تجدید و احیائے دین

دیباچہ طبع اوّل

/سم الله الرحمن الرحیم دیباچہ طبع اوّل

اسلام کی اصطلاحی زبان کے جو الفاظ کثرت سے زبان پر آتے ہیں ان میں سے ایک لفظ’مجدد بھی ہے۔ اس لفظ کا ایک مجمل مفہوم تو قریب قریب ہر شخص سمجھتا ہے، یعنی یہ کہ جو شخص دین کو از سرنو زندہ اور تازہ کرے وہ مجدد ہے۔ لیکن اس کے تفصیلی مفہوم کی طرف بہت کم ذہن منتقل ہوتے ہیں۔ کم لوگ جانتے ہیں کہ تجدید دین کی حقیقت کیا ہے کس نوعیت کے کام کو تجدید سےتعبیر کیا جا سکتا ہے، اس کام کے کتنے شعبے ہیں، مکمل تجدید کا اطلاق کس کارنامے پر ہوسکتا ہے اور جزوی تجدید کیا ہوتی ہے۔ اسی ناواقفیت کا نتیجہ ہے کہ لوگ ان مختلف بزرگوں کے کارناموں کی پوری طرح تشخیص نہیں کر سکتے جن کو تاریخ اسلام میں مجد دقرار دیا گیا ہے۔ وہ بس اتنا جانتے ہیں که عمر ابن عبدالعزیز بھی مجد د امام غزائی بھی مجدد ابن تیمیہ بھی مجدد شیخ احمد سر ہندی بھی مجدد اور شاہ ولی اللہ بھی مجدد نمگر ان کو یہ معلوم نہیں کہ کون کس حیثیت سے مجدد ہے اور اس کا تجدیدی کارنامہ کس نوعیت اور کس مرتبہ کا ہے۔ اس ذہول اور غفلت کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ جن ناموں کےساتھ حضرت امام حجتہ الاسلام ، قطب العارفین ، زبدۃ السالکین اور اسی قسم کےالفاظ لگ جاتے ہیں ان کی عقیدت مندی کا اتنا بوجھ دماغوں پر پڑ جاتا ہے کہ پھر کسی میں یہ طاقت نہیں رہتی کہ آزادی کے ساتھ ان کے کاموں کا جائزہ لے کر ٹھیک ٹھیک مشخص کر سکے کہ کس نے اس تحریک کے لیے کتنا اور کیسا کام کیا ہے اور اس خدمت میں اس کا حصہ کس قدر ہے۔ عموماً تحقیق کی نپی تلی زبان کے بجائے ان بزرگوں کے کارنامے عقیدت کی شاعرانہ زبان میں بیان کیےجاتے ہیں جن سے پڑھنے والے پر یہ اثر پڑتا ہے اور شاید لکھنے والے کے ذہن میں بھی یہی ہوتا ہے کہ جس کا ذکر کیا جا رہا ہے وہ فرد کامل تھا اور اس نے جو کچھ بھی کیا وہ ہر حیثیت سے کمال کےآخری مرتبے پر پہنچا ہوا تھا۔ حالانکہ اگر اب ہم کو تحریک اسلامی کی تجدید و احیاء کے لیے کوئی کوشش کرنی ہے تو اس قسم کی عقیدت مندی اور اس ابہام و اجمال سے کچھ کام نہ چلے گا۔ ہم کو پوری طرح اس تجدید کے کام کو سمجھنا پڑے گا۔ اور اپنی پچھلی تاریخ کی طرف پلٹ کر دیکھنا ہو گا کہ ان بہت سی صدیوں میں ہمارے مختلف لیڈروں نے کتنا کتنا کام کس کس طرح کیا ہے ان کے کارناموں سےہم کس حد تک فائدہ اٹھا سکتے ہیں اور ان سے کیا کچھ چھوٹ گیا ہے جس کی تلافی پر اب ہمیں متوجہ ہونا چاہیے۔

یہ مضمون ایک مستقل کتاب چاہتا ہے۔مگر کتاب لکھنےکی فرصت کہاں۔ یہی غنیمت ہےکہ شاہ ولی اللہ صاحب کا ذکر خیر چھڑ گیا جس کی وجہ سے اس مضمون کی طرف چند اشارے کرنےکا موقع نکل آیا۔ شاید کہ انہی اشاروں سے کسی اللہ کے بندے کو تاریخ تجدید و احیائے دین کی تدوین کا راستہ مل جائے۔

یہ مقالہ جو اس وقت کتابی شکل میں شائع کیا جارہا ہے ابتداء جریدہ ” الفرقان بریلی کے شاہ ولی اللہ نمبر کے لیے لکھا گیا تھا۔ اس لیے اس میں شاہ صاحب کے تجدیدی کارناموں پر نسبتاً زیادہ مفصل نگاہ ڈالی گئی ہے اور دوسرے مجددین کے کام کا ذکر ضمنی طور پر کیا گیا ہے۔ اس مقالہ کا مطالعہ کرتے ہوئے یہ لوظ خاطر رہنا چاہیے کہ اس میں تمام مجددین کے کارناموں کا احاطہ مقصود نہیں ہے بلکہ صرف ان بڑے بڑے مجددین کا ذکر کیا گیا ہے جو اسلام کی تاریخ پر اپنا ایک مستقل نشان چھوڑ گئے ہیں۔ نیز یہ بھی پیش نظر رہنا چاہیے کہ تجدید کا کام بہت لوگوں نے کیا اور ہر زمانہ میں بہت لوگ کرتے ہیں مگر مجدد“ کا لقب پانے کے مستحق کم ہی ہوتے ہیں۔ ابوالاعلیٰ محرم ۱۳۶۰ء (فروری ۱۹۴۰ ء)

کتاب تجدید و احیائے دین
مصنف مولاناابوالاعلی مودودی
تاریخ اشاعت None
پبلشرز ادارہ
ٹیگ

deen