( جملہ حقوق بحق ناشر محفوظ ہیں) نام کتاب : تجدید و احیائے دین مصنف : سید ابوالاعلیٰ مودودی اشاعت : ایڈیشن تعداد نومبر ٢.. ٢ء ١٠١٠٠ اہتمام : پروفیسور محمد امین جاوید میٹنگ ڈائریکٹر ) ناشر : اسلامک پبلی کیشنز (پرائیویٹ) لمیٹڈ ٣ کورٹکورٹ سٹریٹ ، لوئر مال ، لاہور (پاکستان فون: 7320961-7248676 فیکس:7214974 ویب سائٹ www.islamicpak.com.pk ای میل info@islamicpak.com.pk islamicpak@hotmail.com islamicpak@yahoo.com مطبع : اے۔ این اے پرنٹرز - لاہور قیمت : -60 روپے
مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی صاحب کی یہ بلند پایہ تالیف فن تاریخ میں ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتی ہے۔ ایک ایسے نازک مسئلہ کو جس وقت نظر اور محققانہ بصیرت کے ساتھ آپ نے پیش فرمایا ہے وہ آپ ہی کا حصہ ہے۔ تحریک تجدید و احیائے دین کا جیسا بے لاگ تجزیہ کیا ہےمجددین کی حقیقی عظمت جس طرح اجاگر کی ہے اور ان کے عظیم کارناموں کی اہمیت جس انداز سےواضح کی ہے وہ نہ صرف آئندہ مؤرخین کے لیے ایک صحیح بنیاد فراہم کرے گی بلکہ دین کے خادموں کے دلوں میں ایک تازہ ولولہ ایک نیا جوش اور دین کی سرفرازی کے لیے ایک نئی تڑپ اور لگن پیدا کرے گی۔
اپنے اعلیٰ طباعتی معیار کو قائم رکھتے ہوئے ہم اس کتاب کو بھی آفسٹ کی دیدہ زیب کتابت و طباعت کے ساتھ شائع کر رہے ہیں۔ ہمیں امید ہے کہ ہمارے قارئین اس پیش کش کو بھی اس گرمجوشی سے قبول فرما ئیں گے جو ہماری دیگر مطبوعات کے لیے مخصوص رہی ہے۔
فہرست مضامین فہرست مضامین دیبا چه طبع اول ٩ دیباچہ طبع پنجم ١١ اسلام اور جاہلیت کی اصولی د تاریخی کشکمکش ١٣ زندگی کے چار نظریے ١٤ جاہلیت کے چار نظریے جاہلیت مشرکانه جاہلیت راہبانہ اسلام انبیاء علیہم السلام کا مشن نبی کے کام نوعیت خلافت راشده جاہلیت کا حملہ مجد دین کی ضرورت . شرح حديث من يجدّدلها دينها کار تجدید کی نوعیت ٣٦ تجدد اور تجدید کا فرق ٣٦ مجدد کی تعریف ٣٦ مجد داور نبی کا فرق ٣٧ کار تجدید ٣٨ مجد دکامل کا مقام ٣٩ الامام المهدی ٤١ امت کے کے چند بڑے بڑے مجددین اور اُن کے کارنامے ٤٤ عمر بن عبد العزيز ٤٤ المہ اربعه ٤٨ امام غزالی ٥٠ ابن تیمیه ٥٧ شیخ احمد سرہندی ٦١ شاہ ولی اللہ دہلوی کا کارنامہ ٦٨ تنقیدی کام ٦٩ تعمیری کام ٧٩ نتائج ٨٣ سید احمد بریلوی اور شاہ اسمعیل شہید ٨٥ اسباب ناکامی ٨٧ پہلا سبب دوسرا سبب تیسر اسب خاتمہ ضمیمه
ا۔ منصب تجدید اور امام مہدی کے متعلق چند تصریحات ۲۔ کشف والہام کی حقیقت اور چند مجددین کے دعووں پر اظہار رائے ٣۔ اسلامی تصوف اور نیم اسلامی و غیر اسلامی تصوف ۴۔ ایک بے بنیاد تہمت اور اس کا جواب ۵۔ المہدی کی علامات اور نظام دین میں اس کی حیثیتاسلام کی اصطلاحی زبان کے جو الفاظ کثرت سے زبان پر آتے ہیں ان میں سے ایک لفظ’مجدد بھی ہے۔ اس لفظ کا ایک مجمل مفہوم تو قریب قریب ہر شخص سمجھتا ہے، یعنی یہ کہ جو شخص دین کو از سرنو زندہ اور تازہ کرے وہ مجدد ہے۔ لیکن اس کے تفصیلی مفہوم کی طرف بہت کم ذہن منتقل ہوتے ہیں۔ کم لوگ جانتے ہیں کہ تجدید دین کی حقیقت کیا ہے کس نوعیت کے کام کو تجدید سےتعبیر کیا جا سکتا ہے، اس کام کے کتنے شعبے ہیں، مکمل تجدید کا اطلاق کس کارنامے پر ہوسکتا ہے اور جزوی تجدید کیا ہوتی ہے۔ اسی ناواقفیت کا نتیجہ ہے کہ لوگ ان مختلف بزرگوں کے کارناموں کی پوری طرح تشخیص نہیں کر سکتے جن کو تاریخ اسلام میں مجد دقرار دیا گیا ہے۔ وہ بس اتنا جانتے ہیں که عمر ابن عبدالعزیز بھی مجد د امام غزائی بھی مجدد ابن تیمیہ بھی مجدد شیخ احمد سر ہندی بھی مجدد اور شاہ ولی اللہ بھی مجدد نمگر ان کو یہ معلوم نہیں کہ کون کس حیثیت سے مجدد ہے اور اس کا تجدیدی کارنامہ کس نوعیت اور کس مرتبہ کا ہے۔ اس ذہول اور غفلت کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ جن ناموں کےساتھ حضرت امام حجتہ الاسلام ، قطب العارفین ، زبدۃ السالکین اور اسی قسم کےالفاظ لگ جاتے ہیں ان کی عقیدت مندی کا اتنا بوجھ دماغوں پر پڑ جاتا ہے کہ پھر کسی میں یہ طاقت نہیں رہتی کہ آزادی کے ساتھ ان کے کاموں کا جائزہ لے کر ٹھیک ٹھیک مشخص کر سکے کہ کس نے اس تحریک کے لیے کتنا اور کیسا کام کیا ہے اور اس خدمت میں اس کا حصہ کس قدر ہے۔ عموماً تحقیق کی نپی تلی زبان کے بجائے ان بزرگوں کے کارنامے عقیدت کی شاعرانہ زبان میں بیان کیےجاتے ہیں جن سے پڑھنے والے پر یہ اثر پڑتا ہے اور شاید لکھنے والے کے ذہن میں بھی یہی ہوتا ہے کہ جس کا ذکر کیا جا رہا ہے وہ فرد کامل تھا اور اس نے جو کچھ بھی کیا وہ ہر حیثیت سے کمال کےآخری مرتبے پر پہنچا ہوا تھا۔ حالانکہ اگر اب ہم کو تحریک اسلامی کی تجدید و احیاء کے لیے کوئی کوشش کرنی ہے تو اس قسم کی عقیدت مندی اور اس ابہام و اجمال سے کچھ کام نہ چلے گا۔ ہم کو پوری طرح اس تجدید کے کام کو سمجھنا پڑے گا۔ اور اپنی پچھلی تاریخ کی طرف پلٹ کر دیکھنا ہو گا کہ ان بہت سی صدیوں میں ہمارے مختلف لیڈروں نے کتنا کتنا کام کس کس طرح کیا ہے ان کے کارناموں سےہم کس حد تک فائدہ اٹھا سکتے ہیں اور ان سے کیا کچھ چھوٹ گیا ہے جس کی تلافی پر اب ہمیں متوجہ ہونا چاہیے۔
یہ مضمون ایک مستقل کتاب چاہتا ہے۔مگر کتاب لکھنےکی فرصت کہاں۔ یہی غنیمت ہےکہ شاہ ولی اللہ صاحب کا ذکر خیر چھڑ گیا جس کی وجہ سے اس مضمون کی طرف چند اشارے کرنےکا موقع نکل آیا۔ شاید کہ انہی اشاروں سے کسی اللہ کے بندے کو تاریخ تجدید و احیائے دین کی تدوین کا راستہ مل جائے۔
یہ مقالہ جو اس وقت کتابی شکل میں شائع کیا جارہا ہے ابتداء جریدہ ” الفرقان بریلی کے شاہ ولی اللہ نمبر کے لیے لکھا گیا تھا۔ اس لیے اس میں شاہ صاحب کے تجدیدی کارناموں پر نسبتاً زیادہ مفصل نگاہ ڈالی گئی ہے اور دوسرے مجددین کے کام کا ذکر ضمنی طور پر کیا گیا ہے۔ اس مقالہ کا مطالعہ کرتے ہوئے یہ لوظ خاطر رہنا چاہیے کہ اس میں تمام مجددین کے کارناموں کا احاطہ مقصود نہیں ہے بلکہ صرف ان بڑے بڑے مجددین کا ذکر کیا گیا ہے جو اسلام کی تاریخ پر اپنا ایک مستقل نشان چھوڑ گئے ہیں۔ نیز یہ بھی پیش نظر رہنا چاہیے کہ تجدید کا کام بہت لوگوں نے کیا اور ہر زمانہ میں بہت لوگ کرتے ہیں مگر مجدد“ کا لقب پانے کے مستحق کم ہی ہوتے ہیں۔ ابوالاعلیٰ محرم ۱۳۶۰ء (فروری ۱۹۴۰ ء)
دیباچہ طبع پنجم حال میں اس کتاب کو فتنہ جو حضرات نے خاص طور پر اپنی عنایات کا ہدف بنایا ہے۔اس لیے میں نے نظر ثانی کر کے اس کی ان تمام عبارتوں کو واضح کر دیا ہے جن سے طرح طرح کے فتنے نکالے جارہے تھے اور ان تمام بیانات اور منقوله عبارات کے حوالے درج کر دیئے ہیں جنہیں یہ سمجھتے ہوئے نشانہ اعتراض بنایا گیا تھا کہ شاید یہ سب میرے طبع زاد ہیں۔اس کے علاوہ آخر میں ضمیمے کے طور پر ان سب جوابات کو بھی شامل کتاب کر دیا ہے جو میں نےوقتاً فوقتاً " ترجمان القرآن میں معترضین کو دیئے ہیں ۔ اگر چہ اس کے بعد بھی کہنے والی زبانیں بند نہ ہوں گی، مگر امید ہے کہ سننے والے کان دھوکا کھانے سے بڑی حد تک بچ جائیں گے۔ وما توفيقى الا بالله العلى العظيم
دنیا میں انسان کی زندگی کے لیے جو نظام نامہ بھی بنایا جائے گا اس کی ابتدا لا محاله بعد الطبیعی یا الہیاتی مسائل سے ہوگی ۔ زندگی کی کوئی اسکیم بن نہیں سکتی جب تک کہ انسان کے متعلق اور اس کائنات کے متعلق جس میں انسان رہتا ہے واضح اور متعین تصور نہ قائم کر لیا جائے۔ یہ سوال کہ انسان کا برتاؤ یہاں کیا ہونا چاہیے اور کس طرح اسے دنیا میں کام کرنا چاہیے دراصل اس سوال سےگہرا تعلق رکھتا ہے کہ انسان کیا ہے، اس کا ئنات میں اس کی حیثیت کیا ہے اور اس کا ئنات کا نظام کس ڈھنگ کا ہے جس سے انسان کی زندگی کی ڈھنگ کو ہم آہنگ ہونا چاہیے۔ اس سوال کا جوصل کے مطابق انسانی زندگی کے مختلف شعبوں کی تشکیل ہو گئی،پھر اسی سانچے کے اندر انفرادی سیرت و کردار اور اجتماعی تعلقات و معاملات کے قوانین اپنی تفصیلی صورتیں اختیار کریں گئے اور آخر کار تمدن کی پوری عمارت انہی بنیادوں پر تعمیر ہوگی۔ دنیا میں اس وقت تک انسانی زندگی کے لیے جتنےمذہب و مسلک بھی بنے ہیں ان سب کو بہر حال اپنا ایک بنیادی فلسفہ اور ایک اساسی نظریہ اخلاق مرتب کرنا پڑا ہے اور اصول سے لے کر چھوٹے چھوٹے جزئیات تک میں ایک مسلک کو دوسرےمسلک سے جو چیز ممتاز کرتی ہے وہ یہی فلسفہ اور یہی اخلاقی نقطہ نظر ہے۔ کیونکہ ہر دستور زندگی کا مزاج اس چیز کی طبیعت کے مطابق بنتا ہے اور یہ اس کے قالب میں روح کی حیثیت رکھتی ہے۔
جزئیات و فروع سے قطع نظر اصولی حیثیت سے اگر دیکھا جائے تو انسان اور کائنات کےمتعلق چار مابعد الطبیعی نظریے قائم ہو سکتے ہیں اور دنیا میں جتنے دستور زندگی پائے جاتے ہیں انہوں نے انہی چار میں سے کسی ایک کو اختیار کیا ہے۔
کائنات کا یہ سارا نظام ایک اتفاقی ہنگامہ وجود وظہور ہے جس کے پیچھے کوئی حکمت، کوئی مصلحت اور کوئی مقصد کارفرما نہیں ہے۔ یونہی بن گیا ہے، یونہی چل رہا ہے۔ اور یونہی بے نتیجہ ختم ہو جائے گا۔ اس کا کوئی خدا نہیں ہے اور اگر ہے تو اس کے ہونے یا نہ ہونے کا انسان کی زندگی سے کوئی تعلق نہیں۔
انسان ایک قسم کا جانور ہے، جو دوسری چیزوں کی طرح شاید اتفاقاً یہاں پیدا ہو گیا ہے.ہمیں اس سے بحث نہیں کہ اس کو کس نے پیدا کیا اور کس لیے پیدا کیا۔ ہم تو صرف اتنا جانتے ہیں کہ یہ اس زمین پر پایا جاتا ہے، کچھ خواہشیں رکھتا ہے جنہیں پورا کرنے کے لیے اس کی طبیعت اندر سے زور کرتی ہے کچھ قومی اور کچھ آلات رکھتا ہے۔جوان خواہشوں کی تعمیل کا ذریعہ بن سکتےہیں، اور اپنے گردو پیش زمین کے دامن پر بہت سا سامان پھیلا ہوادیکھتا ہے جن پر یہ اپنے ان قومی اور آلات کو استعمال کر کے اپنی خواہشوں کی تکمیل کر سکتا ہے لہذا اس کی زندگی کا مقصد اس کے سوا کچھ نہیں کہ اپنی طبیعت حیوانی کے مطالبات پورے کرے اور اس کی انسانی استعدادوں کا مصرف اس سے زیادہ کچھ نہیں کہ ان مطالبات کو پورا کرنے کے بہتر سے بہتر ذرائع فراہم کرے۔
انسان سے مافوق کوئی علم کا منبع اور ہدایت کا سرچشمہ موجود نہیں ہے جہاں سے اس کو اپنی زندگی کا قانون مل سکتا ہوا لہذا اس کو اپنے گردو پیش کے آثار واحوال سے اور اپنی تاریخ کے تجربات سے خود ہی ایک قانون عمل اخذ کرنا چاہیے۔
بظاہر کوئی ایسی حکومت نظر نہیں آتی جس کے سامنے انسان جوابدہ ہو اس لیے انسان بجائےخود ایک غیر ذمہ دار ہستی ہے اور اگر یہ جوابدہ ہے بھی تو آپ اپنے ہی سامنے ہے یا پھر اس اقتدار کے سامنے جو خود انسانوں ہی میں سے پیدا ہو کر افراد پر مستولی ہو جائے۔
اعمال کے نتائج جو کچھ بھی ہیں اسی دنیوی زندگی کی حد تک ہیں ۔ اس کے ماسوا کوئی زندگینہیں ہے لہذا صحیح اور غلط مفید اور مصر قابل اخذ اور قابل ترک ہونے کا فیصلہ صرف انہی نتائج کےلحاظ سے کیا جائے گا جو دنیا میں ظاہر ہوتے ہیں۔
انسان جب جاہلیت محضہ کی حالت میں ہوتا ہے۔ یعنی جب اپنے محسوسات سے ماوراء کسی حقیقت تک وہ نہیں پہنچتا یا بندگی نفس کی وجہ سے نہیں پہنچنا چاہتا تو اس کےذہن پر یہی نظریہ حاوی ہوتا ہے۔دنیا پرستوں نے ہر زمانے میں یہی نظریہ اختیار کیا ہے۔ قلیل متثلیات کو چھوڑ کر بادشاہوں نے امیروں نے درباریوں اور ارباب حکومت نے خوش حال لوگوں اور خوشحالی کےپیچھے جان دینے والوں نے عموماً اسی نظریہ کو ترجیح دی ہے۔ اور جن قوموں کی تمدنی ترقی کے گیت تاریخ میں گائے جاتے ہیں، بالعموم ان سب کے تمدن کی جڑ میں یہی نظریہ کام کرتا رہا ہے۔ موجودہ مغربی تمدن کی بنیاد میں بھی یہی نظریہ کارفرما ہے اگر چہ اہل مغرب سب کے سب خدا اور آخرت کے منکر نہیں ہیں، نہ علمی حیثیت سے سب مادہ پرستانہ اخلاق کے قائل ہیں۔ لیکن جو روح ان کےپورے نظام تہذیب و تمدن میں کام کر رہی ہے وہ اس انکارِ خدا و آخرت اور اسی مادہ پرستانه اخلاق ہی کی روح ہے اور وہ کچھ اس طرح ان کی زندگی میں پیوست ہوگئی ہے کہ جو لوگ علمی حیثیت سےخدا اور آخرت کے قائل ہیں اور اخلاق میں ایک غیر مادہ پرستانہ نقطہ نظر اختیار کرتے ہیں وہ بھی غیر شعوری طور پر اپنی واقعی زندگی میں دہریے اور مادہ پرست ہی ہیں۔ کیونکہ ان کے علمی نظریہ کا ان کی عملی زندگی سے بالفعل کوئی ربط قائم نہیں ہے۔
ایسی ہی کیفیت ان سے پہلے کے مترفین اور خدا فراموش لوگوں کی بھی تھی۔ بغداد دمشق دہلی اور غرناطہ کے مترفین مسلمان ہونے کی وجہ سے خدا اور آخرت کے منکر نہ تھے مگران کی زندگی کا سارا پروگرام اس طرح بنتا تھا کہ گویا نہ خدا ہے نہ آخرت نہ کسی کو جواب دینا ہے، نہ کہیں سے ہدایت لینی ہے۔ جو کچھ ہیں ہماری خواہشات ہیں ان خواہشات کی تکمیل کے لیے ہر قسم کے ذرائع اور ہر قسم کے طریقے اختیار کرنے میں ہم آزاد ہیں اور دنیا میں جینے کی مہلت ملتی ہے اس کا بہترین مصرف بس یہ ہے کہ
جیسا کہ اوپر اشارہ کیا جا چکا ہے،اس نظریہ کی عین فطرت یہی ہےکہ اس کی بنیاد پر ایک خالص مادہ پرستانہ نظام اخلاق بنتا ہے،خواہ وہ کتابوں میں مدون ہو یا صرف ذہنیتوں ہی میں مرتب ہو کر رہ جائے، پھر اسی ذہنیت سے علوم و فنون اور افکار و آداب کی آبیاری ہوتی ہے اور پورے نظام تعلیم و تربیت میں الحادو مادیت کی روح سرایت کر جاتی ہے۔ پھر انفرادی سیرتیں اسی سانچے میں ڈھلتی ہیں، انسان اور انسان کے درمیان تعلقات و معاملات کی تمام صورتیں اسی نقشہ پر بنتی ہیں اور قوانین کا نشو و نما اسی ڈھنگ پر ہوتا ہے۔ پھر اس طرز کی سوسائٹی میں سطح پر وہ لوگ ابھر آتے ہیں جو سب سے زیادہ مکار بد دیانت، جھوٹے دغا باز سنگدل اور خبیث النفس ہوتےہیں۔ تمام سوسائٹی کی سیادت و قیادت اور مملکت کی زمام کار انہی کے ہاتھ میں ہوتی ہے اور وہ شتر بے مہار کی طرح ہر حساب سے بے خوف اور ہر مواخذہ سے بے پرواہ ہو کر خلق خدا پر ٹوٹ پڑتےہیں۔ میکیا دلی (Machiavelli) کے اصول سیاست پر ان کی ساری حکمت عملی بنی ہوتی ہے۔ان کی کتاب آئین میں زور کا نام حق اور بے زوری کا نام باطل ہوتا ہے۔ جہاں کوئی ماڈی رکاوٹ حائل نہیں ہوتی وہاں کوئی چیز ان کو ظلم سے نہیں روک سکتی۔ یہ ظلم مملکت کے دائرے میں یہ شکل اختیار کرتا ہے کہ طاقت ور طبقے اپنی ہی قوم کے کمزور طبقوں کو کھاتے اور دباتے ہیں اور مملکت کےباہر اس کا اظہار قوم پرستی امپیریلزم اور ملک گیری و اقوام کشی کی صورت میں ہوتا ہے۔
یہ خیال چونکہ کسی علمی ثبوت (Scientific proof) پر مبنی نہیں ہے۔ بلکہ محض خیال آرائی پر اس کی بنا ہے اس لیےموہوم محسوس اور معقول اشیاء کی طرف خداوندی والہیت کو منسوب کرنے میں مشرکین کے درمیان نہ کبھی اتفاق ہو سکتا ہےنہ کبھی ہوا ہے۔اندھیرے میں بھٹکنےوالوں کا ہا تھ جس چیز پر بھی پڑ گیا وہ خدا بنائی گئی اور خداؤں کی فہرست ہمیشہ گھٹتی بڑھتی رہی فرشتےجن ارواح سیارےزندہ اور مردہ انسان، درخت، پہاڑ، جانور دریا زمین، آگ، سب دیوتا بن ڈالے گئے ۔ بہت سے معانی مجروہ (Abstract Idea) مثلاً محبت، شہوت، قوت تخلیق بیماری، جنگ، کچھی، شکتی وغیرہ کو بھی خدائی کا مقام دیا گیا۔ طرح طرح کے خیالی مرکبات، مثلاً شیر انسان ، ماہی انسان، پرنده انسان چہار سرا ہزار دسته خرطوم بینی وغیرہ بھی مشرکین کے معبودوں میں جگہ پاتے رہے۔
پھر اس دیو مالا کے گرداوہام و خرافات (Mythology) کا ایک عجیب طلسم ہوش ربا تیار ہوا ہے جس میں ہر جاہل قوم کی قوت واہمہ نے اپنی شادابی و نادرہ کاری کے وہ دلچسپ نمونےفراہم کیے ہیں کہ دیکھ کر عقل دنگ رہ جاتی ہے۔ جن قوموں میں خداوند اعلیٰ یعنی اللہ کا تصور نمایاں پایا گیا ہے وہاں تو خدائی کا انتظام کچھ اس طرز کا ہے ہ گو یا اللہ تعالی بادشاہ ہے اور دوسرے خدا اس کے وزیر درباری، مصاحب، عہدہ دار اور اہل کار ہیں، مگر انسان بادشاہ سلامت تک راہ نہیں پاسکتا۔ اس لیے سارے معاملات ما تحت خداؤں ہی سے وابستہ رہتے ہیں، اور جن قوموں میں خداوند اعلیٰ کا تصور بہت دھندلا یا تقریباً مفقود ہےوہاں ساری خدائی ارباب متفرقین ہی میں تقسیم ہوکر رہ گئی ہے۔
جاہلیت خالصہ کے بعد یہ دوسری قسم کی جاہلیت ہے جس میں انسان قدیم ترین زمانہ سےآج تک مبتلا ہوتا رہا ہےاور ہمیشہ گھٹیا درجہ کی دماغی حالت ہی میں یہ کیفیت رونما ہوئی ہے۔ انبیاء علیہم السلام کی تعلیم کے اثر سےجہاں لوگ الله واحد قهار کی خدائی کےقائل ہو گئے،وہاں سےخداؤں کی دوسری اقسام تو رخصت ہو گئیں، مگر انبیاء اولیاء شہداء صالحین، مجاذيب اقطاب ابدال،علماء مشائخ اور ظل اللہوں کی خدائی پھر بھی کسی نہ کسی طرح عقائد میں اپنی جگہ نکالتی ہی رہی۔جاہل دماغوں نےمشرکین کے خداؤں کو چھوڑ کر ان نیک بندوں کو خدا بنالیا جن کی ساری زندگیاں بندوں کی خدائی ختم کرنے اور صرف اللہ کی خدائی ثابت کرنے میں صرف ہوئی تھیں ۔ ایک طرف مشرکانہ پوجاپاٹ کی جگہ فاتحہ زیارات نیاز نذر، عرس، صندل، چڑھاوے نشان، علم، تعزیے اور اسی قسم کے دوسرے مذہبی اعمال کی ایک نئی شریعت تصنیف کر لی گئی ۔ دوسری طرف بغیر کسی ثبوت علمی کے ان بزرگوں کی ولادت و وفات، ظہور و غیاب، کرامات و خوارق اختیارات و تصرفات اور اللہ تعالیٰ کے ہاں ان کے تقرب کی کیفیات کے متعلق ایک پوری میتھالوجی تیار ہو گئی جو بت پرست مشرکین کی میتھالوجی سے ہر طرح لگا کھا سکتی ہے۔ تیسری طرف توسل اور استمد اور وحانی اور اکتساب فیض وغیرہ ناموں کے خوشنما پردوں میں وہ سب معاملات جو اللہ اور بندوں کےدرمیان ہوتے ہیں، ان بزرگوں سے متعلق ہو گئے اور عملاً وہی حالت قائم ہوگئی جو اللہ کے ماننےوالے ان مشرکین کے ہاں ہے جن کے نزدیک پادشاہ عالم انسان کی رسائی سے بہت دور ہے اور انسان کی زندگی سے تعلق رکھنے والے تمام امور نیچے کے اہلکاروں ہی سے وابستہ ہیں، فرق صرف یہ ہے کہ ان کے ہاں اہلکار علانیہ اللہ دیوتا اوتار یا ابن اللہ کہلاتے ہیں اور یہ انہیں غوث، قطب ابدال اولیاء اور اہل اللہ وغیرہ الفاظ کے پردوں میں چھپاتے ہیں۔
یہ دوسری قسم کی جاہلیت تاریخ کے دوران میں عموماً پہلی قسم کی جاہلیت یعنی جاہلیت خالصہ کے ساتھ تعاون کرتی رہی ہے۔ قدیم زمانہ میں بابل، مصر، ہندوستان ایران، یونان، روم وغیرہ ممالک کے تمدن میں یہ دونوں جاہلیتیں ہم آغوش تھیں، اور موجودہ زمانہ میں جاپان کے تمدن کا بھی یہی حال ہے۔ اس موافقت کے متعدد اسباب ہیں جن میں سے چند کی طرف میں اشارہ کروں گا۔
اولا مشرکانہ جاہلیت میں آدمی کا کوئی تعلق اپنےمعبودوں کے ساتھ اس کےسوا نہیں ہوتا کہ یہ اپنے خیال میں ان کو صاحب اختیار اور نافع و ضار سمجھ لیتا ہے اور مختلف مراسم عبودیت کےذریعہ سے اپنے دنیوی مقاصد میں ان کی مہربانی واعانت حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ باقی رہا یہ امر کہ وہاں سے اس کو کسی قسم کی اخلاقی هدایت یا زندگی کا ضابطہ و قانون ملئے تو اس کا کوئی امکان ہی نہیں، کیونکہ وہاں کوئی واقع میں خدا ہو تو هدایت اور قانون بھیجے۔ پس جب ایسی کوئی چیز موجود نہیں ہے تو مشرک انسان لامحالہ خود ہی ایک اخلاقی نظریہ بناتا ہےاور خود ہی اس نظریہ کی بنیاد پر ایک شریعت تصنیف کرتا ہے۔ اس طرح وہی جاہلیت محضه برسر کار آجاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ خالص جاہلیت کے تمدن اور مشرکانہ تمدن میں اس کے سوا کوئی فرق نہیں ہوتا کہ ایک جگہ جاہلیت کے ساتھ مندروں، پجاریوں اور عبادات کا سلسلہ ہوتا ہے اور دوسری جگہ نہیں ہوتا ۔ اخلاق اور اعمال جیسے یہاں ہوتے ہیں، ویسے ہی وہاں بھی ہوتے ہیں۔ یونان قدیم اور بت پرست روم کے اخلاقی مزاج اور موجودہ یورپ کے اخلاقی مزاج میں جو مشابہت پائی جاتی ہے اس کا یہی سبب ہے۔
ثانيا، علوم و فنون، فلسفه و ادب اور سیاسیات و معاشیات وغیرہ کےلیےمشرکانہ نظریہ کوئی الگ مستقل بنیاد فراہم نہیں کرتا۔ اس باب میں بھی مشرک انسان جاہلیت محضہ ہی کا رخ اختیار کرتا ہے اور مشرک سوسائٹی کا سارا دماغی نشو ونما اُسی ڈھنگ پر ہوتا ہے جس پر خالص جاہلی سوسائٹی میں ہوا کرتا ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ مشرکین کی قوتِ واہمہ حد سے بڑھی ہوئی ہوتی ہے اس لیے ان کے افکار میں خیال آرائی کا عنصر بہت زیادہ ہوتا ہے اور ملاحدہ ذرا عملی قسم کے لوگ ہوتے ہیں،اس لیے نرے خیائی فلسفوں سے انہیں کوئی دلچسپی نہیں ہوتی ، البتہ جب یہ ملاحدہ خدا کے بغیر کائنات کے معمے کو حل کرنے کی کوشش کرتے ہیں تو ان کی استدلالی کھینچ تان بھی اتنی ہی غیر معقول ہوتی ہے جتنی مشرکین کی میتھالوجی ۔ بهرحال علمی حیثیت سے شرک اور جاہلیت خالصہ میں کوئی بنیادی اختلاف نہیں ہوتا اور اس کا روشن ثبوت یہ ہے کہ موجودہ یورپ اپنے موجودہ نظریات میں قدیم یونان و روم سے اس طرح سلسلہ جوڑتا ہے کہ گویا یہ بیٹا ہے اور وہ باپ۔
ثالثا ، مشرک سوسائٹی ان تمام تمدنی طریقوں کو قبول کرنے کے لیے پوری طرح مستعد رہتی ہے جن کو خالص جاہلی سوسائٹی اختیار کرتی ہے اگر چہ سوسائٹی کی ترتیب و تعمیر میں شرک اور جاہلیت خالصہ کے ڈھنگ ذرا ایک دوسرے سے مختلف ہیں۔ شرک کی مملکت میں بادشاہوں کو خدائی کا مقام دیا جاتا ہے روحانی پیشواؤں اور مذہبی عہدہ داروں کا ایک طبقہ مخصوص امتیازات کے ساتھ پیدا ہوتا ہے، شاہی خاندان اور مذہبی طبقے مل کر ایک ملی بھگت قائم کرتے ہیں، خاندانوں پر خاندانوں کے اور طبقوں پر طبقوں کے تفوق کا ایک مستقل نظریہ وضع کیا جاتا ہے اور اس طرح جاہل عوام پر مذہب کا جال پھیلا کر ظالمانہ تسلط قائم کر لیا جاتا ہے۔ بخلاف اس کے خالص جاہلی سوسائٹی میں یہ خرابیاں نسل پرستی قوم پرستی، قومی امپیریلزم ڈکٹیٹر شپ سرمایه داری اور طبقاتی نزاع کی شکل اختیار کرتی ہیں۔ لیکن جہاں تک روح اور جو ہر کا تعلق ہے انسان پر انسان کی خدائی مسلط کرنے انسان کو انسان سے پھاڑنے اور انسانیت کو تقسیم کر کے ایک ہی نوع کے افراد کو ایک دوسر کے لیے صیاد بنانے میں دونوں ایک سطح پر ہیں۔
یہ دنیا اور یہ جسمانی وجود انسان کےلیےایک دار العذاب ہے۔انسان کی روح اس قفس عصری میں در اصل ایک سزا یافتہ قیدی کی حیثیت رکھتی ہے۔ لذات و خواہشات اور تمام و ضروریات جو اس جسمانی تعلق کی وجہ سےانسان کو لاحق ہوتی ہیں دراصل اس قید خانہ کےطوق سلاسل ہیں۔ انسان اس دنیا اور اس کی چیزوں سے جتنا تعلق رکھے گا اتنا ہی گندگی سے آلودہ ہوگا اور اسی قدر مزید عذاب کا مستحق بن جائے گا۔ نجات کی صورت اس کے سوا کوئی نہیں کہ اس زندگی کے بکھیڑوں سےقطع تعلق کیا جائے،خواہشات کو مٹایا جائے، لذات سےکنارہ کشی کی جائےجسمانی ضروریات اور نفس کے مطالبات کو پورا کرنےسےانکار کیا جائے، ان تمام محبتوں کو جو دنیوی اشیاء اور گوشت وخون کی رشتہ داریوں کے ساتھ پیدا ہوتی ہیں، دل سے نکال دیا جائے اور اپنے اس دشمن ، یعنی نفس و جسم کو مجاہدات وریاضات کے ذریعہ سے اتنی تکلیفیں دی جائیں کہ روح پر اس کا تسلط قائم نہ رہ سکے۔اس طرح روح ہلکی اور پاک صاف ہو جائےگی اور نجات کے بلند مقامات پر اڑنے کی طاقت حاصل کر لے گی۔
یہ نظریہ بجائے خود غیر تمدنی (Anti-Social) نظریہ ہے، مگر تمدن پر یہ متعدد طریقوں سے اثر انداز ہوتا ہے۔ اس کی بنیاد پر ایک خاص قسم کا نظام فلسفہ بنتا ہے جس کی مختلف شکلیں ویدانتزام، مانویت اشراقیت (Neo-Platonism) 'یوگ تصوف مسیحی رہبانیت اور بدھ ازم وغیرہ ناموں سے مشہور ہیں۔ اس فلسفہ کے ساتھ ایک ایسا نظامِ اخلاق وجود میں آتا ہے جو بہت کم ایجابی (Positive) اور بہت زیادہ بلکہ تمام ترسلبی (Negative) نوعیت کا ہے۔یہ دونوں چیزیں مل جل کر لٹریچر عقاید اخلاقیات اور عملی زندگی میں نفوذ کرتی ہیں اور جہاں جہاں ان کے اثرات پہنچتے ہیں وہاں افیون اور کوکین کا کام کرتے ہیں۔
(۱) راهبان جاہلیت انسانی جماعت کےنیک اور پاکباز افراد کو دنیا کے کاروبار سےہٹا کر گوشه عزلت میں لے جاتی ہے اور بدترین قسم کے شریر افراد کے لیے میدان صاف کر دیتی ہے۔بدکار لوگ خدا کی زمین کے متولی بن کر آزادی کے ساتھ فساد پھیلاتے ہیں اور نیک لوگ اپنی نجات کی فکر میں تپسیا کیسے چلے جاتے ہیں۔
(۲) اس جاہلیت کے اثرات جہاں تک عوام میں پہنچتے ہیں وہ ان کے اندر غلط قسم کا صبر وتل اور مایوسانہ نقطہ نظر پیدا کر کے انہیں ظالموں کے لیے نرم نوالہ بنا دیتے ہیں۔ اسی وجہ سے ہمیشہ بادشاہ امراء اور مذہبی اقتدار رکھنے والے طبقے اس راہبانہ فلسفہ و اخلاق کی اشاعت میں خاص دلچسپی لیتے رہے ہیں اور یہ خوب آرام سے ان کی سرپرستی میں پھیلتا رہا ہے۔ تاریخ میں کوئی مثال ایسی نہیں ملتی کہ امپیریلزم سرمایہ داری اور پاپائیت سے اس راہبانہ فلسفہ واخلاق کی کبھی لڑائی ہوئی ہو۔
(۳) جب یہ راہبانہ فلسفہ واخلاق انسانی فطرت سے شکست کھا جاتا ہے تو کتاب الحیل کی تصنیف شروع ہو جاتی ہے۔کہیں کفارے کا عقیدہ ایجاد ہوتا ہے تا کہ دل کھول کر گناہ کیا جاسکے اور جنت بھی ہاتھ سے نہ جائے۔ کہیں ہوس رانی کے لیے عشق مجازی کا حیلہ نکالا جاتا ہے تاکہ دل کی لگی بجھا بھی لی جائے اور تقدس بھی جوں کا توں قائم رہے۔ اور کہیں ترک دنیا کے پردے میں بادشاہوں اور رئیسوں سے سانٹھ گانٹھ کی جاتی ہے اور روحانی امارت کا وہ جال پھیلایا جاتا ہے جس کی بدترین مثالیں روم کے پاپاؤں اور مشرقی دنیا کے گدی نشینوں نے پیش کی ہیں۔
یہ تو اس جاہلیت کا معاملہ اپنی ہم جنس بہنوں کے ساتھ ہے۔ مگر انبیاء علیہم السلام کی امتوں میں جب یہ گھنس آتی ہے تو کچھ اور ہی گل کھلاتی ہے۔ خدا کے دین پر اس کی پہلی ضرب یہ ہوتی ہےکہ یہ دنیا کو دارالعمل ،دار الامتحان اور مزرعہ الآخرة کےبجائے دار العذاب اور "مایا کے جال“ کی حیثیت سے آدمی کے سامنے پیش کرتی ہے نقطہ نظر کے اس بنیادی تغیر کی وجہ سے آدمی یہ حقیقت بھول جاتا ہے کہ وہ اس دنیا میں خدا کے خلیفہ کی حیثیت سے مامور ہے۔ وہ یہ خیال کرنےلگتا ہےکہ میں یہاں کام کرنےاور دنیا کے معاملات کو چلانےنہیں آیا ہوں بلکہ گندگی و نجاست میں پھینکا گیا ہوں جس سے مجھے بچنا اور دور بھاگنا چاہیے۔ میرے لیے صحیح پوزیشن یہ ہے کہ میں یہاں نان کو آپریٹر کی طرح رہوں اور ذمہ داریوں کو قبول کرنے کے بجائے ان سے کنارہ کروں۔ اس تصور کے ساتھ آدمی دنیا اور اس کے معاملات پر سبھی ہوئی نگاہ ڈالنے لگتا ہے اور بار خلافت کو سنبھالنا تو در کنار بار تمدن کو بھی اپنے سر لیتے ہوئے ڈرتا ہے۔ اس کے لیے پورا نظام شریعت بے معنی ہو کر رہ جاتا ہے۔ عبادات اور او امر و نواہی کا یہ مفہوم بالکل ساقط ہو جاتا ہے کہ یہ حیات دنیا کی اصلاح اور فرائض خلافت کی انجام دہی کے لیے تیار کرنے والی چیز میں ہیں، برعکس اس کے آدمی یہ سمجھنے لگتا ہےکہ عبادات اور چند خاص مذہبی اعمال اس گناہِ زندگی کا کفارہ ہیں بس انہی کو پورے انہماک سےٹھیک ناپ تول کے ساتھ انجام دیتے رہنا چاہیے تا کہ آخرت میں نجات حاصل ہو۔
اس ذہنیت نے انبیاء کی امتوں میں سے ایک گروہ کو مراقبہ و مکاشفہ چله کشی و ریاضت اور اور اد و ظائف احزاب و اعمال١ سیر مقامات_٢ اور حقیقت کی فلسفیانہ تعبیروں_٣ کے چکر میں ڈال دیا اور مستحبات و نوافل کے الزام میں فرائض سے بھی زیادہ منہمک کر کے خلافت الہیہ کےاس کام سے غافل کر دیا جس کو جاری کرنے کے لیے انبیاء علیہم السلام آئے تھے ۔ اور دوسرے گروہ میں تقشف، تعمق فی الدین غلو موشگافی ، چھوٹی چھوٹی چیزوں کی ناپ تول اور جزئیات کے ساتھ غیر معمولی اہتمام کی بیماری پیدا کر دی حتی کہ ان کے لیے خدا کا دین ایک ایسا نازک آبگینہ ہو گیا جو ذرا ذراسی باتوں سے نھیں کھا کر پاش پاش ہو جاتا ہے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ ان بے چاروں کا سارا وقت بس اسی دیکھ بھال کی نذر ہونے لگا کہ کہیں کچھ اونچ نیچ نہ ہو جائے اور یہ شیشے کا برتن جو سر پر ارکھا ہے۔ کھیل کھیل ہو کر نہ رہ جائے۔ دین میں اتنی باریکیاں نکل آنے کے بعد ناگزیر ہے کہ جمود تنگ خیالی اور کم حوصلگی پیدا ہو ۔ ایسے لوگوں میں کہاں یہ قابلیت باقی رہ سکتی ہے کہ نگاہ جہاں ہیں سے انسانی زندگی کے بڑے بڑے مسائل پر نظر ڈالیں، دین کے عالمگیر اصول وکلیات پر گرفت حاصل کریں اور زمانہ کی ہر نئی گردش میں دنیا کی امامت در رہنمائی کے لیے مستعد ہوں۔
یہ سارا عالم ہست و بود جو ہمارے گرد و پیش پھیلا ہوا ہے اور جس کا ایک جزو ہم خود ہیں دراصل ایک بادشاہ کی سلطنت ہے۔ اس نے اس کو بنایا ہے وہی اس کا مالک ہے اور وہی اس کا واحد حاکم ہے۔ اس سلطنت میں کسی کا حکم نہیں چلتا۔ سب کے سب تابع فرمان ہیں اور اختیارات بالکلیہ اسی ایک مالک وفرمانروا کے ہاتھ میں ہیں۔
انسان اس مملکت میں پیدائشی رعیت ہے۔ یعنی رعیت ہونا یا نہ ہونا اس کی مرضی پر موقوف نہیں، بلکہ یہ رعیت ہی پیدا ہوا ہےاور رعیت کے سوا کچھ اور ہونا اس کے امکان میں نہیں ہے۔اس نظام حکومت کے اندر انسان کی خود مختاری و غیر ذمہ داری کے لیے کوئی جگہ نہیں، نہ فطرة ہو سکتی ہے۔ پیدائشی رعیت اور ایک جز و مملکت ہونے کی حیثیت سے اس کے لیے کوئی راستہ اس کے سوا نہیں ہے کہ جس طرح مملکت کے تمام اجزا بادشاہ کے امر کی اطاعت کر رہے ہیں اسی طرح یہ بھی کرے۔ یہ خود اپنے لیے طریق زندگی وضع کرنے اور اپنی ڈیوٹی آپ تجویز کر لینے کا حق نہیں رکھتا۔ اس کا کام صرف یہ ہے کہ مالک الملک کی طرف سے جو ہدایت آئے اس کی پیروی کرے۔اس ہدایت کے آنے کا ذریعہ وحی ہے اور جن انسانوں کے پاس وہ آتی ہے وہ نبی ہیں۔
مگر انسان کی آزمائش کے لیے مالک نے یہ لطیف طریقہ اختیار کیا ہے کہ آپ بھی چھپ گیا اور اپنی سلطنت کا وہ پورا اندرونی انتظام بھی چھپا دیا،جس سے وہ تدبیر امر کرتا ہے۔ ظاہر میں سلطنت اس طرح چل رہی ہے کہ نہ اس کا کوئی حاکم نظر آتا ہے نہ کار پرداز دکھائی دیتے ہیں۔انسان صرف ایک کارخانہ چلتا ہوا دیکھتا ہے، اس کے درمیان اپنے آپ کو موجود پاتا ہے اور ظاہر حواس سے کہیں یہ محسوس نہیں ہوتا کہ میں کسی کا محکوم ہوں اور کسی کو مجھے حساب دینا ہے۔اعیان و شہود میں کوئی ایسی نشانی نمایاں نہیں ہوتی کہ اس پر فرمانروائے عالم کی حاکمیت اور اپنی محکومیت و مسئولیت (Responsibility) کا حال غیر مشتبہ طور پر کھل جائے، یہاں تک کہ مانے بغیر چارہ نہ رہے۔ نبی بھی آتے ہیں تو اس طرح نہیں کہ ان کے او پر عیا ناوحی اترتی دکھائی دے یا کوئی ایسی صریح علامت ان کے ساتھ اترے جس کو دیکھ کر ان کی نبوت ماننے کے سوا چارہ نہ رہے۔ پھر آدمی ایک حد کے اندر اپنے آپ کو بالکل مختار پاتا ہے۔ بغاوت کرنا چاہے تو اس کی قدرت دےدی جاتی ہے ذرائع بہم پہنچا دیئے جاتے ہیں اور بڑی بھی ڈھیل دی جاتی ہے حتی کہ شرارت و عصیان کی آخری حدود کو پہنچنے تک کوئی رکاوٹ اسے پیش نہیں آتی ۔ مالک کے سوا دوسروں کی بندگی کرنا چاہے تو اس سے بھی زبردستی اس کو نہیں روکا جا تا پوری آزادی دےدی جاتی ہے کہ جس جس کی بندگی، عبادت، اطاعت کرنا چاہے۔دونوں صورتوں، یعنی بغاوت اور بندگی غیر کی صورتوں میں رزق برابر ملتا ہے، سامان زندگی وسائل کار اسباب عیش حسب حیثیت خوب دیئے جاتے ہیں، اور مرتے دم تک دیئے جاتے رہتے ہیں۔ کبھی ایسا نہیں ہوتا کہ کسی باغی یا کسی بندہ غیر سے محض اس جرم کی پاداش میں اسباب دنیا روک لیے جائیں۔ یہ سارا طرز کارروائی صرف اس لیے ہے کہ خالق نے انسان کو عقل، تمیز، استدلال ارادہ و اختیار کی جو قو تیں دی ہیں اور اپنی بے شمار مخلوقات پر اس کو ایک طرح کے حاکمانہ تصرف کی جو قدرت بخشی ہے اس میں وہ اس کی آزمائش کرنا چاہتا ہے۔ اسی آزمائش کی تکمیل کے لیے حقیقت پر غیب کا پردہ ڈالا گیا ہے تا کہ انسان کی عقل کا امتحان ہو۔ انتخاب کی آزادی بخشی گئی ہے تا کہ اس امر کا امتحان ہو کہ آدمی حق کو جاننے کے بعد کسی مجبوری کے بغیر خود اپنی رضا در غبت سے اس کی پیروی کرتا ہے یا خواہشات کی غلامی اختیار کر کے اس سےمنہ موڑ جاتا ہے۔ اسباب زندگی کا سرمایہ وسائل اور کام کا موقع نہ دیا جائے تو اس کی لیاقت و عدم لیاقت کا امتحان نہیں ہو سکتا۔
یه دنیوی زندگی چونکہ آزمائش کی مہلت ہے اس لیے یہاں نہ حساب ہے نہ جزانہ سزا۔ یہاں جو کچھ دیا جاتا ہے وہ کسی عمل نیک کا انعام نہیں بلکہ امتحان کا سامان ہے۔ اور جو تکالیف مصائب شدائد وغیرہ پیش آتے ہیں وہ کسی عمل بد کی سزا نہیں بلکہ زیادہ تر اس قانون طبعی کے تحت جس پر اس دنیا کا نظام قائم کیا گیا ہے آپ سےآپ ظاہر ہونےوالےنتائج ہیں_١ اعمال کےاصلی حساب جانچ پڑتال اور فیصلہ کا وقت مہلت کی یہ زندگی ختم ہونے کے بعد ہے اور اسی کا نام آخرت ہے۔ لہذا دنیا میں جو کچھ نتائج ظاہر ہوتے ہیں وہ کسی طریقہ یا کسی عمل کے صحیح یا غلط نیک یا بد اور قابل اخذ یا قابل ترک ہونے کا معیار نہیں بن سکتے ۔ اصلی معیار آخرت کے نتائج ہیں اور یہ علم کہ آخرت میں کس طریقہ اور کس عمل کا نتیجہ اچھا اور کس کا برا ہو گا صرف اس وحی کے ذریعہ سےحاصل ہو سکتا ہے جو اللہ تعالیٰ کی طرف سےانبیاء پر نازل ہوئی ہے۔ جزئیات و تفصیلات سے قطع نظر فیصلہ کن بات جس پر آخرت کی فلاح یا خسر ان کا مدار ہے یہ ہے کہ اولا انسان اپنی قوت نظر و استدلال کے صحیح استعمال سے اللہ تعالیٰ کے حاکم حقیقی ہونے اور اس کی طرف سے آئی ہوئی ہدایت کے منجانب اللہ ہونےکو پہچانتا ہے یا نہیں۔ ثانیا اس حقیقت سےواقف ہونے کے بعد وہ آزادی انتخاب رکھنے کے باوجود ) اپنی رضا و رغبت سے اللہ کی حاکمیت اور اس کے امر شرعی کےآگے سر تسلیم خم کرتا ہے یا نہیں ۔
یہ وہ نظریہ ہے جسے ابتدا سے انبیاء علیہم السلام پیش کرتے آئے ہیں۔ اس نظریہ کی بنیاد پر تمام واقعات عالم کی مکمل توجیه (Explanation) ہوتی ہے،کائنات کے تمام آثار (Phenomena) کی پوری تعبیر ملتی ہے اور کسی مشاہدے یا تجربے سےیہ نظر یہ ٹوٹتا نہیں۔ یہ ایک مستقل نظام فلسفہ پیدا کرتا ہے جو جاہلیت کے فلسفوں سے بنیادی طور پر بالکل مختلف ہوتا ہے۔ کائنات اور خود وجود انسانی کے متعلق معلومات کے پورے ذخیرہ کو ایک دوسرے ڈھنگ پر مرتب کرتا ہے جس کی ترتیب جاہلی علوم کی ترتیب سے سراسر متباین ہوتی ہے۔ ادب اور ہنر (Art and Literature) کے نشوونما کا ایک الگ راستہ بناتا ہے جو جاہلی ادب و ہنر کے تمام راستوں سے متفائر ہوتا ہے۔ زندگی کے جملہ معاملات میں ایک خاص زاویہ نظر اور ایک خاص مقصد پیدا کرتا ہے جو جاہلی مقاصد و نقطہ ہائے نظر سے اپنی روح اور اپنے جو ہر میں کسی طرح میل نہیں کھاتا۔ اخلاق کا ایک علیحدہ نظام بناتا ہے جس کو جاہلی اخلاقیات سے کوئی مناسبت نہیں ہوتی ۔ پھر ان علمی و اخلاقی بنیادوں پر جس تہذیب کی عمارت اٹھتی ہے،اس کی نوعیت تمام جاہلی تہذیبوں کی نوعیت سےقطعا مختلف ہوتی ہے اور اس کو سنبھالنے کے لیے ایک اور ہی طرز کے نظامِ تعلیم و تربیت کی ضرورت ہوتی ہے جس کے اصول جاہلیت کے ہر نظام تعلیم وتربیت سے کامل تضاد کی نسبت رکھتے ہیں۔ فی الجملہ اس تہذیب کی رگ رگ اور ریشہ ریشہ میں جو روح کام کرتی ہے وہ اللہ واحد قہار کی حاکمیت، آخرت کے اعتقاد اور انسان کے محکوم و ذمہ دار ہونے کی روح ہے۔ بخلاف اس کے ہر جاہلی تہذیب کے پورے نظام میں انسان کی خود مختاری بے قیدی و بےمہاری اور غیر ذمہ داری کی روح سرایت کیے ہوئے ہوتی ہے۔ اسی لیے انسانیت کا جو نمونہ انبیاء علیہم السلام کی قائم کی ہوئی تہذیب سے تیار ہوتا ہے اس کے خدوخال اور رنگ و روغن جاہلی تہذیب کے بنائے ہوئے نمونہ سے ہر جڑو اور ہر پہلو میں جدا ہوتی ہیں۔
١- اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ اس دنیا میں قانون مکافات سرے سے کارفرما ہے ہی نہیں۔ بلکہ جو کچھ میں کہنا چاہتا۔ہوں وہ یہ ہے کہ یہاں کی مکافات دوٹوک اور حتمی اور صریح نہیں ہے اور اس آزمائش کا عصر ہر دنیوی جزا اور سزا پر غالب ہے۔ اس لیے یہاں اعمال کے جو نتائج ظاہر ہوتے ہیں ان کو اخلاقی حسن و قبح کا معیار نہیں ٹھیرایا جاسکتا۔
اس کے بعد تمدن کی تفصیلی صورت جو اس بنیاد پر بنتی ہے اس کا سارا نقشہ دنیا کے دوسرےنقشوں سے بدلا ہوا ہوتا ہے۔ طہارت، لباس، خوراک، طرز زندگی، آداب و اطوار، شخصی کردار کسب معاش صرف دولت ازدواجی زندگی، خاندانی زندگی معاشرتی رسوم، مجلسی طریقے انسان اور انسان کے تعلق کی مختلف شکلیں، لین دین کے معالات دولت کی تقسیم مملکت کا انتظام حکومت کی تشکیل امیر کی حیثیت شوری کا طریقہ سول سروسکی تنظیم قانون کے اصول، تفصیلی ضوابط کا اصول سے استنباط عدالت،پولیس،احتساب مالگذاری فینانس‘ امور نافعه (Public Works) صنعت و تجارت، خبر رسانی ، تعلیمات اور دوسرے تمام محکموں کی پالیسی، فوج کی تربیت و تنظیم جنگ و صلح کے معاملات تک اس تمدن کا طور و طریق اپنی ایک مستقل شان رکھتا ہے اور ہر ہر جز میں ایک واضح خط امتیاز اس کو دوسرے تمدنوں سے الگ کرتا ہے۔ اس کی ہر چیز میں اوّل سے آخر تک ایک خاص نقطہ نظر ایک خاص مقصد اور ایک خاص اخلاقی رویہ کارفرما ہوتا ہے جس کا براہ راست تعلق خدائے واحد کی حاکمیت مطلقه اور انسان کی محکومیت و مسئولیت اور دنیا کے بجائے آخرت کی مقصودیت سے جڑا ہوا ہوتا ہے۔
رہبانی تہذیب کومستی کر کے ہر وہ تہذیب جو دنیا کی زندگی کے متعلق ایک جامع نظریه اور کاروبار دنیا کو چلانے کے لیے ایک ہمہ گیر طریقہ رکھتی ہو، قطع نظر اس سے کہ وہ جاہلیت کی تہذیب ہو یا اسلام کی طبعا اس بات کی طالب ہوتی ہے کہ حاکمانہ اختیارات پر قبضہ کرئے زمام کار اپنےہاتھ میں لے اور زندگی کا نقشہ اپنے طرز پر بنائے۔ حکومت کے بغیر کسی ضابطہ و نظریہ کو پیش کرنایا اس کا معتقد ہو نا محض بے معنی ہے۔ راہب تو دنیا کے معاملات کو چلانا ہی نہیں چاہتا بلکہ ایک خاص قسم کے سلوک سے اپنی خیالی نجات کی منزل تک باہر ہی باہر پہنچ جانےکی فکر میں لگا رہتا ہےاس لیےنہ اس کو حکومت کی حاجت نہ طلب۔مگر جو دنیا کےمعاملات ہی کو چلانے کا ایک خاص ڈھنگ لے کر اٹھے اور اسی ڈھنگ کی پیروی میں انسان کی فلاح و نجات کا معتقد ہو اس کے لیے تو بجز اس کے کوئی چارہ ہی نہیں کہ اقتدار کی کنجیوں پر قبضہ کرنے کی کوشش کرے۔ کیونکہ جب تک وہ اپنے نقشے پر عملدرآمد کرنے کی طاقت حاصل نہ کرلئے اس کا نقشہ واقعات کی دنیا میں قائم نہیں ہو سکتا۔ بلکہ کاغذ پر اور ذہنوں میں بھی زیادہ عرصہ تک باقی نہیں رہ سکتا۔ جس تہذیب کے ہاتھ میں زمام کار ہوتی ہے دنیا کا سارا کاروبار اسی کے نقشہ پر چلتا ہے۔ وہی علوم وافکار اور فنون و آداب کی رہنمائی کرتی ہے وہی اخلاق کے سانچے بناتی ہے وہی تعلیم وتربیت عامہ کا انتظام کرتی ہے، اسی کے قوانین پر سارا نظام تمدن منی ہوتا ہے اور اسی کی پالیسی ہر شعبہ زندگی میں کارفرما ہوتی ہے۔ اس طرح زندگی میں کہیں بھی اس تہذیب کےلیےکوئی جگہ نہیں ہوتی جو اپنی حکومت نہ رکھتی ہو یہاں تک کہ جب ایک طویل مدت تک حکمران تہذیب کا دور دورہ رہتا ہے تو غیر حکمران تہذیب عمل کی دنیا میں خارج از بحث ہو جاتی ہے، اس کی طرف ہمدردانہ نقطہ نظر ر کھنےوالوں کو بھی اس امر میں شبہ لیڈر شپ کے بزعم خود وارثین تک تہذیب مخالف سے مدارات (Compromise) اور آدھے پونے کا مشترک معاملہ کرنے پر اتر آتے ہیں۔ حالانکہ حکمرانی میں دو بالکل مختلف الاصول تہذیبوں کے درمیان مقاسمت و مصالحت قطعی غیر ممکن العمل چیز ہے اور انسانی تمدن اس شرک کو برداشت نہیں کر سکتا۔ پٹائی کوممکن العمل خیال کرنا عقل کی کمی پر دلالت کرتا ہے اور اس کے لیے راضی ہوتا ایمان اور ہمت کی کمی پر۔
پس دنیا میں انبیاء علیہم السلام کے مشن کا منتہائے مقصود یہ رہا ہے کہ حکومت الہیہ قائم کر کےاس پورے نظام زندگی کو نافذ کریں جود و خدا کی طرف سے لائے تھے۔ وہ اہل جاہلیت کو یہ حق تو دینے کے لیے تیار تھے کہ اگر چاہیں تو اپنے جاہلی اعتقادات پر قائم رہیں اور جس حد کے اندران کے عمل کا اثر انہی کی ذات تک محدود رہتا ہے اس میں اپنے جاہلی طریقوں پر چلتے رہیں ۔ مگر وہ انہیں یہ حق دینے کے لیے تیار نہ تھے اور فطرہ نہ دے سکتے تھے کہ اقتدار کی کنجیاں ان کے ہاتھ میں رہیں اور وہ انسانی زندگی کے معاملات کو طاقت کے زور سے جاہلیت کے قوانین پر چلا ئیں۔ اسی وجہ سے تمام انبیاء نے سیاسی انقلاب برپا کرنے کی کوشش کی۔ بعض کی مساعی صرف زمین تیار کرنے کی حد تک رہیں، جیسے حضرت ابراہیم ۔ بعض نے انقلابی تحریک عملا شروع کر دی مگر حکومت الہیہ قائم کرنے سے پہلے ہی ان کا کام ختم ہو گیا ، جیسے حضرت مسیح " ۔ اور بعض نے اس تحریک کو کامیابی کی منزل تک پہنچادیا جیسے حضرت یوسف حضرت موسیٰ“ اور سیدنا محمدصلی اللہ علیہ وسلم -
١-موجودہ زمانے میں بعض دیندار بزرگوں کی زبان سے یہ فقرہ اکثر سنے میں آتا ہے کہ حکومت مقصود نہیں بلکہ موعود ہے۔ یہ بات جو حضرات فرماتے ہیں ان کے ذہن میں در اصل حکومت کے محض انعام ہونے کا تصور ہےاس کے ڈیوٹی اور خدمت ہونے کا تصور نہیں ہے۔ وہ نہیں جانتے کہ دین کو عملا قائم کرنے کے لیےجس حکومت کی ضرورت ہے اس کا قیام خدا کی شریعت میں مطلوب و مقصود ہے اور اس کے لیے جہاد کرنا فرض ہے۔
١- عام انسانوں کے اندر فکری و ذہنی انقلاب بر پا کرنا۔ خالص اسلامی نقطہ نظر و طرز فکر اور رویہ اخلاقی کو ان کے اندر اس حد تک پیوست کر دینا کہ ان کے سوچنے کا طریقہ زندگی کا مقصد قدر وقیمت کا معیار اور عمل کا ڈھنگ بالکل اسلام کے سانچے میں ڈھل جائے۔
۲۔ جو لوگ اس تعلیم و تربیت کا اثر قبول کر لیں ان کا ایک مضبوط جتھا بنا کر جاہلیت کےہاتھوں سے اقتدار چھینے کی جدو جہد کرنا اور اس جدو جہد میں تمام ان اسباب سے کام لینا جو وقت کے تبدن میں موجود ہوں۔
٣۔ اسلامی نظام حکومت قائم کر کے تمدن کے تمام شعبوں کو خالص اسلام کی اساس پر مرتب کر دینا اور ایسی تدابیر اختیار کرنا کہ ایک طرف اسلامی انقلاب کا دائرہ روئے زمین پر وسیع ہوتا جائے اور دوسری طرف تبلیغ اور تناسل کے ذریعہ سے جماعت اسلامی میں جتنی نئی بھرتی ہو اس کی ذہنی و اخلاقی تربیت پورے اسلامی طرز پر ہوتی رہے۔
خلافت راشده :خاتم النحمین سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم نےیہ سارا کام ۲۳ سال کی مدت میں پایہ تکمیل کو پہنچا دیا۔ آپ کے بعد ابو بکرصدیق اور عمر فاروق رضی اللہ عنہما دو ایسے کامل لیڈر اسلام کومیسر آئے جنہوں نے اس جامعیت کے ساتھ آپ کے کام کو جاری رکھا۔ پھر زمامِ قیادت حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی طرف منتقل ہوئی اور ابتداء چند سال تک وہ پورا نقشہ بدستور جمارہا جو نبی علیہ الصلوۃ والسلام نے قائم کیا تھا۔
جاہلیت کا حملہ: مگر ایک طرف حکومت اسلامی کی تیز رفتار وسعت کی وجہ سے کام روز بروز زیادہ سخت ہوتا جارہا تھا اور دوسری طرف حضرت عثمان جن پر اس کا عظیم کا بار رکھا گیا تھا، ان تمام خصوصیات کے حامل نہ تھے جو ان کے جلیل القدر پیش رووں کو عطا ہوئی تھیں علاس لیے ان کےزمانہ خلافت میں جاہلیت کو اسلامی نظام اجتماعی کے اندر گھس آنے کا موقع مل گیا۔ حضرت عثمان نے اپنا سر دے کر اس خطرے کا راستہ روکنےکی کوشش کی مگر وہ نہ رُکا۔اس کےبعد حضرت علی رضی اللہ عنہ آگے بڑھے اور انہوں نےاسلام کےسیاسی اقتدار کو جاہلیت کےتسلط سےبچانےکی انتہائی کوشش کی مگر ان کی جان کی قربانی بھی اس انقلاب معکوس (Counter Revolution) کو نہ روک سکی۔ آخر کار خلافت علی منہاج النبوۃ کا دور ختم ہو گیا۔ ملک عفوض (Tyrant Kingdom) نے اس کی جگہ لے لی اور اس طرح حکومت کی اساس اسلام کے بجائے پھر جاہلیت پر قائم ہوگئی۔
جاہلیت کا حملہ: مگر ایک طرف حکومت اسلامی کی تیز رفتار وسعت کی وجہ سے کام روز بروز زیادہ سخت ہوتا جارہا تھا اور دوسری طرف حضرت عثمان جن پر اس کا عظیم کا بار رکھا گیا تھا، ان تمام خصوصیات کے حامل نہ تھے جو ان کے جلیل القدر پیش رووں کو عطا ہوئی تھیں علاس لیے ان کےزمانہ خلافت میں جاہلیت کو اسلامی نظام اجتماعی کے اندر گھس آنے کا موقع مل گیا۔ حضرت عثمان نے اپنا سر دے کر اس خطرے کا راستہ روکنےکی کوشش کی مگر وہ نہ رُکا۔اس کےبعد حضرت علی رضی اللہ عنہ آگے بڑھے اور انہوں نےاسلام کےسیاسی اقتدار کو جاہلیت کےتسلط سےبچانےکی انتہائی کوشش کی مگر ان کی جان کی قربانی بھی اس انقلاب معکوس (Counter Revolution) کو نہ روک سکی۔ آخر کار خلافت علی منہاج النبوۃ کا دور ختم ہو گیا۔ ملک عفوض (Tyrant Kingdom) نے اس کی جگہ لے لی اور اس طرح حکومت کی اساس اسلام کے بجائے پھر جاہلیت پر قائم ہوگئی۔
حکومت پر قبضہ کرنے کے بعد جاہلیت نے مرض سرطان کی طرح اجتماعی زندگی میں اپنےریشے بتدریج پھیلا نے شروع کر دیئےکیونکہ اقتدار کی کنجی اب اسلام کے بجائے اس کےہاتھ میں تھی اور اسلام زور حکومت سےمحروم ہونے کے بعد اس کے نفوذ واثر کو بڑھنے سے نہ روک سکتا تھا۔ سب سے بڑی مشکل یہ تھی کہ جاہلیت بے نقاب ہو کر سامنے نہ آئی تھی بلکہ "مسلمان“ بن کر آئی تھی۔کھلے دہریے یا مشرکین و کفار سامنے ہوتے تو شاید مقابلہ آسان ہوتا۔ مگر وہاں تو آگےآگے توحید کا اقرار رسالت کا اقرار صوم و صلوٰۃ پر عمل، قرآن وحدیث سے استشہاد تھا اور اس کےپیچھے جاہلیت اپنا کام کر رہی تھی ۔ ایک ہی وجود میں اسلام اور جاہلیت کا اجتماع ایسی سخت پیچیدگی پیدا کر دیتا ہے کہ اس سےعہدہ برآ ہونا ہمیشہ جاہلیت صریحہ کے مقابلہ کی بہ نسبت ہزاروں گنا زیادہ مشکل ثابت ہوا ہے۔عریاں جاہلیت سے لڑیئے تو لاکھوں مجاہدین سر ہتھیلیوں پر لیے آپ کےساتھ ہو جائیں گے اور کوئی مسلمان علانیہ اس کی حمایت نہ کر سکے گا۔ مگر اس مرکب جاہلیت سےلڑنے جائے تو منافقین ہی نہیں، بہت سے اصلی "مسلمان" بھی اس کی حمایت پر کمر بستہ ہو جائیں گےاور اُلٹا آپ کو مورد الزام بنا ڈالیں گے۔ جاہلی امارت کی مسند اور جاہلی سیاست کی رہنمائی پر "مسلمان" کا جلوہ افروز ہونا جاہلی تعلیم کے مدرسے میں مسلمان“ کا معلم ہونا جاہلیت کےسجادہ پر مسلمان کا مرشد بن کر بیٹھنا وہ زبردست دھوکا ہے جس کے فریب میں آنے سے کم ہی لوگ بچ سکتے ہیں۔
١- بعض مفتیان کرام نے اس فقرے سے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی توہین کا پہلو نکالا ہے۔حالانکہ میرا مدعا صرف یہ ہے کہ حضرت عثمان میں بعض ان اوصاف حکمرانی کی کمی تھی جو سیدنا ابوبکر صدیق اور سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہما میں بدرجه کمال پائے جاتے تھے۔ یہ تاریخ کا مسئلہ ہے جس کے بارے میں تاریخ کے طالب علم مختلف رائیں ظاہر کر سکتے ہیں۔ یہ کوئی فقہ وکلام کا مسئلہ نہیں ہے کہ دارالافتاؤں سے اس کے متعلق کوئی رائے بصورت فتویٰ صادر کی جائے۔
اس معکوس انقلاب کا سب سے زیادہ خطر ناک پہلو یہی تھا کہ اسلام کا نقاب اوڑھ کر تینوں قسم کی جاہلیتوں نے اپنی جڑیں پھیلانی شروع کر دیں اور ان کے اثرات روز بروز زیادہ پھیلتےچلے گئے۔
جاہلیت خالصہ نے حکومت اور دولت پر تسلط جمایا۔ نام خلافت کا تھا اور اصل میں وہی بادشاہی تھی جس کو مٹانے کے لیے اسلام آیا تھا۔ پادشاہوں کو الہ کہنے کی ہمت کسی میں باقی نہ تھی اس لیے السلطان سے ظل اللہ کا بہانہ اختیار کیا گیا اور اس بہانے سے وہی مطاع مطلق کی حیثیت پادشاہوں نے اختیار کی جوالہ کی ہوتی ہے۔ اس بادشاہی کے زیر سایہ امراء حکام ولاۃ اہل لشکر اور مترفین کی زندگیوں میں کم و بیش خالص جاہلیت کا نقطہ نظر پھیل گیا اور اس نے ان کے اخلاق اور معاشرت کو پوری طرح ماؤف کر دیا۔ پھر یہ بالکل ایک طبعی امر تھا کہ اس کے ساتھ ہی جاہلیت کا فلسفہ ادب اور ہنر بھی پھیلنا شروع ہو اور علوم و فنون بھی اسی طرز پر مرتب و مدون ہوں، کیونکہ یہ سب چیزیں لت اور حکومت کی سرپرستی چاہتی ہیں، اور جہاں دولت اور حکومت جاہلیت کےقبضہ میں ہوں وہاں ان پر بھی جاہلیت کا تسلط ناگزیر ہے۔ چنانچہ یہی وجہ ہے کہ یونان اور عجم کےفلسفے اور علوم و آداب نے اس سوسائٹی میں راہ پائی جو اسلام کی طرف منسوب تھی، اور اس لٹریچر کےاثر سے مسلمانوں میں ” کلامیات کی بخشیں شروع ہوئیں، اعتزال کا مسلک نکلا زندقہ اور الحاد پر پرزے نکالنے لگا اور عقائد کی موشگافیوں نے نئے نئے فرقے پیدا کر دیئے۔ اسی پر بس نہیں بلکہ رقص، موسیقی اور تصویر کشی جیسے خالص جاہلی آرٹ بھی از سر نو اُن قوموں میں بار پانے لگے جن کو اسلام نے ان فتنوں سے بچالیا تھا_١
١- اس میں شک میں نہیں کہ حدیث میں یہ الفاظ آئے ہیں مگر لوگوں نے ان کا بالکل غلط مفہوم لیا ہے۔ عربی زبان میں سلطان کے اصل معنی اقتدار کے ہیں۔ صاحب اقتدار کے لیے تو یہ لفظ محض مجاز ا استعمال ہوتا ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس لفظ کو اس کے اصل معنی میں استعمال فرمایا ہے نہ کہ مجازی معنی میں ۔ حضور کے ارشاد کا منشایہ ہےکہ حکومت و اقتدار در حقیقت اللہ تعالٰی کے اقتدار کا ایک پر تو ہے۔ جس شخص پر یہ پر تو ڈالا جائے وہ اگر اس کی عزت کو محوظ رکھے گا، یعنی حق اور انصاف کےمطابق حکومت کرے گا تو اللہ تعالیٰ اسے عزت دے گا اور جو شخص اس سایہ الہی کی اہانت کرے گا یعنی ظلم اور نفس پرستی کےساتھ حکومت کرے گا اللہ اس کو ذلیل کر دے گا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اس حکیمانه ارشاد کو تو ز مروڑ کر لوگوں نے بادشاہوں کو ظل اللہ قرارد ہے لیا اور حضور کے منشاء کے بالکل خلاف اسے بادشاہ پرستی کے لیے ایک مذہبی بنیاد بنا ڈالا۔
جاہلیت مشرکانہ نے عوام پر حملہ کیا اور توحید کے راستے سے ہٹا کر ان کو ضلالت کی بے شمار راہوں میں بھٹکا دیا۔ ایک صریح بت پرستی تو نہ ہوسکی باقی کوئی قسم شرک کی ایسی نہ رہی جس نے"مسلمانوں" میں رواج نہ پایا ہو۔پرانی جاہلی قوموں کےجولوگ اسلام میں داخل ہوئےتھےوہ اپنےساتھ بہت سےمشرکانہ تصورات لیےچلے آئےاور یہاں ان کو صرف اتنی تکلیف کرنی پڑی کہ پرانےمعبودوں کی جگہ بزرگانِ اسلام میں سےکچھ معبودتلاش کریں،پرانےمعبدوں کی جگہ مقابر اولیاء سےکام لیں اور پرانی عبادات کی رسموں کو بدل کرنئی رسمیں ایجاد کر لیں۔اس کام میں دنیا پرست علماء نےان کی بڑی مدد کی اور وہ بہت کی مشکلات ان کے راستہ سےدور کر دیں جو شرک کو اسلام کے اندر نصب کرنے پر پیش آسکتی تھیں۔انہوں نے بڑی دیدہ ریزی سےآیات اور احادیث کو توڑ مروڑ کر اسلام میں اولیاء پرستی اور قبر پرستی کی جگہ نکالی، مشرکانه اعمال کے لیے اسلام کی اصطلاحی زبان میں سے الفاظ بہم پہنچائے اور اس نئی شریعت کے لیے رسموں کی ایسی صورتیں تجویز کیں کہ شرک جلی کی تعریف میں نہ آسکیں ۔ اس فنی امداد کے بغیر اسلام کے دائرے میں شرک بے چارہ کہاں بار پا سکتا تھا؟ جاہلیت اہبانہ نے علماء و مشایخ ، زہاد اور پاکباز لوگوں پر حملہ کیا اور ان میں وہ خرابیاں پھیلانی شروع کیں جن کی طرف میں اس سے پہلے اشارہ کر آیا ہوں۔ اس جاہلیت کے اثر سےاشراقی فلسفه راہبانہ اخلاقیات اور زندگی کے ہر پہلو میں مایوسانہ نقطہ نظر مسلم سوسائٹی میں پھیلا اور اس نے نہ صرف یہ کہ ادبیات اور علوم کو متاثر کیا بلکہ فی الواقع سوسائٹی کے اچھے عناصر کو مارفیا کا انجکشن دے کرست کر دیا پادشاہی کے جاہلی نظام کو مضبوط کیا اسلامی علوم وفنون میں جمود اور تنگ خیالی پیدا کی اور ساری دینداری کو چند خاص مذہبی اعمال میں محدود کر کے رکھ دیا۔
١- مولانا شبلی اور جسٹس امیر علی جیسے لوگوں نے ان بادشاہوں کے ان کارناموں کو اسلامی تہذیب و تمدن کی خدمات میں شمار کیا ہے۔
مجددین کی ضرورت: انہی تینوں اقسام کی جاہلیتوں کے ہجوم سے اسلام کو نکالنا اور پھر سےچمکا دینا وہ کام تھا جس کےلیےدین کو مجددین کی ضرورت پیش آئی،اگر چہ یہ گمان کرنا صحیح نہ ہوگا کہ اس طغیان جاہلیت میں اسلام بالکل ختم ہو گیا تھا اور جاہلیت کلیتہ غالب آگئی تھی۔ واقعہ یہ ہے کہ جو قو میں اسلام سے متاثر ہو چکی تھیں یا بعد میں متاثر ہوئیں ان کی زندگیوں میں اسلام کا اصلاحی اثر تھوڑایا بہت ہمیشہ موجود رہا۔ یہ اسلام ہی کا اثر تھا کہ بڑے بڑے جبار و غیر ذمہ دار بادشاہ بھی کبھی کبھی خوف خدا سے کانپ اٹھتے تھے اور راستی و انصاف کا طریقہ اختیار کر لیتے تھے۔ یہ اسلام ہی کی برکت ہے کہ بادشاہی کی سیاہ تاریخ میں ہم کو جگہ جگہ نیکی اور اخلاق فاضله کی روشنی چمکتی نظر آتی ہے۔ یہ اسلام ہی کا طفیل ہے کہ جن شاہی خاندانوں میں خدائی کا رنگ جما ہوا تھا ان کی آغوش میں بہت سے دیندار عادل اور متقی انسان پیدا ہوئے اور انہوں نے شاہی اختیارات رکھنے کے باوجود حتی الامکان ذمہ دارانہ حکومت کی۔ اسی طرح امارت و ریاست کے ایوانوں میں، فلسفہ و حکمت کے مدرسوں میں، تجارت وصنعت کی کارگاہوں میں، ترک و تجرید کی خانقاہوں میں، اور زندگی کےدوسرے شعبوں میں بھی اسلام اپنے بالواسطہ اثرات کم و بیش برابر پہنچا تا رہا' اور عوام کے اندر بھی مشرکانہ جاہلیت کی دراندازی کے باوجود اس نے اعتقاد اخلاق اور معاشرت میں اصلاحی اور انسدادی دونوں حیثیتوں سے اپنا نفوذ جاری رکھا جس کی وجہ سے مسلمان قوموں کا معیار اخلاق بہر حال غیر مسلم قوموں سے ہمیشہ بلند تر رہا۔ علاوہ بریں ہر زمانے میں ایسے لوگ بھی برابر موجود رہے جو اسلام کی پیروی پر ثابت قدم تھے اور اسلامی علم وعمل کو اپنی زندگی میں اور اپنے محدود حلقہ اثر میں زندہ رکھنے کی کوشش کرتے تھے۔ لیکن جو مقصد اصلی انبیاء علیہم السلام کی بعثت کا تھا اس کےلیے یہ دونوں چیزیں ناکافی تھیں۔ نہ یہ بات کافی تھی کہ اقتدار جاہلیت کے ہاتھ میں ہو اور اسلام محض ایک ثانوی قوت کی حیثیت سے کام کرئے اور نہ یہی بات کافی تھی کہ چند افراد یہاں اور چند وہاں محدود انفرادی زندگیوں میں اسلام کے حامل بنے رہیں اور وسیع تر اجتماعی زندگی میں اسلام اور جاہلیت کے مختلف النوع مرکبات پھیلے رہیں۔ لہذا دین کو ہر دور میں ایسے طاقت ور اشخاص گروہوں اور اداروں کی ضرورت تھی اور ہے جو زندگی کی بگڑی ہوئی رفتار کو بدل کر پھر سے اسلام کی طرف پھیر دیں۔
شرح حديث "مَنْ يُجَدِّدُ لَهَا دِينَهَا : یہی وہ چیز ہے جس کی خبر مخبر صادق علیہ الصلوۃ والسلام نے اس حدیث میں دی ہے جو ابو داؤد میں حضرت ابو ہریرہ سے مروی ہے کہ:
مگر اس حدیث سے بعض لوگوں نے تجدید اور مجددین کا بالکل ہی ایک غلط تصور اخذ کر لیا۔انہوں نے علی رأس كل ماہ سے صدی کا آغا ز یا اختتام مراد لے لیا اور من يجددلها کا مطلب یہ سمجھا کہ اس سے مراد لا ز نا کوئی ایک ہی شخص ہے۔ اس بنا پر انہوں نے تلاش کرنا شروع کر دیا کہ اسلام کی پچھلی تاریخوں میں کون کون ایسے اشخاص ملتے ہیں جو ایک ایک صدی کے آغا ز یا اختتام پر پیدا ہوئے یا مرے ہوں اور انہوں نے تجدید دین کا کام بھی کیا ہو۔ حالانکہ نہ راس سےمرا دسرا ہے اور حسن کا مفہوم فرد واحد تک محدود ہے۔ اس کے معنی سر کے ہیں اور صدی کے سر پر کسی شخص یا گروہ کے اٹھائے جانے کا مطلب صاف طور پر یہ ہے کہ وہ اپنے دور کے علوم افکار اور رفتار عمل پر نمایاں اثر ڈالے گا۔ اور مسن کا لفظ عربی زبان میں واحد اور جمع دونوں کے لیے استعمال ہوتا ہے اس لیے من سے مراد ایک شخص بھی ہو سکتا ہے، بہت سے اشخاص بھی ہو سکتے ہیں اور پورے پورے ادارے اور گروہ بھی ہو سکتے ہیں۔ حضور نے جو خبر دی ہے اس کا واضح مفہوم یہ ہے کہ انشاء اللہ اسلامی تاریخ کی کوئی صدی ایسے لوگوں سے خالی نہ گزرے گی جو طوفان جاہلیت کے مقابلےمیں اٹھیں گے اور اسلام کو اس کی اصلی روح اور صورت میں از سر نو قائم کرنے کی کوشش کرتےرہیں گے۔ ضروری نہیں کہ ایک صدی کا مجدد ایک ہی شخص ہو ۔ ایک صدی میں متعدد اشخاص اور گروہ یہ خدمت انجام دے سکتے ہیں۔ یہ بھی ضروری نہیں کہ تمام دنیائے اسلام کے لیے ایک ہی مجدد ہو۔ ایک وقت میں بہت سے ملکوں میں بہت سے آدمی تجدید دین کے لیے سعی کرنے والےہو سکتے ہیں۔ یہ بھی ضروری نہیں کہ وہ شخص جو اس سلسلے کی کوئی خدمت انجام دے مجدد کےخطاب سے نوازا جائے۔ یہ خطاب تو صرف ایسے اشخاص ہی کو دیا جاسکتا ہے جنہوں نے تجدید دین کے لیے کوئی بہت بڑا اور نمایاں کارنامہ انجام دیا۔
کار تجدید کی نوعیت اب قبل اس کے کہ ہم مجددین امت کے کارناموں کا جائزہ لیں ہمیں خود اس کا رتجدید کو اچھی طرح سمجھ لینا چاہیے۔
تجدد اور تجدید کا فرق : عموماً لوگ تجدد اور تجدید میں فرق نہیں کرتےاور سادہ لوحی سے ہر متجدد کو مجدد کہنے لگتے ہیں۔ ان کا گمان یہ ہے کہ ہر وہ شخص جو نیا طریقہ نکالے اور اس کو ذرا زور سے چلا دے وہ مجدد ہوتا ہے۔ خصوصا جولوگ کسی مسلمان قوم کو بر سر انحطاط دیکھ کر اس کو دنیوی حیثیت سےسنبھالنے کی کوشش کرتے ہیں اور اپنے زمانہ کی بر سر عروج جاہلیت سے مصالحت کر کے اسلام اور جاہلیت کا ایک نیا مخلوطہ تیار کر دیتے ہیں، یا فقط نام باقی رکھ کر اس قوم کو پورے جاہلیت کے رنگ میں رنگ دیتے ہیں، ان کو مجدد کے خطاب سے نواز دیا جاتا ہے حالانکہ وہ مجدد نہیں مسجد دہوتے ہیں اور ان کا کام تجدید نہیں تجدد ہوتا ہے۔ تجدید کا کام اس سے بالکل مختلف ہے۔ جاہلیت سےمصالحت کی صورتیں نکالنے کا نام تجدید نہیں ہے اور نہ اسلام اور جاہلیت کا کوئی نیا مرکب بنانا تجدید ہے بلکہ دراصل تجدید کا کام یہ ہے کہ اسلام کو جاہلیت کے تمام اجزاء سے چھانٹ کر الگ کیا جائےاور کسی نہ کسی حد تک اس کو اپنی خالص صورت میں پھر سے فروغ دینے کی کوشش کی جائے۔ اس لحاظ سے مجدد جاہلیت کے مقابلہ میں سخت غیر مصالحت پسند آدمی ہوتا ہے اور کسی خفیف سے خفیف جزء میں بھی جاہلیت کی موجودگی کا روادار نہیں ہوتا۔
مجدد کی تعریف: مجدد نبی نہیں ہوتا مگر اپنے مزاج میں مزاج نبوت سے بہت قریب ہوتا ہے۔نہایت صاف دماغ حقیقت اس نظر ہر قسم کی کبھی سے پاک بالکل سیدھا ذ ہن،افراط و تفریط سےبچ کر توسط واعتدال کی سیدھی راہ دیکھنےاور اپنا توازن قائم رکھنےکی خاص قابلیت اپنےماحول اور صدیوں کےجمےاور رچےہوئےتعصبات سےآزاد ہو کر سوچنےکی قوت،زمانہ کی بگڑی ہوئی رفتار سےلڑنےکی طاقت و جرات،قیادت و رہنمائی کی پیدائشی صلاحیت اجتہاد اور تعمیر نو کی غیر معمولی اہمیت اور ان سب باتوں کےساتھ اسلام میں مکمل شرح صدر،نقطہ نظر اور فہم و شعور میں پورا مسلمان ہونا،باریک سےباریک جزئیات تک میں اسلام اور جاہلیت میں تمیز کرنا اور مدتہائےدراز کی الجھنوں میں سے امر حق کو ڈھونڈ کر الگ نکال لینا۔ یہ وہ خصوصیات ہیں جن کے بغیر کوئی شخص مجدد نہیں ہو سکتا، اور یہی وہ چیزیں ہیں جو اس سے بہت زیادہ بڑے پیمانے پر نبی میں ہوتی ہیں۔
مجدد اور نبی کا فرق : لیکن وہ بنیادی چیز جو مجدد کو نبی سے جدا کرتی ہے، یہ ہے کہ نبی اپنےمنصب پر امر تشریعی سے مامور ہوتا ہے اس کو اپنی ماموریت کا علم ہوتا ہے اس کے پاس وحی آتی ہے وہ اپنی نبوت کے دعوے سے اپنے کام کا آغاز کرتا ہے اسے لوگوں کو اپنی طرف دعوت دینی پڑتی ہے اور اس کی دعوت ہی کو قبول کرنے یا نہ کرنے پرلوگوں کے کافر یا مومن ہونے کا مدار ہوتا ہے برعکس اس کے مجددکوان میں سے کوئی حیثیت بھی حاصل نہیں۔ وہ اگر مامور ہوتا ہے تو امر تکوینی سے ہوا کرتا ہے نہ کہ امر تشریعی سے۔ بسا اوقات اس کو خود اپنے مجدد ہونے کی خبر نہیں ہوتی بلکہ اس کے مرنے کے بعد اس کی زندگی کے کارنامے سے لوگوں کو اس کے مجدد ہونے کا علم ہوتا ہے۔اس پر الہام ہونا ضروری نہیں اور اگر ہوتا ہے تو لازم نہیں کہ اسے الہام کا شعور ہو ۔۔ وہ کسی دعوے سےاپنے کام کا آغاز نہیں کرتا نہ ایسا کرنےکا حق رکھتا ہے،کیونکہ اس پر ایمان لانے یا نہ لانے کا کوئی سوال نہیں ہوتا۔اس کےزمانےکے تمام اہل صلاح و خیر رفتہ رفتہ اس کے گرد جمع ہو جاتے ہیں اور صرف وہی لوگ اس سے الگ رہتے ہیں جن کی طبیعت میں کوئی ٹیڑھ ہوتی ہےمگر بہر حال اس کو ماننا مسلمان ہونے کی شرط نہیں ہوتا ۔ ان تمام فروق کے ساتھ مسجد کو فی الجمله اسی نوعیت کا کام کرنا ہوتا ہے جو نبی کے کام کی نوعیت ہے۔
١- بعض لوگ اس مقام پر یہ شبہ وارد کرتے ہیں کہ مجددین امت میں سے بعض نے خود اپنے مجدد ہونے کا دعوئی کیا ہے مثلاً مجددالف ثانی اور شاہ ولی اللہ صاحب۔ لیکن یہ لوگ اس بات کو بھول جاتے ہیں کہ ان بزرگوں نےصرف اپنے اس مقام پر فائز ہونے کا اظہار کیا ہے۔ کوئی دعوی نہیں کیا ہے۔ ان کے کسی فعل سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ انہوں نے لوگوں کو اپنی طرف دعوت دی ہو اور یہ مطالبہ کیا ہو کہ انہیں مجدد تسلیم کیا جائے یا یہ کہا ہو کہ جو انہیں مجدد مانے گا بس وہی مومن ہو گا اور نجات پائے گا۔
١- اپنے ماحول کی صحیح تشخیص، یعنی حالات کا پورا جائزہ لے کر یہ سمجھنا کہ جاہلیت کہاں کہاں کس حد تک سرایت کر گئی ہے کن کن راستوں سے آئی ہے۔ اس کی جڑیں کہاں کہاں اور کتنی پھیلی ہوئی ہیں اور اسلام اس وقت ٹھیک کس حالت میں ہے۔
٢- اصلاح کی تجویز یعنی یہ تعین کرنا کہ اس وقت کہاں ضرب لگائی جائے کہ جاہلیت کی گرفت ٹوٹے اور اسلام کو پھر اجتماعی زندگی پر گرفت کا موقع ملے۔
٣- خود اپنے حدود کا تعین، یعنی اپنے آپ کو تول کر صحیح اندازہ لگانا کہ میں کتنی قوت رکھتا ہوں اور کس راستہ سے اصلاح کرنے پر قادر ہوں۔
٤- ذہنی انقلاب کی کوشش، یعنی لوگوں کے خیالات کو بدلنا عقائد و افکار اور اخلاقی نقطہ نظر کو اسلام کے سانچے میں ڈھالنا نظام تعلیم وتربیت کی اصلاح اور علوم اسلامی کا احیاء کرنا اور فی الجمله اسلامی ذہنیت کو از سر نو تازہ کر دینا۔
٥- عملی اصلاح کی کوشش، یعنی جاہلی رسوم کو مٹانا اخلاق کا تزکیہ کرنا اتباع شریعت کےجوش سے پھر لوگوں کو سرشار کر دینا اور ایسے افراد تیار کرنا جو اسلامی طرز کے لیڈر بن سکیں۔
٦- اجتہاد فی الدین، یعنی دین کےاصول کلیہ کو سمجھنا اپنےوقت کےتمدنی حالات اور ارتقائے تمدن کی سمت کا اسلامی نقطہ نظر سے صحیح اندازہ لگانا اور یہ تعین کرنا کہ اصول شرع کے ماتحت تمدن کے پرانے متوارث نقشے میں کس طرح رد و بدل کیا جائے جس سے شریعت کی روح برقرار ہے اس کے مقاصد پورے ہوں اور تمدن کے صحیح ارتقاء میں اسلام دنیا کی امامت کر سکے۔
٧- دفاعی جدو جہد یعنی اسلام کو مٹانے اور دبانے والی سیاسی طاقت کا مقابلہ کرنا اور اس کے زور کو توڑ کر اسلام کے لیے ابھرنے کا راستہ پیدا کرنا۔
٨- احیائے نظام اسلامی، یعنی جاہلیت کے ہاتھ سے اقتدار کی کنجیاں چھین لیتا اور از سرنو حکومت کو عملاً اس نظام پر قائم کر دینا جسے صاحب شریعت علیہ السلام نے خلافت علی منهاج النبوۃ کے نام سے موسوم کیا ہے۔
(۹) عالمگیر انقلاب کی کوشش، یعنی صرف ایک ملک یا ان ممالک میں جہاں مسلمان پہلےسے موجود ہوں اسلامی نظام کےقیام پر اکتفانہ کرنا بلکہ ایک ایسی طاقت ور عالمگیر تحریک برپا کرنا جس سےاسلام کی اصلاحی و انقلابی دعوت عام انسانوں میں پھیل جائے وہی تمام دنیا کی غالب تہذیب بنے ساری دنیا کے نظام تمدن میں اسلامی طرز کا انقلاب بر پا ہو اور عالم انسانی کی اخلاقی، فکری اور سیاسی امامت دریاست اسلام کے ہاتھ میں آجائے۔
ان شعبوں پر غائر نظر ڈالنے سے معلوم ہوتا ہے کہ ابتدائی تین مدات تو ایسی ہیں جو ہر اس شخص کے لیے ناگزیر ہیں جو تجدید کی خدمت انجام دے لیکن باقی چھ دیں ایسی ہیں، جن کا جامع ہونا مجدد ہونے کے لیے شرط نہیں ہے بلکہ جس نے ایک دو تین یا چار شعبوں میں کوئی نمایاں کارنامہ انجام دیا ہو وہ بھی مجدد قرار دیا جا سکتا ہے۔ البته اس قسم کا مجدد جزوی مجدد ہوگا،کامل مجدد نہ ہو گا۔ کامل مجد دصرف وہ شخص ہو سکتا ہے جو ان تمام شعبوں میں پورا کام انجام دے کر وراثت نبوت کا حق ادا کر دے۔
مجدد کامل کا مقام : تاریخ پر نظر ڈالنے سے معلوم ہوتا ہے کہ اب تک کوئی مجدد کامل پیدا نہیں ہوا ہے۔ قریب تھا کہ عمر ابن عبد العزیز اس منصب پر فائز ہو جاتے مگر وہ کامیاب نہ ہو سکے۔ان کےبعد جتنے مجدد پیدا ہوئے ان میں سے ہر ایک نے کسی خاص شعبے یا چند شعبوں ہی میں کام کیا۔ مجددِ کامل کا مقام ابھی تک خالی ہے۔ مگر عقل چاہتی ہے، فطرت مطالبہ کرتی ہے اور دنیا کے حالات کی رفتار متقاضی ہے کہ ایسا لیڈر پیدا ہو خواہ اس دور میں پیدا ہو یا زمانے کی ہزاروں گردشوں کےبعد پیدا ہو۔ اس کا نام الامام المہدی ہو گا جس کے بارے میں صاف پیشین گوئیاں نبی علیہ الصلوۃ والسلام کے کلام میں موجود ہیں_١
١- اگر چہ یہ پیشین گوئیاں مسلم ترمذی، ابن ماجہ مستدرک و غیرہ کتابوں میں کثرت کے ساتھ موجود ہیں۔ مگر یہاں اس روایت کا نقل کرنا فائدہ سے خالی نہ ہو گا جو امام شاطبی نے موافقات میں اور مولانا اسماعیل شہید نے منصہ امامت میں نقل کی ہے:
سے حقیقت ہی نہ ہونی چاہیے۔ نیز وہ کہتے ہیں کہ تمام مذہبی قوموں میں کسی ” مردے از غیب“ کی آمد کا عقیدہ پایا جاتا ہے لہذا یہ محض ایک وہم ہے۔ لیکن میں نہیں سمجھتا کہ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم کی طرح پچھلے انبیاء نے بھی اگر اپنی قوموں کو یہ خوش خبری دی ہو کہ نوع انسان کی دنیوی زندگی ختم ہونے سے پہلے ایک دفعہ اسلام ساری دنیا کا دین بنے گا اور انسان کے بنائے ہوئےسارے ازموں کی ناکامی کے بعد آخر کار تباہیوں کا مارا ہوا انسان اس ازم کے دامن میں پناہ لینے پر مجبور ہو گا جسے خدا نے بنایا ہے اور یہ نعمت انسان کو ایک ایسے عظیم الشان لیڈر کی بدولت نصیب ہوگی جو انبیاء کے طریقہ پر کام کر کے اسلام کو اس کی صحیح صورت میں پوری طرح نافذ کر دے گا تو آخر اس میں وہم کی کون سی بات ہے؟ بہت ممکن ہے کہ انبیاءعلیہم السلام کے کلام سےنکل کر یہ چیز دنیا کی دوسری قوموں میں بھی پھیلی ہو اور جہالت نے اس کی روح نکال کر اوہام کےلبادے اس کے گرد لپیٹ دیئے ہوں۔
الامام المہدی: مسلمانوں میں جو لوگ الامام المہدی کی آمد کے قائل ہیں وہ بھی ان متجددین سے جو اس کے قائل نہیں ہیں، اپنی غلط فہمیوں میں کچھ پیچھے نہیں ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ امام مہدی کوئی اگلے وقتوں کےمولویانہ و صوفیانہ وضع وقطع کےآدمی ہوں گے۔تسبیح ہاتھ میں لیےیکایک کسی مدر سےیا خانقاہ کے حجرے سے برآمد ہوں گے۔ آتے ہی انا المہدی کا اعلان کریں گے۔ علماء اور مشائخ کتابیں لیے ہوئے پہنچ جائیں گے اور لکھی ہوئی علامتوں سے ان کے جسم کی ساخت وغیرہ کا مقابلہ کر کے انہیں شناخت کرلیں گے، پھر بیعت ہوگی اور اعلان جہاد کر دیا جائے گا۔ چلے کھینچےہوئے درویش اور سب پرانے طرز کے بقیۃ السلف ان کے جھنڈے تلے جمع ہوں گے۔ تلوار تو محض شرط پوری کرنے کے لیے برائے نام چلانی پڑے گی۔ اصل میں سارا کام برکت اور روحانی تصرف سے ہوگا۔ پھونکوں اور وظیفوں کے زور سے میدان جیتے جائیں گے۔ جس کافر پر نظر مار دیں گے تڑپ کر بے ہوش ہو جائے گا اور محض بددعا کی تاثیر سے ٹینکوں اور ہوائی جہازوں میں کیڑے پڑ جائیں گے۔
عقیدہ ظہور مہدی کے متعلق عام لوگوں کے تصورات کچھ اسی قسم کے ہیں ۔ مگر میں جو کچھ سمجھا ہوں اس سےمجھ کو معاملہ بالکل برعکس نظر آتا ہے۔ میرا اندازہ یہ ہے کہ آنے والا اپنے زمانہ میں بالکل جدید ترین طرز کا لیڈر ہوگا۔ وقت کے تمام علوم جدیدہ پر اس کو مجتہدانہ بصیرت حاصل ہوگی۔زندگی کے سارے مسائل مہمہ کو وہ خوب سمجھتا ہوگا۔ عقلی و ذہنی ریاست سیاسی تدبر اور جنگی مہارت کے اعتبار سے وہ تمام دنیا پر اپنا سکہ جما دے گا اور اپنے عہد کے تمام جدیدوں سے بڑھ کر جدید ثابت ہوگا۔ مجھے اندیشہ ہے کہ اس کی جد توں کے خلاف مولوی اور صوفی صاحبان ہی سب سےپہلے شورش برپا کریں گے۔ پھر مجھے یہ بھی امید نہیں کہ اپنی جسمانی ساخت میں وہ عام انسانوں سے کچھ بہت مختلف ہوگا کہ اس کی علامتوں سے اس کو تاڑ لیا جائے نہ میں یہ توقع رکھتا ہوں کہ وہ اپنے مہدی ہونے کا اعلان کرے گا۔ بلکہ شاید اسے خود بھی اپنے مہدی موعود ہونے کی خبر نہ ہوگی اور اس کی موت کے بعد اس کے کارناموں سے دنیا کو معلوم ہوگا کہ یہی تھا وہ خلافت کو منہاج النبوۃ پر قائم کرنے والا جس کی آمد کا مژدہ سنایا گیا تھا۔ جیسا کہ میں پہلے اشارہ کر چکا ہوں، نبی کے سوا کسی کا یہ منصب نہیں ہے کہ دعوے سے کام کا آغاز کرے اور نہ نبی کے سوا کسی کو یقینی طور پر یہ معلوم ہوتا ہے کہ وہ کسی خدمت پر مامور ہوا ہے۔ مہدویت دعوی کرنے کی چیز نہیں، کر کے دکھا جانے کی چیز ہے۔ اس قسم کے دعوے جو لوگ کرتے ہیں اور جو ان پر ایمان لاتے ہیں، میرے نزدیک دونوں اپنے علم کی کمی اور ذہن کی پستی کا ثبوت دیتے ہیں۔
مہدی کے کام کی نوعیت کا جو تصور میرےذہن میں ہے وہ بھی ان حضرات کےتصور سےبالکل مختلف ہے مجھے اس کے کام میں کرامات و خوارق کشف الهامات اور چلوں اور "مجاہدوں“کی کوئی جگہ نظر نہیں آتی۔ میں یہ سمجھتا ہوں کہ انقلابی لیڈر کو دنیا میں جس طرح شدید جد و جهد اور کشمکش کے مرحلوں سے گزرنا پڑتا ہے انہی مرحلوں سےمہدی کو بھی گزرنا ہوگا۔وہ خالص اسلام کی بنیادوں پر ایک نیا مذہب فکر (School of thougt) پیدا کرے گا۔ذہنیتوں کو بدلےگا ایک زبر دست تحریک اٹھائےگا جو بیک وقت تہذیبی بھی ہوگی اور سیاسی بھی،جاہلیت اپنی تمام طاقتوں کےساتھ اس کو کچلنے کی کوشش کرے گی، مگر بالآخر وہ جاہلی اقتدار کوالٹ کر پھینک دے گا اور ایک ایسی زبر دست اسلامی اسٹیٹ قائم کرےگا جس میں ایک طرف اسلام کی پوری روح کارفرما ہوگی اور دوسری طرف سائنٹیفک ترقی اوج کمال پر پہنچ جائے گی۔ جیسا کہ حدیث میں ارشاد ہوا ہے اس کی حکومت سے آسمان والے بھی راضی ہوں گے اور زمین والے بھی، آسمان دل کھول کر اپنی برکتوں کی بارش کرے گا اور زمین اپنے نیٹ کے سارے خزانے اگل دے گی۔“
تاریخی ترتیب کو چھوڑ کر مستقبل کے مجد داعظم کا ذکر میں نے پہلے اس لیے کر دیا کہ لوگ پہلے مجد د کامل کے مرتبہ و مقام سے واقف ہو جائیں تا کہ کمال مطلوب کے مقابلے میں ان کے لیےجزوی تجدیدوں کے مرتبہ و مقام کا اندازہ کرنا آسان ہو جائے۔ اب میں ایک مختصر نقشہ اس تجدیدی کام کا پیش کروں گا جواب تک انجام پا چکا۔
تخت شاہی انہیں خاندانی طریق پر ملا تھا مگر بیعت لیتے وقت مجمع عام میں صاف کہہ دیا کہ میں اپنی بیعت سے تمہیں آزاد کرتا ہوں، تم لوگ جس کو چاہو خلیفہ منتخب کر لو۔ اور جب لوگوں نے برضاور غبت کہا کہ ہم آپ ہی کو منتخب کرتے ہیں، تب انہوں نے خلافت کی عنان اپنے ہاتھ میں لی۔
پھر شاہانہ کروفر فرعونی انداز قیصر و کسریٰ کے درباری طریقے سب رخصت کیے اور پہلے ہی روز لوازم شاہی کو ترک کر کے وہ طرز اختیار کیا جو مسلمانوں کے درمیان ان کے خلیفہ کا ہونا چاہیے۔
اس کے بعد ان امتیازات کی طرف توجہ کی جو شاہی خاندان کے لوگوں کو حاصل تھے اور ان کو تمام حیثیتوں سے عام مسلمانوں کے برابر کر دیا۔ وہ تمام جاگیر میں جو شاہی خاندان کے قبضہ میں تھیں، اپنی جاگیر سمیت بیت المال کو واپس کیں۔ جن جن کی زمینوں اور جائدادوں پر نا جائز قبضہ کیا گیا تھا وہ سب ان کو واپس دیں۔ ان کی اپنی ذات کو اس تغیر سے جو نقصان پہنچا اس کا اندازہ اس سے کیا جاسکتا ہے کہ پچاس ہزار کی جگہ صرف دوسو اشرفی سالانہ کی آمدنی رہ گئی۔ بیت المال کے روپے کو اپنی ذات پر اور اپنے خاندان والوں پر حرام کر دیا، حتیٰ کہ خلیفہ ہونے کی حیثیت سےتنخواہ تک نہ لی۔ اپنی زندگی کا سارا نقشہ بدل دیا۔ یا تو خلیفہ ہونے سے پہلے شاہانہ شان کے ساتھ رہتے تھے یا خلیفہ ہوتے ہی فقیر بن گئے_١
گھر اور خاندان کی اس اصلاح کے بعد نظام حکومت کی طرف توجہ کی۔ ظالم گورنروں کو الگ کیا اور ڈھونڈ ڈھونڈ کر صالح آدمی تلاش کیے کہ گورنری کی خدمت انجام دیں۔ عاملین حکومت جو قانون اور ضابطہ سے آزاد ہو کر رعایا کی جان، مال اور آبرو پر غیر محدود اختیارات کے مالک ہو گئے تھے ان کو پھر ضابطہ کا پابند بنایا اور قانون کی حکومت قائم کی ٹیکس عائد کرنے کی پوری پالیسی بدل دی اور وہ تمام نا جائز ٹیکس جو شاہانِ بنی امیہ نے عائد کر دیئے تھے، جن میں آبکاری تک کا محصول شامل تھا، یک قلم موقوف کیے۔ زکوۃ کی تحصیل کا انتظام از سرنو درست کیا اور بیت المال کی دولت کو پھر سے عام مسلمانوں کی فلاح و بہبود کے لیے وقف کر دیا۔ غیر مسلم رعایا کے ساتھ جونا انصافیاں کی گئی تھیں ان سب کی تلافی کی ان کے معاہد جن پر نا جائز قبضہ کیا گیا تھا انہیں واپس دلائے ان کی زمینیں جو غصب کر لی گئی تھیں پھر وا گذاشت کیں اور ان کے تمام وہ حقوق بحال کیےجو شریعت کی رو سے انہیں حاصل تھے ۔ عدالت کو انتظامی حکومت کے دخل سے آزاد کیا اور حکم بین الناس کے ضابطے اور اسپرٹ دونوں کو شاہی نظام کے اثرات سے پاک کر کے اسلامی اصول پر قائم کر دیا۔ اس طرح حضرت عمر ابن عبد العزیز کے ہاتھوں سے اسلامی نظام حکومت دوبارہ زندہ ہوا۔
پھر انہوں نے سیاسی اقتدار سے کام لے کر لوگوں کی ذہنی اخلاقی اور معاشرتی زندگیوں سےجاہلیت کے ان اثرات کو نکالنا شروع کیا جو نصف صدی کی جاہلی حکومت کے سبب سے اجتماعی زندگی میں پھیل گئے تھے۔ فاسد عقیدوں کی اشاعت کو روکا۔ عوام کی تعلیم کا وسیع پیمانہ پر انتظام کیا۔قرآن، حدیث اور فقہ کےعلوم کی طرف اہل دماغ طبقوں کی تو جہات کو دوبارہ منعطف کیا اور ایک ایسی علمی تحریک پیدا کر دی جس کے اثر سے اسلام کو ابوحنیفہ مالک، شافعی اور احمد بن حنبل رحمہم اللہ جیسے مجہتدین میسر آئے۔ اتباع شریعت کی روح کو تازہ کیا۔ شراب نوشی تصویر کشی اور عیش و تم کی بیماریاں جو شاہی نظام کی بدولت پیدا ہو چکی تھیں، ان کا انسداد کیا او فی الجملہ وہ مقصد پورا کیا جس کے لیے اسلام اپنی حکومت قائم کرنا چاہتا ہے یعنی الَّذِينَ إِنْ مَّكْتَهُمْ فِي الْأَرْضِ أَقَامُوا الصَّلوةَ وَاتَوُ الزَّكَوةَ بِالْمَعْرُوْفِ وَنَهَوا عَنِ الْمُنْكَرِ-
بہت ہی قلیل مدت میں اس انقلاب حکومت کے اثرات عوام کی زندگی پر اور بین الاقوامی حالات پر مترتب ہونے شروع ہو گئے۔ ایک راوی کہتا ہے کہ ولیڈ کے زمانہ میں لوگ جب آپس میں بیٹھتے تو عمارات اور باغوں کے متعلق گفتگو کرتے ۔ سلیمان بن عبد الملک کا زمانہ آیا تو عوام کا مذاق شہوانیت کی طرف متوجہ ہوا۔ مگر عمر ابن عبد العزیز حکمران ہوئے تو حالت یہ تھی کہ جہاں چار آدمی جمع ہوتے نماز اور روزہ اور قرآن کا ذکر چھڑ جاتا تھا۔ غیر مسلم رعایا پر اس حکومت کا اتنا اثر ہوا کہ ہزار در ہزار آدمی اس مختصر سی مدت میں مسلمان ہو گئے اور جزیہ کی آمدنی دفعتہ اتنی گھٹ گئی کہ سلطنت کے مالیات اس سے متاثر ہونے لگے۔مملکت اسلامی کے اطراف میں جو غیر مسلم ریاستیں موجود تھیں، حضرت عمر ابن عبد العزیز نے ان کو اسلام کی طرف دعوت دی اور ان میں سے متعدد ریاستوں نے اس دین کو قبول کر لیا۔ اسلامی حکومت کی سب سے بڑی حریف سلطنت اس وقت روم کی سلطنت تھی جس کے ساتھ ایک صدی سے لڑائیوں کا سلسلہ جاری تھا اور اس وقت بھی سیاسی کشمکش چل رہی تھی۔ مگر عمر ابن عبد العزیز کا جو اخلاقی اثر روم پر قائم ہوا اس کا اندازہ ان الفاظ سے کیا جا سکتا ہے جو ان کے انتقال کی خبر سن کر خود قیصر روم نے کہے تھے۔ اس نے کہا کہ:
اسلام کے مجدد اوّل کو صرف ڈھائی سال کام کرنے کا موقع ملا اور اس مختصری مدت میں اس نے یہ انقلاب عظیم بر پا کر کے دکھا دیا۔ مگر بنی امیہ سب کے سب اس بندہ خدا کے دشمن ہو گئے۔ اسلام کی زندگی میں ان کی موت تھی۔ وہ اس تجدید کے کام کو کس طرح برداشت کر سکتےتھے۔ آخر کار انہوں نے سازش کر کے اسے زہر دے دیا اور صرف ۳۹ سال کی عمر میں یہ خادمِ دین وملت دنیا سے رخصت ہو گیا۔ جس کار تجدید کو اس نے شروع کیا تھا اس کی تکمیل میں اب صرف اتنی کسر باقی رہ گئی تھی کہ خاندانی حکومت کو ختم کر کے انتخابی خلافت کا سلسلہ پھر سےقائم کر دیا جاتا۔یہ اصلاح اس کے پیش نظر تھی، اور اس نے اپنے عندیہ کا اظہار بھی کر دیا تھا، مگر اموی اقتدار کی جڑوں کو اجتماعی زندگی سے اکھاڑنا اور عام مسلمانوں کی اخلاقی و ذہنی حالت کو خلافت کا بار سنبھالنےکے لیے تیار کرنا آسان کام نہ تھا کہ ڈھائی برس کے اندر انجام پا سکتا۔
ائمہ اربعہ : عمر ثانی کی وفات کے بعد اگر چہ سیاسی اقتدار کی کنجیاں پھر اسلام سےجاہلیت کی طرف منتقل ہو گئیں اور سیاسی پہلو میں اس پورے کام پر پانی پھر گیا جو انہوں نے انجام دیا تھا مگر اسلامی ذہنیت میں جو بیداری انہوں نے پیدا کر دی تھی اور جس علمی حرکت کو اکسا گئے تھے اسےکوئی طاقت بار آور ہونے سے نہ روک سکی۔ بنی امیہ اور بنی عباس کے کوڑے اور اشرفیوں کےتوڑے دونوں ہی اس تحریک کے راستے میں حائل ہوئے، مگر کسی کی بھی اس کے آگے پیش نہ چلی۔ اس کے اثر سے قرآن و حدیث کے علوم میں تحقیق اجتہاد اور تدوین کا بہت بڑا کام ہوا اصول دین سے اسلام کے قوانین کی تفصیلی شکل مرتب کی گئی اور ایک وسیع نظام تمدن کو اسلام کےطرز پر چلانے کے لیے جس قد رضوابط و منابع عمل کی ضرورت تھی وہ تقریبا سارے کے سارے اپنی تمام جزئیات کے ساتھ مدون کر ڈالے گئے ۔ دوسری صدی کے آغاز سے تقریباً چوتھی صدی تک یہ کام پوری قوت کے ساتھ چلتا رہا۔
اس دور کے مجددین میں وہ چار بزرگ ہیں جن کی طرف آج فقہ کے چاروں مذاہب منسوب ہیں۔ اگر چہ مجتہد اُن کے سوا اور بھی کثیر التعداد اصحاب تھے۔ مگر جس لحاظ سے ان حضرات کا مقام مجہتدین سے بلند ہو کر مجددین کے مرتبے تک پہنچتا ہے وہ یہ ہے:
اولاً ان حضرات نے اپنی گہری بصیرت اور غیر معمولی ذکاوت و ذہانت سے ایسےمذاہب فکر پیدا کیے جن کی زبردست طاقت سات آٹھ صدیوں تک مجتہدین پیدا کرتی رہی۔ انہوں نے کلیات دین سے جزئیات مستنبط کرنے اور اصولِ شرع کو زندگی کے عملی مسائل پر منطبق کرنے کے ایسے وسیع و ہمہ گیر طریقے قائم کر دیئے کہ آگے چل کر جس قدر اجتہادی کام ہوا انہی کے طریقوں پر ہوا اور آئندہ بھی جب کبھی اس سلسلہ میں کوئی کام ہو گا ان کی رہنمائی سے انسان بے نیاز نہ ہو سکے گا۔
ثانیاً ان لوگوں نے یہ سارا کام شاہی نظام حکومت کی امداد کے بغیر اس کی مداخلت سے بالکل آزاد ہو کر، بلکہ اس کی دراندازیوں کا سخت مقابلہ کر کے انجام دیا اور اس سلسلہ میں وہ تکلیفیں اٹھا ئیں جن کے تصور سے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں ۔ امام ابوحنیفہ نے بنی امیہ اور بنی عباس دونوں کے زمانہ میں کوڑوں کی مار اور قید کی سزائیں بھگتیں۔ یہاں تک کہ زہر سے ان کا خاتمہ ہی کر دیا گیا ۔ امام مالک کو منصور عباسی کے زمانے میں ۷۰ کوڑوں کی سزا دی گئی اور اس بُری طرح ان کی مشکیں کسی گئیں کہ ہاتھ بازو سے اکھڑ گیا۔امام احمد بن حنبل پر مامون، معتصم اور واثق مینوں کے زمانے میں مسلسل مصائب و شدائد کے پہاڑ ٹوٹتے رہے اتنا مارا گیا کہ شاید اونٹ اور ہاتھی بھی اس مار کی تاب نہ لاسکیں اور پھر ۔متوکل کے زمانے میں شاہی انعام و اکرام اور عقیدت و تعظیم کی وہ بارش ان پر کی گئی کہ گھبرا کر پکارا تھے هذا أمرٌ أَشَدُّ عَلَيَّ مِنْ ذاك " یہ مجھ پر اس مار اور قید سے زیادہ سخت مصیبت ہے ۔ مگر ان سب باتوں کے باوجود ان اللہ کے بندوں نے علم دین کی ترتیب و تدوین میں نہ صرف خودشاہی نفوذ واثر کو گھنے کا راستہ نہ دیا بلکہ کچھ ایسی طرح ڈال گئے کہ ان کے بعد بھی سارا اجتہادی و تدوینی کام درباروں کے دخل سے بالکل آزاد ہی رہا۔ اسی کا نتیجہ ہے کہ آج اسلامی قوانین اور علومِ حدیث و قرآن کا جتنا معتبر ومستند ذخیرہ ہم تک پہنچا ہے وہ جاہلیت کے ادنی شائبہ سے بھی ملوث نہیں ہوا۔ یہ چیزیں ایسی پاک صاف صورت میں نسلاً بعد نسل منتقل ہوئی ہیں کہ صدیوں تک پادشا ہوں اور امراء کی نفس پرستیوں اور عوام کے اخلاقی تنزل اور اعتقادی و تمدنی گمراہیوں کا جو دور دورہ رہا وہ گویا ان علوم کے لیے معدوم محض تھا، اس کا کوئی اثر ان علوم پر نہیں پایا جاتا۔
١- امام ابوحنیفہ ۸ھ (۱۹۹ ء ) میں پیدا ہوئے۔ ۱۵۰ (۷۶۷ء) میں وفات پائی۔ امام مالک ۹۵ ھ (۷۱۴ء) میں پیدا ہوئے ۱۷۹ھ ( ۸۸ ) میں وفات پائی۔ امام شافعی ۱۵۰ ( ۷۶۷ء) میں پیدا ہوئے ۲۴۰ ۵ (۶۸۵۴) میں وفات پائی۔ امام احمد بن فضیل ۱۶۴ ( ۸۰ ) میں پیدا ہوئے ۲۴۱ھ (۸۵۵ء) میں وفات پائی۔
امام غزالی " : عمر ابن عبد العزیز کے بعد سیاست و حکومت کی باگیں مستقل طور پر جاہلیت کےہاتھوں میں چلی گئیں اور بنی امیہ بنی عباس اور پھر ترکی النسل پادشاہوں کا اقتدار قائم ہوا۔ ان حکومتوں نے جو خدمات انجام دیں ان کا خلاصه یہ ہےکہ ایک طرف یونان، روم اور عجم کےجاہلی فلسفوں کو جوں کا توں لےکر مسلمانوں میں پھیلا دیا اور دوسری طرف علوم و فنون اور تمدن و معاشرت میں جاہلیت اولیٰ کی تمام گمراہیوں کو اپنی دولت اور طاقت کے زور سے شائع و ذائع کیا۔عباسی خاندان کے تنزل نےمزید نقصان یہ پہنچایا کہ ابتدائی عباسی خلفاء کے بعد دنیوی اقتدار کی باگیں جن لوگوں کے ہاتھوں میں آئیں وہ علوم دینی سے بالکل ہی کورے تھے۔ ان میں اتنی صلاحیت بھی نہ تھی کہ قضاء اور افتاء کےعہدوں کےلیے ہل آدمیوں کو منتخب کر سکتے۔اپنی جہالت اور سہولت پسندی کی وجہ سے وہ احکام شرعیہ کی تنفیذ کا کام ایسے لگے بندھے طریقوں پر کرنا چاہتےتھے جن میں کسی کدو کاوش کی ضرورت نہ ہو اور اس کے لیے تقلید جامد ہی کا راستہ موزوں تھا۔ مزید بر آن دنیا پرست علماء نے ان کو مذہبی مناظروں کی چاٹ بھی لگا دی اور پھر شاہی سرپرستی میں یہ مرض اتنا پھیلا کہ اس نےتمام مسلم ممالک میں فرقہ بندی اختلاف اور سر پھٹول کی وبا پھیلا دی۔امراء وسلاطین کےلیےتو مذہبی مناظرے مرغ بازی اور بیٹر بازی کی طرح محض ایک تفریح تھےمگر عام مسلمانوں کے لیے یہ وہ قینچیاں تھیں جنہوں نے ان کی دینی وحدت کو پارہ پارہ کر دیا۔ پانچویں صدی تک پہنچتے پہنچتے یہ حال ہو گیا کہ:
(١) یونان فلسفے کی اشاعت سے عقائد کی بنیادیں ہل گئیں۔ محدثین وفقہا، علوم عقلیہ سے ناواقف تھے اس لیے نظام دین کو مقتضائے زمانہ کے مطابق معقولی انداز سے نہ سمجھا سکتے تھےاور زجر و توبیخ سے اعتقادی گمراہیوں کو دبانے کی کوشش کرتے تھے۔ علوم عقلیہ میں جن لوگوں کےکمال کا شہرہ تھا وہ نہ صرف یہ کہ علوم دینیہ میں کوئی بصیرت نہ رکھتے تھے بلکہ خود علوم عقلیہ میں بھی انہیں کوئی مجتہدانہ نظر حاصل نہ تھی۔ وہ فلاسفہ یونان کے بالکل غلام تھے ان میں کوئی ایسا بالغ النظر ! آدمی نہ تھا جو تنقید کی نگاہ سے اس یونانی لٹریچر کا جائزہ لیتا۔ انہوں نے وحی یونانی کوائل سمجھ کر جوں کا توں تسلیم کر لیا اور وحی آسمانی کو توڑ نا مروڑ نا شروع کیا تا کہ وہ وحی یونانی کے مطابق ڈھل جائے۔ان حالات کا عام مسلمانوں پر یہ اثر ہوا کہ وہ دین کو ایک غیر معقول چیز سمجھنے لگے اس کی ہر چیز انہیں مشکوک نظر آنے لگی اور ان میں یہ خیال جاگزیں ہوتا چلا گیا کہ ہمارا دین ایک چھوٹی موٹی کا درخت ہے جو عقلی امتحان کی ایک ذراسی ٹھیس ہی سے مرجھا جاتا ہے۔ امام ابوالحسن اشعری اور ان کی متبعین نے اس رو کو بدلنے کی کوشش کی مگر یہ گروہ متکلمین کے علوم سے تو واقف تھا لیکن معقولات کے گھر کا بھیدی نہ تھا، اس لیے وہ اس عام بے اعتقادی کی رفتار کو بدلنے میں پوری طرح کامیاب نہ ہو سکا، بلکہ معتزلہ کی ضد میں اس نے بعض ایسی باتوں کا التزام کر لیا جو فی الواقع عقائد دین میں سے نہ تھیں۔
(٢) جاہل فرمانرواؤں کے اثر سے اور علوم دینی کو مادی وسائل کی تائید ہم نہ پہنچنے کےسبب سے اجتہاد کے چشمے خشک ہو گئے، تقلید جامد کی بیماری پھیل گئی، مذہبی اختلافات نے ترقی کر کے ذراذرا سے جزئیات پر نئے نئے فرقے پیدا کر دیئے اور ان فرقوں کی باہمی لڑائیوں سےمسلمانوں کی یہ حالت ہوگی کہ گویا عَلَى شَفَا حُفْرَةٍ مِّنَ النَّارِ ہیں۔
(۳) مشرق سے مغرب تک مسلم ممالک میں ہر طرف اخلاقی انحطاط رونما ہو گیا جس کے اثر سے کوئی طبقہ خالی نہ رہا۔ قرآن اور نبوت کی روشنی سے مسلمانوں کی اجتماعی زندگی بڑی حد تک خالی ہو گئی۔ علماء امراء عوام سب بھول گئے کہ خدا کی کتاب اور رسول کی سنت بھی کوئی چیز ہے جس کی طرف ہدایت ورہنمائی کے لیے کبھی رجوع کرنا چاہیے۔
(۴) شاہی درباروں، خاندانوں اور حکمران طبقوں کی عیاشانہ زندگی اور خودغرضانہ لڑائیوں کی وجہ سے عمومار عایا تا حال ہورہی تھی۔نا جائز ٹیکسوں کےبار نے معاشی زندگی کو نہایت خراب کر دیا تھا۔ تمدن کو حقیقی فائدہ پہنچانےوالےعلوم و صنائع رو بہ تنزل تھےاور ان فنون کا زور تھا جوشاہی درباروں میں قدر و منزلت رکھتےتھےمگر اخلاق و تمدن کے لیے غارت گر تھے ۔ آثار سےصاف معلوم ہورہا تھا کہ عام تباہی کا وقت قریب آلگا ہے۔
یہ حالات تھے جب پانچویں صدی کے وسط میں امام غزالی پیدا ہوئے ۔ انہوں نےابتداء اس طرز کی تعلیم حاصل کی جو اس زمانہ میں دنیوی ترقی کا ذریعہ ہوسکتی تھی ۔ انہی علوم میں کمال پیدا کیا جن کی بازار میں مانگ تھی۔ پھر اس جنس کو لے کر وہیں پہنچے جہاں کے لیے تیار ہوئے تھےاوران بلند ترین مراتب تک ترقی کی جن کا تصور اس زمانہ میں کوئی عالم کر سکتا تھا۔ دنیا کی سب سےبڑی یونیورسٹی ... نظامیہ بغداد کے ریکٹر مقرر ہوئے ۔ نظام الملک طوسی، ملک شاہ سلجوقی اور خلیفہ بغداد کے درباروں میں اعتماد حاصل کیا۔ وقت کے سیاسیات میں یہاں تک دخیل ہوئےکہ سلجوقی فرمانروا اور عباسی خلیفہ کے درمیان جو اختلافات پیدا ہوتے تھے ان کو سلجھانے کےلیے ان کی خدمات حاصل کی جاتی تھیں۔ دنیوی عروج کے اس نقطہ پر پہنچ جانے کے بعد ان کی زندگی میں انقلاب رونما ہوا۔ اپنے زمانہ کی علمی اخلاقی، مذہبی، سیاسی اور تمدنی زندگی کو جتنی گہری نظر سے دیکھتے گئے اس قدر ان کے اندر بغاوت کا جذبہ ابھرتا چلا گیا اور اسی قدران کے ضمیر نے زیادہ زور سے صدالگانی شروع کی کہ تم اس گندے سمندر کی شناوری کے لیے نہیں ہو بلکہ تمہارا فرض کچھ اور ہے۔ آخر کار ان تمام اعزازات فوائد و منافع اور مشاغل پر لات مار دی جن کے جنجال میں پھنسے ہوئے تھے ۔ فقیر بن کر سیاحت کے لیے نکل کھڑے ہوئے ۔ گوشوں اور ویرانوں میں غورو خوض کیا۔ چل پھر کر عام مسلمانوں کی زندگی کا گہرا مشاہدہ کیا۔ مدتوں تک مجاہدات وریاضات سےاپنی روح کو صاف کرتے رہے۔ ۳۸ سال کی عمر میں نکلے تھے پورے دس برس کے بعد ۴۸ سال کی عمر میں واپس ہوئے۔ اس طویل غور وفکر و مشاہدہ کے بعد جو کام کیا وہ یہ تھا کہ بادشاہوں کے تعلق اور ان کی وظیفہ خواری سے تو بہ کی جدال و تعصب سے پر ہیز کرنے کا دائی عہد کیا ان تعلیمی ادارات میں کام کرنے سے انکار کر دیا جو سرکاری اثر میں ہوں اور طوس میں خود اپنا ایک آزاد ادارہ قائم کیا۔ اس ادارہ میں وہ چیدہ افراد کو اپنے خاص طرز پر تعلیم و تربیت دے کر تیار کرنا چاہتے تھے مگر غالبا ان کی یہ کوشش کوئی بڑا انقلاب انگیز کام نہ کرسکی کیونکہ پانچ چھ سال سے زیادہ ان کو اس طرز خاص پر کام کرنے کی اجل ہی نے مہلت نہ دی۔
اولاً انہوں نے فلسفہ یونان کا نہایت گہرا مطالعہ کر کے اس پر تنقید کی اور اتنی زبر دست تنقید کی کہ اس کا وہ رعب جو مسلمانوں پر چھا گیا تھا، کم ہو گیا اور لوگ جن نظریات کو حقائق سمجھےبیٹھے تھے، جن پر قرآن وحدیث کی تعلیمات کو منطبق کرنےکےسوا دین کےبچاؤ کی کوئی صورت انہیں نظر نہ آتی تھی، ان کی اصلیت سے بڑی حد تک آگاہ ہو گئے ۔ امام کی اس تنقید کا اثر مسلم ممالک ہی تک محدود نہ رہا بلکہ یورپ تک پہنچا اور وہاں بھی اس نےفلسفه یونان کےتسلط کو مٹانےاور جدید دور تنقید و تحقیق کا فتح باب کرنےمیں حصہ لیا۔
ثانیاً انہوں نے ان غلطیوں کی اصلاح کی جو فلاسفه اور متکلمین کی ضد میں اسلام کے وہ حمایتی کر رہے تھے جو علوم عقلیہ میں گہری بصیرت نہ رکھتے تھے ۔ یہ لوگ اسی قسم کی حماقتیں کر رہے۔تھے جو بعد میں یورپ کے پادریوں نے کیں، یعنی مذہبی عقائد کے عقلی ثبوت کو بعض صریح غیر معقول باتوں پر موقوف سمجھ کر خواہ مخواہ ان کو اصول موضوعه قرار دے لینا، پھر ان اصول موضوعه کو بھی عقائد دین میں داخل کر کے ہر اس شخص کی تکفیر کرنا جو ان کا قائل نہ ہو اور ہر اس بُرہان یا تجربے یا مشاہدہ کو دین کے لیے خطرہ سمجھنا جس سے ان خود ساختہ اصول موضوعہ کی غلطی ثابت ہوتی ہو۔ اسی چیز نے یورپ کو بالآخر دہریت کی طرف دھکیل دیا اور یہی مسلم ممالک میں بھی شدت کے ساتھ کارفرما تھی اور لوگوں میں بے اعتقادی پیدا کر رہی تھی ۔ مگر امام غزالی نے بروقت اس کی اصلاح کی اور مسلمانوں کو بتایا کہ تمہارے عقائد دینی کا اثبات ان غیر معقولات کے التزام پر منحص نہیں ہے بلکہ اس کے لیے معقول دلائل موجود ہیں ۔ لہذا ان چیزوں پر اصرار فضول ہے۔
ثالثاً ، انہوں نے اسلام کے عقائد اور اساسیات (Fundamentals) کی ایسی معقول تعبیر پیش کی جس پر کم از کم اس زمانہ کئے اور بعد کی کئی صدیوں تک کے معقولات کی بناء پر کوئی اعتراض نہ ہو سکتا تھا۔ اس کے ساتھ انہوں نے احکام شریعت اور عبادات و مناسک کےاسرار و مصالح بھی بیان کیے اور دین کا ایک ایسا تصور لوگوں کے سامنے رکھا جس سے وہ غلط فہمیاں دور ہو گئیں جن کی بناء پر یہ گمان ہونے لگا تھا کہ اسلام عقلی امتحان کا بوجھ نہیں سہار سکتا۔
رابعا ، انہوں نے اپنے وقت کے تمام مذہبی فرقوں اور ان کے اختلافات پر نظر ڈالی اور پوری تحقیق کے ساتھ بتایا کہ اسلام اور کفر کی امتیازی سرحدیں کیا ہیں، کن حدود کے اندر انسان کےلیے رائے و تاویل کی آزادی ہے اور کن حدود سے تجاوز کرنے کے معنی اسلام سے نکل جانے کےہیں اسلام کے اصلی عقائد کون سے ہیں اور وہ کیا چیزیں ہیں جن کو خواہ مخواہ عقائد دین میں داخل کر لیا گیا ہے۔ اس تحقیقات نے ایک دوسرے سے لڑنے جھگڑنے اور تکفیر بازی کرنے والے فرقوں کی سرنگوں میں سے بہت سی بارود نکال دی اور لوگوں کے زاویہ نظر میں وسعت پیدا کی۔
خامسا انہوں نے دین کےفہم کو تازہ کیا۔بےشعور مذهبیت کو فضول ٹھہرایا۔تقلید جامد کی سخت مخالفت کی۔ لوگوں کو کتاب الله وسنت رسول اللہ کےچشمہ فیض کی طرف پھر سے توجہ دلائی اجتہاد کی روح کو تازہ کرنے کی کوشش کی اور اپنے عہد کے تقریبا ہر گروہ کی گمراہیوں اور کمزوریوں پر تنقید کر کے اصلاح کی طرف عام دعوت دی۔
سادساً ، انہوں نے اس نظام تعلیم پر تنقید کی جو بالکل فرسودہ ہو چکا تھا اورتعلیم کا ایک نیا نظام تجویز کیا۔ اس وقت تک مسلمانوں میں جو نظام تعلیم قائم تھا اس میں دو قسم کی خرابیاں پائی جاتی تھیں۔ ایک یہ کہ علوم دنیا و علوم دین الگ الگ تھے اور اس کا نتیجہ لامحالہ تفریق دنیا و دین کی صورت میں ظاہر ہوتا تھا جو اسلامی نقطہ نظر سے بنیادی طور پر غلط ہے۔ دوسرے یہ کہ شرعی علوم کی حیثیت سے بعض ایسی چیزیں داخل درس تھیں جو شرعی اہمیت نہ رکھتی تھیں ۔اور اس کا نتیجہ یہ تھا کہ دین کےمتعلق لوگوں کے تصورات غلط ہو رہےتھےاور بعض غیر جنس کی چیزوں کو اہمیت حاصل ہو جانے کی وجہ سےفرقہ بندیاں پیدا ہورہی تھیں ۔ امام غزائی نے ان خرابیوں کو دور کر کے ایک سمویا ہوا نظام بنایا جس کی ان کے ہم عصروں نے سخت مخالفت کی مگر بالآخر تمام مسلم ممالک میں اس کےاصول تسلیم کر لیے گئے اور بعد میں جتنے نئے نظامات تعلیم بنے وہ تمام تر انہی خطوط پر بنے جو امام نے کھینچ دیئے تھے۔ اس وقت تک مدارس عربیہ میں جو نصاب پڑھایا جا رہا ہے اس کی ابتدائی خط کشی امام غزالی ہی کی رہین منت ہے۔
سابعا انہوں نے اخلاق عامہ کا پورا جائزہ لیا۔ انہیں علماء مشائخ امراء سلاطین، عوام سب کی زندگی کا مطالعہ کرنے کے خوب مواقع ملے تھے۔ خود چل پھر کر وہ مشرقی دنیا کا ایک بڑا حصہ دیکھ چکے تھے ۔ اس مطالعے کا نتیجہ ان کی کتاب احیاء العلوم ہے جس میں انہوں نے ہر طبقہ کی اخلاقی حالت پر تنقید کی ہے ایک ایک برائی کی جڑ اور اس کے نفسیاتی اور تمدنی اسباب کا کھوج لگایا ہے اور اسلام کا صحیح اخلاقی معیار پیش کرنے کی کوشش کی ہے۔
ثامنا ، انہوں نے اپنے عہد کے نظام حکومت پر بھی پوری آزادی کے ساتھ تنقید کی۔براه راست حکام وقت کو بھی اصلاح کی طرف توجہ دلاتے رہے اور عوام میں بھی یہ روح پھونکنے کی کوشش کرتے رہے کہ منفعلانہ انداز سے جبر و ظلم کے آگے سرتسلیم خم نہ کریں بلکہ آزاد نکتہ چینی کریں۔ احیاء میں ایک جگہ لکھتے ہیں کہ ہمارے زمانہ میں سلاطین کے تمام یا اکثر اموال حرام ہیں ۔ ایک اور جگہ لکھتے ہیں کہ ان سلاطین کو نہ اپنی صورت دکھانی چاہیے نہ ان کی دیکھنی چاہیے۔انسان کے لیے لازم ہے کہ ان کے ظلم سے بغض رکھنے ان کے بقاء کو پسند نہ کرئے ان کی تعریف نہ کرئے ان کے حالات سے کوئی واسطہ نہ رکھے اور ان کے ہاں رسائی رکھنے والوں سے بھی دور رہے۔ایک اور جگہ ان آداب پرستش و عبودیت پر نکتہ چینی کرتےہیں جو در باروں میں رائج تھےاس معاشرت کی مذمت کرتے ہیں جو بادشاہوں اور امراء نے اختیار کر رکھی تھی، حتی کہ ان کےمحلات ان کے لباس ان کی آرائش ہر چیز کو نجس بتلاتے ہیں ۔ اسی پر بس نہیں بلکہ انہوں نے اپنےعہد کے بادشاہ کو ایک مفصل خط لکھا جس میں اس کو اسلامی طرز حکومت کی طرف دعوت دی حکمرانی کی ذمہ داریاں سمجھا ئیں۔ اور اسے بتایا کہ تیرے ملک میں جو ظلم ہو رہا ہے، خواہ تو خود کرے یا تیرے عمال کریں، بہر حال اس کی ذمہ داری تجھ پر ہے۔ ایک دفعہ مجبور در بارشاہی میں جانا پڑا تو دورانِ گفتگو میں بادشاہ کے منہ درمنہ کہا کہ :
ابن خلدون کے بیان سے یہاں تک معلوم ہوتا ہے کہ وہ ایک ایسی سلطنت کے قیام کے خواہاں تھے جو خالص اسلامی اصول پر ہو خواہ دنیا کے کسی گوشے میں ہو ۔ چنانچہ مغرب اقصیٰ میں موحدین کی سلطنت انہی کے اشارہ سےان کےایک شاگرد نے قائم کی ۔مگر امام موصوف کےکارنامے میں یہ سیاسی رنگ محض ضمنی حیثیت رکھتا تھا۔ سیاسی انقلاب کے لیے انہوں نے کوئی با قاعدہ تحریک نہیں اٹھائی نہ حکومت کےنظام پر کوئی خفیف سے خفیف اثر ڈال سکے۔ ان کے بعد جاہلیت کی حکمرانی میں مسلمان قوموں کی حالت خراب سے خراب تر ہوتی چلی گئی۔ یہاں تک کہ ایک صدی بعد تا تاری طوفان کے دروازے ممالک اسلامیہ پر ٹوٹ پڑنے اور اس نے ان کےپورے تمدن کو تباہ کر کے رکھ دیا۔
امام غزائی کے تجدیدی کام میں علمی و فکری حیثیت سے چند نقائص بھی تھے اور وہ تین عنوانات پر تقسیم کیے جاسکتے ہیں۔ ایک قسم ان نقائص کی جو حدیث کے علم میں کمزور ہونے کی وجہ سے ان کے کام میں پیدا ہوئے_١ دوسری قسم ان نقائص کی جو ان کے ذہن پر عقلیات کے غلبہ کی وجہ سے تھے۔ اور تیسری قسم ان نقائص کی جو ان کے ذہن پر عقلیات کے غلبہ کی وجہ سے تھے۔اور تیسری قسم ان نقائص کی جو تصوف کی طرف ضرورت سے زیادہ مائل ہونےکی وجہ سےتھے
١- تاج الدین سکی نے طبقات الشافعیہ میں ایسی تمام احادیث کو جمع کر دیا ہے جنہیں امام غزائی نے احیاء العلوم میں درج کیا ہے اور جن کی کوئی سند نہیں ملتی (ملاحظہ ہو طبقات حصہ چہارم ص ۱۴۵ تاص۱۸۲)
ان کمزوریوں سے بیچ کر امام موصوف کے اصل کام یعنی اسلام کی ذہنی واخلاقی روح کو زندہ کرنے اور بدعت و ضلالت کی آلائشوں کو نظام فکر ونظام تمدن سے چھانٹ چھانٹ کر نکالنےکے کام کو جس شخص نے آگے بڑھایا وہ ابن تیمیہ تھا۔
ابن تیمیه : امام غزائی کے ڈیڑھ سو برس بعد ساتویں صدی کے نصف آخر میں امام ابن تیمیہ پیدا ہوئے ۔ یہ وہ زمانہ تھا کہ دریائے سندھ سے فرات کے کناروں تک تمام مسلمان قوموں کو تا تاری غارت گر پامال کر چکے تھے اور شام کی طرف بڑھ رہے تھے۔ مسلسل پچاس برس کی ان شکستوں نے دائی خوف اور بدامنی کی حالت نے اور علم و تہذیب کے تمام مرکزوں کی تباہی نے مسلمانوں کو اس مرتبہ پستی سے بھی بہت زیادہ نیچے گرادیا تھا جس پر امام غزالی نے انہیں پایا تھا۔ نئے تاتاری حملہ آور اگر چہ اسلام قبول کرتے جا رہے تھے، مگر جاہلیت میں نیہ حکمران اپنے پیش رو تر کی فرمانرواؤں سے بھی کئی قدم آگے تھے۔ ان کے زیر اثر آکر عوام اور علماء ومشائخ اور فقہاء وقضاة کے اخلاق اور بھی زیادہ گرنے لگے_٢ تقلید جامد ا حد کو پہنچ گئی کہ مختلف فقہی و کلامی مذاہب گویا مستقل دین بن گئے_١ اجتہاد معصیت بن کر رہ گیا۔ بدعات وخرافات نے شرعی حیثیت اختیار کر لی۔ کتاب وسنت کی طرف رجوع کرنا ایسا گناہ ہو گیا جو کسی طرح معاف نہیں کیا جاسکتا۔ اس دور میں جاہل و گمراہ عوام دنیا پرست یا تنگ نظر علماء اور جاہل و ظالم حکمرانوں کی ایسی سنگت بن گئی تھی کہ اس اتحاد ثلاثہ کے خلاف کسی کا اصلاح کے لیے اٹھنا اپنی گردن کو قصاب کی چھری کےسامنے پیش کرنے سے کم نہ تھا۔ یہی وجہ ہے کہ گو اس وقت صحیح الخیال وسیع النظر، حقیقت شناس علماء نا پید نہ تھے نہ ان کچے اور اصلی صوفیوں کی کمی تھی جو جادہ حق پر گامزن تھے مگر جس نے اس تاریک زمانہ میں اصلاح کا علم اٹھانے کی جرات کی وہ ایک ہی اللہ کا بندہ تھا۔
٢- اس وقت کے علماء کی حالت یہ تھی کہ ہلاکو خاں نے بغداد پر تسلط جمانے کے بعد علماء سےفتوئی طلب کیا کہ سلطان کا فر عادل اور سلطان مسلم ظالم میں سے کون افضل ہے؟ تو علمائے کرام نے بلا تکلف فیصلہ صادر فرمایا کہ سلطان کا فر عادل افضل ہے۔ اس وقت کے امراء کا حال یہ تھا کہ دنیائے اسلام میں تاتاریوں کی چیرہ دستی سےبچ بچا کر مسلمانوں کی جو سب سے بڑی سلطنت رہ گئی تھی وہ مصر و شام کے ممالک کی سلطنت تھی، اور انہوں نےاپنی سلطنت کے قانون کو دوحصوں میں تقسیم کر رکھا تھا۔ ایک شخصی قانون، جس کا دائرہ اثر صرف نکاح و طلاق و وراثت وغیرہ امور مذہبی تک محدود تھا، اور ان معاملات میں فیصلے شریعت کے مطابق ہوتے تھے۔ دوسرا ملکی قانون جو تمام دیوانی و فوجداری معاملات اور پورے نظام سلطنت پر حاوی تھا اور یہ سراسر چنگیز خانی دستور پرمبنی تھا۔ مزید برآں شریعت کا شخصی قانون جو کچھ بھی ملک میں رائج تھا صرف عوام الناس کے لیے تھا۔ رہے حکمران، تو وہ مسلمان ہونے کے باوجود اکثر و بیشتر اپنے شخصی معاملات تک میں تو رہ چنگیزی کی پیروی کرتے تھے نہ کہ شریعت محمدی کی ۔ ان کے غیر اسلامی رویے کا اندازہ کرنے کے لیے صرف اتنی بات کافی ہے کہ مقریزی کےبیان کے مطابق انہوں نے اپنی سلطنت میں تجبہ خانوں کی کھلی چھٹی دے رکھی تھی اور زنان بازاری پر ایک ٹیکس لگا دیا گیا تھا جس کی آمدنی "دولت اسلامیہ" کے خزانہ عامرہ میں داخل کی جاتی تھی ۔ ابن تیمیہ کے ہم عصر علماء اور صوفیہ اکثر و بیشتر اس سلطنت کے وظیفہ خوار تھے ۔ انہیں خدا کے دین کی یہ مظلومی تو ایک لمحہ کے لیے بھی نہ کھٹکی۔ انہیں خدا کے دین کی یہ مظلومی تو ایک لمحہ کے لیے بھی نہ کھٹکی ۔البتہ جب ابن تیمیہ نے اٹھ کر اصلاح کی کوشش کی تو ان لوگوں کی رگ حمیت یکا یک پھڑک اٹھی اور انہوں نے فتوے دینے شروع کر دیئے کہ یہ شخص ضال اور مفضل ہے تجسیم وتشبیہ کا قائل ہے طریق سلف سے منحرف ہے، تصوف کا اور اہل تصوف کا دشمن ہے صحابہ اور آئمہ تک کے منہ آتا ہے دین میں نئی نئی باتیں نکالتا ہے اس کے پیچھے نماز جائز نہیں اور اس کی کتابیں جلا دینے کے لائق ہیں۔
(١) اس حالت کا اندازہ کرنے کے لیے بھی صرف ایک نمونہ کافی ہے۔ دمشق میں ایک مدر سے (مدرسہ رواحیہ ) کے بانی نے اپنے وقف نامے میں لکھ رکھا تھا کہ اس مدرسے میں یہودی، عیسائی اور حنبلی داخل نہیں ہو سکتے ۔اس سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ فقہ وکلام کے جزئیات پر مناظرہ بازیاں کرتے ہوئے نوبت یہاں تک پہنچ گئی تھی کہ ایک شافعی اور اشعری حضرت امام احمد بن حنبل کے پیروؤں کو یہود و نصاری کے ساتھ شامل کرنے میں بھی تامل نہ کرتا تھا۔
ابن تیمیہ قرآن میں گہری بصیرت رکھتے تھے، حتی کہ حافظ ذہبی نے شہادت دی کہ اما التفسیر فمسلّم اليه: تفسیر تو ابن تیمیہ کا حصہ ہے حدیث کے امام تھے۔ یہاں تک کہا گیا کہ کل حدیث لا يعرفه ابن تيمية فليس بحدیث ( جس حدیث کو ابن تیمیہ نہ جانتےہوں وہ حدیث نہیں ہے)۔ تفقہ کی شان یہ تھی کہ بلا شبہ ان کو مجتہد مطلق کا مرتبہ حاصل تھا۔ علوم عقلیہ، منطق، فلسفہ اور کلام میں اتنی گہری نظر تھی کہ ان کے معاصرین میں سے جن لوگوں کا سرمایہ ناز یہی علوم تھے وہ ان کے سامنے بچوں کی حیثیت رکھتے تھے۔ یہود اور نصاری کے لٹریچر اور ان کے مذہبی فرقوں کے اختلافات پر ان کی نظر اتنی وسیع تھی کہ گولڈ زیہر کے بقول کوئی شخص جو تورات کی شخصیتوں سے بحث کرنا چاہے وہ ابن تیمیہ کی تحقیقات سے بے نیاز نہیں ہوسکتا۔ اور ان سب علمی کمالات کے ساتھ اس شخص کی جرات و ہمت کا یہ حال تھا کہ اظہار حق میں کبھی کسی بڑی سےبڑی طاقت سے بھی نہ ڈرا حتی کہ متعدد مرتبہ جیل بھیجا گیا اور آخر کار جیل ہی میں جان دے دی۔ یہی وجہ ہے کہ وہ امام غزائی کے چھوڑے ہوئے کام کو ان سے زیادہ خوبی کے ساتھ آگے بڑھانے میں کامیاب ہوا۔
(١) انہوں نے یونانی منطق و فلسفہ پر امام غزائی سے زیادہ گہری اور زبردست تنقید کی اور اس کی کمزوریوں کو اس طرح نمایاں کر کے دکھایا کہ عقلیات کے میدان پر اس کا تسلط ہمیشہ کے لیے ڈھیلا ہو گیا۔ ان دونوں اماموں کی تنقید کے اثرات مشرق ہی تک محدود نہ رہے بلکہ مغرب تک بھی پہنچے۔ چنانچہ یورپ میں ارسطو کی منطق اور مسیحی متکلمین کے یونان زدہ فلسفیانہ نظام کےخلاف پہلی تنقیدی آواز امام ابن تیمیہ کےڈھائی سو برس بعد اٹھی۔
(۲) انہوں نے اسلام کے عقائد احکام اور قوانین کی تائید میں ایسے زبر دست دلائل قائم کیے جو امام غزائی کے دلائل سے زیادہ معقول بھی تھے اور اسلام کی اصل روح کے حامل ہونےمیں بھی ان سے بڑھے ہوئے تھے۔ امام غزائی کے بیان واستدلال پر اصطلاحی معقولات کا اثر چھایا ہوا تھا۔ ابن تیمیہ نے اس راہ کو چھوڑ کر عقلِ عام (Common Sense) پرت تعیین کی بناء رکھی جو زیادہ فطری زیادہ مؤثر اور زیادہ قرآن وسنت کے قریب تھی۔ یہ نئی راہ پچھلی راہ سے بالکل الگ تھی۔ جولوگ دین کے علم بردار تھے وہ فقط احکام نقل کر دیتے تھے تفہیم نہ کر سکتےتھے اور جو کلام میں پھنس گئے تھے وہ تفلسف اور اصطلاحی معقولات کو ذریعہ تفہیم بنانے کی وجہ سےکتاب وسنت کی اعلیٰ اسپرٹ کو کم و بیش کھو دیتے تھے ۔ ابن تیمیہ نے عقائد واحکام کو ان کی اصل اسپرٹ کے ساتھ بے کم و کاست بیان بھی کیا اور پھر تفہیم کا وہ سیدھا سادہ فطری ڈھنگ اختیار کیا بس کے سامنے عقل کے لیے سر جھکا دینے کے سوا چارہ نہ تھا۔ اسی زبردست کارنامے کی تعریف امام حدیث علامہ ذہبی نے ان الفاظ میں کی ہے ولقد نصر السنة المحصنة والطريقة السلفية واحتج لها ببراهين و مقدمات و امور لم يسبق اليها ۔ یعنی ابن تیمیہ نےخالص سنت اور طریقہ سلف کی حمایت کی اور اس کی تائید میں ایسے دلائل اور ایسے طریقوں سے کام لیا جن کی طرف ان سے پہلے کسی کی نظر نہ گئی تھی۔
(۳) انہوں نے تقلید جامد کے خلاف صرف آواز ہی نہیں اٹھائی بلکہ قرونِ اولیٰ کےمجتہدین کے طریقہ پر اجتہاد کر کے دکھایا۔ براہِ راست کتاب و سنت اور آثار صحابہ سے استنباط کر کے اور مختلف مذاہب فقہ کے درمیان آزاد محاکمہ کر کےکثیر التعداد مسائل میں کلام کیا۔ جس سے راہ اجتہاد از سرنو باز ہوئی اور قوت اجتہادیہ کا طریق استعمال لوگوں پر واضح ہوا۔ اس کے ساتھ انہوں نے اور ان کے جلیل القدر شاگرد ابن قیم نے حکمت تشریع اور شارع کے طر ز قانون سازی پر اتنا نفیس کام کیا جس کی مثال ان سے پہلے کے شرعی لٹریچر میں نہیں ملتی ۔ یہ وہ مواد ہے جس سےان کے بعد اجتہادی کام کرنے والوں کو بہترین رہنمائی حاصل ہوئی اور آئندہ ہوتی رہے گی۔
(۴) انہوں نے بدعات اور مشرکانہ رسوم اور اعتقادی و اخلاقی گمراہیوں کےخلاف سخت جہاد کیا اور اس سلسلہ میں بڑی مصیبتیں اٹھا ئیں۔ اسلام کے چشمہ صافی میں اس وقت تک جتنی آمیزشیں ہوئی تھیں، اس اللہ کے بندے نےان میں سے ایک کو بھی نہ چھوڑا ایک ایک کی خبر لی اور ان سب سےچھانٹ کر ٹھیٹھ اسلام کے طریقہ کو الگ روشن کر کے دنیا کے سامنے رکھ دیا۔ اس تنقید و تنقیح میں اس شخص نے کسی کی رورعایت نہ کی۔ بڑے بڑےآدمی جن کےفضل و کمال اور تقدس کا سکہ مسلمانوں کی ساری دنیا پر بیٹھا ہوا تھا، جن کے نام سن کر لوگوں کی گردنیں جھک جاتی تھیں، ان تیمیہ کی تنقید سے نہ بچ سکے۔ وہ طریقے اور اعمال جو صدیوں سے مذہبی حیثیت اختیار کیے ہوئے تھے، جن کے جواز بلکہ استحباب کی دلیلیں نکال لی گئی تھیں اور علماء حق بھی جن سےمداہنت کر رہے تھے ابن تیمیہ نے ان کو ٹھیٹھ اسلام کے منافی پایا اور ان کی پر زور مخالفت کی۔اس آزاد خیالی اور صاف گوئی کی وجہ سے ایک دنیا ان کی دشمن ہو گئی اور آج تک دشمن چلی آتی ہے۔ جو لوگ ان کے عہد میں تھے انہوں نے مقدمات قائم کر کے انہیں کئی بار جیل بھجوایا۔ اور جو بعد میں آئے انہوں نے تکفیر و تضلیل کر کے اپنا دل ٹھنڈا کیا ۔ مگر اسلام خالص و محض کے اتباع کا جوصور اس شخص نے پھونکا تھا' اس کی بدولت ایک مستقل حرکت دنیا میں پیدا ہو گئی جس کی آواز بازگشت اب تک بلند ہو رہی ہے۔
اس تجدیدی کام کے ساتھ انہوں نے تاتاری وحشت و بربریت کے مقابلہ میں تلوار سے بھی جہاد کیا۔ اس وقت مصر و شام اس سیلاب سے بچے ہوئے تھے۔ امام نے وہاں کے عام مسلمانوں اور رئیسوں میں غیرت وحمیت کی آگ پھونکی اور انہیں مقابلہ پر آمادہ کیا۔ ان کے ہم عصر شہادت دیتے ہیں کہ مسلمان تاتاریوں سے اتنے مرعوب ہو چکے تھے کہ ان کا نام سن کر کانپ اٹھتے تھے اور ان کے مقابلہ میں جاتے ہوئے ڈرتے تھے ۔ كَأَنَّمَا يُسَاقُونَ إِلَى الْمَوْتِ مَگر ابن تیمیہ نے ان میں جہاد کا جوش پھونک کر شجاعت کی سوئی ہوئی روح کو بیدار کر دیا۔ تاہم یہ واقعہ ہے کہ وہ کوئی ایسی سیاسی تحریک نہ اٹھا سکے جس سے نظام حکومت میں انقلاب بر پا ہوتا اور اقتدار کی کنجیاں جاہلیت کے قبضہ سے نکل کر اسلام کے ہاتھ میں آجاتیں۔
شیخ احمد سر ہندی : ساتویں صدی میں فتنہ تاتار نے ہندوکش سے اُس پار کی دنیا کو تو بالکل تاخت و تاراج کر دیا، مگر ہندوستان اس کی دست برد سے بچ گیا تھا۔ اس ڈھیل نے یہاں کےمترفین کو اسی غلط فہمی میں ڈال دیا جو ہمیشہ فریفتگان زینت دنیا کو لاحق ہوتی ہے۔ یہاں وہ تمام خرابیاں پرورش پاتی رہیں جو خراسان و عراق میں تھیں ۔ وہی پادشاہوں کی خداوندی وہی امراء و اہل دولت کی عیش پسندی، وہی باطل طریقوں سے مال لینا اور باطل راستوں میں خرچ کرنا، وہی جبر و ظلم کی حکومت، وہی خدا سے غفلت اور دین کی صراط مستقیم سے بعد ۔ رفتہ رفتہ نوبت اکبر بادشاہ کے دور حکومت تک پہنچی جس میں گمراہیاں اپنی حد کو پہنچ گئیں ۔
اکبر کے دربار میں یہ رائے عام تھی کہ ملت اسلام جاہل بدؤوں میں پیدا ہوئی تھی۔ کسی مہذب و شائستہ قوم کے لیے وہ موزوں نہیں ۔ نبوت وحی حشر و نشر دوزخ و جنت ہر چیز کا مذاق اڑایا جانے لگا۔ قرآن کا کلام الہی ہونا مشتبہ وحی کا نزول عقلاً مستبعد مرنے کے بعد ثواب و عذاب غیر یقینی البتہ تاریخ ہر آئینہ ممکن واقرب الی الصواب ۔ معراج کو علانیہ محال قرار دیا جاتا۔ ذات نبوی پر اعتراضات کیے جاتے۔ خصوصاً آپ کی ازواج کے تعدد اور آپ کے غزوات و سرایا پر کھلم کھلا حرف گیریاں کی جاتیں۔ یہاں تک کہ لفظ احمد اور محمد سے بھی بیزاری ہوگئی اور جن کے ناموں میں یہ لفظ شامل تھا ان کے نام بدلے جانے لگے۔ دنیا پرست علماء نے اپنی کتابوں کے خطبوں میں نعت لکھنی چھوڑ دی ۔ بعض ظالم اس حد تک بڑھے کہ دقبال کی نشانیاں ہادی اعظم صلی اللہ علیہ وسلم پر چسپاں کرنے لگے العیاذ باللہ العیاذ باللہ۔ دیوانخانہ شاہی میں کسی کی مجال نہ تھی کہ نماز ادا کر سکے۔ابوالفضل نے نماز روزہ حج اور دوسرے شعائر دینی پر سخت اعتراضات کیے اور ان کا مذاق اڑایا۔ شعراء نے ان شعائر کی جو لکھی جو عوام کی زبانوں تک بھی پہنچی ۔
بہائی نظریہ کی بناء بھی دراصل اکبری عہد ہی میں پڑی تھی۔ اس وقت یہ نظریہ قائم کیا گیا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت پر ایک ہزار سال گزرچکے ہیں اور اس دین کی مدت ایک ہزار سال ہی تھی، اس لیے اب وہ منسوخ ہو گیا اور اس کی جگہ نئے دین کی ضرورت ہے۔ اس نظریہ کو سکوں کے ذریعہ سے پھیلایا گیا کیونکہ اس زمانہ میں نشر واشاعت کا سب سے زیادہ قوی ذریعہ یہی تھا۔ اس کے بعد ایک نئے دین اور نئی شریعت کی طرح ڈالی گئی جس کا بنیادی مقصد یہ تھا کہ ہندؤوں اور مسلمانوں کے مذہب کو ملا کر ایک مخلوط مذہب بنایا جائے تا کہ شاہی حکومت مستحکم ہو۔ دربار کے خوشامدی ہندؤوں نے اپنے بزرگوں کی طرف سے پیشین گوئیاں سنانی شروع کر دیں کہ فلاں زمانہ میں ایک گنور کھشک مہاتما بادشاہ پیدا ہو گا۔ اور اسی طرح بندۂ زر علماء نے بھی اکبر کو مہدی اور صاحب زماں اور امام مجتہد وغیرہ ثابت کرنے کی کوشش کی ۔ ایک "تاج العارفین“صاحب یہاں تک بڑھے کہ اکبر کو انسان کامل اور خلیفتہ الزمان ہونےکی حیثیت سے خدا کا عکس ہی ٹھہرا دیا۔ عوام کو سمجھانے کے لیے کہا گیا کہ حق اور صدق ( عالمگیر سچائیاں ) تمام مذاہب میں موجود ہیں، کوئی ایک ہی دین حق کا اجارہ دار نہیں ہے لہذا سب مذہبوں میں جو جو باتیں حق ہیں انہیں لے کر ایک جامع طریقہ بنانا چاہیے اور اس کی طرف لوگوں کو دعوتِ عام دینی چاہیے تا کہ ملتوں کے سب اختلافات مٹ جائیں۔ اسی طریق جامع کا نام دین الہی ہے اس نئے دین کا کلمہ لا الہ الا اللہ اکبر خلیفتہ اللہ تجویز کیا گیا۔ جو لوگ اس دین میں داخل ہوتے ان کو دین اسلام مجازی و تقلیدی که از پدراں دیدہ و شنیده ام سے تو بہ کر کے دین الہی اکبر شاہی میں داخل ہونا پڑتا تھا اور داخل ہونے کے بعد ان کو لفظ ” چیلہ سے تعبیر کیا جاتا تھا۔ سلام کا طریقہ بدل کر یوں کر دیا گیا کہ سلام کرنے والا اللہ اکبر اور جواب دینے والا’ جل جلالہ“ کہتا۔ یادر ہے کہ بادشاہ کا نام جلال الدین اور لقب اکبر تھا۔ چیلوں کو بادشاہ کی تصویر دی جاتی اور وہ اسے پگڑی میں لگاتے ۔ بادشاہ پرستی اس دین کے ارکان میں سے ایک رکن تھی ۔ ہر روز صبح کو بادشاہ کا درشن کیا جاتا اور بادشاہ کے سامنے جب حاضری کا شرف عطا ہوتا تو اس کے سامنے سجدہ بالایا جاتا۔ علماء کرام اور صوفیائے باصفا دونوں اپنے اس قبلہ حاجات اور کعبہ مرادات کو بے تکلف سجدہ فرماتےتھےاور صریح شرک کو سجدہ تحیہ اور ز میں بوسی جیسے الفاظ کے پردے میں چھپاتے تھے۔ یہ وہی ملعون حیلہ بازی تھی جس کی پیشین گوئی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمائی تھی کہ ایک زمانہ ایسا آئے گا جب لوگ حرام چیز کا نام بدل کر اس کو حلال کر لیا کریں گے۔
اس نئے دین کی بنا تو یہ کہہ کر رکھی گئی تھی کہ اس میں بلا کسی تعصب کے ہر مذہب کی اچھی باتیں لی جائیں گی، مگر دراصل اس میں اسلام کے سوا ہر مذہب کی پذیرائی تھی اور نفرت و عداوت کے لیے صرف اسلام اور اس کے احکام و قوانین ہی کو مختص کر لیا گیا تھا۔ پارسیوں سےآتش پرستی لی گئی اکبری محل میں دائی آگ کا الاؤ روشن کیا گیا اور چراغ روشن کرنے کے وقت قیامِ تعظیمی کیا جانے لگا۔ عیسائیوں سے ناقوس نوازی اور تماشائے صورتِ ثالث ثلثہ اور اسی قسم کی چند چیزیں لی گئیں۔ سب سے زیادہ نظر عنایت ہندویت پر تھی، کیونکہ یہ ملک کی اکثریت کا مذہب تھا اور پادشاہی کی جڑیں مضبوط کرنے کے لیے اس کی استمالت ضروری تھی۔ چنانچہ گائے کا گوشت حرام کیا گیا۔ ہندو تہوار دیوالی، دسہرہ، راکھی، پونم شیوراتری وغیرہ پوری ہندوانہ رسوم کےساتھ منائے جانے لگے۔ شاہی محل میں ہون کی رسم ادا کی جانے لگی۔ دن میں چار وقت آفتاب کی عبادت کی جاتی۔ اور آفتاب کے ایک ہزار ناموں کا جاپ کیا جاتا۔ آفتاب کا نام جب زبان پر آتا جلت قدرتہ کے الفاظ کہے جاتے، پیشانی پر قشقہ لگایا جاتا۔ دوش دو کمر پر جنیو ڈالا جاتا اور گائے کی تعظیم کی جاتی۔ معاد کے متعلق عقیدہ تناسخ تسلیم کر لیا گیا اور برہمنوں سے ان کےدوسرے بہت سے اعتقادات سیکھے گئے ۔ یہ سارا معاملہ تو تھا دوسرے مذاہب کے ساتھ ۔ رہا اسلام تو اس کے معاملہ میں بادشاہ اور درباریوں کی ایک ایک حرکت سے ظاہر ہوتا تھا کہ ان کو اس سے ضد اور چڑ ہوگئی ہے۔ اسلامی تعلیمات کے خلاف دوسرے مذاہب والوں کی طرف سے جو بات در بار کا رنگ دیکھ کر فلسفیانہ و صوفیانہ انداز میں پیش کر دی جاتی اسے وحی آسمانی سمجھ لیا جاتا اور اس کے مقابلہ میں اسلامی تعلیم رد کر دی جاتی ۔ علماء اسلام اگر اسلام کی طرف سے کوئی بات کہتے، یا کسی گمراہی کی مخالفت کرتے تو انہیں فقیہ" کے نام سے موسوم کیا جاتا جس کے معنی ان کی اصطلاح خاص میں احمق اور ناقابل التفات آدمی کے ہو گئے تھے ۔ چالیس آدمیوں کی ایک کمیٹی مذاہب کی تحقیق کے لیے مقرر کی گئی تھی جس میں تمام مذاہب کا مطالعہ بڑی رواداری بلکہ عقیدت مندی کے ساتھ کیا جاتا تھا، مگر اسلام کا نام آتے ہی اس کا مذاق اڑایا جانے لگتا تھا، اور اگر اسلام کا کوئی حامی جواب دینا چاہتا تو اس کی زبان بند کر دی جاتی تھی۔ یہ برتاؤ اسی حد تک نہ رہا بلکہ عملاً اسلام کے احکام کی دل کھول کر ترمیم و تنسیخ کی گئی۔ سوڈ جوئے اور شراب کو حلال کیا گیا۔ شاہی مجلس میں نو روز کے موقع پر شراب کا استعمال ضروری تھا۔ حتی کہ قاضی و مفتی تک پی جاتے تھے۔ ڈاڑھی منڈوانے کا فیشن عام کیا گیا اور اس کے جواز پر دلائل قائم کیے گئے۔ چا زاد اور ماموں زاد بہن سے نکاح کو ممنوع قرار دیا گیا۔ لڑکے کے لیے ۶ سال اور لڑکی کے لیے ۱۴ سال عمر نکاح مقرر کی گئی۔ ایک بیوی سے زیادہ بیویاں رکھنے کی ممانعت کی گئی۔ ریشم اور سونے کے استعمال کو حلال کیا گیا۔ شیر اور بھیڑیے کو حلال کیا گیا۔ سور کو اسلام کی ضد میں نہ صرف پاک بلکہ ایک مقدس جانور قرار دیا گیا۔ حتی کہ صبح آنکھ کھولتے ہی اسے دیکھنا مبارک خیال کیا جاتا تھا۔ مُردوں کو دفن کرنے کے بجائے جلانا یا پانی میں بہانا احسن بخبر ایا گیا اور اگر کوئی دفن ہی کرنا چاہے تو سفارش کی گئی کہ پاؤں قبلہ کی طرف رکھے جائیں۔ اکبر خود اسلام کی ضد میں قبلہ ہی کی طرف پاؤں کر کے سونے کا التزام کرتا تھا۔ حکومت کی تعلیمی پالیسی بھی سراسر اسلام کی مخالف تھی۔ عربی زبان کی تعلیم اور فقہ و حدیث کے درس کو نا پسندیدہ سمجھا جاتا اور جو لوگ ان علوم کو حاصل کرتے وہ حقیر خیال کیے جاتے۔ علوم دینی کے بجائے حکمت و فلسفہ ریاضی و تاریخ اور اس نوع کے علوم کو سرکاری سر پرستی حاصل تھی۔ زبان میں ہندیت پیدا کرنے کی طرف خاص میلان تھا اور عربی حروف کو زبان سے خارج کرنے کی بھی تجویز میں تھیں یہ ان حالات کی وجہ سے دینی مدر سے ویران ہونے لگے اور اکثر اہلِ علم ملک چھوڑ چھوڑ کر نکلنے لگے۔
یہ تو تھا حکومت کا حال۔ اور عوام کا حال یہ تھا کہ جو لوگ باہر سے آئے تھے وہ ایران و خراسان کی اخلاقی و اعتقادی بیماریاں ساتھ لائے تھے، اور جولوگ ہندوستان ہی میں مسلمان ہوئے تھے ان کی اسلامی تعلیم وتربیت کا کوئی خاص انتظام نہ تھا اس لیے وہ پرانی جاہلیت کی بہت سی باتیں اپنے خیالات اور اپنی عملی زندگی میں لیے ہوئے تھے۔ ان دونوں قسم کے مسلمانوں نے مل جل کر ایک عجیب مرکب تیار کیا تھا جس کا نام اسلامی تمدن تھا۔ اس میں شرک بھی تھا۔ نسلی اور طبقاتی امتیازات بھی تھے اوہام و خرافات بھی تھے اور نو ایجا درسموں کی ایک نئی شریعت بھی تھی۔ دنیا پرست علماء و مشائخ نے نہ صرف اس مخلوطہ سے موافقت کر لی تھی بلکہ وہ اس نئے ”مت“ کے پروہت بن گئے تھے۔ لوگوں کی طرف سے ان کو نذرانے پہنچتے اور ان کی طرف سے لوگوں کو فرقہ بندی کا تحفہ ملتا۔
پیران طریقت کے ہاتھوں سے ایک اور بیماری پھیل رہی تھی۔ اشراقیت، رواقیت (Stoicism) مانویت اور وید انتنزم کی آمیزش سے ایک عجیب قسم کا فلسفیانہ تصوف پیدا ہو گیا تھا، جسے اسلام کے نظام اعتقادی و اخلاقی میں ٹھونس دیا گیا تھا۔ طریقت وحقیقت، شرع اسلامی سے الگ اور اس سے بے نیاز قرار دی گئی تھیں ۔ باطن کا کوچہ ظاہر سے جدا بنالیا گیا تھا اور اس کوچہ کا قانون یہ تھا کہ حدود حلال و حرام رخصت احکام دین عملاً منسوخ اور ہوائے نفس کے ہاتھ میں کلی اختیارات۔ جس فرض کو چاہے ساقط کرے اور جس چیز کو چاہے فرض بلکہ فرض الفرض بنا دے۔ جس حلال کو چاہے حرام کر دے اور جس حرام کو چاہے حلال کر دے۔ ان عام پیروں سے بہتر جس کی حالت تھی ان پر کم و بیش فلسفیانہ تصوف کے اثرات پڑے ہوئے تھے اور وحدۃ الوجود کے ایک غلط تصور نے خصوصیت کے ساتھ تمام قوائے عمل کو بے کار کر دیا تھا۔
یہ حالات تھے جب اکبری سلطنت کے ابتدائی ایام میں شیخ احمد سر ہندی_١ پیدا ہوئے۔ان کی تعلیم وتربیت ایسے لوگوں میں ہوئی تھی جو اس دور کے صالح ترین لوگ تھے گو اپنے گرد و پیش کے فساد کا مقابلہ نہ کر سکتے تھے مگر کم از کم اپنے ایمان اور عمل کو بچائے ہوئے تھے اور جہاں تک ہو سکتا تھا دوسروں کی اصلاح بھی کر رہے تھے۔ خصوصیت کے ساتھ شیخ کو سب سے زیادہ فیض حضرت باقی باللہ صاحب سے پہنچا تھا جو اپنے وقت کے ایک بڑے صالح بزرگ تھے ۔ مگر خود شیخ کی ذاتی صلاحیتوں کا حال یہ تھا کہ جب حضرت موصوف کے ساتھ راہ و رسم کی ابتدا ہوئی تھی اسی وقت انہوں نے شیخ کے متعلق اپنے یہ خیالات ایک دوست کو لکھ کر بھیجے تھے:
"حال میں سرہند سے ایک شخص شیخ احمد نامی آیا ہے۔ نہایت ذی علم ہے۔ بڑی عملی طاقت رکھتا ہے۔ چند روز فقیر کے ساتھ ہی اس کی نشست و برخاست ہوئی ہے۔ اس دوران میں اس کے حالات کا جو مشاہدہ ہوا اس کی بنا پر توقع ہے کہ آگے چل کر یہ ایک چراغ ہوگا جو دنیا کو روشن کر دے گا۔“
یہ پیشین گوئی پوری ہوئی۔ ہندوستان کے گوشوں میں بہت سےحق پرست علماء اور کچےصوفیہ بھی اس وقت موجود تھےمگر ان سب کے درمیان وہ ایک اکیلا شخص تھا جو وقت کےان فتوں کی اصلاح اور شریعت محمدی کی حمایت کےلیےاٹھا اور جس نے شاہی قوت کے مقابلہ میں یکہ و تنہا احیاء دین کی جدو جہد کی۔ اس بے سرو سامان فقیر نےعلی الاعلان اٹھ کر ان گمراہیوں کی مخالفت کی جنہیں حکومت کی حمایت حاصل تھی اور اس شریعت کی تائید کی جو حکومت کی نگاہ میں مبغوض تھی۔ حکومت نے اس کو ہر طرح دبانے کی کوشش کی، حتی کہ جیل بھی بھیجا، مگر بالآخر وہ فتنہ کا منہ پھیرنے میں کامیاب ہو گیا۔ جہانگیر جس نے سجدہ تحیہ نہ کرنے پر شیخ کو گوالیار کے قید خانہ میں بھیج دیا تھا، آخر کار شیخ کا معتقد ہو گیا اور اپنے بیٹے خرم کو جو بعد میں شاہجہان کے لقب سے تخت نشین ہوا ان کے حلقہ بیعت میں داخل کیا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ اسلام کے متعلق حکومت کی معاندانہ روش احترام سے بدل گئی۔ دین الہی اکبر شاہی“ ان تمام بدعتوں کے ساتھ ختم ہوا جو درباری شریعت سازوں نے گھڑی تھیں ۔ اسلامی احکام کی جوتر میم و تنسیخ کی گئی تھی وہ خود منسوخ ہو درباری شریعت سازوں نے گھڑی تھیں ۔ اسلامی احکام کی جوتر میم و تنسیخ کی گئی تھی وہ خود منسوخ ہو گئی۔ حکومت اگر چہ شاہی حکومت ہی رہی۔ مگر کم از کم اتنا ہوا کہ علوم دینی اور احکام شرعی کی طرف اس کا رویہ کا فرانہ ہونے کے بجائے عقیدتمندانہ ہو گیا۔ شیخ کی وفات کے تین چار سال بعد عالمگیر پیدا ہوا اور غالبا وہ شیخ ہی کے پھیلائے ہوئے اصلاحی اثرات تھے جن کی بدولت تیموری خاندان کے اس شہزادے کو وہ علمی اور اخلاقی تربیت مل سکی کہ اکبر جیسے ہادم شریعت کا پر پوتا خادم شریعت ہوا۔
شیخ کا کارنامہ اتنا ہی نہیں ہے کہ انہوں نے ہندوستان میں حکومت کو بالکل ہی کفر کی گود میں چلے جانے سے روکا اور اس فتنہ عظیم کے سیلاب کا منہ پھیرا جواب سے تین چار سو برس پہلے ہی یہاں اسلام کا نام و نشان مٹادیتا۔ اس کے علاوہ انہوں نے دو عظیم الشان کام اور بھی انجام دیئے۔ ایک یہ کہ تصوف کے چشمہ صافی کو ان آلائشوں سے جو فلسفیانہ اور راہبانہ گمراہیوں سے اس میں سرایت کر گئی تھیں پاک کرکے اسلام کا اصلی اور صبح تصوف پیش کیا۔ دوسرے یہ کہ ان تمام رسوم جاہلیت کی شدید مخالفت کی جو اس وقت عوام میں پھیلی ہوئی تھیں اور سلسلہ بیعت وارشاد کےذریعہ سے اتباع شریعت کی ایک ایسی تحریک پھیلائی جس کے ہزار ہا تربیت یافتہ کارکنوں نے نہ صرف ہندوستان کے مختلف گوشوں میں بلکہ وسط ایشیا تک پہنچ کر عوام کے اخلاق و عقائد کی اصلاح کی کوشش کی۔ یہی کام ہے جس کی وجہ سے شیخ سرہندی کا شمار مجد دین ملت میں ہوتا ہے۔
حضرت مجددالف ثانی” کی وفات کے بعد اور عالمگیر بادشاہ کی وفات سے چارسال پہلے نواح دہلی میں شاہ ولی اللہ صاحب پیدا ہوئے ۔ ایک طرف ان کے زمانہ اور ماحول کو اور دوسری طرف ان کے کام کو جب آدمی بالمقابل رکھ کر دیکھتا ہے تو عقل دنگ رہ جاتی ہے کہ اس دور میں اس نظر“ ان خیالات اس ذہنیت کا آدمی کیسے پیدا ہو گیا۔ فرخ سیر، محمد شاہ رنگیلے اور شاہ عالم کے ہندوستان کو کون نہیں جانتا۔ اس تاریک زمانہ میں نشو ونما پا کر ایسا آزاد خیال مفکر و مبصر منظر عام پر آتا ہے جو زمانہ اور ماحول کی ساری بندشوں سے آزاد ہو کر سوچتا ہے، تقلیدی علم اور صدیوں کےجمے ہوئے تعصبات کے بند تو ڑ کر ہر مسئلہ زندگی پر محققانہ ومجتہدانہ نگاہ ڈالتا ہے اور ایسا لٹریچر چھوڑ جاتا ہے جس کی زبان انداز بیان، خیالات، نظریات مواد تحقیق اور نتائج مستخرجہ کسی چیز پر بھی ماحول کا کوئی اثر دکھائی نہیں دیتا حتی کہ اس کے اوراق کی سیر کرتے ہوئے یہ گمان تک نہیں ہوتا کہ یہ چیزیں اس جگہ لکھی گئی تھیں جس کے گرد و پیش عیاشی، نفس پرستی قتل و غارت، جبر و ظلم اور بدامنی و طوائف الملو کی کا طوفان برپا تھا۔
شاہ صاحب تاریخ انسانی کے ان لیڈروں میں سے ہیں جو خیالات کے الجھے ہوئےجنگل کو صاف کر کے فکر و نظر کی ایک صاف سیدھی شاہراہ بناتے ہیں، اور ذہن کی دنیا میں حالاتِ موجودہ کے خلاف ایسی بےچینی اور تعمیر نو کا ایسا دلآویز نقشہ پیدا کرتے چلےجاتےہیں جس کی وجہ سے ناگزیر طور پر تخریب فاسد و تعمیر صالح کے لیے ایک تحریک اٹھتی ہے۔شاذ و نادر ہی ایسا ہوتا ہے کہ اس قسم کے لیڈرا اپنے خیالات کے مطابق خود کوئی تحر یک اٹھاتےہوں اور بگڑی ہوئی دنیا کو توڑ پھوڑ کر اپنے ہاتھوں سے نئی دنیا بنانے کے لیے میدان میں نکل آتے ہوں۔ تاریخ میں اس کی مثالیں بہت ہی کم ملتی ہیں۔اس طرز کےلیڈروں کا اصلی کارنامہ یہی ہوتا ہےکہ وہ تنقید سے صدہا برس کی جمی ہوئی غلط فہمیوں کا غبار چھانٹ دیتےہیں، اذہان میں نئی روشنی پیدا کرتےہیں، زندگی کے بگڑے ہوئے مگر پختہ بنے ہوئے سانچے کو عالم ذہنی میں توڑتے ہیں اور اس کے ملبے میں سےاصلی پائیدار حقیقتوں کو نکال کر دنیا کے سامنے رکھ جاتے ہیں ۔ یہ کام بجائے خود اتنا بڑا ہوتا ہے کہ اس کی مشغولیتوں سے آدمی کو اتنی فرصت مشکل ہی سے مل سکتی ہےکہ خود میدان میں آکر تعمیر کا عملی کام بھی کر سکے۔اگر چہ شاہ صاحب تفہیمات الہیہ میں ایک جگہ اشارہ کرتے ہیں کہ اگر موقع ومحل کا اقتضا ہوتا تو میں جنگ کر کےعملاً اصلاح کرنے کی قابلیت بھی رکھتا تھا۔ مگر واقعہ یہی ہے کہ انہوں نے اس طرز کا کوئی کام نہیں کیا۔ ان کی ساری قوتوں کو تنقید وتعمیر افکار کے بھاری کام نے بالکل اپنے اندر جذب کر رکھا تھا اور ان کو اس کار عظیم سے اتنی مہلت بھی نہ تھی کہ اپنے قریب ترین ماحول کی طرف ہی توجہ کر سکتے ۔ جیسا کہ آگے چل کر عرض کیا جائے گا ان کے صاف کیے ہوئے راستےپر عملی جدو جہد کرنے کے لیے کچھ دوسرے لوگوں کی ضرورت تھی، اور وہ نصف صدی کے اندر خود انہی کے حلقہ تعلیم و تربیت سے نشو ونما پا کر اٹھے۔
شاہ صاحب کے تجدیدی کارنامے کو ہم دو بڑے عنوانات پر تقسیم کر سکتے ہیں۔ ایک عنوان تنقید و تنقیح کا اور دوسرا عنوان تعمیر کا۔ میں ان دونوں کو الگ الگ بیان کروں گا۔
تنقیدی کام: پہلے عنوان کے سلسلہ میں شاہ صاحب نے پوری تاریخ اسلام پر تنقیدی نگاہ ڈالی ہے۔ جہاں تک مجھے علم ہے، شاہ صاحب پہلے شخص ہیں جس کی نظر تاریخ اسلام اور تاریخ مسلمین کے اصولی فرق اور باریک فرق تک پہنچی اور جس نے تاریخ مسلمین پر تاریخ اسلام کے نقطہ نظر سےنقد و تبصرہ کر کے یہ معلوم کرنے کی کوشش کی کہ ان بہت کی صدیوں میں اسلام قبول کرنے والی اقوام کے درمیان فی الواقع اسلام کا کیا حال رہا ہے یہ ایک ایسا نازک مضمون ہےجس کی پیچیدگیوں میں پہلے بھی لوگ اٹھے رہے ہیں اور اب تک الجھے ہوئےہیں۔ چنانچہ شاہ صاحب کےبعد کوئی ایسا صاحب نظر نہ اٹھا جس کےذہن میں حقیقی تاریخ اسلام کا تاریخ مسلمین سےالگ کوئی واضح تصور ہوتا۔شاہ صاحب کےکلام میں مختلف مقامات پر اس کےمتعلق اشارات موجود ہیں۔ مگر خصوصیت کے ساتھ ازالہ اٹھا کی فصل خشم میں انہوں نے صفحه ۱۳۳ سے صفی ۱۵۸_١ تک مسلسل تاریخ مسلمین پر تبصرہ کیا ہےاور کمال یہ کیا ہے کہ ایک ایک دور کی خصوصیات اور ایک ایک زمانہ کےفتنوں کو بیان کرتے ہوئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ان پیشین گوئیوں کو بھی نقل کرتے گئے ہیں جن میں ان حالات کی طرف صریح اشارات پائےجاتے ہیں۔ اس تبصرہ میں قریب قریب ان تمام جاہلی آمیزشوں کی نشاندہی ہوگئی ہے جو مسلمانوں کے عقائد علوم اخلاق تمدن اور سیاست میں ہوتی رہیں۔
تقسیمات جلد اول ص ۱۰۱ فلو فرض ان يكون هذا الرجل في زمان واقتضت الاسباب ان يكون اصلاح النـــاس بـــاقــــامـة الــحـــروب و نـفـت فـي قلبــه اصلاحهم لقام هذا الرجل بامر الحرب اتم قيام وكان اما مافى الحرب لا يقاس بالرستم و الاسفند يار بل الرستم والاسفندیار وغيرهما طفيليون مستمدون منه مقتدون به.
پھر شاہ صاحب نے خرابیوں کے اس ہجوم میں کھوج لگا کر یہ معلوم کرنے کی کوشش کی ہے کہ ان میں بنیادی خرابیاں کون سی ہیں جن سے باقی تمام خرابیوں کا شجرہ نسب ملتا ہو اور آخر کار دو چیزوں پر انگلی رکھ دی ہے۔ ایک اقتدار سیاسی کا خلافت سے بادشاہت کی طرف منتقل ہونا۔
پہلی خرابی پر انہوں نے ازالہ میں پوری تفصیل کے ساتھ بحث کی ہے۔ خلافت اور بادشاہی کے اصولی و اصطلاحی فرق کو جس قدر واضح صورت میں انہوں نے بیان کیا ہے اور جس طرح احادیث سے اس کی تشریح کی ہے اس کی مثال ان سے پہلے کے مصنفین کی تحریروں میں نہیں ملتی۔ اسی طرح اس انقلاب کے نتائج کو بھی جس صراحت کے ساتھ انہوں نے پیش کیا ہے وہ انگوں کے کلام میں مفقود ہے۔ ایک جگہ لکھتے ہیں:
"پہلے وعظ اور فتویٰ دونوں خلیفہ کی رائے پر موقوف تھے۔ خلیفہ کے بغیر نہ وعظ کہا جا سکتا تھا اور نہ کوئی فتویٰ دینے کا مجاز تھا مگر اس انقلاب کے بعد وعظ اور فتویٰ دونوں اس نگرانی سے آزاد ہو گئے بلکہ بعد میں تو فتوی دینے کے لیے جماعت صالحین کےمشورے کی قید بھی نہ رہی ہے_٢"
"ان لوگوں کی حکومت مجوسیوں کی حکومت کے مانند ہی ہے۔ بس فرق یہ ہے کہ نماز پڑھتے اور کلمہ شہادت زبان سے ادا کرتے رہے ہیں۔ ہم اس تغیر کے دامن میں پیدا ہوئے ہیں، معلوم نہیں آگے چل کر خدا تعالیٰ کیا دکھانا چاہتا ہے_٣"
رہی دوسری خرابی تو شاہ صاحب نے ازالہ میں، حجت میں بدور بازنہ میں، تفهیمات میں مسوئی اور مصفی میں اور قریب قریب اپنی ہر تصنیف میں اس پر ماتم کیا ہے۔
"دولت شام ( اموی سلطنت ) کے خاتمہ تک کوئی اپنےآپ کو حقی یا شافعی نہ کہتا تھا بلکہ سب اپنے اپنے ائمہ اور اساتذہ کے طریقہ پر دلائل شرعی سے استنباط کرتے تھےدولت عراق ( عباسی سلطنت ) کے زمانہ میں ہر ایک نے اپنا ایک نام معین کیا اور یہ کیفیت ہو گئی کہ جب تک اپنے مذہب کے بڑوں کے نص نہ پاتے کتاب وسنت کی دلیل پر فیصلہ نہ کرتے۔ اس طرح وہ اختلافات جو تاویل کتاب وسنت کےمقتضیات سے ناگزیر طور پر پیدا ہوتے تھے، مستقل بنیادوں پر جم کر رہ گئے۔_٤ پھر جب دولت عرب کا خاتمہ ہو گیا یعنی ترکی اقتدار کا زمانہ آیا اور لوگ مختلف ممالک میں منتشر ہوئے تو ہر ایک نے جو کچھ اپنے مذہب فقہی سے یاد کیا تھا اسی کو اصل بنا لیا۔ پہلے جو چیز مذہب مستقبل تھی اب وہ سنت مستقر و بن گئی۔ اب ان کے علم کا مدار اس پر رہ گیا کہ تخریج پر تخریج کریں اور تفریح پر تفریح_١
”ہمارے زمانے کے سادہ لوح اجتہاد سے بالکل برگشتہ ہیں۔ اونٹ کی طرح ناک میں نکیل پڑی ہے۔ اور کچھ نہیں جانتے کہ کدھر جا رہے ہیں۔ ان کا کاروبار ہی دوسرا ہے۔ یہ بے چارے ان امور کی سمجھ بوجھ کے لیے مکلف ہی نہیں ہیں_٢
حجت کے مبحث ہفتم میں اور انصاف میں شاہ صاحب نے اس مرض کی پوری تاریخ بیان کی ہے اور ان خرابیوں کی نشان دہی کی ہے جو اس کی بدولت پیدا ہوتی ہیں۔
(۱) دلیل بازی اور یہ یونانی علوم کے اختلاط کی بدولت ہے۔ لوگ کلامی مباحث میں مشغول ہو گئے ہیں۔ یہاں تک کہ عقائد میں کوئی گفتگو ایسی نہیں ہوتی جو استدلالی مناظرات سے خالی ہو۔
(۲) وجدان پرستی اور یہ صوفیوں کی مقبولیت اور ان کی حلقه بگوشی کی وجہ سےہےجس نےمشرق سےمغرب تک لوگوں کو گھیر رکھا ہے، یہاں تک کہ ان حضرات کے اقوال و احوال لوگوں کے دلوں پر کتاب وسنت اور ہر چیز سے زیادہ تسلط رکھتےہیں۔ان کے رموز و اشارات اس قدر دخل پاگئےہیں کہ جو شخص ان رموز واشارات کا انکار کرے یا ان سےخالی ہو وہ نہ مقبول ہوتا ہے نہ صالحین میں شمار ہوتا ہے۔ منبروں پر کوئی واعظ ایسا نہیں جس کی تقریر اشارات صوفیہ سے پاک ہو اور درس کی مسندوں پر کوئی عالم ایسا نہیں جو ان کے کلام میں اعتقاد اور خوض کا اظہار نہ کرے۔ ورنہ اس کا شمار گدھوں میں ہونےلگتا ہے۔ پھر امراء و روساء وغیرہ کی کوئی مجلس ایسی نہیں جن کےہاں لطف کلام اور بذله سنجی اور تفن کےلیےصوفیہ کے اشعار اور نکات کھلونا بنےہوئے نہ ہوں۔
"پھر اس زمانہ کی ایک بیماری یہ ہے کہ ہر ایک اپنی رائے پر چلتا ہے اور بگٹٹ چلا جا رہا ہے نہ متشابہات پر جا کر رکھتا ہے نہ کسی ایسے امر میں دخل دینے سے باز رہتا ہےجو اس کے علم سے بالا تر ہو۔ احکام کے معانی اور اسرار پر ہر ایک اپنی عقل سے کلام کر رہا ہے اور جو کچھ جس نے سمجھ لیا ہے اس پر دوسروں سے مناظرہ ومباحثہ کر رہا ہے۔ دوسری بیماری یہ ہے کہ فقہ میں حنبلی اور شافعی وغیرہ کے سخت اختلافات پائے جاتے ہیں، ہر ایک اپنے طریقہ میں تعصب برتا ہے اور دوسروں کے طریقہ پر اعتراض کرتا ہے۔ ہر مذہب میں تخریجات کی کثرت ہے اور حق اس غبار میں چھپ گیا ہے۔“
"میں ان پیرزادوں سے جو کسی استحقاق کے بغیر باپ دادا کی گدیوں پر بیٹھے ہیں، کہتا ہوں کہ یہ کیا دھڑے بندیاں تم نے کر رکھی ہیں؟ کیوں تم میں سے ہر ایک اپنےطریقہ پر چل رہا ہے اور کیوں اس طریقہ کو سب نے چھوڑ رکھا ہے جسے اللہ تعالیٰ نےمحمد صلی اللہ علیہ وسلم پر اتارا تھا؟ تم میں سے ہر ایک امام بن بیٹھا ہے اپنی طرف لوگوں کو بلا رہا ہے اور اپنی آپ کو ہادی دمہدی سمجھتا ہے حالانکہ وہ ضال مضل ہےہم ہرگز ان لوگوں سے راضی نہیں جو دنیا کےفوائد کی خاطر لوگوں سےبیعت لیتےہیں یا اس لیےعلم حاصل کرتے ہیں کہ اغراض دنیوی حاصل کریں، یا لوگوں کو اپنی طرف دعوت دیتے ہیں اور اپنی خواہشات نفس کی اطاعت ان سے کراتے ہیں۔ یہ سب راہزن ہیں، دجال ہیں، کذاب ہیں، خود بھی دھوکے میں ہیں اور دوسروں کو بھی دھوکہ دے رہے ہیں.....
میں ان طالبان علم سے کہتا ہوں جو اپنے آپ کو علماء کہتے ہیں کہ بے وقوفوا تم یونانیوں کے علوم اور صرف ونحو و معانی میں پھنس گئے اور سمجھے کہ علم اس کا نام ہےحالانکہ علم تو کتاب اللہ کی آیت محکمہ ہے یا پھر وہ سنت ہے جو رسول سے ثابت ہو تم پچھلے فقہاء کے استحسانات اور تفریعات میں ڈوب گئے، کیا تمہیں خبر نہیں کہ حکم صرف وہ ہے جو اللہ اور اس کے رسول نے فرمایا ہو؟ تم میں سے اکثر لوگوں کا حال یہ ہے کہ جب کسی کو نبی کی کوئی حدیث پہنچتی ہے تو وہ اس پر عمل نہیں کرتا اور کہتا ہے کہ میرا عمل تو فلاں کے مذہب پر ہے نہ کہ حدیث پر ۔ پھر وہ حیلہ یہ پیش کرتا ہےکہ صاحب حدیث کا فہم اور اس کے مطابق فیصلہ تو کاملین و ماہرین کا کام ہےاور یہ حدیث ائمہ سلف سے چھپی تو رہی نہ ہوگی پھر کوئی وجہ تو ہو گی کہ انہوں نےاسے ترک کر دیا جان رکھو یہ ہرگز دین کا طریقہ نہیں ہے۔ اگر تم اپنے نبی پر ایمانلائے ہو تو اس کا اتباع کرو خواہ کسی مذہب کے موافق ہو یا مخالف ......
میں ان متقشف واعظوں، عابدوں اور خانقاہ نشینوں سے کہتا ہوں کہ اے زہد کےمد عیوا تم ہر وادی میں بھنک نکلے اور ہر رطب و یا بس کو لے بیٹھے ۔ تم نے لوگوں کو موضوعات اور اباطیل کی طرف بلایا۔ تم نے خلق خدا پر زندگی کا دائرہ تنگ کر دیا حالانکہ تم فراخی کے لیے مامور تھے نہ کہ تنگی کے لیے۔ تم نے مغلوب الحال عشاق کی باتوں کو مدارالیہ بنالیا ہے حالانکہ یہ چیزیں پھیلانے کی نہیں لپیٹ کر رکھ دینے کی ہیں۔- - - -
میں امراء سےکہتا ہوں کہ تمہیں خدا کا خوف نہیں آتا؟ تم فانی لذتوں کی طلب میں مستغرق ہو گئے اور رعیت کو چھوڑ دیا کہ ایک دوسرے کو کھا جائے ۔علانیہ شرابیں پی جارہی ہیں اور تم نہیں روکتےزنا کاری، شراب خواری اور قمار بازی کے اڈےبر سر عام بن گئے ہیں اور تم ان کا انسداد نہیں کرتے۔ اس عظیم الشان ملک میں مدت ہائے دراز سے کوئی حد شرعی نہیں لگائی گئی۔ جس کو تم ضعیف پاتے ہو اسے کھا جاتےہو اور جسے قوی پاتے ہو اسے چھوڑ دیتے ہو۔ کھانوں کی لذت، عورتوں کے ناز و انداز کپڑوں اور مکانوں کی لطافت، بس یہ چیزیں ہیں جن میں تم ڈوب گئے ہو کبھی خدا کا خیال تمہیں نہیں آتا - - - -
میں ان فوجی آدمیوں سے کہتا ہوں کہ تم کو اللہ نے جہاد کے لیئے اعلائے کلمہ حق کے لیئے شرک واہل شرک کا زور توڑنے کے لیے فوجی بنایا تھا۔ اس کو چھوڑ کر تم نےگھوڑ سواری اور ہتھیار بندی کو پیشہ بنالیا۔ اب جہاد کی نیت اور مقصد سے تمہارےدل خالی ہیں، پیسہ کمانے کے لیے سپاہی گرمی کا پیشہ کرتے ہو بھنگ اور شراب پیتےہو ڈاڑھیاں منڈاتے ہو اور مونچھیں بڑھاتے ہو بندگان خدا پر ظلم ڈھاتے ہو اور تمہیں کبھی اس بات کی پروا نہیں ہوتی کہ حرام کی روٹی کمارہے ہو یا حلال کی۔ خدا کی قسم تمہیں ایک روز دنیا سے جانا ہے پھر اللہ تمہیں بتائے گا کہ کیا کر کے آئےہے - - - -
میں ان اہل حرفہ اور عوام سے کہتا ہوں کہ تم میں سے امانت و دیانت رخصت ہو گئی ہے۔ اپنے رب کی عبادت سے تم غافل ہو گئے ہو اور اللہ کے ساتھ شرک کرنے لگے ہو۔ تم غیر اللہ کے لیے قربانیاں کرتے ہو اور مدار صاحب اور سالار صاحب کی قبروں کاج کرتے ہو۔ یہ تمہارے بدترین افعال ہیں۔ تم میں سے جو کوئی شخص خوشحال ہو جاتا ہے وہ اپنے لباس اور کھانے پر اتنا خرچ کرتا ہے کہ اس کی آمدنی اس کے لیے کافی نہیں ہوتی اور اہل و عیال کی حق تلفی کرنی پڑتی ہے یا پھر وہ شراب نوشی اور کرایہ کی عورتوں میں اپنی معاش اور معاد دونوں کو ضائع کرتا ہے۔ - - -
پھر میں مسلمانوں کی تمام جماعتوں کو عام خطاب کر کے کہتا ہوں۔ کہ اے بنی آدم ! تم نے اپنے اخلاق کھو دیے، تم پر تنگ دلی چھا گئی اور شیطان تمہارا محافظ بن گیا۔ عورتیں مردوں پر حاوی ہوگئی ہیں اور مردوں نے عورتوں کو ذلیل بنا رکھا ہے اور حلال تمہارے لیے بدمزہ بن گیا ہے .....
اے بنی آدم ! تم نےایسی فاسد رسمیں اختیار کر لی ہیں جن سےدین متغیر ہو گیا ہےمثلا روز عاشوراء کو تم جمع ہو کر باطل حرکات کرتےہو۔ ایک جماعت نے اس دن کو ماتم کا دن بنا رکھا ہے۔ کیا تم نہیں جانتے کہ سب دن اللہ کےہیں اور سارےحوادث اللہ کی مشیت سے ہوتےہیں؟ اگر حضرت حسین رضی اللہ عنہ اس روز شہید کیےگئےتو اور کونسا دن ہےجس میں کسی محبوب خدا کی موت واقع نہ ہوئی ہو؟ کچھ لوگوں نےاس دن کو کھیل تماشوں کا دن بنا رکھا ہے۔ پھر تم شب برات میں جاہل قوموں کی طرح کھیل تماشے کرتے ہو اور تم میں ایک گروہ کا یہ خیال ہےکہ اس روز مردوں کو کثرت سے کھانا بھیجنا چاہیے۔اگر تم بچے ہو تو اپنے اس خیال اور ان حرکات کے لیے کوئی دلیل لاؤ۔ پھر تم نے ایسی رسمیں بنا رکھی ہیں جن سے تمہاری زندگی تنگ ہو رہی ہے۔ مثلاً شادیوں میں فضول خرچی طلاق کو ممنوع بنا لینا بیوہ عورت کو بٹھائے رکھنا۔ اس قسم کی رسموں میں تم اپنے مال اور اپنی زندگیوں کو خراب کر رہے ہو اور ہدایات صالح کو تم نے چھوڑ دیا ہے، حالانکہ بہتر یہ تھا کہ ان رسموں کو چھوڑ کر اس طریق پر چلتے جس میں سہولت تھی نہ کہ تنگی ۔ پھر تم نے موت اور غمی کو عید بنا رکھا ہے گویا تم پر کسی نے فرض کر دیا ہے کہ جب کوئی مرے تو اس کے اقربا خوب کھانے کھلائیں۔ تم نمازوں سے غافل ہوا کوئی اپنے کاروبار میں اتنا مشغول ہوتا ہے کہ نماز کے لیے وقت نہیں پاتا اور کوئی اپنی تفریحوں اور خوش گپیوں میں اتنا منہمک ہوتا ہے کہ نماز فراموش ہو جاتی ہے۔ تم زکوۃ سے بھی غافل ہوا تم میں کوئی مالدار ایسا نہیں جس کے ساتھ بہت سے کھانے والے لگے ہوئے نہ ہوں وہ ان کو کھلاتا اور پہناتا ہے مگر ز کوۃ اور عبادت کی نیت نہیں کرتا۔ تم رمضان کے روزےبھی ضائع کرتے ہو اور اس کے لیے طرح طرح کے بہانے بناتے ہو ۔ تم لوگ سخت بے تدبیر ہو گئے ہو۔ تم نے اپنی بسر اوقات کا انحصار سلاطین کے وظائف و مناصب پر کر رکھا ہے اور جب تمہارا بار سنبھالنے کے لیے سلاطین کے خزانے کافی نہیں ہوتے تو وہ رعیت کو تنگ کرنے لگتے ہیں_١- - - "
”جو لوگ حاجتیں طلب کرنے کے لیے اجمیر یا سالار مسعود کی قبر یا ایسے ہی دوسرے مقامات پر جاتے ہیں وہ اتنا بڑا گناہ کرتے ہیں کہ قتل اور زنا کا گناہ اس سے کمتر ہے۔ آخر اس میں اور خود ساختہ معبودوں کی پرستش میں فرق کیا ہے؟ جو لوگ لات اور غمر مٹی سےحاجتیں طلب کرتےتھے اُن کا فعل ان لوگوں کے فعل سےآخر کس طرح مختلف تھا؟ ہاں یہ ضرور ہے کہ ہم اُن کے برعکس ان لوگوں کو صاف الفاظ میں کافر کہنے سے احتراز کرتے ہیں کیونکہ خاص ان کے معاملہ میں شارع کی نص موجود نہیں ہے مگر اصولا ہر وہ شخص جو کسی مردے کو زندہ ٹھیرا کر اس سے حاجتیں طلب کرتا ہے اس کا دل گناہ میں مبتلا ہے _٢ “
یہ اقتباسات بہت طویل ہو گئے ہیں، مگر تفہیمات جلد دوم کے چند فقرے اور تقاضا کر رہے ہیں کہ ان کو بھی اس سلسلہ میں ناظرین تک پہنچادیا جائے ۔ فرماتے ہیں:
"نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث ہے کہ ” تم بھی آخر کار اپنے سے پہلے کی اُمتوں کے طریقے اختیار کرلو گے۔ اور جہاں جہاں انہوں نے قدم رکھا ہے وہاں تم بھی رکھو گے حتی کہ اگر وہ کسی گوہ کے بل میں گھسے ہیں تو تم بھی ان کے پیچھے جاؤ گے۔صحابہ نے پوچھا یا رسول اللہ پہلی امتوں سے آپ کی مراد یہود و نصاریٰ ہیں، فرمایا اور کون ؟‘ اس حدیث کو بخاری اور مسلم نے روایت کیا ہے۔
"سچ فرمایا اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے۔ ہم نے اپنی آنکھوں سے وہ ضعیف الایمان مسلمان دیکھتے ہیں جنہوں نے صلحاء کو أَرْبَابٌ مِنْ دُونِ اللَّہ تالیا ہے اور یہود و نصاری کی طرح اپنے اولیاء کی قبروں کو سجدہ گاہ بنالیا ہے، ہم نے ایسےلوگ بھی دیکھے ہیں جو کلام شارع میں تحریف کرتے ہیں اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف یہ قول منسوب کرتے ہیں کہ نیک لوگ اللہ کے لیے ہیں اور گناہ گار میرے لیےیہ اسی قسم کی بات ہے جیسی کہ یہودی کہتے ہیں کہ لَنْ تَمَسَّنَا النَّارُ إِلَّا أَيَّامًا مَّعْدُودَةً (ہم دوزخ میں نہ جائیں گے اور گئے بھی تو بس چند روز کے لیے ) بھی پوچھو تو آج ہر گروہ میں دین کی تحریف پھیلی ہوئی ہے۔ صوفیہ کو دیکھو تو ان میں ایسے اقوال زبان زد ہیں جو کتاب وسنت سے مطابقت نہیں رکھتے خصوصاً مسئلہ توحید میں اور ایسا معلوم ہوتا ہے کہ شروع کی انہیں بالکل پروا نہیں ہے۔ فقہاء کی فقہ کو دیکھو تو اس میں اکٹر وہ باتیں ملتی ہیں جن کے ماخذ کا پتہ ہی نہیں۔ مثلا وہ روزہ کا مسئلہ _١ اور کنوؤں کی طہارت کا مسئلہ_٢ رہے اصحاب معقول اور شعراء اور اصحاب ثروت اور عوام تو ان کی تحریفات کا ذکر کہاں تک کیا جائے" _٣
ان اقتباسات ہے اک دھندلا سا اندازہ کیاجاسکتاہے کہ شاہ صاحب نے مسلمانوں کے ماضی اور حال کا کس قدر تفصیلی جائزہ لیا ہے اور کس قدر جامعیت کے ساتھ ان پر تنقید کی ہے۔
اس قسم کی تنقید کا لازمی نتیجه یہ ہوتا ہےکہ سوسائٹی میں جتنےصالح عناصر موجود ہوتےہیں، جن کے ضمیر و ایمان میں زندگی اور جن کے قلب میں بھلےاور بُرے کی تمیز ہوتی ہے ان کو حالات کی خرابی کا احساس تخت مضطرب کر دیتا ہے۔ ان کی اسلامی جس اتنی تیز ہو جاتی ہے کہ اپنےگردو پیش کی زندگی میں جاہلیت کا ہر اثر انہیں کھٹنے لگتا ہے۔ ان کی قوت امتیاز اتنی بڑھ جاتی ہے کہ وہ زندگی کے ہر پہلو میں اسلام اور جاہلیت کی آمیزشوں کا تجزیہ کرنے لگتے ہیں اور ان کی قوتِ ایمانی اس قدر بیدار ہو جاتی ہے کہ خارزار جاہلیت کی ہر کھنک انہیں اصلاح کے لیے بے چین کر دیتی ہے۔ اس کے بعد مجدد کے لیے یہ ضروری ہوتا ہے کہ ان کے سامنے تعمیر نو کا ایک نقشہ واضح صورت میں پیش کرے تا کہ حالت موجود کو جس حالت میں بدلنا مطلوب ہے اس پر وہ اپنی نظر جما سکیں اور تمام سعی و عمل اسی سمت میں مرکوز کر دیں۔ یہ تمیری کام بھی شاہ صاحب نے اسی خوبی اور جامعیت کے ساتھ انجام دیا جو ان کے تنقیدی کام میں آپ دیکھ چکے ہیں۔
تعمیری کام: تعمیر کے سلسلہ میں ان کا پہلا اہم کام یہ ہے کہ وہ فقہ میں ایک نہایت معتدل مسلک پیش کرتے ہیں جس میں ایک مذہب کی جانبداری اور دوسرے مذاہب پر نکتہ چینی نہیں پائی جاتی۔ ایک محقق کی طرح انہوں نے تمام مذاہب فقہیہ کےاصول اور طریق استنباط کا مطالعہ کیا ہے اور بالکل آزادانہ رائے قائم کی ہے۔ جس مذہب کی کسی مسئلہ میں تائید کی اس بنا پر کی کہ دلیل اس کے حق میں پائی نہ اس بنا پر کہ وہ اس مذہب کی وکالت کا عہد کر چکے ہیں۔ اور جس سے اختلاف کیا اس بنا پر کیا کہ دلیل اس کے خلاف پائی نہ اس بنا پر کہ انہیں اس سے عناد ہے۔ اسی وجہ سےکہیں وہ حفی نظر آتے ہیں۔ کہیں شافعی کہیں مالکی اور کہیں منیلی۔ انہوں نے ان لوگوں سے بھی اختلاف کیا ہے جو ایک مذہب کی پیروی کا قلادہ اپنی گردن میں ڈال لیتے ہیں اور قسم کھا لیتے ہیں کہ تمام مسائل میں اس کا اتباع کریں گے اور اسی طرح وہ ان لوگوں سے بھی سخت اختلاف کرتےہیں جنہوں نے ائمہ مذاہب میں سے کسی کی مخالفت کا عہد کر لیا ہے۔ ان دونوں کے بین بین وہ ایک ایسے معتدل راستہ پر چلتے ہیں جس میں ہر غیر متعصب طالب حق کو اطمینان حاصل ہو سکتا ہے۔ ان کا رسالہ انصاف اس مسلک کا آئینہ ہے۔ یہی رنگ معلمی اور ان کی دوسری کتابوں میں پایا جاتا ہے۔ تفہیمات میں ایک جگہ فرماتے ہیں:
”میرے دل میں ایک خیال ڈالا گیا ہے اور اس کی تفصیل یہ ہے کہ ابوحنیفہ اور شافعی کے مذہب امت میں سب سے زیادہ مشہور ہیں۔ سب سے زیادہ پیرو بھی انہی دونوں کے پائے جاتے ہیں اور تصنیفات بھی انہی مذاہب کی زیادہ ہیں۔ فقہاء محدثین، مفسرین، متکلمین اور صوفیہ زیادہ تر مذہب شافعی کے پیرو ہیں۔ اور حکومتیں اور عوام زیادہ تر مذہب حنفی کے متبع ہیں۔ اس وقت جو امر حق ملاء اعلیٰ کے علوم سےمطابقت رکھتا ہے وہ یہ ہے کہ ان دونوں کو ایک مذہب کی طرح کر دیا جائے۔ ان دونوں کے مسائل کو حدیث نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے مجموعوں سے مقابلہ کر کے دیکھا جائے۔ جو کچھ ان کے موافق ہو وہ باقی رکھا جائے اور جس کی کوئی اصل نہ ملے اسےساقط کر دیا جائے۔ پھر جو چیزیں تنقید کے بعد ثابت نکلیں، وہ دونوں مذہبوں میں متفق علیہ ہوں تو وہ اس لائق ہیں کہ انہیں دانتوں سے پکڑ لیا جائے اور اگر ان میں دونوں کے درمیان اختلاف ہو تو مسئلے میں دونوں قول تسلیم کیے جائیں اور دونوں پر عمل کرنے کو صحیح قرار دیا جائے ۔ یا تو ان کی حیثیت ایسی ہوگی جیسی قرآن میں اختلاف قرات کی حیثیت ہے یا رخصت اور عزیمت کا فرق ہوگا، یا کسی مخمصہ سےنکلنے کے دو راستوں کی سی نوعیت ہوگی جیسے تعدد کفارات_١ یا دو برابر کے مباح طریقوں کا سا حال ہوگا۔ ان چار پہلوؤں کے باہر کوئی پہلو انشاء اللہ تعالیٰ نہ پایا جائے گا"_٢
انصاف میں انہوں نے اپنی رائے اس سے زیادہ تفصیل کے ساتھ دی ہے۔ چنانچہ باب سوم میں واعلم ان التخريج على كلام الفقهاء سے لے کر آخر باب تک جو کچھ لکھا ہے وہ اس لائق ہے کہ اہل حدیث اور اہل تخریج دونوں اس کو غور کی نگاہ سے دیکھیں۔ اس بحث میں انہوں نے جس طریقہ کو ترجیح دی ہے وہ یہ ہے کہ طریق اہل حدیث اور طریق اہل تخریج دونوں کو جمع کیا جائے۔ اس طرح حجت کے مبحث ہشتم میں فصل ومما يناسب هذا المقام التنبيه على مسائل ضلت في بواديها الافها کے تحت جو بحث کی ہے وہ بھی دیکھنے کے لائق ہے۔
یہ مسلک معتدل اختیار کرنے سے فائدہ یہ ہے کہ تعصب اور تنگ نظری اور تقلید جامد اور لا طائل بحثوں میں تضییع اوقات کا خاتمہ ہو جاتا ہے اور وسعت نظر کےساتھ تحقیق و اجتہاد کا راستہ کھلتا ہےچنانچہ اس کے ساتھ ہی شاہ صاحب اجتہاد کی ضرورت پر زور دیتےہیں، اور قریب قریب ان کی تمام کتابوں میں ایسی عبارتیں موجود ہیں جن میں کسی نہ کسی طرح تحقیق و اجتهاد پر اکسایا گیا ہے مثال کے طور پر مصفی کے مقدمہ سے چند فقرے انہی کے الفاظ میں نقل کرتا ہوں:
"اجتهاد در هر عصر فرض بالکفایه است و مراد از اجتهاد و اینجا معرفت احکام شرعیه از الہ تفصیلی و تفریح وترتیب مجتہدانہ اگر چہ بادشاہ صاحب مذ ہے باشد و آنکه گفتیم اجتهاد در هر عصر فرض است بجهت آنست که مسائل كثيرة الوقوع غیر محصور اند و معرفت احکام الہی در آنها واجب و آنچه مسطور و مدون شده است غیر کافی و در آنها اختلاف بسیار که بدوں رجوع بادله حل اختلاف آں نتواں کرو و طرق آن تا مجتہدین غالبا منقطع، پس بغیر عرض بر قواعد اجتها در است نیاید_١"
یہی نہیں کہ شاہ صاحب نے اجتہاد پر محض زور ہی دیا ہو، بلکہ انہوں نے پوری تفصیل کے ساتھ اجتہاد کے اصول و قواعد اور اس کی شرائط کو بیان بھی کیا ہے۔ ازالہ حجت، عقد الجید انصاف بدور باز نہ مصطفی وغیرہ میں اس مسئلہ پر کہیں اشارات اور کہیں مفصل تقریریں موجود ہیں۔ نیز اپنی کتابوں میں جہاں بھی انہوں نے کسی مسئلہ پر گفتگو کی ہے ایک محقق اور مجتہد کی حیثیت سے کی ہے، گویا کہ ان کی کتابوں کے مطالعہ سے آدمی کو نہ صرف اجتہاد کے اصول معلوم ہو سکتےہیں، بلکہ ساتھ ساتھ اس کی تربیت بھی ملتی جاتی ہے۔
مذکورہ بالا دو کام تو ایسے ہیں جو شاہ صاحب سے پہلے بھی لوگوں نے کیے ہیں۔ مگر جو کام ان سے پہلے کسی نے نہ کیا تھاوہ یہ ہے کہ انہوں نے اسلام کے پورے فکری اخلاقی، شرعی اور تمدنی نظام کو ایک مرتب صورت میں پیش کرنے کی کوشش کی ہے۔ یہ وہ کارنامہ ہے جس میں وہ اپنے تمام پیش رووں سے بازی لے گئے ہیں۔ اگر چہ ابتدائی تین چار صدیوں میں بکثرت ائمہ گزرے ہیں جن کے کام کو دیکھنے سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ وہ اپنے ذہن میں اسلام کے نظامِ حیات کا مکمل تصور رکھتے تھے اور اسی طرح بعد کی صدیوں میں بھی ایسے محققین ملتے ہیں جن کے متعلق یہ گمان نہیں کیا جا سکتا کہ وہ اس تصور سے خالی تھے۔ لیکن ان میں سے کسی نے بھی جامعیت اور منطقی ترتیب کے ساتھ اسلامی نظام کو بحیثیت ایک نظام کے مرتب کرنے کی طرف توجہ نہیں کی۔ یہ شرف شاہ ولی اللہ ہی کے لیے مقدر ہو چکا تھا کہ اس راہ میں پیش قدمی کریں۔ ان کی کتابوں میں سے حجۃ اللہ اور البدور البازغہ دونوں کا موضوع یہی ہے۔ پہلی کتاب زیادہ مفصل ہے اور دوسری زیادہ فلسفیانہ۔
ان کتابوں میں انہوں نے مابعد الطبیعی مسائل سے ابتدا کی ہے اور تاریخ میں پہلی مرتبہ ہم دیکھتے ہیں کہ ایک شخص فلسفہ اسلام کو مدون کرنے کی بنا ڈال رہا ہے۔ اس سے پہلے مسلمان فلسفہ میں جو کچھ لکھتے اور کہتے رہے اس کو محض نادانی سے لوگوں نے فلسفہ اسلام کے نام سے موسوم کر رکھا ہے حالانکہ وہ فلسفہ اسلام نہیں، فلسفہ مسلمین ہے جس کا شجرہ نسب یونان و روم اور ایران و ہندوستان سے ملتا ہے۔ فی الواقع جو چیز اس نام سے موسوم کرنے کے لائق ہے اس کی داغ بیل سب سے پہلے اسی دہلوی شیخ نے ڈالی ہے۔ اگر چہ اصطلاحات وہی قدیم فلسفه و کلام یا فلسفیانہ تصوف کی زبان سے لی ہیں، اور غیر شعوری طور پر بہت سے تخیلات بھی وہیں سے لے لیےہیں، جیسا کہ اوّل اوّل ہر نئی راہ نکالنے کے لیے طبعا نا گزیر ہے، مگر پھر بھی تحقیق کا ایک نیا دروازہ کھولنے کی یہ ایک بڑی زبر دست کوشش ہے۔ خصوصاً ایسے شدید انحطاط کے دور میں اتنی طاقت ور عقلیت کے آدمی کا ظاہر ہونا بالکل حیرت انگیز ہے۔
اس فلسفہ میں شاہ صاحب کا ئنات اور کائنات میں انسان کا ایک ایسا تصور قائم کرنےکی سعی کرتے ہیں جو اسلام کےنظامِ اخلاق و تمدن کے ساتھ ہم آہنگ و متحدالمزاج ہو سکتا ہو یا دوسرےالفاظ میں جس کو اگر شجرہ اسلام کی جڑ قرار دیا جائے تو جڑ میں اور اس درخت میں جو اس سےپھوٹا، عقلاً کوئی فطری مبانیت محسوس نہ کی جاسکتی ہو۔ میں حیران رہ جاتا ہوں جب بعض لوگوں کی یہ رائے سنتا ہوں کہ شاہ صاحب نے ” ویدانتی فلسفے اور اسلامی فلسفے کا جوڑ لگا کر نئی ہندی قومیت کے لیے فکری اساس فراہم کرنے کی کوشش کی تھی ۔ مجھے ان کی کتابوں میں اس کوشش کا کہیں سراغ نہ ملا۔ اور اگرمل جاتا تو باللہ العظیم کہ میں شاہ صاحب کو مجددین کی فہرست سے خارج کر کے متجددین کی صف میں لے جا کر بٹھاتا۔
نظام اخلاق پر وہ ایک اجتماعی فلسفے (Social Philosophy) کی عمارت اٹھاتے ہیں جس کے لیے انہوں نے ارتفاقات کا عنوان تجویز کیا ہے، اور اس سلسلہ میں تدبیر منزل، آداب معاشرت، سیاست مدن عدالت، ضرب محاصل (Taxation) انتظام ملکی اور تنظیم عسکری وغیرہ کی تفصیلات بیان کی ہیں اور ساتھ ہی ان اسباب پر بھی روشنی ڈالی ہے جن سے تمدن میں فساد پیدا ہوتا ہے۔
پھر وہ نظامِ شریعت، عبادات، احکام اور قوانین کو پیش کرتے ہیں اور ہر ایک چیز کی حکمتیں سمجھاتے چلے جاتے ہیں۔ اس خاص مضمون پر جو کام انہوں نے کیا ہے وہ اسی نوعیت کا ہے جو ان سے پہلے امام غزائی نے کیا تھا اور قدرتی بات ہے کہ وہ اس راہ میں امام موصوف سےآگے بڑھ گئے ہیں۔
آخر میں انہوں نے تاریخ ملل و شرائع پر بھی نظر ڈالی ہے اور کم از کم میرے علم کی حد تک وہ پہلے شخص ہیں جنہوں نے اسلام و جاہلیت کی تاریخی کشمکش کا ایک دھندلا سا تصور پیش کیا ہے۔
١- جو فلسفہ مسلمانوں میں رائج تھا وہ اسلام کےعملی اخلاقی اعتقادی نظام سے کوئی ربط نہ رکھتا تھا اس وجہ سے اس کا رواج جتنا جتنا بڑھا اسی قدر مسلمانوں کی زندگی بگڑتی چلی گئی۔ عقیدہ بھی کمزور ہوا۔ اخلاق بھی ڈھیلے ہوئے اور قوائے عمل بھی سرد ہو گئے ۔ ذہن میں متصادم خیالات کی کشمکش کا یہ طبعی نتیجہ ہے اور یہی اثر اب موجودہ مغربی فلسفہ کے رواج سے بھی رونما ہورہا ہے کیونکہ وہ بھی کسی طرح نظام اسلامی کی فکری اساس نہیں بن سکتا۔
نتائج : نظام اسلامی کے اس قدر معقول اور اتنے مرتب خاکے کا پیش ہو جانا بجائے خود اس امر کی پوری ضمانت ہےکہ وہ تمام صحیح الفطرت اور سلیم الطبع لوگوں کا نصب العین بن جائے اور جولوگ ان میں سے زیادہ قوت عمل رکھتے ہوں وہ اس نصب العین کے لیے جان و تن کی بازی لگادیں، خواہ اس نصب العین کو سامنےرکھنےوالا خود عملاً ایسی کسی تحریک کی رہنمائی کرے یا نہ کرے۔مگر جو چیز اس سےبھی زیادہ متحرک ثابت ہوئی وہ یہ تھی کہ شاہ صاحب نےجاہلی حکومت اور اسلامی حکومت کےفرق کو بالکل نمایاں کر کے لوگوں کے سامنے رکھ دیا اور نہ صرف اسلامی حکومت کی خصوصیات صاف صاف بیان کیں، بلکہ اس مبحث کو بتکرار ایسے طریقوں سے پیش کیا جن کی وجہ سے اصحاب ایمان کے لیے جاہلی حکومت کو اسلامی حکومت سےبدلنےکی جدو جہد کیے بغیر چین سے بیٹھنا محال ہو گیا۔یہ مضمون ”حجت میں بھی کافی تفصیل کے ساتھ آیا ہے، مگر ازالہ تو گویا ہے ہی اسی موضوع پر۔ اس کتاب میں وہ احادیث سے ثابت کرتے ہیں کہ خلافت اسلامی اور پادشاہی دو بالکل مختلف الاصل چیزیں ہیں۔ پھر ایک طرف پادشاہی کو اور ان تمام فتنوں کو رکھتے ہیں جو پادشاہی کے ساتھ مسلمان کی حیات اجتماعی میں از روئے تاریخ پیدا ہوئے،اور دوسری طرف اسلامی خلافت کی خصوصیات اور شرائط کو اور ان رحمتوں کو پیش کر دیتے ہیں جو خلافت اسلامی میں فی الواقع مسلمانوں پر نازل ہو چکی ہیں۔ اس کے بعد کس طرح ممکن تھا کہ لوگ چین سے بیٹھ جاتے۔
سید احمد بریلوی اور شاہ اسمعیل شہید یہی وجہ ہے کہ شاہ ولی اللہ صاحب کی وفات پر پوری نصف صدی بھی نہ گزری تھی کہ ہندوستان میں ایک تحریک اٹھ کھڑی ہوئی جس کا نصب العین وہی تھا جو شاہ صاحب نگاہوں کےسامنے روشن کر کے رکھ گئے تھے۔ سید صاحب کے خطوط اور ملفوظات‘ اور شاہ اسمعیل شہید کی منصب امامت، عبقات تقویۃ الایمان اور دوسری تحریریں دیکھئے۔ دونوں جگہ وہی شاہ ولی اللہ صاحب کی زبان بولتی نظر آتی ہے۔ شاہ صاحب نے عملاً جو کچھ کیا وہ یہ تھا کہ حدیث اور قرآن کی تعلیم اور اپنی شخصیت کی تاثیر سے صحیح الخیال اور صالح لوگوں کی ایک کثیر تعداد پیدا کر دی۔ پھر ان کے چاروں صاحبزادوں نے، خصوصاً شاہ عبدالعزیز صاحب نے اس حلقہ کو بہت زیادہ وسیع کیا یہاں تک کہ ہزار ہا ایسے آدمی ہندوستان کے گوشے گوشے میں پھیل گئے جن کے اندرشاہ صاحب کے خیالات نفوذ کئے ہوئے تھے، جن کے دماغوں میں اسلام کی صحیح تصویر اتر چکی تھی۔ اور جو اپنےعلم وفضل اور اپنی عمدہ سیرت کی وجہ سے عام لوگوں میں شاہ صاحب اور ان کے حلقے کا اثر قائم ہونے کا ذریعہ بن گئے تھے۔ اس چیز نے اس تحریک کے لیے گویا زمین تیار کر دی، جو بالآخر شاہ صاحب ہی کے حلقے سے بلکہ یوں کہیے کہ ان کے گھر سے اٹھنے والی تھی۔
سید صاحب اور شاہ اسمعیل صاحب دونوں روحا و معنی ایک وجود رکھتے ہیں، اور اس وجود متحد کو میں مستقل بالذات مجدد نہیں سمجھتا بلکہ شاہ ولی اللہ صاحب کی تجدید کا تمہ سمجھتا ہوں۔ ان حضرات کے کارنامے کا خلاصہ یہ ہے۔
١- سید صاحب ۲۰۱ ھ (۱۷۸۶ء) میں پیدا ہوئے اور ۱۲۴۶ھ (۱۸۳۱ء) میں شہادت پائی۔ شاہ اسمعیل صاحب ۱۱۹۳ھ (۱۷۷۹ء) میں پیدا ہوئے ۔ ۱۲۴۶ھ (۱۸۳۱ء) میں شہادت پائی۔ انقلابی تحریک کی چنگاری سید صاحب کے دل میں غالباً ، ۱۸۱ ھ کے لگ بھگ زمانے ہی میں بھڑک اٹھی تھی۔
(۱) انہوں نے عامہ خلائق کے دین اخلاق اور معاملات کی اصلاح کا بیڑا اٹھایا اور جہاں جہاں ان کے اثرات پہنچ سکے وہاں زندگیوں میں ایسا زبردست انقلاب رونما ہوا کہ صحابہ کرام کے دور کی یاد تازہ ہوگئی۔
(۲) انہوں نے اتنے وسیع پیمانے پر جو انیسویں صدی کے ابتدائی دور میں ہندوستان جیسے برسر تنزل ملک میں بمشکل ہی ممکن ہو سکتا تھا، جہاد کی تیاری کی اور اس تیاری میں اپنی تنظیمی قابلیت کا کمال ظاہر کر دیا۔ پھر غایت تدبر کے ساتھ آغاز کار کے لیے شمال مغربی ہندوستان کو منتخب کیا جو ظاہر ہے کہ جغرافی و سیاسی حیثیت سے اس کام کے لیے موزوں ترین خطہ ہو سکتا تھا۔پھر اس جہاد میں ٹھیک وہی اصول اخلاق اور قوانین جنگ استعمال کیے جن سے ایک دنیا پرست جنگ آزما کے مقابلہ میں ایک مجاہد فی سبیل اللہ ممتاز ہوتا ہے، اور اس طرح انہوں نے دنیا کےسامنے پھر ایک مرتبہ صیح معنوں میں روح اسلامی کا مظاہرہ کر دیا۔ ان کی جنگ ملک و مال یا قومی عصبیت، یا کسی دنیوی غرض کے لیے نہ تھی بلکہ خالص فی سبیل اللہ تھی ۔ ان کے سامنے کوئی مقصد اس کے سوا نہ تھا کہ خلق اللہ کو جاہلیت کی حکومت سے نکالیں اور وہ نظامت حکومت قائم کریں جو خالق اور مالک الملک کے منشاء کے مطابق ہے۔ اس غرض کے لیے جب وہ لڑے تو حسب قاعدہ اسلام یا جزیہ کی طرف پہلے دعوت دی اور پھر اتمام حجت کر کے تلوار اٹھائی اور جب تلوار اٹھائی تو جنگ کے اس مہذب قانون کی پوری پابندی کی جو اسلام نے سکھایا ہے کوئی ظالمانہ اور وحشیانہ فعل ان سے سرزد نہیں ہوا۔ جس بستی میں داخل ہوئے مصلح کی حیثیت سے داخل ہوئے نہ کہ مفسد کی حیثیت سے۔ ان کی فوج کے ساتھ نہ شراب تھی، نہ بینڈ بجتا تھا، نہ ہیسواؤں کی پلٹن ہوتی تھی، نہ ان کی چھاؤنی بدکاریوں کا اڈہ بنتی تھی اور نہ ایسی کوئی مثال ملتی ہے کہ ان کی فوج کسی علاقے سےگزری ہو اور اس علاقہ کے لوگ اپنے مال اور اپنی عورتوں کی عصمتیں لٹنے پر ماتم کناں ہوں۔ان کے سپاہی دن کو گھوڑے کی پیٹھ پر اور رات کو جانماز پر ہوتے تھے۔ خدا سے ڈرنے والے آخرت کے حساب کو یادرکھنے والے اور ہر حال میں راستی پر قائم رہنے والے تھے خواہ اس پر قائم رہنےمیں ان کو فائدہ پہنچے یا نقصان ۔ انہوں نے کہیں شکست کھائی تو بزدل ثابت نہ ہوئے اور کہیں فتح پائی تو جبار اور متکبر نہ پائے گئے ۔ اس شان کے ساتھ خالص اسلامی جہاد ہندوستان کی سرزمین میں نہ ان سے پہلے ہوا تھا اور نہ ان کے بعد ہوا۔
(۳) ان کو ایک چھوٹے سے علاقہ میں حکومت کرنےکا جو تھوڑا سا موقع ملا انہوں نےٹھیک اس طرز کی حکومت قائم کی جس کو خلافت علی منہاج النبوۃ کہا گیا ہے۔ وہی فقیرانہ امارت۔ وہی مساوات و ہی شوری۔ وہی عدل وہی انصاف۔ وہی حدود شرعیہ۔ وہی مال کو حق کے ساتھ لینا اور حق کے مطابق صرف کرنا۔ وہی مظلوم کی حمایت اگر چہ ضعیف ہوا اور ظالم کی مخالفت اگر چہ قوی ہو۔ وہی خدا سے ڈر کر حکومت کرنا اور اخلاق صالحہ کی بنیاد پر سیاست چلانا۔ غرض ہر پہلو میں انہوں نے اس حکمرانی کا نمونہ ایک مرتبہ پھر تازہ کر دیا جو صدیق و فاروق نے کی تھی۔
یہ لوگ بعض طبعی اسباب کی وجہ سے، جن کا ذکر آگے آتا ہے نا کام ہوئے مگر خیالات میں جو حرکت وہ پیدا کر گئے تھے اس کے اثرات ایک صدی سے زیادہ مدت گزر جانے کے باوجود اب تک ہندوستان میں موجود ہیں۔
اسباب ناکامی: اس آخری مجددا نہ تحریک کی ناکامی کے اسباب پر بحث کرنا عموماً ان حضرات کے مذاق کے خلاف ہے جو بزرگوں کا ذکر عقیدت ہی کے ساتھ کرنا پسند کرتے ہیں۔ اس لیےمجھے اندیشہ ہے کہ جو کچھ میں اس عنوان کے تحت عرض کروں گا وہ میرے بہت سے بھائیوں کےلیے تکلیف کا موجب ہوگا۔ لیکن اگر ہمارا مقصد اس تمام ذکر اذکار سے محض سابقین بالایمان کو خراج تحسین ہی پیش کرنا نہیں ہے، بلکہ آئندہ تجدید دین کے لیے ان کے کام سے سبق حاصل کرنا بھی ہے تو ہمارے لیے اس کے سوا چارہ نہیں ہے کہ تاریخ پر تنقیدی نگاہ ڈالیں اور ان بزرگوں کےکارناموں کا سراغ لگانے کے ساتھ ان اسباب کا کھوج بھی لگا ئیں جن کی وجہ سے یہ اپنے مقصد کو پہنچنے میں ناکام ہوئے۔ شاہ ولی اللہ صاحب اور ان کے صاحبزادوں نے علماء حق اور صالحین کی جو عظیم القدر جماعت پیا کی اور پھر سید صاحب اور شاہ شہید نے صلحا و اتقیاء کا جولشکر فراہم کیا، اس کے حالات پڑھ کر ہم دنگ رہ جاتے ہیں۔ ہمیں ایسا محسوس ہوتا ہے کہ قرنِ اوّل کے صحابہ وتابعین کی سیرتیں پڑھ رہے ہیں۔ اور یہ خیال کر کے ہمیں حیرت ہوتی ہے کہ ہم سے اس قدرقریب زمانہ میں اس پایہ کے لوگ ہو گزرے ہیں۔ مگر ساتھ ہی ہمارے دل میں قدرتی طور پر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخر کیا وجہ ہے کہ اتنی زبر دست اصلاحی و انقلابی تحریک، جس کے لیڈر اور کارکن ایسے صالح و متقی اور ایسے سرگرم مجاہد لوگ تھے انتہائی ممکن سعی و عمل کے باوجود ہندوستان پر اسلامی حکومت قائم کرنے میں کامیاب نہ ہوئی اور اس کے برعکس کئی ہزار میل سے آئے ہوئے انگریز یہاں خالص جاہلی حکومت قائم کرنے میں کامیاب ہو گئے، اس سوال کو عقیدت مندی کے جوش میں لاجواب چھوڑ دینے کے معنی یہ ہیں کہ لوگ صلاح و تقویٰ اور جہاد کو اس دنیا کی اصلاح کے معاملہ میں ضعیف الاثر سمجھنے لگیں اور یہ خیال کر کے مایوس ہو جائیں کہ جب ایسے زبر دست متقیانہ جہاد سے بھی کچھ نہ بنا تو آئندہ کیا بن سکے گا۔ میں اس قسم کے شبہات فی الواقع لوگوں کی زبان سے سن چکا ہوں بلکہ حال میں جب مجھے علی گڑھ جانے کا اتفاق ہوا تو اسٹریچی ہال کے بھرے جسے میں میرےسامنے یہی شبہ پیش کیا گیا تھا اور اسے رفع کرنے کے لیے مجھے ایک مختصر تقریر کرنی پڑی تھی۔ نیز مجھے یہ بھی معلوم ہے کہ اس وقت علماء صالحین کی جو جماعت ہمارے درمیان موجود ہے وہ بالعموم اس مسئلہ میں بالکل خالی الذہن ہے حالانکہ اگر اس کی تحقیق کی جائے تو بہت سے ایسے سبق ہمیں مل سکتے ہیں جن سے استفادہ کر کے آئندہ زیادہ بہتر اور زیادہ صحیح کام ہوسکتا ہے۔
١- ناکام بلحاظ ظاہر نہ کہ بلحاظ حقیقت حقیقی کامیابی تو مسلمان کے نزدیک بس یہ ہے کہ وہ اللہ کی رضا کے لئےاقامت دین کی سعی کرئے جیسا کہ سعی کرنے کا حق ہے۔ اس لحاظ سے یہ حضرات یقینا کامیاب رہے۔ البته ان کی ناکامی دنیوی نتائج کے اعتبار سے ہے کہ وہ عملاً جاہلیت کا اقتدار ختم کر کے اسلام کا غلبہ قائم نہ کر سکے۔ اسی کےاسباب کا ہمیں جائزہ لیتا ہے تا کہ اقامت دین کی سعی میں ان اسباب ناکامی سے احتراز کیا جاسکے۔
پہلا سبب: پہلی چیز جو مجھ کو حضرت مجدد الف ثانی کے وقت سے شاہ صاحب اور ان کے خلفاء تک کے تجدیدی کام میں کھٹکی ہے وہ یہ ہے کہ انہوں نے تصوف کے بارے میں مسلمانوں کی بیماری کا پورا اندازہ نہیں لگایا اور نادانسته ان کو پھر وہی غذادے دی جس سے مکمل پر ہیز کرانے کی ضرورت تھی۔ حاشا کہ مجھے فی نفسہ اس تصوف پر اعتراض نہیں ہے جو ان حضرات نے پیش کیا۔ وہ بجائے خود اپنی روح کے اعتبار سے اسلام کا اصلی تصوف ہے اور اس کی نوعیت احسان‘ سے کچھ مختلف نہیں ہے۔ لیکن جس چیز کو میں لائق پر ہیز کہہ رہا ہوں وہ متصوفانہ رموز و اشارات اور متصوفانه زبان کا استعمال اور متصوفانہ طریقہ سے مشابہت رکھنے والے طریقوں کو جاری رکھنا ہے۔ یہ ظاہر ہے کہ حقیقی اسلامی تصوف اس خاص قالب کا محتاج نہیں ہے۔ اس کے لیے دوسرا قالب بھی ممکن ہے۔ اس کے لیے زبان بھی دوسری اختیار کی جاسکتی ہے۔ رموز واشارات سے بھی اجتناب کیا جا سکتا ہے۔ پیری مریدی اور اس سلسلے کی تمام عملی شکلوں کو بھی چھوڑ کر دوسری شکلیں اختیار کی جاسکتی ہیں۔ پھر کیا ضرورت ہے کہ اسی پرانے قالب کو اختیار کرنے پر اصرار کیا جائےجس میں مدتہائے دراز سے جاہلی تصوف کی گرم بازاری ہورہی ہے۔ اس کی کثرتِ اشاعت نےمسلمانوں کو جن سخت اعتقادی و اخلاقی بیماریوں میں مبتلا کیا ہے وہ کسی صاحب نظر سے پوشیدہ نہیں ہیں ۔ اب حال یہ ہو چکا ہے کہ ایک شخص خواہ کتنی ہی صحیح تعلیم دے، بہر حال یہ قالب استعمال کرتےہی وہ تمام بیماریاں پھر عود کر آتی ہیں جو صدیوں کے رواج عام سے اس کے ساتھ وابستہ ہوگئی ہیں۔
پس جس طرح پانی جیسی حلال چیز بھی اس وقت ممنوع ہو جاتی ہے جب وہ مریض کےلیے نقصان دہ ہو اسی طرح یہ قالب بھی مباح ہونے کے باوجود اس بناء پر قطعی چھوڑ دینے کےقابل ہو گیا ہے کہ اسی کے لباس میں مسلمانوں کو افیون کا چسکا لگایا گیا ہے اور اس کے قریب جاتےہی ان مزمن مریضوں کو پھر وہی چینیا بیگم یاد آجاتی ہیں جو صدیوں ان کو تھپک تھپک کر سلاتی رہی ہیں۔ بیعت کا معاملہ پیش آنے کے بعد کچھ دیر نہیں لگتی کہ مریدوں میں وہ ذهنیت پیدا ہونی شروع ہو جاتی ہے جو مریدی کے ساتھ مختص ہو چکی ہے یعنی " بے سجادہ رنگین کن گرت پیر مغاں گویڈ والی ذهنیت، جس کے بعد پیر صاحب میں اور ارباب مِنْ دُونِ اللہ میں کوئی فرق نہیں رہ جاتا۔ فکر و نظر مفلوج، قوت تنقید ماؤف، علم و عقل کا استعمال موقوف اور دل و دماغ پر بندگي شیخ کا ایسا مکمل تسلط که گویا شیخ ان کا رب ہے اور یہ اس کے مربوب۔ پھر جہاں کشف والہام کی بات چیت شروع ہوئی، معتقدین کی ذہنی غلامی کے بند اور زیادہ مضبوط ہونے شروع ہو جاتے ہیں۔ اس کے بعد صوفیانہ رموز و اشارات کی باری آتی ہے جس سے مریدوں کی قوت واہمہ کو گو یا تازیانہ لگ جاتا ہےاور وہ انہیں لے کر ایسی اڑتی ہے کہ بے چارے ہر وقت عجائبات وطلسمات ہی کے عالم میں سیر کرتے رہتے ہیں، واقعات کی دنیا میں ٹھہر نے کا موقع غریبوں کو کم ملتا ہے۔
مسلمانوں کے اس مرض سے نہ حضرت مجدد صاحب نا واقف تھے نہ شاہ صاحب۔ دونوں کے کلام میں اس پر تنقید موجود ہے۔ مگر غالبا اس مرض کی شدت کا انہیں پورا اندازہ نہ تھا۔یہی وجہ ہے کہ دونوں بزرگوں نے ان بیماروں کو پھر وہی غذا دے دی جو اس مرض میں مہلک ثابت ہو چکی تھی، اور اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ رفتہ رفتہ دونوں کا حلقہ پھر اسی پرانے مرض سے متاثر ہوتا چلا گیا_١ اگر چہ مولانا اسمعیل شہید رحمتہ اللہ علیہ نے اس حقیقت کو اچھی طرح سمجھ کر ٹھیک وہی روش اختیار کی جوابن تیمیہ کی تھی لیکن شاہ ولی اللہ صاحب کے لٹریچر میں تو یہ سامان موجود ہی تھا جس کا کچھ اثر شاہ اسمعیل شہید کی تحریروں میں بھی باقی رہا اور پیری مریدی کا سلسلہ بھی سید صاحب کی تحریک میں چل رہا تھا۔ اس لیے مرض صوفیت کے جراثیم سے یہ تحریک پاک نہ رہ سکی۔ حتی کہ سید صاحب کی شہادت کے بعد ہی ایک گروہ ان کے حلقہ میں ایسا پیدا ہو گیا جو شیعوں کی طرح ان کی غیبوبت کا قائل ہوا اور اب تک ان کے ظہور ثانی کا منتظر ہے!
اب جس کسی کو تجدید دین کے لیے کوئی کام کرنا ہو اس کے لیے لازم ہے کہ متصوفین کی زبان و اصطلاحات سے رموز و اشارات سے لباس و اطوار سے پیری مریدی سے اور ہر اس چیز سے جو اس طریقہ کی یاد تازہ کرنے والی ہو، مسلمانوں کو اس طرح پر ہیز کرائے جیسے ذیا بطیس کےمریض کو شکر سے پرهیز کرایا جاتا ہے۔
دوسرا سبب : دوسری چیز جو مجھے تنقیدی مطالعہ کے دوران میں محسوس ہوئی وہ یہ ہے کہ سید صاحب اور شاہ شہید نے جس علاقہ میں جا کر جہاد کیا اور جہاں اسلامی حکومت قائم کی اس علاقہ کو اس انقلاب کے لیے پہلے اچھی طرح تیار نہیں کیا تھا، ان کا لشکر تو یقیناً بہترین اخلاقی و روحانی تربیت پائے ہوئے لوگوں پر مشتمل تھا، مگر یہ لوگ ہندوستان کے مختلف گوشوں سے جمع ہوئے تھےاور شمال مغربی ہندوستان میں ان کی حیثیت مہاجرین کی سی تھی ۔ اس علاقہ میں سیاسی انقلاب برپا کرنے کے لیے ضروری تھا کہ خود اس علاقہ ہی کی آبادی میں پہلے اخلاقی و ذہنی انقلاب بر پا کر دیا جاتا تا کہ مقامی لوگ اسلامی نظام حکومت کو سمجھنے اور اس کے انصار بننے کے قابل ہو جاتے۔دونوں لیڈ ر غالباً اس غلط فہمی میں مبتلا ہو گئے کہ سرحد کے لوگ چونکہ مسلمان ہیں اور غیر مسلم اقتدار کے ستائے ہوئے بھی ہیں، اس لیے وہ اسلامی حکومت کا خیر مقدم کریں گے۔ اسی وجہ سے انہوں نے جاتے ہی وہاں جہاد شروع کر دیا اور جتنا ملک قابو میں آیا اس پر اسلامی خلافت قائم کر دی۔ لیکن بالآخر تجربہ سے ثابت ہو گیا کہ نام کے مسلمانوں کو اصلی مسلمان سمجھنا اور ان سے وہ توقعات رکھنا جو اصلی مسلمانوں ہی سے پوری ہو سکتی ہیں، محض ایک دھوکا تھا۔ وہ خلافت کا بوجھ سہارنے کی طاقت نہ رکھتے تھے۔ جب ان پر یہ بوجھ رکھا گیا تو وہ خود بھی گرے اور اس پاکیزہ عمارت کو بھی لےگرے۔
١- حضرت مجددصاحب کی وفات پر کچھ زیادہ دن نہ گزرے تھے کہ ان کے حلقہ کے لوگوں نے ان کو قیوم اول کا اور ان کے خلفاء کو قیوم ثانی کا خطاب عطا کر دیا، معاذ اللہ !
تاریخ کا یہ سبق بھی ایسا ہے جسے آئندہ ہر تجدیدی تحریک میں ملحوظ رکھنا ضروری ہے۔اس حقیقت کو اچھی طرح ذہن نشین کر لینا چاہیے کہ جس سیاسی انقلاب کی جڑیں اجتماعی ذہنیت اخلاق اور تمدن میں گہری جھی ہوئی نہ ہوں وہ نقش بر آب کی طرح ہوتا ہے۔ کسی عارضی طاقت سےایسا انقلاب واقع ہو بھی جائے تو قائم نہیں رہ سکتا، اور جب مٹتا ہے تو اس طرح مٹتا ہے کہ اپنا کوئی اثر چھوڑ کر نہیں جاتا_١
تیسرا سبب: اب یہ سوال باقی رہ جاتا ہے کہ ان بزرگوں کے مقابلہ میں کئی ہزار میل دور سےآئے ہوئے انگریزوں کو کس قسم کی فوقیت حاصل تھی جس کی وجہ سے وہ تو یہاں جاہلی حکومت قائم کرنے میں کامیاب ہو گئے اور یہ خود اپنے گھر میں اسلامی حکومت قائم نہ کر سکے؟ اس کا صحیح جواب آپ نہیں پاسکتے جب تک کہ اٹھارہویں اور انیسویں صدی عیسوی کے یورپ کی تاریخ آپ کےسامنے نہ ہو ۔ شاہ صاحب اور ان کے خلفاء نے اسلام کی تجدید کے لیے جو کام کیا، اس کی طاقت کو ترازو کے ایک پلڑے میں رکھیے اور دوسرے پلڑے میں اس طاقت کو رکھیے جس کے ساتھ ان کی ہم عصر جاہلیت اٹھی تھی، تب آپ کو پورا اندازہ ہو گا اس عالم اسباب میں جو قوانین کارفرما ہیں ان کے لحاظ سے دونوں طاقتوں میں کیا تناسب تھا۔ میں مبالغہ نہ کروں گا اگر یہ کہوں کہ ان دونوں قوتوں میں ایک تو لے اور من کی نسبت تھی۔ اس لیے جو نتیجہ فی الواقع رونما ہوا اس کے سوا اور کچھ نہ ہو سکتا تھا۔
١- یہی وجہ ہے کہ آج صوبہ سرحد میں ان دونوں شہیدوں کا اور ان کے کام کا کوئی اثر ڈھونڈےنہیں ملتا ، حتی کہ وہاں کے لوگ ان کے ناموں سے اب کچھ اردو لٹریچر کی بدولت واقف ہونے لگے ہیں۔
جس دور میں ہمارے ہاں شاہ ولی اللہ صاحب شاہ عبدالعزیز صاحب اور شاہ اسمعیل شہید پیدا ہوئے اس دور میں یورپ قرون وسطی کی نیند سے بیدار ہو کرنئی طاقت کے ساتھ اٹھ کھڑا ہوا تھا اور وہاں علم دفن کے محققین، مکتشفین اور موجدین اس کثرت سے پیدا ہوئے تھے کہ انہوں نے ایک دنیا کی دنیا بدل ڈالی۔ وہی دور تھا جس میں ہیوم، کانٹ فشتے (Fishte) هیگل، کومت (Comte) شلا ئر ماشر (Schlier Macher) اور مل جیسے فلاسفہ پیدا ہوئےجنہوں نےمنطق و فلسفه اخلاقیات و نفسیات اور تمام علوم عقلیہ میں انقلاب برپا کیا۔ وہی دور تھا جب طبیعیات میں گیلوینی (Galvani) اور دولٹا (Volta) علم الکیمیا میں لاوویزیر (La-Voisier) پریسٹلے (Priestley)، ڈیوی (Dayy) ہالیوی اور برزیلیس، حیاتیات میں لینے (Linne) ہالر (Haller) ، بیشات (Bichat) اور دولف (Wolff) جیسے محققین اٹھے جن کی تحقیقات نے صرف سائنس ہی کو ترقی نہیں دی بلکہ کائنات اور انسان کےمتعلق بھی ایک نیا نظریہ پیدا کر دیا۔اسی دور میں کوئسینسے (Quisney) ٹرگوٹ (Turgot) آدم سمتھ اور ماتھس کی دماغی کاوشوں سے سے معاشیات کا نیا علم مرتب ہوا۔ وہی دور تھا جب فرانس میں روسو، والٹیر، مونٹسیکو، ڈیفنس ڈائڈیرو (Denis Diderot) لامیٹری (La-Mattrie) کیپائیں (Cabartis) بفون (Butfen) روبینہ (Robinea) انگلستان میں ٹامس پین (Thomas Poune) ولیم گوڈون (William Godwin) ڈیوڈ ہارٹلے جوزف پریسٹلے ، ارائمس ڈارون اور جرمنی میں گویتھے ، ہر ڈر ، شیلر ، و کلمان (WinckImann) لسنگ (lessing) اور بیرن ڈی ہولباش (Baronde ) (Holbach جیسے لوگ پیدا ہوئے جنہوں نے اخلاقیات ادب، قانون، مذہب، سیاسیات اور تمام علوم عمران پر زبر دست اثر ڈالا اور انتہائی جرات و بے باکی کے ساتھ دنیائے قدیم پر تنقید کر کے نظریات و افکار کی ایک نئی دنیا بنا ڈالی۔
پریس کے استعمال اشاعت کی کثرت اسالیب بیان کی ندرت اور مشکل اصطلاحی زبان کے بجائے عام فہم زبان کو ذریعہ اظہار خیال بنانے کی وجہ سے ان لوگوں کے خیالات نہایت وسیع پیمانے پر پھیلے۔ انہوں نے محدود افراد کو نہیں بلکہ قوموں کو بحیثیت مجموعی متاثر کیا۔ ذہنتیں بدل دیں، اخلاق بدل دیئے، نظام تعلیم بدل دیا، نظریۂ حیات اور مقصد زندگی بدل دیا اور تمدن و سیاست کا پورا نظام بدل دیا۔
اسی زمانہ میں انقلاب فرانس رونما ہوا جس سے ایک نئی تہذیب پیدا ہوئی۔ اسی زمانہ میں مشین کی ایجاد نے صنعتی انقلاب برپا کیا جس نے ایک نیا تمدن، نئی طاقت اور نئے مسائل زندگی کے ساتھ پیدا کیا۔ اسی زمانہ میں انجینئر نگ کو غیر معمولی ترقی ہوئی جس سے یورپ کو وہ قوتیں حاصل ہوئیں کہ پہلے دنیا کی کسی قوم کو حاصل نہ ہوئی تھیں ۔ اسی زمانہ میں قدیم فن جنگ کی جگہ نیا فن جنگ نئے آلات اور نئی تدابیر کے ساتھ پیدا ہوا۔ با قاعدہ ڈرل کے ذریعہ سے فوجوں کو منظم کرنے کا طریقہ اختیار کیا گیا۔ جس کی وجہ سے میدانِ جنگ میں پلٹنیں مشین کی طرح حرکت کرنے لگیں اور پرانے طرز کی فوجوں کا ان کے مقابلہ میں ٹھیر نا مشکل ہو گیا۔ فوجوں کی ترتیب اور عساکر کی تقسیم اور جنگی چالوں میں بھی پیہم تغیرات ہوئے اور ہر جنگ کے تجربات سے فائدہ اٹھا کر اس فن کو برابر ترقی دی جاتی رہی۔ آلات حرب میں بھی مسلسل نئی ایجاد یں ہوتی چلی گئیں ۔ رائفل ایجاد ہوئی۔ ہلکی اور سریع الحرکت میدانی تو ہیں بنائی گئیں ۔ قلعہ شکن تو میں پہلے سے بہت زیادہ طاقت ور تیار کی گئیں اور کارتوس کی ایجاد نے نئی بندوقوں کے مقابلہ میں پرانی توڑے دار بندوقوں کو بے کار کر کے رکھ دیا۔ اس کا نتیجہ تھا کہ یورپ میں ترکوں کو اور ہندوستان میں دیسی ریاستوں کو جدید طرز کی فوجوں کے مقابلہ میں مسلسل شکستیں اٹھانی پڑیں اور عالم اسلام کے عین قلب پر حملہ کر کے نپولین نے مٹھی بھر فوج سے مصر پر قبضہ کر لیا۔
معاصر تاریخ کے اس سرسری خاکہ پر نظر ڈالنے سے بآسانی یہ بات معلوم ہو جاتی ہےکہ ہمارے ہاں تو چند اشخاص ہی بیدار ہوئے تھے مگر وہاں تو میں کی تو میں جاگ اٹھی تھیں ۔ یہاں صرف ایک جہت میں تھوڑا سا کام ہوا اور وہاں ہر جہت میں ہزاروں گنا زیادہ کام کر ڈالا گیا۔ بلکہ کوئی شعبہ زندگی ایسا نہ تھا جس میں تیز رفتار پیش قدمی نہ کی گئی ہو۔ یہاں شاہ ولی اللہ صاحب اور ان کی اولاد نے چند کتابیں خاص خاص علوم پر لکھیں جو ایک نہایت محدود حلقے تک پہنچ کر رہ گئیں،اور وہاں لائبریریوں کی لائبریریاں ہر علم و فن پر تیار ہوئیں جو تمام دنیا پر چھا گئیں اور آخر کار دماغوں اور ذہنیتوں پر قابض ہو گئیں۔ یہاں فلسفہ اخلاقیات، اجتماعیات، سیاسیات اور معاشیات وغیرہ علوم پر طرح نو کی بات چیت محض ابتدائی اور سرسری حد تک ہی رہی جس پر آگے کچھ کام نہ ہوا اور وہاں اس دوران میں ان مسائل پر پورے پورے نظام فکر مرتب ہو گئے ۔ جنہوں نے دنیا کا نقشہ بدل ڈالا ۔ یہاں علوم طبیعیہ اور قوائے مادیہ کا علم وہی رہا جو پانچ سو سال پہلے تھا، اور وہاں اس میدان میں اتنی ترقی ہوئی اور اس ترقی کی بدولت اہل مغرب کی طاقت اتنی بڑھ گئی کہ ان کے مقابلہ میں پرانے آلات و وسائل کے زور سے کامیاب ہونا قطعاً محال تھا۔
حیرت تو یہ ہے کہ شاہ ولی اللہ صاحب کے زمانہ میں انگریز بنگال پر چھا گئے تھے اور الہ آباد تک ان کا اقتدار پہنچ چکا تھا مگر انہوں نے اس نئی ابھرنے والی طاقت کا کوئی نوٹس نہ لیا' شاہ عبد العزیز صاحب کے زمانہ میں دہلی کا بادشاہ انگریزوں کا پیشن خوار ہو چکا تھا اور قریب قریب سارے ہی ہندوستان پر انگریزوں کے پنجے جم چکے تھے مگر ان کے ذہن میں بھی یہ سوال پیدا نہ ہوا کہ آخر کیا چیز اس قوم کو اس طرح بڑھا رہی ہے اور اسی نئی طاقت کے پیچھے اسباب طاقت کیا ہیں۔ سید صاحب اور شاہ اسمعیل شہید جوعملاً اسلامی انقلاب بر پا کرنے کے لیے اٹھے تھے انہوں نےسارے انتظامات کیے مگر اتنا نہ کیا کہ اہل نظرعلماء کا ایک وفد یورپ بھیجتے اور یہ تحقیق کراتے کہ یہ قوم جو طوفان کی طرح چھاتی چلی جارہی ہے اور نئے آلات نئے وسائل نئے طریقوں اور نئے علوم و فنون سے کام لے رہی ہے، اس کی اتنی قوت اور اتنی ترقی کا کیا راز ہے۔ اس کے گھر میں کس نوعیت کے ادارات قائم ہیں، اس کے علوم کس قسم کے ہیں ۔ اس کے تمدن کی اساس کن چیزوں پر ہے۔ اور اس کے مقابلہ میں ہمارے پاس کس چیز کی کمی ہے۔ جس وقت یہ حضرت جہاد کے لیےاٹھے ہیں، اس وقت یہ بات کسی سے چھپی ہوئی نہ تھی کہ ہندوستان میں اصل طاقت سکھوں کی نہیں، انگریزوں کی ہے اور اسلامی انقلاب کی راہ میں سب سے بڑی مخالفت اگر ہوسکتی ہے تو انگریز ہی کی ہو سکتی ہے۔ پھر سمجھ میں نہیں آتا کہ کس طرح ان بزرگوں کی نگاہ دور رس سے معاملہ کا یہ پہلو بالکل ہی اوجھل رہ گیا کہ اسلام و جاہلیت کی کشمکش کا آخری فیصلہ کرنے کے لیے جس حریف سےنمٹنا تھا اس کے مقابلہ میں اپنی قوت کا اندازہ کرتے اور اپنی کمزوری کو سمجھ کر اسے دور کرنے کی فکر کرتے۔ بہر حال جب ان سے یہ چوک ہوئی تو اس عالم اسباب میں ایسی چوک کے نتائج سے وہ نہ بچ سکتے تھے۔
خاتما : مغربی جاہلیت کے مقابلہ میں اسلامی تجدید کی اس تحریک کو جو نا کامی ہوئی اس سے پہلا سبق تو ہمیں یہ ملتا ہے کہ تجدید دین کےلیے صرف علوم دینیہ کا احیاء اور اتباع شریعت کی روح کو تازہ کر دینا ہی کافی نہیں ہے بلکہ ایک جامع اور ہمہ گیر اسلامی تحریک کی ضرورت ہےجو تمام علوم و افکار تمام فنون وصناعات اور تمام شعبہ ہائےزندگی پر اپنا اثر پھیلا دےاور تمام امکانی قوتوں سےاسلام کی خدمت لےاور دوسرا سبق جو اسی سے قریب الما خذ ہے یہ ہے کہ اب تجدید کا کام نئی اجتہادی قوت کا طالب ہے۔ محض وہ اجتہادی بصیرت جو شاہ ولی اللہ صاحب یا ان سے پہلے کے مجتهدین ومجددین کے کارناموں میں پائی جاتی ہے، اس وقت کے کام سے عہدہ برآ ہونے کے لیےکافی نہیں ہے۔ جاہلیت جدیدہ بے شمار نئے وسائل کے ساتھ آئی ہے اور اس نے بے حساب نئےمسائل زندگی پیدا کر دیئے ہیں جن کا وہم تک شاہ صاحب اور دوسرے قدماء کے ذہن میں نہ گزرا تھا۔ صرف اللہ جل جلالہ کے علم اور اس کی بخشش سے رسول اللہ ﷺ کی بصیرت ہی پر یہ حالات روشن تھے۔ لہذا کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ ہی وہ تنہاما خذ ہےجس سےاس دور میں تجدید ملت کا کام کرنےکے لیے رہنمائی حاصل کی جاسکتی ہےاور اس رہنمائی کو اخذ کر کے اس وقت کےحالات میں شاہراہ عمل تعمیر کرنے کے لیے ایسی مستقل قوت اجتہاد یہ درکار ہے جو مجہتدین سلف میں سے کسی ایک کے علوم اور منہاج کی پابند نہ ہو اگر چہ استفادہ ہر ایک سے کرے اور پر ہیز کسی سے بھی نہ کرے۔
ضمیمہ: جیسا کہ دیا چہ طبع پنجم میں عرض کیا جا چکا ہے، اس کتاب کے ساتھ یہ ضمیمہ اس غرض کے لیے لگایا جا رہا ہے کہ ناظرین کو ان شبہات و اعتراضات کا جواب بر وقت اور یک جامل جائے جو اس کتاب کے موضوع سے متعلق میری تصریحات پر وقتاً وقتاً پیش کیے جاتے رہے ہیں۔ ذیل میں وہ سوالات جو مختلف اوقات میں مختلف اصحاب کی طرف سے میرے پاس آئے ہیں مع جواب درج کیے جا رہے ہیں۔امید ہے کہ ان کا مطالعہ بڑی حد تک ان دوسرے حضرات کے لیے بھی تشفی بخش ثابت ہو گا جن کے ذہن میں اسی طرح کے اعتراضات و شبہات موجود ہوں۔
سوال: "کتاب" تجدید و احیائے دین“ جس قدر بلند پایہ ہے اس کا اندازہ تو ” کارِ تجدید کی نوعیت“ کے عنوان سے تحریر شدہ مضمون اور مختلف مجددین امت کےکارناموں کی تفصیل سے ایک صاحب بصیرت بخوبی کر سکتا ہے۔ تاہم چند پہلو تشریح کے محتاج ہیں اور وہ درج ذیل ہیں:
(الف) امام غزالی " کے تذکرے کے آخر میں تین کمزوریاں جو آپ نے بیان کی ہیں، یعنی (الف) علم حدیث میں امام کا کمزور ہونا۔ (ب) عقلیات کا غلبہ اور (ج) تصوف کی طرف ضرورت سے زیادہ مائل ہونا، کیا ان کا ثبوت امام کی مشہور کتب احیاء العلوم اور کیمیائے سعادت سے ملتا ہے؟ اور کیا وہ تصوف جس کا بیان انہوں نے ان کتابوں میں کیا ہے ایک مستحسن چیز نہیں ہے؟ نیز کیا مجد دوقت کو تمام ہم عصروں کے مقابلہ میں علم کی زیادہ نہیں دیا جا تا؟ اگر نہیں تو زمانے بھر میں اس کو ایک امتیاز خاص کیوں حاصل ہوتا ہے؟
(۲) مجددالف ثانی اور شاہ ولی اللہ صاحب کے متعلق آپ نے تحریر فرمایا ہےکہ پہلی چیز جو مجھ کو حضرت مجددالف ثانی کے وقت سے شاہ ولی اللہ صاحب اور ان کے خلفاء تک کے تجدیدی کام میں کھٹکی ہے وہ یہ ہے کہ انہوں نے تصوف کےبارے میں مسلمانوں کی بیماری کا پورا اندازہ نہیں لگایا اور ان کو پھر وہی تعداد ے دہی جس سے مکمل پر ہیز کرانے کی ضرورت تھی ۔ اس کے متعلق بھی یہ باور کرنا مشکل ہے کہ حضرت مجدد اور شاہ صاحب اتنے ناقص البصیرت تھے کہ تصوف کی بیماری کا پورا اندازہ نہ لگا سکے۔ یہ حضرات علوم ظاہری کے ساتھ علوم باطنی (بطریق کشف و الهام) سےبھی بہرہ وافر رکھتےتھے۔ پھر ان حضرات نے مجدد ہونے کا دعویٰ بھی کیا ہے جس کا ذکر مولانا آزاد نے اپنے تذکرے میں کیا ہے۔ خودحضرت مجدد نےاپنے مکتوبات میں لکھا ہے کہ دور نبوت سے ہزار سال بعد جو مجد د آیا ہے وہ آپ کی ذات گرامی ہے۔ ان باتوں کے پیش نظر قدرتی طور پر حسب ذیل سوالات پیداہوتے ہیں:
(الف ) کیا ان دونوں حضرات کا اعلان مجددیت حکم خداوندی کے تحت نہ تھا نیز کشف والہامات جن کا ذکر ان کی تصانیف میں ملتا ہے اس کی حقیقت کیا ہے؟ آخر وہ مجد دامر شرعی سے ہوئے یا امر تکوینی سے!
(ب) کیا لوگوں کا یہ خیال صحیح ہے کہ مجدد لا ز ما اپنے دور کا وہ ممتاز انسان ہوتا ہے جو شریعت کے علوم کا مع اسرار دین سب سے بڑا عالم ہو اور اقرب الی اللہ ہو؟ اگر ایسا نہیں ہے تو دوسروں کو چھوڑ کر اس کا راہم کے لیے اسے کیوں مامور کیا جاتا ہے؟
(۳) الامام المہدی کے متعلق آپ نے تحریر فرمایا ہے کہ وہ عام علماء کے بیان سے بہت مختلف ہوں گئے حالانکہ علماء سے یہ سنا ہے کہ امام کا نام اور نسب تک علاوہ دیگر علامات کے احادیث میں مذکور ہے۔ وہ خاص ماحول میں اور خاص علامات کے ساتھ نمودار ہوں گے لوگ ان کو پہچان لیں گے اور زبردستی بیعت کر کے حاکم بنائیں گے اور اسی دوران میں آسمان سے آواز آئے گی کہ یہ اللہ تعالیٰ کے خلیفہ الامام المہدی ہیں ۔ لیکن آپ فرماتے ہیں کہ نبی کے سوا کسی کا یہ منصب ہی نہیں ہے کہ دعوے سے کام کا آغاز کرے اور نہ نبی کے سوا کسی کو یقینی طور پر یہ معلوم ہوتا ہے کہ وہ کس خدمت پر مامور ہوا ہے۔ مہدویت دعوے کرنے کی چیز نہیں، کر کے دکھا جانے کی چیز ہے۔ اس قسم کے دعوے جولوگ کرتے ہیں اور جوان پر ایمان لاتے ہیں میرے نزدیک دونوں اپنے علم کی کمی اور اپنے ذہن کی پستی کا ثبوت دیتے ہیں۔
میرا سوال یہ ہے کہ مذکورہ بالا علامات و کوائف جواکثر اہل علم ( مثلاً مولانا اشرف علی تھانوی کی کتاب بہشتی زیور ملاحظہ ہو ) نے بیان کیے ہیں کیا احادیث صحیحہ پر بنی نہیں ہیں؟ اگر ہیں تو آپ کے بیان کی پشت پر کون سے دلائل موجود ہیں؟
جواب: آپ کے سوالات کا جواب دینے کے بجائے میں ضروری سمجھتا ہوں کہ چند امور کی توضیح کر دوں جن کو سمجھ لینے سے آپ کی بہت سی الجھنیں خود بخو وصاف ہو جائیں گی۔
اول یہ کہ ہمارے پاس کوئی ذریعہ ایسا نہیں جس سے ہم یقین کے ساتھ یہ کہہ سکیں کہ ال شخص مجدد تھا اور فلاں شخص نہ تھا۔ یہ تو ایک شخص کےکام کو دیکھ کر بعد کے لوگ یا خود اس کے ہم فلاں عصر لوگ یہ رائے قائم کرتے رہے ہیں کہ وہ مجدد تھا یا نہ تھا۔ اس میں اختلافات بھی بہت کچھ ہوئے ہیں۔ پچھلے زمانے کے متعد دلوگوں کے متعلق بہت سے اہل علم کی یہ رائے ہے کہ وہ مجدد تھے مگر بعض نے ان کو مجدد نہیں مانا ہے۔ کوئی خاص علامت کسی کے ساتھ بھی لگی ہوئی نہیں ہے جس سے اس کے مرتبے کا تعین ہو سکے۔
دوم یہ کہ تجدید کسی دینی منصب کا نام نہیں ہے جس پر کوئی شخص اللہ تعالیٰ کی طرف سےبامر شرعی مامور ہوتا ہو اور اس کو مجدد مانے یا نہ مانے سے کسی شخص کے عقیدہ دینی پر کوئی اچھا یا برا اثر پڑتا ہو۔ یہ تو ایک لقب ہے جو کسی آدمی کو اس کے کارنامے کے لحاظ سے دیا جاتا ہے۔ ہمارے علم میں جس شخص نے بھی دین کو از سرنو تازہ کرنے کی کوئی خدمت انجام دی ہو، ہم اسے مجدد کہہ سکتےہیں۔ اور دوسرے شخص کی رائے میں اگر اس کا کارنامہ اس مرتبے کا نہ ہو تو وہ اسے اس لقب کا مستحق ٹھیرانے سے انکار کر سکتا ہے۔ نادان لوگوں نے اس معاملے کو خواہ مخواہ اہم بنا دیا ہے۔نبی ﷺ نے جو خبر دی تھی وہ صرف یہ تھی کہ اللہ تعالیٰ اس دین کو مٹنے نہیں دے گا کہ بلکہ ہر صدی کےسرے پر ایسے شخص یا اشخاص کو اٹھا تارہے گا جو اس کے دھند لے ہوتے ہوئے آثار کو پھر سے تازہ کر دے گا یا کر دیں گے۔ حدیث میں من کا لفظ عربیت کے لحاظ سے اس بات کا متقاضی نہیں ہےکہ ضرور وہ کوئی ایک ہی شخص ہو۔ اس کا اطلاق متعدد اشخاص پر بھی ہو سکتا ہے۔ اور حدیث میں کوئی لفظ ایسا بھی نہیں ہے جس سے یہ نتیجہ نکالا جا سکے کہ مجددکو اپنے مجدد نہ ہونے کا شعور بھی ہونا چاہیے یا یہ کہ لوگوں کے لیے مجدد کا پہچانا بھی ضروری ہے۔
سوم کسی شخص کےمجدد ہونے کےیہ معنی نہیں ہیں کہ وہ ہر لحاظ سے مرد کامل ہےاور اس کا کام نقائص سے پاک ہے۔ اس کو مجدد قرار دینے کے لیے صرف اتنی بات کافی ہے کہ اس کا مجموعی کارنامہ تجدیدی خدمت کی شہادت دیتا ہو۔ لیکن ہم سخت غلطی کریں گے اگر کسی کو مسجد دقرار دینے کے بعد اس کو بے خطا سمجھ لیں اور اس کی ہر بات پر ایمان لے آئیں۔ نبی کی طرح مجدد معصوم نہیں ہوتا۔
چهارم مجددین امت کے کام پر میں نے جو تبصرہ کیا ہے وہ بہر حال میری اپنی رائےہے۔ ہر شخص کو اختیار ہے کہ میری جس رائے سے چاہے اختلاف کرے۔ میں نے جن دلائل کی بنا پر کوئی رائے قائم کی ہے ان پر آپ کا اطمینان ہو تو اچھا ہے۔ نہ اطمینان ہو تو مضائقہ نہیں ۔ البتہ میں یہ ضرور چاہوں گا کہ آپ کسی رائے کہ ڈ یا قبول کرنے کا انحصار دلیل اور تحقیق پر رکھیں اکابر پرستی کے جذبے سے متاثر نہ ہوں۔
پنجم، پچھلےزمانے کے بعض بزرگوں نے بلاشبہ اپنے متعلق کشف والہام کے طریقےسےیہ خبر دی ہے کہ وہ اپنے دور کےمجدد ہیں،لیکن انہوں نےاس معنی میں کوئی دعویٰ نہیں کیا کہ ان کو مجدد تسلیم کرنا لوگوں کےلیےضروری ہےاور جو ان کو نہ مانے وہ گمراہ ہے۔ دعویٰ کر کے اس کو مانےکی دعوت دینا اور اسےمنوانےکی کوشش کرنا سرے سے کسی مجدد کا منصب ہی نہیں ہے۔ جو شخص یہ حرکت کرتا ہے دو خود اپنے اس فعل ہی سے یہ ثابت کرتا ہے کہ وہ فی الواقع مسجد دنہیں ہے۔
ششم، کشف والہام وحی کی طرح کوئی یقینی چیز نہیں ہے۔ اس میں وہ کیفیت نہیں ہوتی که صاحب کشف کو آفتاب روشن کی طرح یہ معلوم ہو کہ یہ کشف یا یہ الہام خدا کی طرف سے ہو رہا ہے۔ اس میں غلط فہمیوں کا کم و بیش امکان ہوتا ہے۔ اسی لیے اہل علم اس بات کے قائل ہیں کہ کشف والہام کے ذریعے سے کوئی حکم شرعی ثابت نہیں ہوتا، نہ اس ذریعہ علم سے حاصل کی ہوئی کوئی چیز حجت ہے نہ خود صاحب کشف کے لیے یہ جائز ہے کہ کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ پر پیش کیے بغیر کسی کشف والہامی چیز کی پیروی کرے۔
ہفتم امام مہدی کے بارے میں جو کچھ میں نے لکھا ہے اس کی مزید توضیح اپنی کتاب رسائل و مسائل میں کر چکا ہوں ۔ براہ کرم ان سب تو ضیحات کو ملاحظه فرمالیں۔ ان سے آپ کو معلوم ہو جائے گا کہ ان روایات کے بارے میں میری تحقیق کیا ہے جن کی بناء پر علما نےاتنی تفصیلات مرتب کر دی ہیں۔ میں ان تمام علماء کا دل سے احترام کرتا ہوں مگر کسی عالم کی ہر بات کو مان لینے کی عادت مجھے کبھی نہیں رہی۔ ( ترجمان القرآن، جنوری فروری ۱۹۵۱ء)
"پچھلے زمانہ کے بعض بزرگوں نے بلاشبہ اپنے متعلق کشف و الهام کے طریقہ سے خبر دی ہے کہ وہ اپنے زمانہ کے مجدد ہیں لیکن انہوں نے اس معنی میں کوئی دعویٰ نہیں کیا کہ ان کو مسجد و تسلیم کرنا لوگوں کے لیے ضروری ہے اور جوان کو نہ مانے گمراہ ہے۔ آپ کا یہ قول درست معلوم نہیں ہوتا۔ کیونکہ حضرت شاہ ولی اللہ صاحب دہلوی نے بڑے دھڑلے سے یہ دعوئی فرمایا ہے کہ مجھے اللہ تعالیٰ نے مطلع فرمایا ہے کہ تو اس زمانہ کا امام ہے۔ چاہیے کہ لوگ تیری پیروی کو ذریعه نجات سمجھیں۔ مثال کےطور پر ملاحظہ ہو تفہیمات الہیہ جلد دوم صفحہ ۱۲۵۔ کیا جناب شاہ صاحب کا یہ دعویٰ درست تھا یا نہیں؟ اگر ان کا دعویٰ درست تھا تو پھر آپ کا یہ قول درست نہیں جو آپ نے عبارت مذکورہ بالا کے آگے تحریر فرمایا ہے:
" کشف و الهام وحی کی طرح کوئی یقینی چیز نہیں ۔ اس میں وہ کیفیت نہیں ہوتی کہ صاحب کشف والہام کو آفتاب روشن کی طرح یہ معلوم ہو کہ یہ کشف والہام خدا تعالیٰ کی طرف سے ہورہا ہے ۔“ جناب کا یہ ارشاد بھی اپنے ذاتی تجربہ کی بناء پر ہے یا آپ کا اجتہاد ہے؟ یا قرآن مجید اور احادیث کے ارشادات عالیہ کی بنا پر ہے؟ اگر امت محمدیہ کے کاملین کے الہام و کشوف کی یہ حقیقت ہے تو پھر ان کے خیر امت ہونے کی حالت معلوم شد ۔ حلانکہ پہلی امتوں میں عورتیں تک وحی یقینی سےمشرف ہوتی رہی ہیں۔ اور خدا کے ایسے بندے بھی ہوتے رہے کہ جن کے کشف والہام کا یہ عالم تھا کہ ایک اولو العزم نبئی کو بھی سوال کر کے ندامت اٹھانی پڑی۔ مگر سبحان اللہ امت محمدیہ کے کاملین کے کشوف والہامات عجیب قسم کے تھے کہ ان کو خود یقین نہ تھا کہ یہ خدا تعالیٰ کی طرف سے ہیں یا نہیں۔پھر اللہ تعالیٰ کو ان کو اس قسم کےالہام و کشوف دکھانے کی ضرورت کیا پڑ گئی، جن سے نہ کوئی دینی فائدہ متصور تھا اور نہ ہی صاحب کشف والہام کے لیے وہ موجب از دیا دایمان تھے بلکہ الٹا موجب تردد ہونے کے باعث ایک قسم کی مصیبت ہی تھے۔
آپ کی غلطی یہ ہے کہ آپ نےوحی و الهام کےمختلف مفہومات کو گڈمڈ کر دیا ہےایک قسم کی وحی وہ ہے جسے وحی جبلی یا طبیعی کہا جا سکتا ہے، جس کے ذریعہ سے اللہ ہر مخلوق کو اس کےکرنے کا کام سکھاتا ہے۔ یہ وحی انسانوں سے بڑھ کر جانوروں اور شایدان سے بھی بڑھ کر نباتات و جمادات پر ہوتی ہے۔ دوسری قسم وہ ہے جسے وحی جزئی کہا جاسکتا ہے،جس کے ذریعےسےکسی خاص موقع پر اللہ تعالیٰ اپنے کسی بندے کو امور زندگی میں سے کسی امر کے متعلق کوئی علم یا کوئی ہدایت یا کوئی تدبیر سمجھا دیتا ہے۔ یہ وحی آئے دن عام انسانوں پر ہوتی رہتی ہے۔ دنیا میں بڑی بڑی ایجاد میں اس وحی کی بدولت ہوئی ہیں۔ بڑے بڑے اہم علمی انکشافات اسی وحی کےذریعےسے ہوئے ہیں۔ بڑے بڑے اہم تاریخی واقعات میں اسی وحی کی کارفرمائی نظر آتی ہےجب کہ کسی شخص کو کسی اہم موقع پر کوئی خاص تدبیر با انور دیگر اچانک سوجھ گئی اور اس نے تاریخ کی رفتار پر ایک فیصلہ کن اثر ڈالا دیا۔ ایسی ہی وحی حضرت موسیٰ کی والدہ پر بھی ہوئی تھی۔ ان دونوں قسم کی وحیوں سے بالکل مختلف نوعیت کی وحی وہ ہےجس میں اللہ تعالیٰ اپنےکسی بندے کو حقائق غیبیہ پر مطلع فرماتا ہے۔ اور اسے نظامِ زندگی کے متعلق ہدایت بخشتا ہے تا کہ وہ اس علم اور اس ہدایت کو عام انسانوں تک پہنچائے اور انہیں تاریکیوں سے نکال کر روشنی میں لائے ۔ یہ وتی انبیاء کے لیے خاص ہے۔ قرآن سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ اس نوعیت کا علم، خواہ اس کا نام القاءر کھیےکشف رکھیے الہام رکھیے یا اصطلاحا اسے وحی سے تعبیر کیجیے انبیاء ورسل کے سوا کسی کو نہیں دیا جاتا۔ اور یہ علم صرف انبیاء ہی کو اس طور پر دیا جاتا ہے کہ اس کے من جانب اللہ ہونے اور شیطان کی دراندازی سےبالکل محفوظ ہونے اور خود اپنےذاتی خیالات،تصورات اور خواہشات کی آلائشوں سےبھی پاک ہونے کا پورا یقین ہوتا ہے۔نیز یہی علم حجت شرعی ہےاس کی پابندی ہر انسان پر فرض ہے۔ اور اس کو دوسرے انسانوں تک پہنچانے اور اس پر ایمان کی دعوت سب بندگان خدا کو دینے پر انبیاء علیہم السلام مامور ہوتے رہے ہیں۔
انبیاء کےسوا دوسرے انسانوں کو اگر اس تیسری قسم کےعلم کا کوئی جزو نصیب بھی ہوتا ہے، تو وہ ایسے دھند کے اشارے کی حد تک ہوتا ہےجسےٹھیک ٹھیک سمجھنےکے لیے وحی نبوت کی روشنی سے مدد لینا ( یعنی کتاب وسنت پر پیش کر کےاس کی صحت و عدم صحت کو جا نچنا اور بصورت صحت اس کا منشا متعین کرنا ضروری ہے۔ اس کے بغیر جو شخص اپنے الہام کو ایک مستقل بالذات ذریعہ ہدایت سمجھے اور دکی نبوت کی کسوٹی پر اس معاملے کو پر کھے بغیر اس پر عمل کرے اور دوسروں کو اس کی پیروی کی دعوت دے اس کی حیثیت ایک جعلی سکہ ساز کی سی ہوتی ہے جو شاہی ٹکسال کے مقابلہ میں اپنی ٹکسال چلاتا ہے۔ اس کی یہ حرکت خود ہی ثابت کرتی ہے کہ فی الواقع خدا کی طرف سے اس کو الہام نہیں ہوتا۔
آپ اگر اسبات کو سمجھنےکی کوشش فرما ئیں تو آپ کو خود معلوم ہو جائیگا کہ امت کےصالح و مصلح آدمیوں کو نبی کا ساکشف والہام نہ دینےاور اس سےکم تر ایک طرح کا تابعانہ کشف و الهام دینےمیں کیا مصلحت ہے۔ پہلی چیز عطا نہ کرنے کی وجہ یہ ہے کہ یہی چیز نبی اور امتی کےدر میان بنائے فرق ہے اسے دور کیسے کیا جا سکتا ہے۔ اور دوسری چیز دینے کی وجہ یہ ہے کہ جولوگ بنی کے بعد اس کے کام کو جاری رکھنے کی کوشش کریں وہ اس بات کے محتاج ہوتے ہیں کہ دین میں ان کو حکیمانه بصیرت اور اقامت دین کی سعی میں ان کو صحیح رہنمائی اللہ کی طرف سے حاصل ہو۔ یہ چیز غیر شعوری طور پر تو ہر مخلص اور صحیح الفکر خادم دین کو بخشی جاتی ہے، لیکن اگر کسی کو شعوری طور پر بھی دے دی جائے تو یہ اللہ کا انعام ہے۔ دوسری بنیادی غلطی جو آپ نے کی ہے یہ ہے کہ آپ مقامِ نبی اور مقام غیر نبی کے اصولی فرق کو سرے سے سمجھے ہی نہیں ہیں۔ قرآن کی رو سے یہ حیثیت صرف ایک نبی ہی کو حاصل ہوتی ہے کہ وہ امر تشریعی سے مامور من اللہ ہوتا ہے اور خلق کو یہ دعوت دینے کا مجاز ہوتا ہے کہ وہ اس پر ایمان لائیں اور اس کی اطاعت قبول کریں، حتی کہ جو اس پر ایمان نہ لائے وہ خدا کو ماننے کے باوجود کافر ہوتا ہے۔ یہ حیثیت نبی کے سوا کسی کو بھی نظامِ دین میں حاصل نہیں ہے۔ اگر کوئی اس حیثیت کا مدعی ہو تو ثبوت اسے پیش کرنا چاہیے نہ یہ کہ ہم اس کےدعوے کی نفی کا ثبوت پیش کریں۔ وہ بتائے کہ قرآن وحدیث میں کہاں نبی کے سوا کسی کا یہ منصب مقرر کیا گیا ہے کہ وہ لوگوں کے سامنے اس منصب پر مامور کیے جانے کا دعوی کرے اور اپنے اس دعوے کو ماننے کی لوگوں کو دعوت دے اور جو اس کا دعوی تسلیم نہ کرے وہ مجرد اس بناء پر کافر اور جہنمی ہو کہ اس نے مدعی کے اس دعوے کو تسلیم نہیں کیا۔
اس کے جواب میں اگر کوئی شخص حدیث مـن يـجــدد لها دينها كا حوالہ دے یا ان احادیث کو پیش کرے جو مہدی کی آمد کے متعلق ہیں، تو میں عرض کروں گا کہ ان میں کہیں بھی مجد دیا مہدی کے منصب کی وہ حیثیت نہیں بیان کی گئی ہے، جس کا یہاں ذکر ہورہا ہے۔ آخران میں کہاں یہ لکھا ہے کہ یہ لوگ اپنے مسجد داور مہدی ہونے کے دعوے کریں گئے اور جوان کے دعوے کو مانے گا وہی مسلمان رہے گا، باقی سب کا فر ہو جائیں گے؟
نیز اس کے جواب میں یہ بحث چھیڑ نا بھی خلط مبحث ہے کہ جو شخص تجدید و احیائے دین اور اقامت دین کا برحق کام کر رہا ہو اس کا ساتھ نہ دینا یا اس کی مخالفت کرنا کسی طرح موجب نجات نہیں ہو سکتا ۔ اس میں شک نہیں ہے کہ اس طرح کا کام جب بھی ہوتا ہے وہ فارق بین الحق والباطل ہو جاتا ہے اور آدمی کے حق پرست ہونے کی پہچان یہی ہوتی ہے کہ وہ ایسے کام کا ساتھ دے۔ لیکن اس فرق و امتیاز کی بنیاد در اصل یہ ہوتی ہے کہ دین کی تجدید واقامت میں سعی کرنا ہر مسلمان کا فرض ہے نہ یہ کہ کسی مدعی کے دعوئی کو مانا اس کے ایمان کا تقاضا ہو اور مجرد اس بنا پر وہ نجات سے محروم ہو جائے کہ اس نے ایک شخص کے دعوائے مجددیت یا مہدویت کو نہیں مانا۔
اب شاہ ولی اللہ صاحب اور مجد دسر ہندی رحمہما اللہ کے دعووں کو لیجیئے ۔ میں اس لحاظ سے بہت بدنام ہوں کہ اکا بر سلف کو معصوم نہیں مانتا اور ان کے صحیح کو صحیح کہنے کے ساتھ ان کے غلط کو غلط بھی کہہ گزرتا ہوں۔ ڈرتا ہوں کہ اس معاملہ میں بھی کچھ صاف صاف کہوں گا تو میری فرد قراردادِ جرم میں ایک جریمہ کا اور اضافہ ہو جائے گا۔ لیکن آدمی کو دنیا کے خوف سے بڑھ کر خدا کا خوف ہونا چاہیے۔ اس لیے خواہ کوئی کچھ کہا کرے میں تو یہ کہنے سے باز نہیں رہ سکتا کہ ان دونوں بزرگوں کا اپنےمجدد ہونے کی خود تصریح کرنا اور بار بار کشف والہام کے حوالہ سے اپنی باتوں کو پیش کرنا ان کے چند غلط کاموں میں سے ایک ہے اور ان کی یہی غلطیاں ہیں جنہوں نے بعد کے بہت سے کم ظرفوں کو طرح طرح کے دعوے کرنے اور امت میں نت نئے فتنے اٹھانے کی جرات دلائی۔ کوئی شخص اگر تجدید دین کے لیے کسی قسم کی خدمت انجام دینے کی توفیق پا تا ہو تو اسے چاہیے کہ خدمت انجام دے اور یہ فیصلہ اللہ پر چھوڑے کہ اس کا کیا مقام اس کے ہاں قرار پاتا ہے۔ آدمی کا اصل مقام وہ ہے جو آخرت میں اس کی نیت و عمل کو دیکھ کر اور اپنے فضل سے اس کو قبول کر کے اللہ تعالیٰ اسے دئے نہ کہ وہ جس کا وہ خود دعوی کرے یا لوگ اسے دیں۔ اپنے لیے خود القاب و خطابات تجویز کرنا اور دعووں کےساتھ انہیں بیان کرنا اور اپنے مقامات کا ذکر زبان پر لانا کوئی اچھا کام نہیں ہے۔ بعد کے ادوار میں تو صوفیانہ ذوق نے اسے اتنا گوارا کیا کہ خوشگوار بنا دیا، حتی کہ بڑے بڑے لوگوں کو بھی اس فعل میں کوئی قباحت محسوس نہ ہوئی مگر صحابہ کرام اور تابعین و تبع تابعین وائمہ مجتہدین کے دور میں یہ چیز بالکل ناپید نظر آتی ہے۔ میں شاہ صاحب اور مجد دصاحب کے کام کی بے حد قدر کرتا ہوں اور میرے دل میں ان کی عزت ان کے کسی معتقد سے کم نہیں ہے۔ مگر ان کے جن کاموں پر مجھے بھی شرح صدر حاصل نہیں ہوا ان میں سے ایک یہ ہے۔ اور حقیقت یہ ہے کہ میں نے ان کی کسی بات کو بھی اس بناء پر کبھی نہیں مانا کہ وہ اسے کشف یا الہام کی بنا پر فرمارہے ہیں، بلکہ جو بات بھی مانی ہے اس وجہ سے مانی ہے کہ اس کی دلیل مضبوط ہے یابات بجائے خود معقول و منقول کے لحاظ سے درست معلوم ہوتی ہے۔ اسی طرح میں نے جوان کو مجددمانا ہے تو یہ ایک رائے ہے جو ان کا کام دیکھ کر میں نے خود قائم کی ہے نہ کہ ایک عقیدہ ہے جو ان کے دعوؤں کی بناء پر اختیار کرلیا گیا ہے۔
سوال: ” میں نے پورے اخلاص و دیانت کےساتھ آپ کی دعوت کا مطالعہ کیا ہے۔باوجود سلفی المشرب ہونے کے آپ کی تحریک اسلامی کا اپنےآپ کو اوئی خادم اور ہمدرد تصور کرتا ہوں اور اپنی بساط بھر اسےپھیلانےکی جدو جہد کرتا ہوں۔حال میں چند چیزیں تصوف اور تصور شیخ سےمتعلق نظر سے گزریں جنہیں پڑھ کر میرے دل و دماغ میں چند شکوک پیدا ہوئے ہیں۔آپ عجمی بدعات کو مباح قرار دےرہے ہیں،حالانکہ اب تک کا سارالٹر پچر ان کے خلاف زبردست احتجاج رہا ہے جب کہ ہماری دعوت کا محور ہی فریضہ اقامت دین ہے تو اگر ہم نے خدانخواستہ کسی بدعت کو انگیز کیا تو اس کے معنی یہ ہوں گے کہ ساری بدعات کو تحریک میں تھس آنے کا موقع دے دیا گیا۔ آپ براہ کرم میری ان معروضات پر غور کر کے بتائیے کہ کتاب وسنت کی روشنی میں تصوف اور تصور شیخ کے متعلق آپ کے کیا خیالات ہیں اور فی نفسہ یہ مسلک کیا ہے۔ امید ہے کہ ترجمان میں پوری وضاحت کر کے ممنون فرمائیں گے-
جواب: آپ کو میرے کسی ایک فقرے سے جو شبہات لاحق ہو گئے ہیں وہ کبھی پیدا نہ ہوتے اگر اس مسئلے کے متعلق میرے دوسرےواضح بیانات آپ کی نگاہ میں ہوتے بهرحال اب میں واضع الفاظ میں آپ کے سوالات کا مختصر جواب عرض کیے دیتا ہوں۔
(۱) تصوف کسی ایک چیز کا نام نہیں ہے، بلکہ بہت سی مختلف چیز میں اس نام سے موسوم ہوگئی ہیں۔ جس تصوف کی ہم تصدیق کرتے ہیں وہ اور چیز ہے،جس تصوف کی ہم تردید کرتےہیں وہ ایک دوسری چیز ہےاور جس تصوف کی ہم اصلاح چاہتے ہیں وہ ایک تیسری چیز ہے۔
ایک تصوف وہ ہے جو اسلام کے ابتدائی دور کے صوفیہ میں پایا جاتا تھا۔ مثلاً فضیل بنعیاض، ابراہیم ادھم معروف کرخی و غیر ہم رحمہم اللہ اس کا کوئی الگ فلسفہ نہ تھا، اس کا کوئی الگ طریقہ نہ تھا، وہی افکار اور وہی اشغال و اعمال تھے جو کتاب وسنت سے ماخوذ تھے اور ان سب کا وہی مقصود تھا جو اسلام کا مقصود ہے یعنی اخلاص اللہ اور توجہ الی الله وَمَا أُمِرُوا إِلَّا لِيَعْبُدُوا اللَّهَ مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ حُنَفَاء ۔ اس تصوف کی ہم تصدیق کرتے ہیں اور صرف تصدیق ہی نہیں کرتے بلکہ اس کو زندہ اور شائع کرنا چاہتے ہیں۔
دوسرا تصوف وہ ہے جس میں اشراقی اور رواقی اور زرتشتی اور ویدانتی فلسفوں کی آمیزش ہو گئی ہے، جس میں عیسائی راہبوں اور ہندو جوگیوں کے طریقےشامل ہو گئے ہیں، جس میں مشرکانہ تخیلات و اعمال تک خلط ملط ہو گئےہیں۔جس میں شریعت اور طریقت اور معرفت الگ الگ چیزیں ایک دوسرےسے کم و بیش بے تعلق، بلکہ بسا اوقات باہم متضاد ... بن گئی ہیں اور جس میں انسان کو خلیفۃ اللہ فی الارض کے فرائض کی انجام دہی کے لیے تیار کرنے کے بجائے اس سے بالکل مختلف دوسرے ہی کاموں کے لئے تیار کیا جاتا ہے اس کو مٹانا خدا کے دین کو قائم کرنے کے لیے اتنا ہی ضروری ہے جتنا جاہلیت جدیدہ کو مٹانا۔
ان دونوں کےعلاوہ ایک اور تصوف بھی ہےجس میں کچھ خصوصیات پہلی قسم کےتصوف کی اور کچھ خصوصیات دوسری قسم کےتصوف کی ملی جلی پائی جاتی ہیں۔اس تصوف کےطریقوں کو متعدد ایسے بزرگوں نےمرتب کیا ہےجو صاحب علم تھےنیک نیت تھے مگر اپنےدور کی خصوصیات اور پچھلےادوار کے اثرات سے بالکل محفوظ بھی نہ تھے۔ انہوں نے اسلام کےاصلی تصوف کو سمجھنے اور اس کے طریقوں کو جاہلی تصوف کی آلودگیوں سے پاک کرنےکی پوری کوشش کی لیکن اس کے باجود ان کے نظریات میں کچھ نہ کچھ اثرات جاہلی فلسفه تصوف کئے اور ان کےاعمال واشغال میں کچھ نہ کچھ اثرات باہر سے لیے ہوئے اعمال و اشغال کے باقی رہ گئے جن کےبارے میں ان کو یہ اشتباہ پیش آیا کہ یہ چیزیں کتاب وسنت کی تعلیم سے متصادم نہیں ہیں یا کم از کم تاویل سے انہیں غیر متصادم سمجھا جا سکتا ہے۔ علاوہ بریں اس تصوف کے مقاصد اور نتائج بھی اسلام کے مقصد اور اس کے مطلوبہ نتائج سے کم و بیش مختلف ہیں ۔ نہ اس کا مقصد واضح طور پر انسان کو فرائض خلافت کی ادائیگی کے لیے تیار کرنا اور وہ چیز بنانا ہے جسے قرآن نے لِتَكُونُوا شُهَدَاءَ عَلَى النَّاسِ کے الفاظ میں بیان کیا ہے اور نہ ان کا نتیجہ ہی یہ ہو سکا ہے کہ اس کے ذریعہ سے ایسےآدمی تیار ہوتے جو دین کے پورے تصور کو سمجھتے اور اس کی اقامت کی فکر انہیں لاحق ہوتی اور وہ اس کام کو انجام دینے کے اہل بھی ہوتے۔ اس تیسری قسم کے تصوف کی نہ ہم کلی تصدیق کرتے ہیں اور نہ کی تردید ۔ بلکہ اس کے پیروؤں اور حامیوں سے ہماری گذارش یہ ہے کہ براہ کرم بڑی بڑی شخصیتوں کی عقیدت کو اپنی جگہ رکھتے ہوئے آپ اس تصوف پر کتاب وسنت کی روشنی میں تنقیدی نگاہ ڈالیں اور اسے درست کرنے کی کوشش کریں نیز جو شخص اس تصوف کی کسی چیز سے اس بناء پر اختلاف کرے کہ وہ اسے کتاب وسنت کے خلاف پاتا ہے تو قطع نظر اس سے کہ آپ اس کی رائےسے موافقت کریں یا مخالفت، بہر حال اس کے حق تنقید کا انکار نہ فرمائیں اور اسے خواہ مخواہ نشانہ ملامت نہ بنانے لگیں۔
پہلی حیثیت میں اس فعل کے صرف جائز یا نا جائز ہونے کا سوال پیدا ہوتا ہے، اور اس کے فیصلے کا انحصار اس پر ہے کہ آدمی کس نیت سے یہ فعل کرتا ہے؟ ایک نیت ایسی ہے جس کا لحاظ کرتے ہوئے اسے حرام کہنے کے سوا چارہ نہیں ہے۔ دوسری نسیت ایسی ہے جس کا لحاظ کرتےہوئے یہ مشکل ہے کہ کوئی فقیہ اسے ناجائز کہہ سکے۔ اس کی مثال ایسی ہے جیسے میں کسی شخص کو کسی اجنبیہ کے حسن کا نظارہ کرتے ہوئے دیکھوں اور اس حرکت کی غرض دریافت کرنے پر وہ مجھےبتائے کہ میں اپنے ذوق جمال کو تسکین دے رہا ہوں۔ ظاہر ہے کہ مجھے کہنا پڑے گا کہ تو یقینا ایک نا جائز کام کر رہا ہے۔ دوسرے کو یہی حرکت کرتے دیکھوں اور میرے پوچھنے پر وہ مجھے جواب دے کہ میں اس سے نکاح کرنا چاہتا ہوں۔اس صورت میں مجھے مجبور آیہ کہنا پڑے گا کہ تیرا یہ فعل نا جائز نہیں ہے اس لیے کہ وہ اپنے فعل کی ایک ایسی وجہ بیان کر رہا ہے جسے شرعاً میں غلط نہیں کہہ سکتا۔
اب رہی اس تصور شیخ کی دوسری حیثیت تو مجھے اس امر میں نہ کبھی شک رہا ہے اور نہ آج تک شک ہے کہ اس حیثیت سےیہ فعل قطعی غلط ہےخواہ اس کی نسبت کیسے ہی بڑے لوگوں کی طرف کی گئی ہو۔ میں کہتا ہوں کہ اللہ سےتعلق پیدا کرنےاور بڑھانے کےذرائع بتانےمیں خود اللہ اور اس کےرسول نے ہرگز کوئی کوتاہی نہیں کی ہے۔ پھر کیوں ہم ان کے بتائے ہوئے ذرائع پر قناعت نہ کریں اور ایسے ذرائع ایجاد کرنے لگیں جو بجائے خود بھی مخدوش ہوں اور جن کے اندر ذراسی بے احتیاطی آدمی کو قطعی اور صریح ضلالتوں کی طرف لے جاسکتی ہو؟
اس معاملہ میں یہ بحث پیدا کرنا اصولاً غلط ہے کہ جب دوسرے تمام معاملات میں ہم مقاصد شریعت کو حاصل کرنے کے لیے وہ ذرائع اختیار کرنے کے مجاز ہیں جو مباحات کے قبیل سے ہوں، تو آخرتز کیہ نفس اور تقرب الی اللہ کے معاملہ میں ہم کیوں انہیں اختیار کرنے کے مجاز نہ ہوں؟ یہ استدلال اصولاً اس لیے غلط ہے کہ دین کے دو شعبے ایک دوسرے سے الگ نوعیت رکھتےہیں۔ ایک شعبہ تعلق باللہ کا ہے اور دوسرا شعبہ تعلق بالناس اور تعلق بالڈ نیا گا ۔ پہلے شعبے کا اصول یہ ہے کہ اس میں ہم کو انہی عبادات اور انہی طریقوں پر انحصار کرنا چاہیے جو اللہ اور اس کے رسول نےبتا دیئے ہیں، ان میں کوئی کمی کرنے یا ان پر کسی نئی چیز کا اضافہ کرنے کا ہمیں حق نہیں ہے۔ کیونکہ اللہ کی معرفت اور اس کے ساتھ تعلق جوڑنے کے ذرائع کی معرفت کا ہمارے پاس کوئی ذریعہ کتاب اللہ وسنت رسول اللہ کے سوا نہیں ہے۔ اس معاملہ میں جو کمی یا بیشی بھی کی جائے گی وہ بدعت ہوگی اور ہر بدعت ضلالت ہے۔ یہاں یہ اصول نہیں چل سکتا کہ جو کچھ ممنوع نہیں ہے وہ مباح ہے۔ بلکہ اس کے برعکس یہاں اصول یہ ہے کہ جو کچھ منصوص نہیں ہے وہ بدعت ہے۔ یہاں اگر قیاس سے بھی کوئی مسئلہ نکالا جائے گا تو لازماً اس کا کوئی مبنی کتاب وسنت میں موجود ہونا چاہیے۔ بخلاف اس کے تعلق بالناس اور تعلق بالد نیا کے شعبے میں مباحات کا باب کھلا ہوا ہے۔ جو حکم دے دیا گیا ہے اس حکم کی اطاعت کیجئے، جو کچھ منع کیا گیا ہے اس سے رک جائیے، اور جس معاملہ میں حکم نہیں دیا گیا ہے اس میں اگر کسی ملتے جلتے معاملے پر کوئی حکم ملتا ہو تو اس پر قیاس کر لیجئے یا قیاس کا بھی موقع نہ ہو تو اسلام کے اصول عامہ کے تحت مباحات میں سے جس چیز اور جس طریقے کو نظام اور اسلامی کے مزاج سے مطابق پائیے اسے قبول کر لیجئے ۔ اس شعبے میں یہ آزادی ہمیں اس لیے دی گئی ہے کہ دنیا اور انسان اور دنیوی معاملات کے متعلق مصلحت کو جاننے کے عقلی اور علمی ذرائع کم از کم اس حد تک ہمیں ضرور حاصل ہیں کہ کتاب اللہ وسنت رسول اللہ کی رہنمائی سے مستفید ہونے کے بعد ہم خیر کو شر سے اور صحیح کو غلط سےممیز کر سکتے ہیں ۔ پس یہ آزادی صرف اس شعبے تک محدود رہنی چاہیے۔ اسے پہلے شعبے تک وسیع کر کے اور جو کچھ ممنوع نہیں ہے، اسےمبارح سمجھ کر، تعلق باللہ کے معاملے میں نئے نئے طریقے نکالنا یا دوسروں سے اخذ کر کے اختیار کر لینا بنیادی طور پر غلط ہے۔ اسی غلطی میں مبتلا ہو کر نصاری نے رہبانیت ایجاد کر لی تھی جس کی قرآن میں مذمت کی گئی۔
سوال: آپ پر یہ الزام عائد کیا جاتا ہے کہ آپ دراصل خود مجدد یا مہدی ہونے کے مدعی ہیں یا در پردہ اپنے آپ کو مجدد یا مہدی یا تسلیم کرانے کے لیے کوشاں ہیں۔ اس الزام کی حقیقت کیا ہے؟
جواب: اس الزام کا جواب متعدد مرتبہ ترجمان القرآن میں دیا جا چکا ہے، اس لیے اب کوئی نیا جواب دینے کے بجائے میں اپنے سابق جوابات ہی کو نقل کیے دیتا ہوں۔
سب سے پہلے ۱۹۴۱ء میں جناب مولانا مناظر احسن صاحب گیلانی نے از راہ عنایت دبی زبان سے میرے متعلق اس شبہ کا اظہار فرمایا تھا۔ اس پر میں نے اپنے مضمون ” رفع شبہات میں عرض کیا:
"آپ کو میرے جرات آمیز الفاظ سے شاید یہ گمان گزرا ہو گا کہ میں اپنے آپ کو بڑی چیز سمجھتا ہوں اور کسی بڑے مرتے کی توقع رکھتا ہوں۔ حالانکہ میں جو کچھ کررہا ہوں صرف اپنے گناہوں کی تلافی کے لیے کر رہا ہوں اور اپنی حقیقت خوب جانتا ہوں۔ بڑے مراتب تو در کنار اگر صرف سزا سے بچ جاؤں تو بھی میری امیدوں سے بہت زیادہ ہے۔“ ( ترجمان القرآن - ستمبر اکتوبر ونومبر ۶۵۱)
اس کے بعد اسی زمانہ میں جناب مولانا سید سلیمان ندوی نے میری ایک عبارت کو توڑ کروڑ کر اس سے یہ معنی نکالے کہ میں مجدد ہونے کا مدعی ہوں، حالانکہ میں نے اس عبارت میں اپنی حقیر کوششوں کو تجدید دین کی مساعی میں سے ایک سعی قرار دیا تھا۔ ان کے اس صریح الزام کےجواب میں میں نے عرض کیا تھا:
"کسی کام کو تجدیدی کام کہنےسےیہ لازم نہیں آتا کہ جو تجدیدی کام کرےوہ مجدد کےلقب سےبھی ملقب ہو صدی کا مجدد ہونا تو اس سےبلند تر بات ہےاینٹیں چن کر دیوار بنانا بہر حال ایک تعمیری کام ہے،مگر کیا یہ لازم ہےکہ جو چند اینٹیں چن دےوہ انجینئر بھی کہلائے اور پھر انجینئر بھی معمولی نہیں بلکہ اپنی صدی کا انجینئر ؟ اسی طرح کسی کا اپنےکام کو تجدیدی کام یا تجدیدی کوشش کہنا جبکہ فی الواقع وہ تجدید دین حق ہی کی غرض سےیہ کام کر رہا ہو،محض ایک امر واقعہ کا اظہار ہےاور اس کےیہ معنی نہیں ہیں کہ وہ مجدد ہونےکا دعویٰ کر رہا ہےاور اس صدی کا مجدد بننا چاہتا ہےکم ظرف لوگ بیٹک تھوڑا سا کام کر کےاونچےاونچے دعوے کرنے لگتے ہیں بلکہ کام کا ارادہ ہی دعوے کی شکل میں کرتے ہیں۔ لیکن کسی ذی فہم آدمی سے یہ توقع نہیں کی جاسکتی کہ وہ کام کرنےکےبجائےدعوےکرے گا۔ تجدید دین کا کام ہندوستان میں اور دنیا کے دوسرے حصوں میں بہت سے لوگ کر رہے ہیں۔ خود مولانا ( حضرت معترض) کو بھی ہم انہی میں شمار کرتے ہیں۔ میں نے بھی اپنی حد استطاعت تک اس خدمت میں حصہ لینےکی سعی کی ہےاور اب ہم چند خدام دین ایک جماعت کی صورت میں اس کےلیے کوشش کرنا چاہتے ہیں۔ اللہ جس کے کام میں بھی اتنی برکت دے کہ واقعی اس کے ہاتھوں دین حق کی تجدید ہو جائے وہ در حقیقت مجدد ہو گا۔اصل چیز نہ آدمی کا اپنا دعوی ہے نہ دنیا کا کسی کو مجدد کے لقب سے یاد کرنا۔ بلکہ اصل چیز آدمی کا ایسی خدمت کر کے اپنے مالک کے حضور پہنچنا ہےکہ وہاں اسے مجدد کا مرتبہ حاصل ہو۔ میں مولانا کےحق میں اس چیز کی دعا کرتا ہوں اور بہتر ہو کہ وہ بھی ”عنقار ابلند است آشیانہ کہنے کے بجائے دوسروں کے حق میں دعا فرمائیں کہ اللہ ان سے اپنے دین کی ایسی خدمت لےلے۔مجھے یہ دیکھ کر تعجب ہوتا ہےکہ بعض اسلامی الفاظ کو خواہ مخواہ ہوا بنا کر رکھ دیا گیا ہےدنیا میں کوئی رومی عظمت کی اتجدید کا داعیہ لے کر اٹھتا ہے۔ اور رومیت کے پرستار اس کو مرحبا کہتےہیں، کوئی ویدک تہذیب کی تجدید کا عزم لےکر اٹھتا ہے اور ہندویت کے پرستاراس کی پیٹھ ٹھونکتے ہیں۔ کوئی یونانی آرٹ کی تجدید کے ارادہ سےاٹھتا ہےاور آرٹ کے پرستار اس کی ہمت افزائی کرتےہیں۔ کیا ان سب تجدیدوں کے درمیان صرف ایک اللہ کے دین کی تجدید ہی ایسا جرم ہے کہ اس کا نام لیتے ہوئے آدمی شرمائے اور اگر اس کا خیال ظاہر کر دے تو اللہ کے پرستار اس کے پیچھے تالی پیٹ دیں؟ (ترجمان القرآن۔ دسمبر ۴۱ ، وجنوری و فروری ۶۴۲)
ان تصریحات کے بعد بھی ہمارے بزرگانِ دین اپنے پرو پیگنڈے سے باز نہ آئے کیونکہ میرے خلاف مسلمانوں کو بھڑکانے کے لیے من جملہ اور ہتھکنڈوں کے ایک یہ ہتھکنڈا بھی ضروری تھا کہ مجھ پر کسی دعوے کا الزام چسپاں کیا جائے۔ چنانچہ ۴۵ ، اور ۴۶ء میں مسلسل یہ شبہ پھیلایا جاتا رہا کہ یہ شخص مہدویت کا دعویٰ کرنے والا ہے۔ اس پر میں نے جون ۴۶ ء کے ترجمان القرآن میں لکھا:
"جو حضرات اس قسم کے شبہات کا اظہار کر کے بندگانِ خدا کو جماعت اسلامی کی دعوت حق سے روکنے کی کوشش فرما رہے ہیں، میں نے ان کو ایک ایسی خطرناک سزا دینے کا فیصلہ کر لیا ہے جس سے وہ کسی طرح رہائی حاصل نہ کر سکیں گے۔ اور وہ سزا یہ ہے کہ انشاء اللہ میں ہر قسم کے دعوؤں سے اپنا دامن بچاتے ہوئے اپنے خدا کی خدمت میں حاضر ہوں گا اور پھر دیکھوں گا کہ یہ حضرات خدا کے سامنے اپنے ان شبہات کی اور ان کو بیان کر کر کے لوگوں کو حق سے روکنے کی کیا صفائی پیش کرتے ہیں۔“
اگر ان لوگوں کے دلوں میں خدا کا کچھ خوف اور آخرت کا کوئی یقین موجود ہوتا تو ممکن نہ تھا کہ میرے اس جواب کے بعد پھر بھی ان کی زبان پر یہ الزام آتا۔ لیکن آپ دیکھ رہے ہیں کہ آج کس جرات کے ساتھ اسے از سر نو پھیلایا جارہا ہے اور ترجمان القرآن کی قریبی اشاعتوں میں اس کے متعلق جو کچھ لکھ چکا ہوں اسے دیکھ لینے کے باوجود ان میں سے کسی کی زبان میں لکنت تک نہیں آتی۔ آخرت کا فیصلہ تو اللہ کے ہاتھ میں ہے مگر مجھے بتائیے کیا دنیا میں ایسی ہی حرکتوں سےعلماء کا وقار قائم ہونے کی توقع ہے؟
لطف یہ ہے کہ میری کتاب " تجدید و احیائے دین جس کی بعض عبارتوں پر ان شبہات کی بناء رکھی گئی ہے اور جس کے اقتباسات طرح طرح کی رنگ آمیزیوں کے ساتھ پیش کر کر کے لوگوں کو بہکایا جا رہا ہے اسی میں میرے یہ الفاظ موجود ہیں:
" نبی کے سوا کسی کا یہ منصب نہیں ہے کہ دعوے سے کام کا آغاز کرئے اور نہ نبی کےسوا کسی کو یقینی طور پر یہ معلوم ہوتا ہے کہ وہ کس خدمت پر مامور ہوا ہے۔مہدویت دعوی کرنے کی چیز نہیں ہے بلکہ کر کے دکھا جانے کی چیز ہے۔ اس قسم کے دعوے جو لوگ کرتے ہیں اور جو ان پر ایمان لاتے ہیں، میرے نزدیک دونوں ہی اپنے علم کی کمی اور اپنے ذہن کی پستی کا ثبوت دیتے ہیں۔“
آج جو لوگ میری اس کتاب کے اقتباسات پیش کر رہے ہیں ان سے پوچھیے کہ ان کو یہ عبارت نظر نہیں آئی یا انہوں نے دانستہ اسے چھپایا ہے؟
سوال: "ظہور مہدی کے متعلق آپ نے رسالہ تجدید و احیائے دین میں جو کچھ لکھا ہے اس میں اختلاف کا پہلو یہ ہے کہ آپ مہدی موعود کے لیے کوئی امتیازی و اختصاصی علامات تسلیم نہیں کرتے حالانکہ احادیث میں واضح طور پر علامات مہدی کا تذکرہ موجود ہے۔ آخر اس سلسلہ روایات سے چشم پوشی کیسے کی جاسکتی ہے؟
جواب: ظہور مہدی کے متعلق جو روایات ہیں، ان کے متعلق ناقدین حدیث نے اس قدر سخت تنقید کی ہے کہ ایک گروہ سرے سےاس بات کا قائل ہی نہیں رہا ہےکہ امام مہدی کا ظہور ہوگا۔ اسماء الرجال کی تنقید سے بھی معلوم ہوتا ہےکہ ان احادیث کےاکثر رواۃ شیعہ ہیں۔ تاریخ سےبھی یہ معلوم ہوتا ہے کہ ہر گروہ نے سیاسی و مذہبی اغراض کے لیے ان احادیث کو استعمال کیا ہے اور اپنے کسی آدمی پر ان کی مندرجہ علامات کو چسپاں کرنےکی کوشش کی ہے۔ ان وجوہ سے میں اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ نفس ظہور مہدی کی خبر کی حد تک تو یہ روایات صحیح ہیں لیکن تفصیلی علامات کا بیشتر بیان غالباً وضعی ہے اور اہلِ غرض نے شاید بعد میں ان چیزوں کو اصل ارشاد نبوی پر اضافہ کیا ہےمختلف زمانوں میں جن لوگوں نے مہدی موعود ہونےکے جھوٹے دعوے کیے ہیں، ان کے لٹریچر میں بھی آپ دیکھیں گے کہ ان کی ساری فتنہ پردازی کے لیے مواد انہی روایات نے ہم پہنچایا ہے۔
میں نے جہاں تک نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشین گوئیوں پر غور کیا ہے ان کا انداز یہ نہیں ہوتا کہ کسی آنے والی چیز کی علامات و تفصیلات اس طریقے سے کبھی آپ نے بیان کی ہوں جس طرح ظہور مہدی کی احادیث میں پائی جاتی ہیں۔ آپ بڑی بڑی اصولی علامات تو ضرور بیان فرما دیا کرتے تھے لیکن جزئی تفصیلات بیان کرنا آپ کا طریقہ نہ تھا۔
سوال: ضرورت بعثت مہدی کو تجدید و احیائے دین میں تسلیم تو کر لیا گیا ہےلیکن مہدی کا کیا کام ہوگا اس مسئلہ کو علی تائید کے بغیر محض اپنےلفظوں میں بیان کرنےکی کوشش کی گئی ہے۔احادیث شریفہ کی روشنی میں اس بیان کی تفصیل کی جائے تو مناسب ہےنیز مہدی موعود کے مراتب و خصوصیات اور ضرورت اطاعت مہدی وغیرہ پر کوئی بحث نہیں کی گئی ہےبلکہ عام مجددین میں شمار کر لیا گیا ہےاگرچہ مجدد کامل اور مجہود ناقص کی تقسیم سےیہ معلوم ہو سکتا ہےکہ غالبا یہاں مجدد کا لفظ بر بنائےلغت استعمال ہوا ہے اصطلاحا نہیں۔ تاہم جبکہ مجد دمعصوم عن الخطا نہیں ہوتا اور مہدی موعود کو معصوم عن الخطا ہونا ضروری ہے تو پھر اس بین فرق کے ہوتے ہوئے مہدی موعود کو مجدد کی فہرست میں کیسے شمار کیا جا سکتا ہے؟
جواب: اول تو خود لفظ ” مہدی“ پر غور کرنا چاہیے جو حدیث میں استعمال کیا گیا ہے۔حضور نے مہدی کا لفظ استعمال فرمایا ہے، جس کے معنی ہیں ہدایت یافتہ کے۔ ہادی“ کا لفظ استعمال نہیں کیا ہے۔ مہدی ہر وہ سردار لیڈر اور امیر ہو سکتا ہےجو راہِ راست پر ہو۔ ”المہدی“ زیادہ سے زیادہ خصوصیت کے لیے استعمال ہوگا جس سے آنےوالےکی کسی خاص امتیازی شان کا اظہار مقصود ہےاور وہ امتیازی شان حدیث میں اس طرح بیان کر دی گئی ہےکہ آنے والا خلافت على منهاج النبوۃ کا نظام درہم برہم ہو جانے اور ظلم وجور سے زمین کے بھر جانے کے بعد از سرنو خلافت کو منہاج نبوت پر قائم کرے گا اور زمین کو عدل سے بھر دے گا۔ بس یہی چیز ہے جس کی وجہ سے اس کو مختص و ممتاز کرنے کے لیے ” مہدی پر الف ل‘ داخل کیا گیا ہے۔ لیکن یہ سمجھنا بالکل غلط ہے کہ مہدی کے نام سے دین میں کوئی خاص منصب قائم کیا گیا ہے جس پر ایمان لانا اور جس کی معرفت حاصل کرنا ویسا ہی ضروری ہے جیسا انبیاء پر ایمان لانا'
اور اس کی اطاعت بھی شرط نجات اور شرط اسلام و ایمان ہو۔ نیز اس خیال کے لیے بھی حدیث میں کوئی دلیل نہیں ہے کہ مہدی کوئی امام معصوم ہوگا۔ دراصل یہ معصومیت غیر انبیاء کا تخیل ایک خالص شیعی تخیل ہے جس کی کوئی سند کتاب وسنت میں موجود نہیں ہے۔
یہ اچھی طرح سمجھ لینا چاہیے کہ جن چیزوں پر کفر و ایمان کا مدار ہے اور جن امور پر انسان کی نجات موقوف ہے انہیں بیان کرنے کا اللہ تعالیٰ نے خود ذمہ لیا ہے۔ وہ سب قرآن میں بیان کی گئی ہیں۔ اور قرآن میں بھی ان کو کوئی اشارۃ وکنایہ بیان نہیں کیا گیا ہے بلکہ پوری صراحت اور وضاحت کے ساتھ ان کو کھول دیا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ خود فرماتا ہے کہ إِنَّ عَلَيْـنَــا للهدى - لہذا جو مسئلہ بھی دین میں یہ نوعیت رکھتا ہو اس کا ثبوت لا ز ما قرآن ہی سے ملنا چاہیے۔مجرد حدیث پر ایسی کسی چیز کی بنا نہیں رکھی جاسکتی جسے مدار کفر و ایمان قرار دیا جائے ۔ احادیث چند انسانوں سے چند انسانوں تک پہنچتی ہوئی آئی ہیں جن سے حد سے حدا گر کوئی چیز حاصل ہوتی ہے تو وہ گمان صحت ہے نہ کہ علم یقین ۔ اور ظاہر ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو اس خطرے میں ڈالنا ہرگز پسند نہیں کر سکتا کہ جو امور اس کے دین میں اتنے اہم ہوں کہ ان سے کفر و ایمان کا فرق واقع ہوتا ہو انہیں صرف چند آدمیوں کی روایت پر منحصر کر دیا جائے۔ ایسے امور کی تو نوعیت ہی اس امر کی متقاضی ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کو صاف صاف اپنی کتاب میں بیان فرماتے اللہ کا رسول انہیں اپنےپیغمبرانہ مشن کا اصل کام سمجھتےہوئےان کی تبلیغ عام کرے اور وہ بالکل غیر مشتبہ طریقےسےہر ہر مسلمان تک پہنچا دیئےگئے ہوں۔
اب ” مہدی“ کے متعلق خواہ کتنی ہی کھینچ تان کی جائے بہر حال ہر شخص دیکھ سکتا ہے کہ اسلام میں اس کی حیثیت یہ نہیں ہے کہ اس کے جاننے اور ماننے پر کسی کے مسلمان ہونے اور نجات پانے کا انحصار ہو۔ یہ حیثیت اگر اس کی ہوتی تو قرآن میں پوری صراحت کے ساتھ اس کا ذکر کیا جاتا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم بھی دو چار آدمیوں سے اس کو بیان کر دینے پر اکتفانہ فرماتے بلکہ پوری امت تک اسے پہنچانے کی سعی بلیغ فرماتے اور اس کی تبلیغ میں آپ کی سعی کا عالم وہی ہوتا جو ہمیں تو حید اور آخرت کی تبلیغ کے معاملے میں نظر آتا ہے۔ درحقیقت جو شخص علوم دینی میں کچھ بھی نظر اور بصیرت رکھتا ہو وہ ایک لمحہ کے لیے بھی یہ باور نہیں کر سکتا کہ جس مسئلہ کی دین میں اتنی بڑی اہمیت ہوا سے محض اخبار آحاد پر چھوڑا جا سکتا تھا، اور اخبار آحاد بھی اس درجہ کی کہ امام مالک اور امام بخاری اور امام مسلم جیسے محدثین نے اپنے حدیث کے مجموعوں میں سرے سے ان کو لیتا ہی پسند نہ کیا ہو۔ ( ترجمان القرآن، ربیع الاول جمادی الآخر ۶۴ ھ مارچ جون ۶۴۵)
سوال:چند حضرات نے جو نہایت دیندار و مخلص ہیں، تجدید و احیائے دین کی ان سطور کے متعلق جو آپ نے امام مہدی کے متعلق تحریر فرمائی ہیں، احادیث کی روشنی میں اعتراضات پیش فرمائے ہیں، جنہیں آپ کے سامنے پیش کر رہا ہوں۔ یہ میں اس احساس کے ساتھ لکھ رہا ہوں کہ دعوتِ اقامت دین کے پورے کام میں شریعت کی پابندی ضروری ہے، پس لازم ہے کہ ہر وہ چیز جو آپ کے قلم سے نکلئےعین شریعت کے مطابق ہو اور اگر کبھی کوئی غلط رائے تحریر میں آئے تو اس سے رجوع کرنے میں کوئی تامل نہ ہونے پائے۔
امام مہدی کے متعلق جو سطور آپ نے ص ۳۱ تا ۳۳ ب تحریر فرمائی ہیں وہ ہمارے فہم کے مطابق احادیث کے خلاف ہیں۔ اس سلسلہ میں، میں نے ترمذی اور ابو داؤد کی تمام روایات کا مطالعہ کیا ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ بعض روایات کے راوی ضرور خارجی یا شیعہ ہیں، لیکن ابو داؤد و ترمذی وغیرہ کے ہاں ایسی احادیث بھی موجود ہیں جن کے راوی ثقہ اور صدوق ہیں اور وہ آپ کی رائے کی تصدیق نہیں بلکہ تردید کرتی ہیں۔ مثلاً ابو داؤد کی روایت ملاحظہ ہو:
اس روایت سے لیکر اخیر روایت تک ملاحظہ ہو تمام راوی ثقہ ہیں۔ نیز بیہقی کی بھی ایک روایت مشکوۃ کی کتاب الفتن میں تحریر ہے۔
مندرجہ بالا احادیث سے آپ کے اس بیان کی تردید ہوتی ہے کہ المہدی کو اپنےمہدی موعود ہونے کی خبر نہ ہوگی۔ خصوصاًیہ الفاظ ملاحظہ ہوں۔
(۲) جناب نے فرمایا ہے کہ مہدی موعود جدید ترین طرز کا لیڈر ہوگا.... وغیرہ ! آپ کے ان الفاظ کی کوئی سند احادیث میں نہیں ہے۔ اگر ہو تو تحریر فرما ئیں۔ جو لوگ آپ کے برعکس خیالات رکھتے ہیں ان کی واقعاتی دلیل یہ ہے کہ اب تک جتنے مجددین امت گزرے ہیں وہ عموماً صوفیائے کرام کے طبقہ میں ہوئے ہیں۔
(۳) جناب کی ان سطور سے کہ وہ جدید ترین طرز کا لیڈر ہو گا یہ شبہ کیا جا رہا ہے کہ آپ خود امام مہدی ہونے کا دعوی کریں گے۔
(۴) کتاب " علامات قیامت" (مولفہ مولانا شاہ رفیع الدین صاحب و مترجمه مولوی نورمحمد صاحب) میں امام مہدی کے متعلق مسلم و بخاری کے حوالہ سے چند روایات درج ہیں، لیکن تحقیق کرنے پر مسلم و بخاری میں مجھے اس قسم کی کوئی حدیث نہ مل سکی۔ اسی کتاب میں ایک روایت یہ بھی درج ہے کہ بیعت مہدی کے وقت آسمان سے یہ ندا آئے گی کہ هـذا خليفة الله المهدى فاستمعوا له واطیعوا۔ اس روایت کے متعلق آپ کی تحقیق کیا ہے؟
جواب: (۱) امام مہدی کےمتعلق جو احادیث مختلف کتب حدیث میں مروی ہیں ان کےمتعلق میں اپنی تحقیق کا خلاصہ اس سےپہلےعرض کر چکا ہوں۔جو لوگ امام مہدی کے متعلق کسی روایت کو ماننےکے لیے اتنی بات کو کافی سمجھتےہیں کہ وہ حدیث کی کسی کتاب میں درج ہےیا تحقیق کا حق ادا کرنےکےلیےصرف اس مرحلہ تک پہنچ سکتےہیں کہ راویوں کےمتعلق یہ معلوم کر لیں کہ وہ ثقہ ہیں یا نہیں،ان کے لیے یہ درست ہے کہ اپنا وہی عقیدہ رکھیں جو انہوں نےروایات میں پایا۔ ہے۔لیکن جو لوگ ان روایات کو جمع کر کے ان کا باہمی مقابلہ کرتےہیں اور ان میں بکثرت تعارضات پائےہیں،نیز جن کےسامنےبنی فاطمہ اور بنی عباس اور بنی امیہ کی کشمکش کی پوری تاریخ ہےاور وہ صحیح طور پر دیکھتےہیں کہ اس کشمکش کے فریقوں میں سےہر ایک کے حق میں متعدد روایات موجود ہیں اور راویوں میں سےبھی اکثر و بیشتر وہ لوگ ہیں جن کا ایک نہ ایک فریق سے کھلا ہوا تعلق تھا ان کے لیے یہ بہت مشکل ہے کہ ان روایات کی ساری تفصیلات کو صحیح تسلیم کر لیں۔ خود آپ نے جو احادیث نقل کی ہیں ان کے اندر بھی رایات السود ، یعنی کالے جھنڈوں کا ذکر موجود ہے اور تاریخ سے معلوم ہے کہ کالے جھنڈے بنی عباس کا شعار تھے۔ نیز یہ بھی تاریخ سے معلوم ہے کہ اس قسم کی احادیث کو پیش کر کر کے خلیفہ مہدی عباسی کو مہدی موعود ثابت کرنے کی کوشش کی جاتی رہی ہے۔ اب اگر کسی کو ان چیزوں کے ماننے پر اصرار ہے تو وہ مانے اور تجدید و احیائے دین میں جس رائے کا میں نے اظہار کیا ہے اس کو رڈ کر دے۔ کچھ ضرور نہیں ہے کہ ہر تاریخی، علمی اور فقہی مسئلہ میں میری ایک بات سب لوگوں کے لیے قابل تسلیم ہو ۔ اور یہ بھی صحیح نہیں ہے کہ ان مسائل میں میری کوئی تحقیق کسی کو پسند نہ آئے تو اصل دین کی سعی اقامت میں بھی میرے ساتھ تعاون کرنا اس کے لیے حرام ہو جائے۔ آخر یہ کوئی نئی بات تو نہیں ہے کہ حدیث، تفسیر، فقہ وغیرہ علوم میں اہل علم کی را ئیں مختلف ہوئی ہوں۔
(۲) میں نے یہ بات جو کہی ہے کہ مہدی موعود جدید ترین طرز کا لیڈر ہو گا اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ وہ ڈاڑھی منڈوائے گا کوٹ پتلون پہنے گا اور اپ ٹو دیٹ فیشن میں رہے گا۔بلکہ اس سے میرا مطلب یہ ہے کہ وہ جس زمانہ میں بھی پیدا ہوگا اس زمانہ کے علوم سے حالات سے اور ضروریات سے پوری طرح واقف ہو گا اپنے زمانہ کے مطابق عملی تدابیر اختیار کرے گا اور ان تمام آلات و وسائل سے کام لے گا جو اس کے دور میں سائنٹیفک تحقیقات سے دریافت ہوئےہوں۔ یہ تو ایک صریح عقلی بات ہے جس کے لیے کسی سند کی ضروریات نہیں ہے۔ اگر نبی اکرم اپنے زمانہ کی تدابیر مثلاً خندق دبابه منجنیق وغیرہ استعمال فرماتے تھے تو کوئی وجہ نہیں کہ آئندہ کسی دور میں جو شخص حضور کی جانشینی کا حق ادا کرنے اٹھے گا وہ ٹینک اور ہوائی جہاز سے سائنٹیفک معلومات سے اور اپنے زمانہ کے احوال و معاملات سے بے تعلق ہو کر کام کرے گا۔ کسی جماعت کے حصول مقصد اور کسی تحریک کے غلبہ کا فطری راستہ ہی یہی ہے کہ وہ قوت کے تمام جدید ترین وسائل کو قابو میں لائے اور اپنا اثر پھیلانے کے لیے جدید ترین علوم وفنون اور طریقہ ہائے کار کو استعمال کرے۔
(۳) یہ ارشاد کہ اس سے شبہ کیا جا رہا ہے کہ تو خود امام مہدی ہونے کا دعوی کرے گا۔‘ اس کے جواب میں بجز اس کے میں کچھ عرض نہیں کر سکتا کہ اس قسم کے شبہات کا اظہار کرنا کسی ایسے آدمی کا کام تو نہیں ہو سکتا جو خدا سے ڈرتا ہو جسے خدا کے سامنے اپنی ذمہ داری کا احساس ہو اور جس کو اللہ تعالیٰ کی یہ ہدایت بھی یاد ہو کہ اِجْتَنِبُوا كَثِيراً مِنَ الظَّنِّ إِنَّ بَعْضَ الظَّنِّ إِثْمٌ جو حضرات اس قسم کے شبہات کا اظہار کر کے بندگانِ خدا کو جماعت اسلامی کی دعوت حق سےروکنے کی کوشش فرما رہے ہیں، میں نے ان کو ایک ایسی خطرناک سزا دینے کا فیصلہ کر لیا ہے جس سے وہ کسی طرح رہائی حاصل نہیں کر سکیں گئے اور وہ سزا یہ ہے کہ انشاء اللہ میں ہر قسم کے دعوؤں سے اپنا دامن بچائے ہوئے اپنے خدا کی خدمت میں حاضر ہوں گا اور پھر دیکھوں گا کہ یہ حضرات خدا کےسامنے اپنے ان شبہات کی اور ان کو بیان کر کر کے لوگوں کو حق سے روکنے کی کیا صفائی پیش کرتے ہیں۔
(۴) کتاب علامات قیامت میں جس روایت کا ذکر ہے، اس کے متعلق میں نفیا یا اثباتا کچھ نہیں کہہ سکتا۔ اگر وہ صحیح ہے اور فی الواقع حضور نے یہ خبر دی ہے کہ مہدی کی بیعت کے وقت آسمان سے ندا آئے گی کہ ”هذا خليفة الله المهدى فاستمعوا له واطيعوا ويقيناً میری وہ رائے غلط ہے جو تجدید و احیائے دین میں، میں نے ظاہر کی ہے۔ لیکن مجھے یہ توقع نہیں ہے کہ حضور نے ایسی بات فرمائی ہوگی۔ قرآن مجید کے مطالعہ سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ کسی نبی کی آمد پر بھی آسمان سے ایسی ندا نہیں آئی۔ خود حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جو آخری نبی تھے اور نوع انسانی کے لیے جن کے بعد کفر و ایمان کے فیصلہ کا کوئی دوسرا موقع آنے والا نہ تھا، آپ کی آمد پر بھی ایسی کوئی ندا آسمان سے نہ سنی گئی۔ مشرکین مکہ مطالبہ کرتے ہی رہے کہ آپ کے ساتھ کوئی فرشتہ ہونا چاہیے جو ہمیں خبر دار کرے کہ آپ خدا کے نبی ہیں یا اور کوئی صریح بات ایسی ہونی چاہیے جس سےیقینی اور غیر مشتبہ طور پر ہمیں آپ کا نبی ہونا معلوم ہو جائے،لیکن اللہ تعالیٰ نے ان سارے مطالبوں کو ر فرما دیا اور انہیں قبول نہ کرنے کی یہ وجہ بھی متعدد مقامات پر قرآن میں ظاہر کر دی کہ حقیقت کو بالکل بے نقاب کر دینا جس سے عقلی آزمائش و امتحان کا کوئی موقع باقی نہ رہے حکمت خداوندی کے خلاف ہے۔ اب یہ کیسے باور کیا جا سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنی اس سنت کو صرف امام مہدی کے معاملہ ہی میں بدل دے گا اور ان کی بیعت کے وقت آسمان سے منادی کرائے گا کہ یہ ہمارا خلیفہ مہدی ہے اس کی سنو اور اطاعت کرو!“ ( ترجمان القرآن، رجب ۵۶۵ جون ۴۶)
| کتاب | تجدید و احیائے دین |
|---|---|
| مصنف | مولاناابوالاعلی مودودی |
| تاریخ اشاعت | None |
| پبلشرز | ادارہ |
| ٹیگ |