی جاہلیتوں کے ساتھ اس تیسری قسم کی جاہلیت کا تعاون عموما تین صورتوں سے ہوتا ہے۔

(۱) راهبان جاہلیت انسانی جماعت کےنیک اور پاکباز افراد کو دنیا کے کاروبار سےہٹا کر گوشه عزلت میں لے جاتی ہے اور بدترین قسم کے شریر افراد کے لیے میدان صاف کر دیتی ہے۔بدکار لوگ خدا کی زمین کے متولی بن کر آزادی کے ساتھ فساد پھیلاتے ہیں اور نیک لوگ اپنی نجات کی فکر میں تپسیا کیسے چلے جاتے ہیں۔

(۲) اس جاہلیت کے اثرات جہاں تک عوام میں پہنچتے ہیں وہ ان کے اندر غلط قسم کا صبر وتل اور مایوسانہ نقطہ نظر پیدا کر کے انہیں ظالموں کے لیے نرم نوالہ بنا دیتے ہیں۔ اسی وجہ سے ہمیشہ بادشاہ امراء اور مذہبی اقتدار رکھنے والے طبقے اس راہبانہ فلسفہ و اخلاق کی اشاعت میں خاص دلچسپی لیتے رہے ہیں اور یہ خوب آرام سے ان کی سرپرستی میں پھیلتا رہا ہے۔ تاریخ میں کوئی مثال ایسی نہیں ملتی کہ امپیریلزم سرمایہ داری اور پاپائیت سے اس راہبانہ فلسفہ واخلاق کی کبھی لڑائی ہوئی ہو۔

(۳) جب یہ راہبانہ فلسفہ واخلاق انسانی فطرت سے شکست کھا جاتا ہے تو کتاب الحیل کی تصنیف شروع ہو جاتی ہے۔کہیں کفارے کا عقیدہ ایجاد ہوتا ہے تا کہ دل کھول کر گناہ کیا جاسکے اور جنت بھی ہاتھ سے نہ جائے۔ کہیں ہوس رانی کے لیے عشق مجازی کا حیلہ نکالا جاتا ہے تاکہ دل کی لگی بجھا بھی لی جائے اور تقدس بھی جوں کا توں قائم رہے۔ اور کہیں ترک دنیا کے پردے میں بادشاہوں اور رئیسوں سے سانٹھ گانٹھ کی جاتی ہے اور روحانی امارت کا وہ جال پھیلایا جاتا ہے جس کی بدترین مثالیں روم کے پاپاؤں اور مشرقی دنیا کے گدی نشینوں نے پیش کی ہیں۔

یہ تو اس جاہلیت کا معاملہ اپنی ہم جنس بہنوں کے ساتھ ہے۔ مگر انبیاء علیہم السلام کی امتوں میں جب یہ گھنس آتی ہے تو کچھ اور ہی گل کھلاتی ہے۔ خدا کے دین پر اس کی پہلی ضرب یہ ہوتی ہےکہ یہ دنیا کو دارالعمل ،دار الامتحان اور مزرعہ الآخرة کےبجائے دار العذاب اور "مایا کے جال“ کی حیثیت سے آدمی کے سامنے پیش کرتی ہے نقطہ نظر کے اس بنیادی تغیر کی وجہ سے آدمی یہ حقیقت بھول جاتا ہے کہ وہ اس دنیا میں خدا کے خلیفہ کی حیثیت سے مامور ہے۔ وہ یہ خیال کرنےلگتا ہےکہ میں یہاں کام کرنےاور دنیا کے معاملات کو چلانےنہیں آیا ہوں بلکہ گندگی و نجاست میں پھینکا گیا ہوں جس سے مجھے بچنا اور دور بھاگنا چاہیے۔ میرے لیے صحیح پوزیشن یہ ہے کہ میں یہاں نان کو آپریٹر کی طرح رہوں اور ذمہ داریوں کو قبول کرنے کے بجائے ان سے کنارہ کروں۔ اس تصور کے ساتھ آدمی دنیا اور اس کے معاملات پر سبھی ہوئی نگاہ ڈالنے لگتا ہے اور بار خلافت کو سنبھالنا تو در کنار بار تمدن کو بھی اپنے سر لیتے ہوئے ڈرتا ہے۔ اس کے لیے پورا نظام شریعت بے معنی ہو کر رہ جاتا ہے۔ عبادات اور او امر و نواہی کا یہ مفہوم بالکل ساقط ہو جاتا ہے کہ یہ حیات دنیا کی اصلاح اور فرائض خلافت کی انجام دہی کے لیے تیار کرنے والی چیز میں ہیں، برعکس اس کے آدمی یہ سمجھنے لگتا ہےکہ عبادات اور چند خاص مذہبی اعمال اس گناہِ زندگی کا کفارہ ہیں بس انہی کو پورے انہماک سےٹھیک ناپ تول کے ساتھ انجام دیتے رہنا چاہیے تا کہ آخرت میں نجات حاصل ہو۔

اس ذہنیت نے انبیاء کی امتوں میں سے ایک گروہ کو مراقبہ و مکاشفہ چله کشی و ریاضت اور اور اد و ظائف احزاب و اعمال١ سیر مقامات_٢ اور حقیقت کی فلسفیانہ تعبیروں_٣ کے چکر میں ڈال دیا اور مستحبات و نوافل کے الزام میں فرائض سے بھی زیادہ منہمک کر کے خلافت الہیہ کےاس کام سے غافل کر دیا جس کو جاری کرنے کے لیے انبیاء علیہم السلام آئے تھے ۔ اور دوسرے گروہ میں تقشف، تعمق فی الدین غلو موشگافی ، چھوٹی چھوٹی چیزوں کی ناپ تول اور جزئیات کے ساتھ غیر معمولی اہتمام کی بیماری پیدا کر دی حتی کہ ان کے لیے خدا کا دین ایک ایسا نازک آبگینہ ہو گیا جو ذرا ذراسی باتوں سے نھیں کھا کر پاش پاش ہو جاتا ہے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ ان بے چاروں کا سارا وقت بس اسی دیکھ بھال کی نذر ہونے لگا کہ کہیں کچھ اونچ نیچ نہ ہو جائے اور یہ شیشے کا برتن جو سر پر ارکھا ہے۔ کھیل کھیل ہو کر نہ رہ جائے۔ دین میں اتنی باریکیاں نکل آنے کے بعد ناگزیر ہے کہ جمود تنگ خیالی اور کم حوصلگی پیدا ہو ۔ ایسے لوگوں میں کہاں یہ قابلیت باقی رہ سکتی ہے کہ نگاہ جہاں ہیں سے انسانی زندگی کے بڑے بڑے مسائل پر نظر ڈالیں، دین کے عالمگیر اصول وکلیات پر گرفت حاصل کریں اور زمانہ کی ہر نئی گردش میں دنیا کی امامت در رہنمائی کے لیے مستعد ہوں۔


١- اعمال سے مراد عملیات ہیں جن سے بڑھ کر بے عملی کی کوئی صورت انسانی ذہن آج تک ایجاد نہیں کر سکا۔

٢- مقامات ارضی نہیں بلکہ مقامات روحانی سے

٣- مثلا وحدة الوجود ۔

اسلام : چوتھا مابعد الطبیعی نظر یہ وہ ہے جسے انبیاء علیہم السلام نے پیش کیا ہے۔ اس کا خلاصہ یہ ہے:

یہ سارا عالم ہست و بود جو ہمارے گرد و پیش پھیلا ہوا ہے اور جس کا ایک جزو ہم خود ہیں دراصل ایک بادشاہ کی سلطنت ہے۔ اس نے اس کو بنایا ہے وہی اس کا مالک ہے اور وہی اس کا واحد حاکم ہے۔ اس سلطنت میں کسی کا حکم نہیں چلتا۔ سب کے سب تابع فرمان ہیں اور اختیارات بالکلیہ اسی ایک مالک وفرمانروا کے ہاتھ میں ہیں۔

انسان اس مملکت میں پیدائشی رعیت ہے۔ یعنی رعیت ہونا یا نہ ہونا اس کی مرضی پر موقوف نہیں، بلکہ یہ رعیت ہی پیدا ہوا ہےاور رعیت کے سوا کچھ اور ہونا اس کے امکان میں نہیں ہے۔اس نظام حکومت کے اندر انسان کی خود مختاری و غیر ذمہ داری کے لیے کوئی جگہ نہیں، نہ فطرة ہو سکتی ہے۔ پیدائشی رعیت اور ایک جز و مملکت ہونے کی حیثیت سے اس کے لیے کوئی راستہ اس کے سوا نہیں ہے کہ جس طرح مملکت کے تمام اجزا بادشاہ کے امر کی اطاعت کر رہے ہیں اسی طرح یہ بھی کرے۔ یہ خود اپنے لیے طریق زندگی وضع کرنے اور اپنی ڈیوٹی آپ تجویز کر لینے کا حق نہیں رکھتا۔ اس کا کام صرف یہ ہے کہ مالک الملک کی طرف سے جو ہدایت آئے اس کی پیروی کرے۔اس ہدایت کے آنے کا ذریعہ وحی ہے اور جن انسانوں کے پاس وہ آتی ہے وہ نبی ہیں۔

مگر انسان کی آزمائش کے لیے مالک نے یہ لطیف طریقہ اختیار کیا ہے کہ آپ بھی چھپ گیا اور اپنی سلطنت کا وہ پورا اندرونی انتظام بھی چھپا دیا،جس سے وہ تدبیر امر کرتا ہے۔ ظاہر میں سلطنت اس طرح چل رہی ہے کہ نہ اس کا کوئی حاکم نظر آتا ہے نہ کار پرداز دکھائی دیتے ہیں۔انسان صرف ایک کارخانہ چلتا ہوا دیکھتا ہے، اس کے درمیان اپنے آپ کو موجود پاتا ہے اور ظاہر حواس سے کہیں یہ محسوس نہیں ہوتا کہ میں کسی کا محکوم ہوں اور کسی کو مجھے حساب دینا ہے۔اعیان و شہود میں کوئی ایسی نشانی نمایاں نہیں ہوتی کہ اس پر فرمانروائے عالم کی حاکمیت اور اپنی محکومیت و مسئولیت (Responsibility) کا حال غیر مشتبہ طور پر کھل جائے، یہاں تک کہ مانے بغیر چارہ نہ رہے۔ نبی بھی آتے ہیں تو اس طرح نہیں کہ ان کے او پر عیا ناوحی اترتی دکھائی دے یا کوئی ایسی صریح علامت ان کے ساتھ اترے جس کو دیکھ کر ان کی نبوت ماننے کے سوا چارہ نہ رہے۔ پھر آدمی ایک حد کے اندر اپنے آپ کو بالکل مختار پاتا ہے۔ بغاوت کرنا چاہے تو اس کی قدرت دےدی جاتی ہے ذرائع بہم پہنچا دیئے جاتے ہیں اور بڑی بھی ڈھیل دی جاتی ہے حتی کہ شرارت و عصیان کی آخری حدود کو پہنچنے تک کوئی رکاوٹ اسے پیش نہیں آتی ۔ مالک کے سوا دوسروں کی بندگی کرنا چاہے تو اس سے بھی زبردستی اس کو نہیں روکا جا تا پوری آزادی دےدی جاتی ہے کہ جس جس کی بندگی، عبادت، اطاعت کرنا چاہے۔دونوں صورتوں، یعنی بغاوت اور بندگی غیر کی صورتوں میں رزق برابر ملتا ہے، سامان زندگی وسائل کار اسباب عیش حسب حیثیت خوب دیئے جاتے ہیں، اور مرتے دم تک دیئے جاتے رہتے ہیں۔ کبھی ایسا نہیں ہوتا کہ کسی باغی یا کسی بندہ غیر سے محض اس جرم کی پاداش میں اسباب دنیا روک لیے جائیں۔ یہ سارا طرز کارروائی صرف اس لیے ہے کہ خالق نے انسان کو عقل، تمیز، استدلال ارادہ و اختیار کی جو قو تیں دی ہیں اور اپنی بے شمار مخلوقات پر اس کو ایک طرح کے حاکمانہ تصرف کی جو قدرت بخشی ہے اس میں وہ اس کی آزمائش کرنا چاہتا ہے۔ اسی آزمائش کی تکمیل کے لیے حقیقت پر غیب کا پردہ ڈالا گیا ہے تا کہ انسان کی عقل کا امتحان ہو۔ انتخاب کی آزادی بخشی گئی ہے تا کہ اس امر کا امتحان ہو کہ آدمی حق کو جاننے کے بعد کسی مجبوری کے بغیر خود اپنی رضا در غبت سے اس کی پیروی کرتا ہے یا خواہشات کی غلامی اختیار کر کے اس سےمنہ موڑ جاتا ہے۔ اسباب زندگی کا سرمایہ وسائل اور کام کا موقع نہ دیا جائے تو اس کی لیاقت و عدم لیاقت کا امتحان نہیں ہو سکتا۔

یه دنیوی زندگی چونکہ آزمائش کی مہلت ہے اس لیے یہاں نہ حساب ہے نہ جزانہ سزا۔ یہاں جو کچھ دیا جاتا ہے وہ کسی عمل نیک کا انعام نہیں بلکہ امتحان کا سامان ہے۔ اور جو تکالیف مصائب شدائد وغیرہ پیش آتے ہیں وہ کسی عمل بد کی سزا نہیں بلکہ زیادہ تر اس قانون طبعی کے تحت جس پر اس دنیا کا نظام قائم کیا گیا ہے آپ سےآپ ظاہر ہونےوالےنتائج ہیں_١ اعمال کےاصلی حساب جانچ پڑتال اور فیصلہ کا وقت مہلت کی یہ زندگی ختم ہونے کے بعد ہے اور اسی کا نام آخرت ہے۔ لہذا دنیا میں جو کچھ نتائج ظاہر ہوتے ہیں وہ کسی طریقہ یا کسی عمل کے صحیح یا غلط نیک یا بد اور قابل اخذ یا قابل ترک ہونے کا معیار نہیں بن سکتے ۔ اصلی معیار آخرت کے نتائج ہیں اور یہ علم کہ آخرت میں کس طریقہ اور کس عمل کا نتیجہ اچھا اور کس کا برا ہو گا صرف اس وحی کے ذریعہ سےحاصل ہو سکتا ہے جو اللہ تعالیٰ کی طرف سےانبیاء پر نازل ہوئی ہے۔ جزئیات و تفصیلات سے قطع نظر فیصلہ کن بات جس پر آخرت کی فلاح یا خسر ان کا مدار ہے یہ ہے کہ اولا انسان اپنی قوت نظر و استدلال کے صحیح استعمال سے اللہ تعالیٰ کے حاکم حقیقی ہونے اور اس کی طرف سے آئی ہوئی ہدایت کے منجانب اللہ ہونےکو پہچانتا ہے یا نہیں۔ ثانیا اس حقیقت سےواقف ہونے کے بعد وہ آزادی انتخاب رکھنے کے باوجود ) اپنی رضا و رغبت سے اللہ کی حاکمیت اور اس کے امر شرعی کےآگے سر تسلیم خم کرتا ہے یا نہیں ۔

یہ وہ نظریہ ہے جسے ابتدا سے انبیاء علیہم السلام پیش کرتے آئے ہیں۔ اس نظریہ کی بنیاد پر تمام واقعات عالم کی مکمل توجیه (Explanation) ہوتی ہے،کائنات کے تمام آثار (Phenomena) کی پوری تعبیر ملتی ہے اور کسی مشاہدے یا تجربے سےیہ نظر یہ ٹوٹتا نہیں۔ یہ ایک مستقل نظام فلسفہ پیدا کرتا ہے جو جاہلیت کے فلسفوں سے بنیادی طور پر بالکل مختلف ہوتا ہے۔ کائنات اور خود وجود انسانی کے متعلق معلومات کے پورے ذخیرہ کو ایک دوسرے ڈھنگ پر مرتب کرتا ہے جس کی ترتیب جاہلی علوم کی ترتیب سے سراسر متباین ہوتی ہے۔ ادب اور ہنر (Art and Literature) کے نشوونما کا ایک الگ راستہ بناتا ہے جو جاہلی ادب و ہنر کے تمام راستوں سے متفائر ہوتا ہے۔ زندگی کے جملہ معاملات میں ایک خاص زاویہ نظر اور ایک خاص مقصد پیدا کرتا ہے جو جاہلی مقاصد و نقطہ ہائے نظر سے اپنی روح اور اپنے جو ہر میں کسی طرح میل نہیں کھاتا۔ اخلاق کا ایک علیحدہ نظام بناتا ہے جس کو جاہلی اخلاقیات سے کوئی مناسبت نہیں ہوتی ۔ پھر ان علمی و اخلاقی بنیادوں پر جس تہذیب کی عمارت اٹھتی ہے،اس کی نوعیت تمام جاہلی تہذیبوں کی نوعیت سےقطعا مختلف ہوتی ہے اور اس کو سنبھالنے کے لیے ایک اور ہی طرز کے نظامِ تعلیم و تربیت کی ضرورت ہوتی ہے جس کے اصول جاہلیت کے ہر نظام تعلیم وتربیت سے کامل تضاد کی نسبت رکھتے ہیں۔ فی الجملہ اس تہذیب کی رگ رگ اور ریشہ ریشہ میں جو روح کام کرتی ہے وہ اللہ واحد قہار کی حاکمیت، آخرت کے اعتقاد اور انسان کے محکوم و ذمہ دار ہونے کی روح ہے۔ بخلاف اس کے ہر جاہلی تہذیب کے پورے نظام میں انسان کی خود مختاری بے قیدی و بےمہاری اور غیر ذمہ داری کی روح سرایت کیے ہوئے ہوتی ہے۔ اسی لیے انسانیت کا جو نمونہ انبیاء علیہم السلام کی قائم کی ہوئی تہذیب سے تیار ہوتا ہے اس کے خدوخال اور رنگ و روغن جاہلی تہذیب کے بنائے ہوئے نمونہ سے ہر جڑو اور ہر پہلو میں جدا ہوتی ہیں۔


١- اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ اس دنیا میں قانون مکافات سرے سے کارفرما ہے ہی نہیں۔ بلکہ جو کچھ میں کہنا چاہتا۔ہوں وہ یہ ہے کہ یہاں کی مکافات دوٹوک اور حتمی اور صریح نہیں ہے اور اس آزمائش کا عصر ہر دنیوی جزا اور سزا پر غالب ہے۔ اس لیے یہاں اعمال کے جو نتائج ظاہر ہوتے ہیں ان کو اخلاقی حسن و قبح کا معیار نہیں ٹھیرایا جاسکتا۔

اس کے بعد تمدن کی تفصیلی صورت جو اس بنیاد پر بنتی ہے اس کا سارا نقشہ دنیا کے دوسرےنقشوں سے بدلا ہوا ہوتا ہے۔ طہارت، لباس، خوراک، طرز زندگی، آداب و اطوار، شخصی کردار کسب معاش صرف دولت ازدواجی زندگی، خاندانی زندگی معاشرتی رسوم، مجلسی طریقے انسان اور انسان کے تعلق کی مختلف شکلیں، لین دین کے معالات دولت کی تقسیم مملکت کا انتظام حکومت کی تشکیل امیر کی حیثیت شوری کا طریقہ سول سروسکی تنظیم قانون کے اصول، تفصیلی ضوابط کا اصول سے استنباط عدالت،پولیس،احتساب مالگذاری فینانس‘ امور نافعه (Public Works) صنعت و تجارت، خبر رسانی ، تعلیمات اور دوسرے تمام محکموں کی پالیسی، فوج کی تربیت و تنظیم جنگ و صلح کے معاملات تک اس تمدن کا طور و طریق اپنی ایک مستقل شان رکھتا ہے اور ہر ہر جز میں ایک واضح خط امتیاز اس کو دوسرے تمدنوں سے الگ کرتا ہے۔ اس کی ہر چیز میں اوّل سے آخر تک ایک خاص نقطہ نظر ایک خاص مقصد اور ایک خاص اخلاقی رویہ کارفرما ہوتا ہے جس کا براہ راست تعلق خدائے واحد کی حاکمیت مطلقه اور انسان کی محکومیت و مسئولیت اور دنیا کے بجائے آخرت کی مقصودیت سے جڑا ہوا ہوتا ہے۔

انبیاء علیہم السلام کا مشن : اسی تہذیب و تمدن کو دنیا میں قائم کرنے کے لیے انبیاء علیہم السلام پے در پے بھیجے گئے تھے۔

رہبانی تہذیب کومستی کر کے ہر وہ تہذیب جو دنیا کی زندگی کے متعلق ایک جامع نظریه اور کاروبار دنیا کو چلانے کے لیے ایک ہمہ گیر طریقہ رکھتی ہو، قطع نظر اس سے کہ وہ جاہلیت کی تہذیب ہو یا اسلام کی طبعا اس بات کی طالب ہوتی ہے کہ حاکمانہ اختیارات پر قبضہ کرئے زمام کار اپنےہاتھ میں لے اور زندگی کا نقشہ اپنے طرز پر بنائے۔ حکومت کے بغیر کسی ضابطہ و نظریہ کو پیش کرنایا اس کا معتقد ہو نا محض بے معنی ہے۔ راہب تو دنیا کے معاملات کو چلانا ہی نہیں چاہتا بلکہ ایک خاص قسم کے سلوک سے اپنی خیالی نجات کی منزل تک باہر ہی باہر پہنچ جانےکی فکر میں لگا رہتا ہےاس لیےنہ اس کو حکومت کی حاجت نہ طلب۔مگر جو دنیا کےمعاملات ہی کو چلانے کا ایک خاص ڈھنگ لے کر اٹھے اور اسی ڈھنگ کی پیروی میں انسان کی فلاح و نجات کا معتقد ہو اس کے لیے تو بجز اس کے کوئی چارہ ہی نہیں کہ اقتدار کی کنجیوں پر قبضہ کرنے کی کوشش کرے۔ کیونکہ جب تک وہ اپنے نقشے پر عملدرآمد کرنے کی طاقت حاصل نہ کرلئے اس کا نقشہ واقعات کی دنیا میں قائم نہیں ہو سکتا۔ بلکہ کاغذ پر اور ذہنوں میں بھی زیادہ عرصہ تک باقی نہیں رہ سکتا۔ جس تہذیب کے ہاتھ میں زمام کار ہوتی ہے دنیا کا سارا کاروبار اسی کے نقشہ پر چلتا ہے۔ وہی علوم وافکار اور فنون و آداب کی رہنمائی کرتی ہے وہی اخلاق کے سانچے بناتی ہے وہی تعلیم وتربیت عامہ کا انتظام کرتی ہے، اسی کے قوانین پر سارا نظام تمدن منی ہوتا ہے اور اسی کی پالیسی ہر شعبہ زندگی میں کارفرما ہوتی ہے۔ اس طرح زندگی میں کہیں بھی اس تہذیب کےلیےکوئی جگہ نہیں ہوتی جو اپنی حکومت نہ رکھتی ہو یہاں تک کہ جب ایک طویل مدت تک حکمران تہذیب کا دور دورہ رہتا ہے تو غیر حکمران تہذیب عمل کی دنیا میں خارج از بحث ہو جاتی ہے، اس کی طرف ہمدردانہ نقطہ نظر ر کھنےوالوں کو بھی اس امر میں شبہ لیڈر شپ کے بزعم خود وارثین تک تہذیب مخالف سے مدارات (Compromise) اور آدھے پونے کا مشترک معاملہ کرنے پر اتر آتے ہیں۔ حالانکہ حکمرانی میں دو بالکل مختلف الاصول تہذیبوں کے درمیان مقاسمت و مصالحت قطعی غیر ممکن العمل چیز ہے اور انسانی تمدن اس شرک کو برداشت نہیں کر سکتا۔ پٹائی کوممکن العمل خیال کرنا عقل کی کمی پر دلالت کرتا ہے اور اس کے لیے راضی ہوتا ایمان اور ہمت کی کمی پر۔

پس دنیا میں انبیاء علیہم السلام کے مشن کا منتہائے مقصود یہ رہا ہے کہ حکومت الہیہ قائم کر کےاس پورے نظام زندگی کو نافذ کریں جود و خدا کی طرف سے لائے تھے۔ وہ اہل جاہلیت کو یہ حق تو دینے کے لیے تیار تھے کہ اگر چاہیں تو اپنے جاہلی اعتقادات پر قائم رہیں اور جس حد کے اندران کے عمل کا اثر انہی کی ذات تک محدود رہتا ہے اس میں اپنے جاہلی طریقوں پر چلتے رہیں ۔ مگر وہ انہیں یہ حق دینے کے لیے تیار نہ تھے اور فطرہ نہ دے سکتے تھے کہ اقتدار کی کنجیاں ان کے ہاتھ میں رہیں اور وہ انسانی زندگی کے معاملات کو طاقت کے زور سے جاہلیت کے قوانین پر چلا ئیں۔ اسی وجہ سے تمام انبیاء نے سیاسی انقلاب برپا کرنے کی کوشش کی۔ بعض کی مساعی صرف زمین تیار کرنے کی حد تک رہیں، جیسے حضرت ابراہیم ۔ بعض نے انقلابی تحریک عملا شروع کر دی مگر حکومت الہیہ قائم کرنے سے پہلے ہی ان کا کام ختم ہو گیا ، جیسے حضرت مسیح " ۔ اور بعض نے اس تحریک کو کامیابی کی منزل تک پہنچادیا جیسے حضرت یوسف حضرت موسیٰ“ اور سیدنا محمدصلی اللہ علیہ وسلم -


١-موجودہ زمانے میں بعض دیندار بزرگوں کی زبان سے یہ فقرہ اکثر سنے میں آتا ہے کہ حکومت مقصود نہیں بلکہ موعود ہے۔ یہ بات جو حضرات فرماتے ہیں ان کے ذہن میں در اصل حکومت کے محض انعام ہونے کا تصور ہےاس کے ڈیوٹی اور خدمت ہونے کا تصور نہیں ہے۔ وہ نہیں جانتے کہ دین کو عملا قائم کرنے کے لیےجس حکومت کی ضرورت ہے اس کا قیام خدا کی شریعت میں مطلوب و مقصود ہے اور اس کے لیے جہاد کرنا فرض ہے۔

نبی کے کام کی نوعیت: فی الجمله تمام انبیاء کے کام پر مجموعی حیثیت سے جب ہم نظر ڈالتے ہیں تو اس کام کی نوعیت یہ پائی جاتی ہے۔

١- عام انسانوں کے اندر فکری و ذہنی انقلاب بر پا کرنا۔ خالص اسلامی نقطہ نظر و طرز فکر اور رویہ اخلاقی کو ان کے اندر اس حد تک پیوست کر دینا کہ ان کے سوچنے کا طریقہ زندگی کا مقصد قدر وقیمت کا معیار اور عمل کا ڈھنگ بالکل اسلام کے سانچے میں ڈھل جائے۔

۲۔ جو لوگ اس تعلیم و تربیت کا اثر قبول کر لیں ان کا ایک مضبوط جتھا بنا کر جاہلیت کےہاتھوں سے اقتدار چھینے کی جدو جہد کرنا اور اس جدو جہد میں تمام ان اسباب سے کام لینا جو وقت کے تبدن میں موجود ہوں۔

٣۔ اسلامی نظام حکومت قائم کر کے تمدن کے تمام شعبوں کو خالص اسلام کی اساس پر مرتب کر دینا اور ایسی تدابیر اختیار کرنا کہ ایک طرف اسلامی انقلاب کا دائرہ روئے زمین پر وسیع ہوتا جائے اور دوسری طرف تبلیغ اور تناسل کے ذریعہ سے جماعت اسلامی میں جتنی نئی بھرتی ہو اس کی ذہنی و اخلاقی تربیت پورے اسلامی طرز پر ہوتی رہے۔

خلافت راشده :خاتم النحمین سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم نےیہ سارا کام ۲۳ سال کی مدت میں پایہ تکمیل کو پہنچا دیا۔ آپ کے بعد ابو بکرصدیق اور عمر فاروق رضی اللہ عنہما دو ایسے کامل لیڈر اسلام کومیسر آئے جنہوں نے اس جامعیت کے ساتھ آپ کے کام کو جاری رکھا۔ پھر زمامِ قیادت حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی طرف منتقل ہوئی اور ابتداء چند سال تک وہ پورا نقشہ بدستور جمارہا جو نبی علیہ الصلوۃ والسلام نے قائم کیا تھا۔

جاہلیت کا حملہ: مگر ایک طرف حکومت اسلامی کی تیز رفتار وسعت کی وجہ سے کام روز بروز زیادہ سخت ہوتا جارہا تھا اور دوسری طرف حضرت عثمان جن پر اس کا عظیم کا بار رکھا گیا تھا، ان تمام خصوصیات کے حامل نہ تھے جو ان کے جلیل القدر پیش رووں کو عطا ہوئی تھیں علاس لیے ان کےزمانہ خلافت میں جاہلیت کو اسلامی نظام اجتماعی کے اندر گھس آنے کا موقع مل گیا۔ حضرت عثمان نے اپنا سر دے کر اس خطرے کا راستہ روکنےکی کوشش کی مگر وہ نہ رُکا۔اس کےبعد حضرت علی رضی اللہ عنہ آگے بڑھے اور انہوں نےاسلام کےسیاسی اقتدار کو جاہلیت کےتسلط سےبچانےکی انتہائی کوشش کی مگر ان کی جان کی قربانی بھی اس انقلاب معکوس (Counter Revolution) کو نہ روک سکی۔ آخر کار خلافت علی منہاج النبوۃ کا دور ختم ہو گیا۔ ملک عفوض (Tyrant Kingdom) نے اس کی جگہ لے لی اور اس طرح حکومت کی اساس اسلام کے بجائے پھر جاہلیت پر قائم ہوگئی۔

جاہلیت کا حملہ: مگر ایک طرف حکومت اسلامی کی تیز رفتار وسعت کی وجہ سے کام روز بروز زیادہ سخت ہوتا جارہا تھا اور دوسری طرف حضرت عثمان جن پر اس کا عظیم کا بار رکھا گیا تھا، ان تمام خصوصیات کے حامل نہ تھے جو ان کے جلیل القدر پیش رووں کو عطا ہوئی تھیں علاس لیے ان کےزمانہ خلافت میں جاہلیت کو اسلامی نظام اجتماعی کے اندر گھس آنے کا موقع مل گیا۔ حضرت عثمان نے اپنا سر دے کر اس خطرے کا راستہ روکنےکی کوشش کی مگر وہ نہ رُکا۔اس کےبعد حضرت علی رضی اللہ عنہ آگے بڑھے اور انہوں نےاسلام کےسیاسی اقتدار کو جاہلیت کےتسلط سےبچانےکی انتہائی کوشش کی مگر ان کی جان کی قربانی بھی اس انقلاب معکوس (Counter Revolution) کو نہ روک سکی۔ آخر کار خلافت علی منہاج النبوۃ کا دور ختم ہو گیا۔ ملک عفوض (Tyrant Kingdom) نے اس کی جگہ لے لی اور اس طرح حکومت کی اساس اسلام کے بجائے پھر جاہلیت پر قائم ہوگئی۔

حکومت پر قبضہ کرنے کے بعد جاہلیت نے مرض سرطان کی طرح اجتماعی زندگی میں اپنےریشے بتدریج پھیلا نے شروع کر دیئےکیونکہ اقتدار کی کنجی اب اسلام کے بجائے اس کےہاتھ میں تھی اور اسلام زور حکومت سےمحروم ہونے کے بعد اس کے نفوذ واثر کو بڑھنے سے نہ روک سکتا تھا۔ سب سے بڑی مشکل یہ تھی کہ جاہلیت بے نقاب ہو کر سامنے نہ آئی تھی بلکہ "مسلمان“ بن کر آئی تھی۔کھلے دہریے یا مشرکین و کفار سامنے ہوتے تو شاید مقابلہ آسان ہوتا۔ مگر وہاں تو آگےآگے توحید کا اقرار رسالت کا اقرار صوم و صلوٰۃ پر عمل، قرآن وحدیث سے استشہاد تھا اور اس کےپیچھے جاہلیت اپنا کام کر رہی تھی ۔ ایک ہی وجود میں اسلام اور جاہلیت کا اجتماع ایسی سخت پیچیدگی پیدا کر دیتا ہے کہ اس سےعہدہ برآ ہونا ہمیشہ جاہلیت صریحہ کے مقابلہ کی بہ نسبت ہزاروں گنا زیادہ مشکل ثابت ہوا ہے۔عریاں جاہلیت سے لڑیئے تو لاکھوں مجاہدین سر ہتھیلیوں پر لیے آپ کےساتھ ہو جائیں گے اور کوئی مسلمان علانیہ اس کی حمایت نہ کر سکے گا۔ مگر اس مرکب جاہلیت سےلڑنے جائے تو منافقین ہی نہیں، بہت سے اصلی "مسلمان" بھی اس کی حمایت پر کمر بستہ ہو جائیں گےاور اُلٹا آپ کو مورد الزام بنا ڈالیں گے۔ جاہلی امارت کی مسند اور جاہلی سیاست کی رہنمائی پر "مسلمان" کا جلوہ افروز ہونا جاہلی تعلیم کے مدرسے میں مسلمان“ کا معلم ہونا جاہلیت کےسجادہ پر مسلمان کا مرشد بن کر بیٹھنا وہ زبردست دھوکا ہے جس کے فریب میں آنے سے کم ہی لوگ بچ سکتے ہیں۔


١- بعض مفتیان کرام نے اس فقرے سے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی توہین کا پہلو نکالا ہے۔حالانکہ میرا مدعا صرف یہ ہے کہ حضرت عثمان میں بعض ان اوصاف حکمرانی کی کمی تھی جو سیدنا ابوبکر صدیق اور سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہما میں بدرجه کمال پائے جاتے تھے۔ یہ تاریخ کا مسئلہ ہے جس کے بارے میں تاریخ کے طالب علم مختلف رائیں ظاہر کر سکتے ہیں۔ یہ کوئی فقہ وکلام کا مسئلہ نہیں ہے کہ دارالافتاؤں سے اس کے متعلق کوئی رائے بصورت فتویٰ صادر کی جائے۔

اس معکوس انقلاب کا سب سے زیادہ خطر ناک پہلو یہی تھا کہ اسلام کا نقاب اوڑھ کر تینوں قسم کی جاہلیتوں نے اپنی جڑیں پھیلانی شروع کر دیں اور ان کے اثرات روز بروز زیادہ پھیلتےچلے گئے۔

جاہلیت خالصہ نے حکومت اور دولت پر تسلط جمایا۔ نام خلافت کا تھا اور اصل میں وہی بادشاہی تھی جس کو مٹانے کے لیے اسلام آیا تھا۔ پادشاہوں کو الہ کہنے کی ہمت کسی میں باقی نہ تھی اس لیے السلطان سے ظل اللہ کا بہانہ اختیار کیا گیا اور اس بہانے سے وہی مطاع مطلق کی حیثیت پادشاہوں نے اختیار کی جوالہ کی ہوتی ہے۔ اس بادشاہی کے زیر سایہ امراء حکام ولاۃ اہل لشکر اور مترفین کی زندگیوں میں کم و بیش خالص جاہلیت کا نقطہ نظر پھیل گیا اور اس نے ان کے اخلاق اور معاشرت کو پوری طرح ماؤف کر دیا۔ پھر یہ بالکل ایک طبعی امر تھا کہ اس کے ساتھ ہی جاہلیت کا فلسفہ ادب اور ہنر بھی پھیلنا شروع ہو اور علوم و فنون بھی اسی طرز پر مرتب و مدون ہوں، کیونکہ یہ سب چیزیں لت اور حکومت کی سرپرستی چاہتی ہیں، اور جہاں دولت اور حکومت جاہلیت کےقبضہ میں ہوں وہاں ان پر بھی جاہلیت کا تسلط ناگزیر ہے۔ چنانچہ یہی وجہ ہے کہ یونان اور عجم کےفلسفے اور علوم و آداب نے اس سوسائٹی میں راہ پائی جو اسلام کی طرف منسوب تھی، اور اس لٹریچر کےاثر سے مسلمانوں میں ” کلامیات کی بخشیں شروع ہوئیں، اعتزال کا مسلک نکلا زندقہ اور الحاد پر پرزے نکالنے لگا اور عقائد کی موشگافیوں نے نئے نئے فرقے پیدا کر دیئے۔ اسی پر بس نہیں بلکہ رقص، موسیقی اور تصویر کشی جیسے خالص جاہلی آرٹ بھی از سر نو اُن قوموں میں بار پانے لگے جن کو اسلام نے ان فتنوں سے بچالیا تھا_١


١- اس میں شک میں نہیں کہ حدیث میں یہ الفاظ آئے ہیں مگر لوگوں نے ان کا بالکل غلط مفہوم لیا ہے۔ عربی زبان میں سلطان کے اصل معنی اقتدار کے ہیں۔ صاحب اقتدار کے لیے تو یہ لفظ محض مجاز ا استعمال ہوتا ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس لفظ کو اس کے اصل معنی میں استعمال فرمایا ہے نہ کہ مجازی معنی میں ۔ حضور کے ارشاد کا منشایہ ہےکہ حکومت و اقتدار در حقیقت اللہ تعالٰی کے اقتدار کا ایک پر تو ہے۔ جس شخص پر یہ پر تو ڈالا جائے وہ اگر اس کی عزت کو محوظ رکھے گا، یعنی حق اور انصاف کےمطابق حکومت کرے گا تو اللہ تعالیٰ اسے عزت دے گا اور جو شخص اس سایہ الہی کی اہانت کرے گا یعنی ظلم اور نفس پرستی کےساتھ حکومت کرے گا اللہ اس کو ذلیل کر دے گا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اس حکیمانه ارشاد کو تو ز مروڑ کر لوگوں نے بادشاہوں کو ظل اللہ قرارد ہے لیا اور حضور کے منشاء کے بالکل خلاف اسے بادشاہ پرستی کے لیے ایک مذہبی بنیاد بنا ڈالا۔

جاہلیت مشرکانہ نے عوام پر حملہ کیا اور توحید کے راستے سے ہٹا کر ان کو ضلالت کی بے شمار راہوں میں بھٹکا دیا۔ ایک صریح بت پرستی تو نہ ہوسکی باقی کوئی قسم شرک کی ایسی نہ رہی جس نے"مسلمانوں" میں رواج نہ پایا ہو۔پرانی جاہلی قوموں کےجولوگ اسلام میں داخل ہوئےتھےوہ اپنےساتھ بہت سےمشرکانہ تصورات لیےچلے آئےاور یہاں ان کو صرف اتنی تکلیف کرنی پڑی کہ پرانےمعبودوں کی جگہ بزرگانِ اسلام میں سےکچھ معبودتلاش کریں،پرانےمعبدوں کی جگہ مقابر اولیاء سےکام لیں اور پرانی عبادات کی رسموں کو بدل کرنئی رسمیں ایجاد کر لیں۔اس کام میں دنیا پرست علماء نےان کی بڑی مدد کی اور وہ بہت کی مشکلات ان کے راستہ سےدور کر دیں جو شرک کو اسلام کے اندر نصب کرنے پر پیش آسکتی تھیں۔انہوں نے بڑی دیدہ ریزی سےآیات اور احادیث کو توڑ مروڑ کر اسلام میں اولیاء پرستی اور قبر پرستی کی جگہ نکالی، مشرکانه اعمال کے لیے اسلام کی اصطلاحی زبان میں سے الفاظ بہم پہنچائے اور اس نئی شریعت کے لیے رسموں کی ایسی صورتیں تجویز کیں کہ شرک جلی کی تعریف میں نہ آسکیں ۔ اس فنی امداد کے بغیر اسلام کے دائرے میں شرک بے چارہ کہاں بار پا سکتا تھا؟ جاہلیت اہبانہ نے علماء و مشایخ ، زہاد اور پاکباز لوگوں پر حملہ کیا اور ان میں وہ خرابیاں پھیلانی شروع کیں جن کی طرف میں اس سے پہلے اشارہ کر آیا ہوں۔ اس جاہلیت کے اثر سےاشراقی فلسفه راہبانہ اخلاقیات اور زندگی کے ہر پہلو میں مایوسانہ نقطہ نظر مسلم سوسائٹی میں پھیلا اور اس نے نہ صرف یہ کہ ادبیات اور علوم کو متاثر کیا بلکہ فی الواقع سوسائٹی کے اچھے عناصر کو مارفیا کا انجکشن دے کرست کر دیا پادشاہی کے جاہلی نظام کو مضبوط کیا اسلامی علوم وفنون میں جمود اور تنگ خیالی پیدا کی اور ساری دینداری کو چند خاص مذہبی اعمال میں محدود کر کے رکھ دیا۔


١- مولانا شبلی اور جسٹس امیر علی جیسے لوگوں نے ان بادشاہوں کے ان کارناموں کو اسلامی تہذیب و تمدن کی خدمات میں شمار کیا ہے۔

مجددین کی ضرورت: انہی تینوں اقسام کی جاہلیتوں کے ہجوم سے اسلام کو نکالنا اور پھر سےچمکا دینا وہ کام تھا جس کےلیےدین کو مجددین کی ضرورت پیش آئی،اگر چہ یہ گمان کرنا صحیح نہ ہوگا کہ اس طغیان جاہلیت میں اسلام بالکل ختم ہو گیا تھا اور جاہلیت کلیتہ غالب آگئی تھی۔ واقعہ یہ ہے کہ جو قو میں اسلام سے متاثر ہو چکی تھیں یا بعد میں متاثر ہوئیں ان کی زندگیوں میں اسلام کا اصلاحی اثر تھوڑایا بہت ہمیشہ موجود رہا۔ یہ اسلام ہی کا اثر تھا کہ بڑے بڑے جبار و غیر ذمہ دار بادشاہ بھی کبھی کبھی خوف خدا سے کانپ اٹھتے تھے اور راستی و انصاف کا طریقہ اختیار کر لیتے تھے۔ یہ اسلام ہی کی برکت ہے کہ بادشاہی کی سیاہ تاریخ میں ہم کو جگہ جگہ نیکی اور اخلاق فاضله کی روشنی چمکتی نظر آتی ہے۔ یہ اسلام ہی کا طفیل ہے کہ جن شاہی خاندانوں میں خدائی کا رنگ جما ہوا تھا ان کی آغوش میں بہت سے دیندار عادل اور متقی انسان پیدا ہوئے اور انہوں نے شاہی اختیارات رکھنے کے باوجود حتی الامکان ذمہ دارانہ حکومت کی۔ اسی طرح امارت و ریاست کے ایوانوں میں، فلسفہ و حکمت کے مدرسوں میں، تجارت وصنعت کی کارگاہوں میں، ترک و تجرید کی خانقاہوں میں، اور زندگی کےدوسرے شعبوں میں بھی اسلام اپنے بالواسطہ اثرات کم و بیش برابر پہنچا تا رہا' اور عوام کے اندر بھی مشرکانہ جاہلیت کی دراندازی کے باوجود اس نے اعتقاد اخلاق اور معاشرت میں اصلاحی اور انسدادی دونوں حیثیتوں سے اپنا نفوذ جاری رکھا جس کی وجہ سے مسلمان قوموں کا معیار اخلاق بہر حال غیر مسلم قوموں سے ہمیشہ بلند تر رہا۔ علاوہ بریں ہر زمانے میں ایسے لوگ بھی برابر موجود رہے جو اسلام کی پیروی پر ثابت قدم تھے اور اسلامی علم وعمل کو اپنی زندگی میں اور اپنے محدود حلقہ اثر میں زندہ رکھنے کی کوشش کرتے تھے۔ لیکن جو مقصد اصلی انبیاء علیہم السلام کی بعثت کا تھا اس کےلیے یہ دونوں چیزیں ناکافی تھیں۔ نہ یہ بات کافی تھی کہ اقتدار جاہلیت کے ہاتھ میں ہو اور اسلام محض ایک ثانوی قوت کی حیثیت سے کام کرئے اور نہ یہی بات کافی تھی کہ چند افراد یہاں اور چند وہاں محدود انفرادی زندگیوں میں اسلام کے حامل بنے رہیں اور وسیع تر اجتماعی زندگی میں اسلام اور جاہلیت کے مختلف النوع مرکبات پھیلے رہیں۔ لہذا دین کو ہر دور میں ایسے طاقت ور اشخاص گروہوں اور اداروں کی ضرورت تھی اور ہے جو زندگی کی بگڑی ہوئی رفتار کو بدل کر پھر سے اسلام کی طرف پھیر دیں۔

شرح حديث "مَنْ يُجَدِّدُ لَهَا دِينَهَا : یہی وہ چیز ہے جس کی خبر مخبر صادق علیہ الصلوۃ والسلام نے اس حدیث میں دی ہے جو ابو داؤد میں حضرت ابو ہریرہ سے مروی ہے کہ:

ان الله يبعث لهذه الامة على رأس كل مأة سنة من يجددلها دينها .

اللہ ہر صدی کے سر پر اس امت کے لیےایسے لوگ اٹھاتا رہے گا جو اس کے لیے اس کے دین کو تازہ کریں گے۔

مگر اس حدیث سے بعض لوگوں نے تجدید اور مجددین کا بالکل ہی ایک غلط تصور اخذ کر لیا۔انہوں نے علی رأس كل ماہ سے صدی کا آغا ز یا اختتام مراد لے لیا اور من يجددلها کا مطلب یہ سمجھا کہ اس سے مراد لا ز نا کوئی ایک ہی شخص ہے۔ اس بنا پر انہوں نے تلاش کرنا شروع کر دیا کہ اسلام کی پچھلی تاریخوں میں کون کون ایسے اشخاص ملتے ہیں جو ایک ایک صدی کے آغا ز یا اختتام پر پیدا ہوئے یا مرے ہوں اور انہوں نے تجدید دین کا کام بھی کیا ہو۔ حالانکہ نہ راس سےمرا دسرا ہے اور حسن کا مفہوم فرد واحد تک محدود ہے۔ اس کے معنی سر کے ہیں اور صدی کے سر پر کسی شخص یا گروہ کے اٹھائے جانے کا مطلب صاف طور پر یہ ہے کہ وہ اپنے دور کے علوم افکار اور رفتار عمل پر نمایاں اثر ڈالے گا۔ اور مسن کا لفظ عربی زبان میں واحد اور جمع دونوں کے لیے استعمال ہوتا ہے اس لیے من سے مراد ایک شخص بھی ہو سکتا ہے، بہت سے اشخاص بھی ہو سکتے ہیں اور پورے پورے ادارے اور گروہ بھی ہو سکتے ہیں۔ حضور نے جو خبر دی ہے اس کا واضح مفہوم یہ ہے کہ انشاء اللہ اسلامی تاریخ کی کوئی صدی ایسے لوگوں سے خالی نہ گزرے گی جو طوفان جاہلیت کے مقابلےمیں اٹھیں گے اور اسلام کو اس کی اصلی روح اور صورت میں از سر نو قائم کرنے کی کوشش کرتےرہیں گے۔ ضروری نہیں کہ ایک صدی کا مجدد ایک ہی شخص ہو ۔ ایک صدی میں متعدد اشخاص اور گروہ یہ خدمت انجام دے سکتے ہیں۔ یہ بھی ضروری نہیں کہ تمام دنیائے اسلام کے لیے ایک ہی مجدد ہو۔ ایک وقت میں بہت سے ملکوں میں بہت سے آدمی تجدید دین کے لیے سعی کرنے والےہو سکتے ہیں۔ یہ بھی ضروری نہیں کہ وہ شخص جو اس سلسلے کی کوئی خدمت انجام دے مجدد کےخطاب سے نوازا جائے۔ یہ خطاب تو صرف ایسے اشخاص ہی کو دیا جاسکتا ہے جنہوں نے تجدید دین کے لیے کوئی بہت بڑا اور نمایاں کارنامہ انجام دیا۔

کتاب تجدید و احیائے دین
مصنف مولاناابوالاعلی مودودی
تاریخ اشاعت None
پبلشرز ادارہ
ٹیگ

deen