١- اس نظام کا منشاء یہ ہے کہ اجتماعی ماحول کو حتی الامکان شهوانی بیجانات اور تحریکات سے پاک رکھا جائے، تاکہ انسان کی جسمانی و ذہنی قوتوں کو ایک پاکیزہ اور پرسکون فضا میں نشو و ارتقاء کا موقع ملے اور وہ اپنی محفوظ اور مجتمع قوت کے ساتھ تغیر تمدن میں اپنے حصے کا کام انجام دے سکے۔
٢- صنفی تعلقات بالکل دائرہ ازدواج میں محدود ہوں اور اس دائرے کے باہر نہ صرف انتشار عمل کو روکا جائے بلکہ انتشار خیال کا بھی امکانی حد تک سدباب کر دیا جائے۔
٣- عورت کا دائرہ عمل مرد کے دائرے سے الگ ہو، دونوں کی فطرت اور ذہنی و جسمانی استعداد کے لحاظ سے تمدن کی الگ الگ خدمات ان کے سپرد کی جائیں، اور ان کے تعلقات کی تنظیم اس طور پر کی جائے کہ وہ جائز حدود کے اندر ایک دوسرے کے مددگار ہوں، مگر حدود سے تجاوز کر کے کوئی کسی کے کام میں خلل انداز نہ ہو سکے۔
٥- عورت اور مرد دونوں کو پورے انسانی حقوق حاصل ہوں، اور دونوں کو ترقی کے بہتر سے بہتر مواقع بہم پہنچائے جائیں، مگر دونوں میں سے کوئی بھی ان حدود سے تجاوز نہ کر سکے جو معاشرت میں اس کے لئے مقرر کر دی گئی ہیں۔
اس نقشے پر جس نظام معاشرت کی تاسیس کی گئی ہے اس کو چند ایسے تحفظات کی ضرورت ہے جن سے اس کا نظم اپنی جملہ خصوصیات کے ساتھ برقرار رہے۔ اسلام میں یہ تحفظات تین قسم کے ہیں :
یہ تینوں تحفظات نظام معاشرت کے مزاج اور مقاصد کی ٹھیک مناسبت ملحوظ رکھ کر تجویز کئے گئے ہیں اور مل جل کر اس کی حفاظت کرتے ہیں۔
اصلاح باطن کے ذریعہ سے انسان کی تربیت اس طور پر کی جاتی ہے کہ وہ خود بخود اس نظام معاشرت کی اطاعت پر آمادہ ہو، عام اس سے کہ خارج میں کوئی طاقت اس کی اطاعت پر مجبور کرنے والی ہو یا نہ ہو۔
تعزیری قوانین کے ذریعہ سے ایسے جرائم کا سدباب کیا جاتا ہے جو اس نظام کو توڑنے اور اس کے ارکان کو منہدم کرنے والے ہیں۔
انسدادی تدابیر کے ذریعہ اجتماعی زندگی میں ایسے طریقے رائج کئے گئے ہیں جو سوسائٹی کے ماحول کو غیر طبیعی بیجانات اور مصنوعی تحریکات سے پاک کر دیتے ہیں اور صنفی انتشار کے امکانات کو کم سے کم حد تک گھٹا دیتے ہیں۔ اخلاقی تعلیم سے جن لوگوں کی اصلاح باطن مکمل نہ ہوئی ہو اور جن کو تعزیری قوانین کا خوف بھی نہ ہو، ان کی راہ میں یہ طریقے ایسی رکاوٹیں ڈال دیتے ہیں که صنفی انتشار کی جانب میلان رکھنے کے باوجود ان کے لئے عملی اقدام بہت مشکل ہو جاتا ہے۔ علاوہ بریں یہی وہ طریقے ہیں جو عورت اور مرد کے دائروں کو عملاً الگ کرتے ہیں، خاندان کے نظم کو اس کی صحیح اسلامی صورت پر قائم کرتے ہیں اور ان حدود کی حفاظت کرتے ہیں جو عورتوں اور مردوں کی زندگی میں امتیاز قائم رکھنے کے لئے اسلام نے مقرر کی ہیں۔
اسلام میں اطاعت امر کی بنیاد کلیته " ایمان پر رکھی گئی ہے۔ جو شخص خدا اور اس کی کتاب اور اس کے رسول پر ایمان رکھتا ہو وہی شریعت کے امرو نواہی کا اصل مخاطب ہے اور اس کو اوامر کا مطیع اور نواہی سے مجتنب بنانے کے لئے صرف یہ علم ہو جانا کافی ہے کہ فلاں امر خدا کا امر ہے اور فلاں نہی خدا کی نی ہے۔ پس جب ایک مومن کو خدا کی کتاب - سے یہ معلوم ہو جائے کہ اللہ فحش اور بدکاری سے منع کرتا ہے تو اس کے ایمان کا اقتضاء یہی ہے کہ وہ اس سے پر ہیز کرے اور اپنے دل کو بھی اس کی طرف مائل ہونے سے پاک رکھے۔ اسی طرح جب ایک مومن عورت کو یہ معلوم ہو جائے کہ اللہ اور اس کے رسول اللہ سلی الله وسلم نے معاشرت میں اس کے لئے کیا حیثیت مقرر کی ہے تو اس کے بھی ایمان کا اقتضاء یہی ہے کہ وہ برضا و رغبت اس حیثیت کو قبول کرے اور اپنی حد سے تجاوز نہ کرے۔ اس لحاظ سے زندگی کے دوسرے شعبوں کی طرح اخلاق اور معاشرت کے دائرے میں بھی اسلام کے صحیح اور کامل اتباع کا مدار ایمان پر ہے اور یہی وجہ ہے کہ اسلام میں اخلاق اور معاشرت کے متعلق ہدایات دینے سے پہلے ایمان کی طرف دعوت دی گئی ہے اور دلوں میں اس کو راسخ کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔
یہ تو اصلاح باطن کا وہ اساسی نظریہ ہے جس کا تعلق صرف اخلاقیات ہی نہیں بلکہ پورے نظام اسلامی سے ہے۔ اس کے بعد خاص کر اخلاق کے دائرے میں اسلام نے تعلیم و تربیت کا ایک نہایت حکیمانہ طریقہ اختیار کیا ہے جس کو مختصرا" ہم یہاں بیان کرتے ہیں۔
پہلے اشار تا یہ کہا جا چکا ہے کہ زنا اور چوری اور جھوٹ اور تمام دوسرے معاصی، جن کا ارتکاب فطرت حیوانی کے غلبہ سے انسان کرتا ہے۔ سب فطرت انسانی کے خلاف ہیں۔ قرآن ایسے تمام افعال کو منکر کے جامع لفظ سے تعبیر کرتا ہے۔ منکر" کا لفظی ترجمہ " مجهول" یا "غیر معروف" ہے۔ ان افعال کو منکر کہنے کا مطلب یہ ہوا کہ یہ ایسے افعال ہیں جن سے فطرت انسانی آشنا نہیں ہے۔ اب یہ ظاہر ہے کہ جب انسان کی فطرت ان سے نا آشنا ہے اور حیوانی طبیعت اس پر زبردستی ہجوم کر کے اس کو ان افعال کے ارتکاب پر مجبور کرتی ہے تو خود انسان ہی کی فطرت میں کوئی ایسی چیز بھی ہونی چاہئے جو تمام منکرات سے نفرت کرنے والی ہو۔ شارع حکیم نے اس چیز کی نشاندہی کر دی ہے۔ وہ اس کو ”حیا" سے تعبیر کرتا ہے۔
حیا کے معنی شرم کے ہیں۔ اسلام کی مخصوص اصطلاح میں حیا سے مراد وہ "شرم" ہے جو کسی امر منکر کی جانب مائل ہونے والا انسان خود اپنی فطرت کے سامنے اور اپنے خدا کے سامنے محسوس کرتا ہے۔ یہی حیاء وہ قوت ہے جو انسان کو فحشاء اور منکر کا اقدام کرنے سے روکتی ہے اور اگر وہ جبلت حیوانی کے غلبہ سے کوئی برا فعل کر گزرتا ہے تو یہی چیز اس کے دل میں چٹکیاں لیتی ہے۔ اسلام کی اخلاقی تعلیم و تربیت کا خلاصہ یہ ہے کہ وہ حیاء کے اسی چھپے ہوئے مادے کو فطرت انسانی کی گہرائیوں سے نکال کر علم و فہم اور شعور کی غذا سے اس کی پرورش کرتی ہے اور ایک مضبوط حامہ اخلاقی بنا کر اس کو نفس انسانی میں ایک کوتوال کی حیثیت ۔ متعین کر دیتی ہے۔ یہ ٹھیک ٹھیک اس حدیث نبوی کی تفسیر ہے جس میں ارشاد ہوا ہے کہ لکل تین خلق و خلق الاسلام الحياء- ” ہر دین کا ایک اخلاق ہوتا ہے اور اسلام کا اخلاق حیا ہے۔" اور وہ حدیث بھی اسی مضمون پر روشنی ڈالتی ہے جس میں سرور کائنات رسالت ماب عالم نے فرمایا اذا لم تستح فاصنع ماشئت جب تجھ میں حیا نہیں تو جو تیرا جی چاہے کر۔ کیونکہ جب حیا نہ ہو گی تو خواہشات جس کا مبداء جبلت حیوانی ہے، تجھ پر غالب آ جائے گی، اور کوئی منکر تیرے لئے منکر ہی نہ رہے گا۔
انسان کی فطری حیا ایک ایسے ان گھڑ مادے کی حیثیت رکھتی ہے جس نے ابھی کوئی صورت اختیار نہ کی ہو۔ وہ تمام منکرات سے بالطبع نفرت تو کرتی ہے مگر اس میں سوجھ بوجھ نہیں ہے، اس وجہ سے وہ نہیں جانتی کہ کسی خاص فعل منکر سے اس کو کس لئے نفرت ہے، یہی نادانستگی رفتہ رفتہ اس کے احساس نفرت کو کمزور کر دیتی ہے حتی کہ حیوانیت کے غلبہ سے انسان منکرات کا ارتکاب کرنے لگتا ہے اور اس ارتکاب کی پیم تکرار آخر کار حیاء کے احساس کو بالکل باطل کر دیتی ہے۔ اسلام کی اخلاقی تعلیم کا مقصد اسی نادانی کو دور کرتا ہے۔ وہ اس کو نہ صرف کھلے ہوئے منکرات سے روشناس کراتی ہے، بلکہ نفس کے چور خانوں تک میں نیتوں اور ارادوں اور خواہشوں کی جو برائیاں چھپی ہوئی ہیں ان کو بھی اس کے سامنے نمایاں کر دیتی ہے اور ایک ایک چیز کے مفسدوں سے اس کو خبردار کرتی ہے تاکہ علی وجہ البصیرت اس سے نفرت کرے۔ پھر اخلاقی تربیت اس تعلیم یافته شرم و حیا کو اس قدر حساس بنا دیتی ہے کہ منکر کی جانب سے اونی سے ادنی میلان بھی اس سے مخفی نہیں رہتا اور نیت و خیال کی ذرا سی لغزش کو بھی وہ تنبیہہ کئے بغیر نہیں چھوڑتی۔
اسلامی اخلاقیات میں حیا کا دائرہ اس قدر وسیع ہے کہ زندگی کا کوئی شعبہ اس سے چھوٹا ہوا نہیں ہے۔ چنانچہ تمدن و معاشرت کا جو شعبہ انسان کی صنفی زندگی سے تعلق رکھتا ہے اس میں بھی اسلام نے اصلاح اخلاق کے لئے اسی چیز سے کام لیا ہے۔ وہ صنفی معاملات میں نفس انسانی کی نازک سے نازک چوریوں تفصیل کا موقع نہیں اس لئے ہم صرف چند مثالوں پر اکتفا کریں گے۔
قانون کی نظر میں زنا کا اطلاق صرف جسمانی اتصال پر ہوتا ہے۔ مگر اخلاق کی نظر میں دائرہ ازدواج کے باہر صنف مقابل کی جانب ہر میلان، ارادے اور نیت کے اعتبار سے زنا ہے۔ اجنبی کے حسن سے آنکھ کا لطف لینا اس کی آواز سے کانوں کا لذت یاب ہونا اس سے گفتگو کرنے میں زبان کا لوچ کھانا اس کے کوچے کی خاک چھاننے کے لئے قدموں کا بار بار اٹھنا یہ سب زنا کے مقدمات اور خود معنوی حیثیت سے زنا ہیں۔ قانون اس زنا کو نہیں پکڑتا۔ یہ دل کا چور ہے اور صرف دل ہی کا کوتوال اس کو گرفتار کر سکتا ۔ ہے۔ حدیث نبوی اس کی مخبری اس طرح کرتی ہے۔
"آنکھیں زنا کرتی ہیں اور ان کی زنا نظر ہے اور ہاتھ زنا ہیں اور ان کی زنا دست درازی ہے اور پاؤں زنا کرتے ہیں اور ان کی زنا اس راہ میں چلنا ہے اور زبان کی زنا گفتگو ہے اور دل کی زنا تمنا اور خواہش ہے۔ آخر میں صنفی اعضاء یا تو ان سب کی تصدیق کر دیتے ہیں یا تکذیب۔"
”اے نبی مومن مردوں سے کہہ دو کہ اپنی نظروں کو (غیر عورتوں کی دید سے) باز رکھیں اور اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کریں۔یہ ان کے لئے زیادہ پاکیزہ طریقہ ہے۔ جو کچھ وہ کرتے ہیں اس سے اللہ باخبر ہے۔ اور اے نبی مومن عورتوں سے بھی کہہ دو کہ اپنی نگاہوں کو (غیر مردوں کی دید سے) باز رکھیں اور اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کریں۔"
اسی فتنہ نظر کا ایک شاخسانہ وہ بھی ہے جو عورت کے دل میں یہ خواہش پیدا کرتا ہے کہ اس کا حسن دیکھا جائے۔ یہ خواہش ہمیشہ جلی اور نمایاں ہی نہیں ہوتی، دل کے پردوں میں کہیں نہ کہیں نمائش حسن کا جذبہ چھپا ہوا ہوتا ہے اور وہی لباس کی زینت میں، بالوں کی آرائش میں، باریک اور شوخ کپڑوں کے انتخاب میں اور ایسے ایسے خفیف جزئیات تک میں اپنا اثر ظاہر کرتا ہے۔ جن کا احاطہ ممکن نہیں۔ قرآن نے ان سب کے لئے ایک جامع اصطلاح " تیرج جاہلیتہ " استعمال کی ہے۔ ہر وہ زینت اور ہر وہ آرائش جس کا مقصد شوہر کے سوا دوسروں کے لئے لذت نظر بننا ہو، تبرج جاہلیت کی تعریف میں آ جاتی ہے۔ اگر برقع بھی اس غرض کے لئے خوب صورت اور خوش رنگ انتخاب کیا جائے کہ نگاہیں اس سے لذت یاب ہوں تو یہ بھی تیرج جاہلیت ہے۔ اس کے لئے کوئی قانون نہیں بنایا جا سکتا ۔ اس کا تعلق عورت کے اپنے ضمیر سے ہے۔ اس کو خود ہی اپنے دل کا حساب لینا چاہئے کہ اس میں کہیں یہ ناپاک جذبہ تو چھپا ہوا نہیں ہے۔ اگر ہے تو وہ اس حکم خداوندی خداوندی کی مخاطب ہے کہ
شیطان نفس کا ایک دوسرا ایجنٹ زبان ہے۔ کتنے ہی فتنے ہیں جو زبان کے ذریعہ سے پیدا ہوتے اور پھیلتے ہیں۔ مرد اور عورت بات کر رہے ہیں۔ کوئی برا جذبہ نمایاں نہیں ہے۔ مگر دل کا چھپا ہوا چور آواز میں حلاوت، لہجے میں لگاوٹ باتوں میں گھلاوٹ پیدا کئے جا رہا ہے۔ قرآن اس چور کو پکڑ لیتا ہے۔
" اگر تمہارے دل میں خدا کا خوف ہے تو دبی زبان سے بات نہ کرو کہ جس شخص کے دل میں (بدنیتی کی بیماری ہو وہ نم ہو وہ تم سے کچھ امیدیں وابستہ کر لے گا۔ بات کرو تو سیدھے سادھے طریقے سے کر جس طرح انسان انسان سے بات کیا کرتا ہے۔"
یہی دل کا چور ہے جو دوسروں کے جائز یا ناجائز صنفی تعلقات کا حال بیان کرنے میں بھی مزے لیتا ہے اور سننے میں بھی۔ اسی لطف کی خاطر عاشقانہ غزلیں کی جاتی ہیں اور عشق و محبت کے افسانے جھوٹ سچ ملا کر جگہ جگہ بیان کئے جاتے ہیں اور سوسائٹی میں ان کی اشاعت اس طرح ہوتی ہے جیسے پولے پولے آنچ لگتی چلی جائے۔ قرآن اس پر بھی تنبیہ کرتا ہے :
”جو لوگ چاہتے ہیں کہ مسلمانوں کے گروہ میں بے حیائی کی اشاعت ہو ان کے لئے دنیا میں بھی دردناک عذاب ہے اور آخرت میں بھی۔"
فتنہ زبان کے اور بھی بہت سے شعبے ہیں اور ہر شعبے میں دل کا ایک نہ ایک چور اپنا کام کرتا ہے۔ اسلام نے ان سب کا سراغ لگایا ہے اور ان سے خبردار کیا ہے۔ عورت کو اجازت نہیں کہ اپنے شوہر سے دوسری عورتوں کی کیفیت بیان کرے۔
"عورت عورت سے خلا ملا نہ کرے۔ ایسا نہ ہو کہ وہ اس کی کیفیت اپنے شوہر سے اس طرح بیان کر دے کہ گویا وہ خود اس کو دیکھ رہا ہے۔"
عورت اور مرد دونوں کو اس سے منع کیا گیا ہے کہ اپنے پوشیدہ ازدواجی معاملات کا حال دوسرے لوگوں کے سامنے بیان کریں کیونکہ اس سے بھی فحش کی اشاعت ہوتی ہے اور دلوں میں شوق پیدا ہوتا ہے۔ (ابوداؤد باب من ذکر الرجل ما يكون من اصابته احله)
نماز باجماعت میں اگر امام غلطی کرے، یا اس کو کسی حادثہ پر متنبہ کرنا ہو تو مردوں کو سبحان اللہ کہنے کا حکم ہے، مگر عورتوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ صرف دستک دیں اور زبان سے کچھ نہ بولیں۔ (ابوداؤد باب التصفيق في الصلوة بخاری، باب التصفين للنساء)
بسا اوقات زبان خاموش رہتی ہے مگر دوسری حرکات سے سامعہ کو متاثر کیا جاتا ہے۔ اس کا تعلق بھی نیت کی خرابی سے ہے اور اسلام اس کی بھی ممانعت کرتا ہے۔
"اور وہ اپنے پاؤں زمین پر مارتی ہوئی نہ چلیں کہ جو زینت انہوں نے چھپا رکھی ہے (یعنی جو زیور وہ اندر پہنے ہوئے ہیں) اس کا حال معلوم ہو (یعنی جھنکار سنائی دے)
خوشبو بھی ان قاصدوں میں سے ایک ہے جو ایک نفس شریر کا پیغام دوسرے نفس شریر تک پہنچاتے ہیں۔ یہ خبر رسانی کا سب سے زیادہ لطیف ذریعہ ہے جس کو دوسرے تو خفیف ہی سمجھتے ہیں، مگر اسلامی حیاء اتنی حساس ہے کہ اس کی طبع نازک پر یہ لطیف تحریک بھی گراں ہے۔ وہ ایک مسلمان عورت کو اس کی اجازت نہیں دیتی کہ خوشبو میں بسے ہوئے کپڑے پہن کر راستوں سے گزرے یا محفلوں میں شرکت کرے۔ کیونکہ اس کا حسن اور اس کی زینت پوشیدہ بھی رہی تو کیا فائدہ اس کی عطریت تو فضا میں پھیل کر جذبات کو متحرک کر رہی ہے۔
"بی اکرم صلی اللّٰہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ جو عورت عطر لگا کر لوگوں کےدرمیان سے گزرتی ہے، وہ آوارہ قسم کی عورت ہے۔"
طيب الرجال ما ظهر ريحه و خفى لونه وطيب النساء ما ظهر لونه و خفی ریحه (ترندی، باب ما جاء فى طيب الرجال والنساء ابو داؤد، ما يكره من ذكر الرجل ما يكون من اصابته الله )
"مردوں کے لئے وہ عطر مناسب ہے جس کی خوشبو نمایاں اور رنگ مخفی ہو اور عورتوں کے لئے وہ عطر مناسب ہے جس کا رنگ نمایاں اور خوشبو مخفی ہو۔"
ستر کے باب میں اسلام نے انسانی شرم و حیاء کی جس قدر صحیح اور مکمل نفسیاتی تعبیر کی ہے اس کا جواب دنیا کی کسی تہذیب میں نہیں پایا جاتا۔ آج دنیا کی مہذب ترین قوموں کا بھی یہ حال ہے کہ ان کے مردوں اور ان کی عورتوں کو اپنے جسم کا کوئی حصہ کھول دینے میں باک نہیں۔ ان کے ہاں لباس محض زینت کے لئے ہے ستر کے لئے نہیں ہے۔ مگر اسلام کی نگاہ میں زینت سے زیادہ ستر کی اہمیت ہے۔ وہ عورت اور مرد دونوں کو جسم کے وہ تمام حصے چھپانے کا حکم دیتا ہے جن میں ایک دوسرے کے لئے صنفی کشش پائی جاتی ہے۔ عریانی ایک ایسی ناشائستگی ہے جس کو اسلامی حیا کسی حال میں بھی برداشت نہیں کرتی۔غیر تو غیر اسلام اس کو بھی پسند نہیں کرتا کہ میاں اور بیوی ایک دوسرے کےسامنے برہنہ ہوں۔
"جب تم میں سے کوئی شخص اپنی بیوی کے پاس جائے تو اس کو چاہئے کہ ستر کا لحاظ رکھے۔ بالکل گدھوں کی طرح دونوں ننگے نہ ہو جائیں۔"
اياكم والتعرى فان معكم من لا يفارقكم الاعند الغائط و حسين يفضي الرجل الى اهله فاستحيوهم واكرموهم (تردى باب ما جاء في الاستثناء عند الجماع)
"خبردار کبھی برہنہ نہ رہو کیونکہ تمہارے ساتھ خدا کے فرشتےلگے ہوئے ہیں جو تم سے جدا نہیں ہوتے بجز ان اوقات کے جن میں تم رفع حاجت کرتے ہو یا اپنی بیویوں کے پاس جاتے ہو لہذا تم ان سے شرم کرو اور ان کی عزت کا لحاظ رکھو۔"
قال رسول الله صلعم نساء كاسيات عادیات حميلات مائلات روسهن كالبخت المائلة لا يدخلن الجنة ولا يجدن ریحھا۔ (مسلم، باب النساء الكاسيات العاريات)
"رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو عورتیں کپڑے پہن کر بھی ننگی ہی رہیں اور دوسرے کو رجھائیں اور خود دوسروں پر ریجھیں اور بختی اونٹ کی طرح ناز سے گردن ٹیڑھی کر کے چلیں وہ جنت میں ہرگز داخل نہ ہوں گی اور نہ اس کی بو پائیں گی۔"
یہاں استیعاب مقصود نہیں۔ ہم نے صرف چند مثالیں اس غرض سے پیش کی ہیں کہ ان سے اسلام کے معیار اخلاق اور اس کی اخلاقی اسپرٹ کا اندازہ ہو جائے۔ اسلام سوسائٹی کے ماحول اور اس کی فضا کو فحشاء و منکر کی تمام تحریکات سے پاک کر دینا چاہتا ہے۔ ان تحریکات کا سرچشمہ انسان کے باطن میں ہے۔ فحشاء و منکر کے جراثیم وہیں پرورش پاتے ہیں اور وہیں سے ان چھوٹی چھوٹی تحریکات کی ابتداء ہوتی ہے جو آگے چل کر فساد کی موجب بنتی ہے۔ جاہل انسان ان کو خفیف سمجھ کر نظر انداز کر دیتا ہے مگر حکیم کی نگاہ میں دراصل وہی اخلاق اور تمدن و معاشرت کو تباہ کر دینے والی خطرناک بیماریوں کی جڑ ہیں۔ لہذا اسلام کی تعلیم اخلاق باطن ہی میں حیاء کا اتنا زبردست احساس پیدا کر دینا چاہتی ہے کہ انسان خود اپنے نفس کا احتساب کرتا رہے اور برائی کی جانب ادنی سے ادنی میلان بھی اگر پایا جائے تو اس کو محسوس کر کے وہ آپ ہی اپنی قوت ارادی سے اس کا استیصال کرے۔
اسلام کے تعزیری قوانین کا اصل الاصول یہ ہے کہ انسان کو ریاست کے شکنجہ میں اس وقت تک نہ کیا جائے جب تک وہ نظام تمدن کو برباد کرنے والی کسی حرکت کا بالفعل مرتکب نہ ہو جائے۔ مگر جب وہ ایسا کر گزرے تو پھر اس کو خفیف سزائیں دے دے کر گناہ کرنے اور سزا بھگتنے کا خوگر بنانا درست نہیں ہے۔ ثبوت جرم کی شرائط بہت سخت رکھو۔ اسے لوگوں کو حدود قانون کی زد میں آنے سے جہاں تک ممکن ہو بچاؤ اے ، مگر جب کوئی شخص قانون کی زد میں آ جائے تو اسے ایسی سزا دو کہ نہ صرف وہ خود اس جرم کے اعادہ سے عاجز ہو جائے بلکہ دوسرے ہزاروں انسان بھی جو اس فعل کی جانب اقدام کرنے والے ہوں اس عبرت ناک سزا کو دیکھ کر خوف زدہ ہو جائیں، کیونکہ قانون کا مقصد سوسائٹی کو جرائم سے پاک کرتا ہے۔ نہ یہ کہ لوگ بار بار جرم کریں اور بار بار سزا بھگتیں۔
ا۔ اسلامی قانون شریعت میں ثبوت جرم کی شرائط عموماً نہایت سخت ہیں، مگر جرم زنا کے ثبوت کی شرمیں سب سے زیادہ سخت رکھی گئی ہیں۔ عام طور پر تمام معاملات کے لئےاسلامی قانون صرف دو گواہوں کو کافی سمجھتا ہے مگر زنا کے لئے کم از کم چار گواہ ضروری قرار دیئے گئے ہیں۔
نظام معاشرت کی حفاظت کے لئے اسلامی تعزیرات نے جن افعال کو جرم مستلزم سزا قرار دیا ہے وہ صرف دو ہیں۔ ایک زنا۔ دوسرے قذف (یعنی کسی پر زنا کی تہمت لگانا)
زنا کے متعلق ہم اس سے پہلے بیان کر چکے ہیں کہ اخلاقی حیثیت سے یہ فعل انسان کی انتہائی پستی کا نتیجہ ہے۔ جو شخص اس کا ارتکاب کرتا ہے وہ دراصل اس بات کا ثبوت دیتا ہے کہ اس کی انسانیت حیوانیت سے مغلوب ہو چکی ہے اور وہ انسانی سوسائٹی کا ایک صالح رکن بن کر نہیں رہ سکتا۔ اجتماعی نقطہ نظر سے یہ ان عظیم ترین جرائم میں سے ایک ہے جو انسانی تمدن کی عین بنیاد پر حملہ کرتے ہیں۔ ان وجوہ سے اسلام نے اس کو بجائے خود ایک قابل تعزیر کے قرار دیا ہے، خواہ اس کے ساتھ کوئی دوسرا جرم مثلا" جبر و اکراہ یا کسی شخص غیر کی حق تلفی شریک ہو یا نہ ہو، قرآن مجید کا حکم یہ ہے کہ :
"زناکار عورت اور زناکار مرد دونوں میں سے ہر ایک کو سو کوڑے مارو اور قانون الہی کے معاملہ میں تم کو ان پر ہرگز رحم نہ کھانا چاہئے۔ اگر تم اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتے ہو۔ اور جب ان کو سزا دی جائے تو مسلمانوں میں سے ایک جماعت اس کو دیکھنے کے لئے حاضر رہے۔"
١- نبی اکرم ﷺ کا ارشاد ہے ادرواء الحدود عن المسلمين ما استعطم فان كان له مخرج فخلوا سبيلهم فان الامام يخطى فى العفو خير من ان يخطى في العقوبة ( ترمذی ابواب الحدود)
"مسلمانوں کو سزا سے بچاؤ جہاں تک ممکن ہو ۔ اگر مجرم کے لئے برات کی کوئی صورت ہو تو اسے چھوڑ دو۔ کیونکہ امام کا معاف کرنے میں غلطی کرنا اس سے بہتر ہے کہ وہ سزا دینے میں غلطی کرے۔"
اس باب میں اسلامی قانون اور مغربی قانون میں بہت بڑا اختلاف ہے۔ مغربی قانون زنا کو بجائے خود کوئی جرم نہیں سمجھتا۔اس کی نگاہ میں یہ فعل صرف اس وقت جرم ہوتا ہےجب کہ اس کا ارتکاب جبر و اکراہ کے ساتھ کیا جائے یا کسی ایسی عورت کے ساتھ کیا جائے جو دوسرے شخص کے نکاح میں ہو۔ بالفاظ دیگر اس قانون کے نزدیک زنا خود جرم نہیں ہے بلکہ جرم در اصل جبریا حق تلفی ہے۔ بخلاف اس کے اسلامی قانون کی نظر میں یہ فعل خود ایک جرم ہے اور جبر و اکراہ یا حق غیر میں مداخلت سے اس پر ایک اور جرم کا اضافہ ہو جاتا ہے۔ اس بنیادی اختلاف کی وجہ سے سزا کے باب میں بھی دونوں کے طریقے مختلف ہو جاتے ہیں۔ مغربی قانون زنا بالجبر میں صرف سزائے قید پر اکتفا کرتا ہے اور منکوحہ عورت کے ساتھ زنا کرنے پر عورت کے شوہر کو صرف تاوان کا مستحق قرار دیتا ہے۔ یہ سزا جرم کو روکنے والی نہیں بلکہ لوگوں کو اور جرات دلانے والی ہے۔ اسی لئے ان ممالک میں جہاں یہ قانون رائج ہے، زنا کا ارتکاب بڑھتا چلا جاتا ہے۔ اس کے مقابلہ میں اسلامی قانون زنا پر ایسی سخت سزا دیتا ہے جو سوسائٹی کو اس جرم اور ایسے مجرموں سے ایک مدت کے لئے پاک کر دیتی ہے۔ چین ممالک میں زنا پر یہ سزا دی گئی ہے وہاں اس فعل کا ارتکاب کبھی عام نہیں ہوا۔ ایک مرتبہ حد شرعی جاری ہو جائے، پھر پورے ملک کی آبادی پر ایسی ہیبت چھا جاتی ہے کہ برسوں تک کوئی شخص اس کے ارتکاب کی جرات نہیں کر سکتا۔یہ مجرمانہ میلانات رکھنے والوں کے ذہن پر ایک طرح کا نفسیاتی اپریشن ہے۔ جس سے ان کے نفس کی خود بخود اصلاح ہو جاتی ہے۔
مغربی ضمیر سو کوڑوں کی سزا پر نفرت کا اظہار کرتا ہے۔ اس کی وجہ یہ نہیں ہے کہ وہ انسان کو جسمانی تکلیف پہنچانا پسند نہیں کرتا بلکہ اس کی اصل وجہ یہ ہے کہ اس کے اخلاقی شعور کا نشونما ابھی تک ناقص ہے۔ وہ زنا کو پہلے صرف ایک عیب سمجھتا تھا اور اب اسے محض ایک کھیل، ایک تفریح سمجھتا ہے جس سے دو انسان تھوڑی دیر کے لئے اپنا دل بہلا لیتے ہیں اس لئےوہ چاہتا ہے که قانون اس فعل سے رواداری برتے اور اس وقت تک کوئی باز پرس نہ کرے جب تک کہ زانی دوسرے شخص کی آزادی یا اس کے قانونی حقوق میں خلل انداز نہ ہو۔ پھر اس میں خلل اندازی کی صورت میں بھی وہ اس کو ایسا جرم سمجھتا ہےجس سے بس ایک ہی شخص کے حقوق متاثر ہوتے ہیں، اس لئے معمولی سزا یا تاوان اس کے نزدیک ایسے جرم کی کافی سزا ہے۔
ظاہر ہے کہ جو شخص زنا کا یہ تصور رکھتا ہو وہ اس فعل پر سو کوڑوں کی سزا کو ایک ظالمانہ سزا ہی سمجھے گا۔ مگر جب اس کا اخلاقی و اجتماعی شعور ترقی کرے گا اور اس کو معلوم ہو گا کہ زنا خواہ بالرضا ہو یا بالجبر اور خواہ بیاہی ہوئی عورت کےساتھ ہو یا بن بیاہی کے ساتھ، بہر حال وہ ایک اجتماعی جرم ہے اور پوری سوسائٹی پر اس کے نقصانات عائد ہوتے ہیں، تو سزا کے متعلق بھی اس کا نظریه خود بخود بدل جائے گا۔ اسے تسلیم کرنا پڑے گا کہ سوسائٹی کو ان نقصانات سے بچانا ضروری ہے اور چونکہ زنا کی تحریک کرنے والے اسباب انسان کی حیوانی جبلت میں نہایت گہری جڑیں رکھتے ہیں اور ان جڑوں کو محض قید و بند اور مالی تاوان کے زور سے نہیں اکھاڑا جا سکتا، لہذا اس کا سدباب کرنے کے لئے شدید تدابیر استعمال کئے بغیر چارہ نہیں۔ ایک شخص یا دو شخصوں کو شدید جسمانی آزار پہنچا کر لاکھوں اشخاص کو بے شمار اخلاقی اور عمرانی مضرتوں سے بچا دینا اس سے بہتر ہے کہ مجرموں کو تکلیف سے بچا کر ان کی پوری قوم کو ایسے نقصانات میں مبتلا کیا جائے جو آنے والی بے گناہ نسلوں تک بھی متوارث ہونے والے ہوں۔
سو کوڑوں کی سزا کو ظالمانہ سزا قرار دینے کی ایک وجہ اور بھی ہے جو مغربی تہذیب کی بنیادوں پر غور کرنے سے باسانی سمجھ میں آ سکتی. ہے۔ جیسا کہ میں پہلے بیان کر چکا ہوں، اس تہذیب کی ابتداء ہی جماعت کے مقابلہ میں فرد کی حمایت کے جذبہ سے ہوئی ہے اور اس کا سارا خمیر انفرادی حقوق کے ایک مبالغہ آمیز تصور سے تیار ہوا ہے۔ اس لئے فرد خواہ جماعت پر کتنا ہی ظلم کرے، اہل مغرب کو کچھ زیادہ ناگوار نہیں ہوتا، بلکہ اکثر حالات میں وہ اسے بخوشی گوارا کر لیتے ہیں۔ البتہ جماعتی حقوق کی حفاظت کے لئے جب فرد پر ہاتھ ڈالا جاتا ہے تو ان کے رونگٹے کھڑے ہونے لگتے ہیں اور ان کی ساری ہمدردیاں جماعت کے بجائے فرد کے ساتھ ہوتی ہیں۔ علاوہ بریں تمام اہل جاہلیت کی طرح جاہلیت مغرب کے پیروؤں کی بھی امتیازی خصوصیت یہ ہے کہ وہ معقولات کے بجائے محسوسات کو زیادہ اہمیت دیتے ہیں۔ جو نقصان ایک فرد پر مترتب ہوتا ہے وہ چونکہ محدود شکل میں محسوس طور پر ان کے سامنے آتا ہے اس لئے وہ اسے ایک امر عظیم سمجھتے ہیں۔ بخلاف اس کے وہ اس نقصان کی اہمیت کا ادراک نہیں کر سکتے۔ جو وسیع پیمانہ پر تمام سوسائٹی اور اس کی آئندہ نسلوں کو پہنچتا ہے، کیونکہ وہ اپنی وسعت اور اپنی دور رسی کی بناء پر محسوس نہیں ہوتا۔
زنا کے جو نقصانات ہیں انہی سے ملتے جلتے نقصانات تهمت زنا (قذف) کے بھی ہیں کہ یہ شریف عورت پر زنا کی جھوٹی تہمت لگانا تنہا اس کے لئے بدنامی کا موجب نہیں بلکہ اس سے خاندانوں میں دشمنی پھیلتی ہے، انساب مشتبہ ہوتے ہیں، ازدواجی تعلقات میں خرابی واقع ہوتی ہے اور ایک شخص محض ایک مرتبہ زبان ہلا کر بیسیوں انسانوں کو برسوں کے لئے جتلا عذاب کر دیتا ہے۔ قرآن نے اس جرم کے لئے بھی سخت سزا تجویز کی ہے۔
"اور جو لوگ پاک دامن عورتوں پر الزام لگائیں پھر چار گواہ اس کے ثبوت میں پیش نہ کریں، ان کو اسی (۸۰) کوڑے لگاؤ اور آئندہ کبھی ان کی گواہی قبول نہ کرو ایسے لوگ خود ہی بدکار ہیں۔"
اس طرح اسلام کا قانون فوجداری اپنی سیاسی طاقت سے ایک طرف تو بدکاری کو زبر دستی روک دیتا ہے اور دوسری طرف سوسائٹی کے شریف ارکان کو بدنیت لوگوں کی بد زبانی سے بھی محفوظ کر دیتا ہے۔ اسلام کی اخلاقی تعلیم انسان کو اندر سے درست کرتی ہے تاکہ اس میں بدی اور گناہ کی طرف رجحان ہی پیدا نہ ہو اور اس کا تعزیری قانون اس کو باہر سے درست کرتا ہے تاکہ اخلاقی تربیت کے ناقص رہ جانے سے اگر اس قسم کے رجحانات پیدا ہو جائیں، اور قوت سے فعل میں آنے لگیں، تو ان کو بجبر روک دیا جائے۔ ان دونوں تدبیروں کے درمیان چند مزید تدبیریں اس غرض کے لئے اختیار کی گئی ہیں کہ اصلاح باطن کی اخلاقی تعلیم کے لئے مددگار ہوں۔ ان تدبیروں سے نظام معاشرت کو اس طرح درست کیا گیا ہے کہ اخلاقی تربیت کے نقائص سے جو کمزوریاں افراد جماعت میں باقی رہ جائیں ان کو ترقی کرنے اور قوت سے فعل میں آنے کا موقع ہی نہ مل سکے، سوسائٹی میں ایک ایسا ماحول پیدا ہو جائے جس میں برے میلانات کو نشوونما دینے والی آب و ہوا مفقود ہو ، ہیجان انگیز تحریکات ناپید ہوں۔ صنفی انتشار کے اسباب مائی حد تک کم ہو جائیں اور ایسی تمام صورتوں کا سد باب ہو جائے جن سے نظام تملن میں برہمی پیدا ہونے کا امکان ہو۔
احکام معاشرت کے سلسلہ میں اسلام کا پہلا کام یہ ہے کہ اس نے برہنگی کا استیصال کیا اور مردوں اور عورتوں کے لئے ستر کے حدود مقرر کر دیے۔ اس معاملہ میں عرب جاہلیت کا جو حال تھا، آج کل کی مہذب ترین قوموں کا حال اس سے کچھ زیادہ مختلف نہیں ہے۔ وہ ایک دوسرے کے سامنے بے تکلف ننگے ہو جاتے تھے۔ ا۔ غسل اور قضائے حاجت میں پردہ کرنا ان کے نزدیک غیر ضروری تھا۔ کعبہ کا طواف بالکل برہنہ ہو کر کیا جاتا تھا اور اسے ایک اچھی عبادت سمجھا جاتا تھا۔ ۲۔ عورتیں تک طواف کے وقت برہنہ ہو جاتی تھیں۔۳۔ان کی عورتوں کا لباس ایسا تھا جس میں سینے کا کچھ حصہ کھلا رہتا تھا اور بازو کمر اور پنڈلیوں کے بعض حصے کھل جاتے تھے۔ ۴۔ بالکل یہی کیفیت آج یورپ،امریکہ اور جاپان کی بھی ہےاور مشرقی ممالک میں بھی کوئی دوسرا نظام معاشرت ایسا نہیں ہے جس میں کشف و ستر کے حدود باقاعدہ مقرر کئے گئے ہوں۔
١- حدیث میں آیا ہے کہ حضرت مستور بن محزمہ ایک پتھر اٹھائے آ رہے تھے۔ راستہ میں نہ بند کھل کر گر پڑا اور وہ اسی حال میں پتھر اٹھائے چلے آئے۔ آنحضرت ہم نے دیکھا تو فرمایا کہ جاؤ پہلے اپنا جسم ڈھانکو اور ننگے نہ پھرا کرو۔ (مسلم، باب الاعتناء تحفظ العورة).
٣- مسلم کتاب التفسیر میں عرب کی یہ رسم بیان کی گئی ہے کہ ایک عورت برہنہ ہو کر طواف کرتی، پھر حاضرین سے کہتی کہ کون مجھے ایک کپڑا دیتا ہے کہ میں اس سے اپنا بدن ڈھانکوں۔" اس طرح مانگنے والی کو کپڑا دینا ایک ثواب کا کام سمجھا جاتا تھا۔
اس آیت کی رو سے جسم ڈھانکنے کو ہر مرد و عورت کے لئے فرض کر دیا گیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سخت احکام دیے کہ کوئی شخص کسی کے سامنے برہنہ نہ ہو۔
"خدا کی قسم ! میں آسمان سے پھینکا جاؤں اور میرے دو ٹکڑے ہو جائیں، یہ میرے لئے زیادہ بہتر ہے بہ نسبت اس کے کہ میں کسی کے پوشیدہ مقام کو دیکھوں یا کوئی میرے پوشیدہ مقام کو دیکھے۔"
"خبردار کبھی برہنہ نہ رہو، کیونکہ تمہارے ساتھ وہ ہے جو تم سے کبھی جدا نہیں ہو تا سوائے قضائے حاجت اور مباشرت کے وقت کے۔"
ایک مرتبہ آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم زکوۃ کے اونٹوں کی چراگاہ میں تشریف لے گئےتو دیکھا کہ چرواہا جنگل میں نکا لیٹا ۔ ہے۔ آپ نے اسی وقت اسے معزول کر دیا اور فرمایا۔
ان احکام کے ساتھ عورتوں اور مردوں کے لئے جسم ڈھانکنے کے حدود بھی الگ الگ مقرر کئے گئے۔ اصطلاح شرعی میں جسم کے اس حصہ کو ستر کہتے ہیں جس کا ڈھانکنا فرض ہے۔ مرد کے لئے ناف اور گھٹنے کے درمیان کا حصہ " ستر قرار دیا گیا ہے اور حکم دیا گیا کہ اس کو نہ کسی کے سامنے کھولیں اور نہ کسی دوسرے شخص کے اس حصہ پر نظر ڈالیں۔
عن على بن أبي طالب عن النبي صلى الله عليه وسلم لا تبرز فخذك ولا تنظر إلى فخذ حي ولا ميت ( تفسیر کبیر، آیه قل للمومنين يغضوا من ابصارهم)
عورتوں کے لئے ستر کے حدود اس سے زیادہ وسیع رکھے گئے ہیں۔ ان کو حکم دیا گیا کہ اپنے چہرے اور ہاتھوں کے سوا تمام جسم کو تمام لوگوں . چھپائیں۔ اس حکم میں باپ، بھائی اور تمام رشتہ دار مرد شامل ہیں اور شوہر کے سوا کوئی مرد اس سے مستثنیٰ نہیں ہے۔
نبی اکرم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ "کسی عورت کے لئے جو اللہ اور یوم آخر پر ایمان رکھتی ہو، جائز نہیں کہ وہ اپنا ہاتھ اس سے زیادہ کھولے۔" یہ کہہ کر آپ نے اپنی کلائی کے نصف حصہ پر ہاتھ رکھا۔
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں اپنے بھتیجے عبداللہ بن الطفیل کے سامنے زینت کے ساتھ آئی تو نبی اکرم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے اس کو ناپسند کیا۔
انا عرقت المرأة لم يحل لها أن تظهر الا وجهها والا مادون هذا وقبض على نراع نفسه فترک بین قبضته وبين شف مثل قبضته اخرى (ابن جریر)
"جب عورت بالغ ہو جائے تو اس کے لئے جائز نہیں کہ اپنے جسم میں سے کچھ ظاہر کرے سوائے چھرے کے اور سوائے اس کے۔یہ کہہ کر آپ نے اپنی کلائی پر اس طرح ہاتھ رکھا کہ آپ کی گرفت کے مقام اور ہتھیلی کے درمیان صرف ایک مٹھی بھر جگہ باقی تھی۔"
حضرت اسماء بنت ابی بکر جو آنحضرت ٹیم کی سالی تھیں، ایک مرتبہ آپ کے سامنے باریک لباس پہن کر حاضر ہوئیں اس حال میں کہ جسم اندر سے جھلک رہا تھا۔ حضور اکرم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فورا" نظر پھیر لی اور فرمایا۔
”اے اسماء عورت جب سن بلوغ کو پہنچ جائے تو درست نہیں کہ اس کے جسم میں سے کچھ دیکھا جائے بجز اس کے اور اس کے۔ یہ کہہ کر آپ نے اپنے چہرے اور ہتھیلیوں کی طرف اشارہ فرمایا۔"
حفصہ بنت عبدالرحمن حضرت عائشہ کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور وہ ایک باریک دوپٹہ اوڑھے ہوئے تھیں۔ حضرت عائشہ نے اس کو پھاڑ دیا اور ایک موٹی اوڑھنی ان پر ڈالی۔ (موطا امام مالک)
حضرت عمرﷺ کا ارشاد ہے کہ اپنی عورتوں کو ایسے کپڑے نہ پہناؤ جو جسم پر اس طرح چست ہوں کہ سارے جسم کی ہیئت نمایاں ہو جائے۔ (المبسوط کتاب الاستحسان)
ان تمام روایات سے ، معلوم ہوتا ہے کہ چہرے اور ہاتھوں کے سوا عورت کا پورا جسم ستر میں داخل ہے جس کو اپنے گھر میں اپنے قریب ترین عزیزوں سے بھی چھپانا اس پر واجب ہے۔ وہ شوہر کے سوا کسی کے سامنے اپنے ستر کو نہیں کھول سکتی، خواہ وہ اس کا باپ، بھائی یا بھتیجا ہی کیوں نہ ہو۔ حتی کہ وہ ایسا باریک لباس بھی نہیں پہن سکتی جس میں ستر نمایاں ہوتا ہو۔
اس باب میں جتنے احکام ہیں وہ سب جوان عورت کے لئے ہیں۔ ستر کےاحکام اس وقت سے عائد ہوتے ہیں جب سے عورت سن رشد کے قریب پہنچ جائے اور اس وقت تک نافذ رہتے ہیں جب تک اس میں صنفی کس باقی رہے۔ اس عمر سے گزر جانے کے بعد ان میں تخفیف کر دی جاتی ہے۔ چنانچه قرآن میں ہے۔
"اور بڑی بوڑھی عورتیں جو نکاح کی امید نہیں رکھتیں اگر اپنے دوپٹے اتار رکھا کریں تو اس میں کوئی مضائقہ نہیں بشرطیکہ اپنی زینت کی نمائش مقصود نہ ہو اور اگر وہ احتیاط رکھیں تو یہ ان کے لئے بہتر ہے۔"
یہاں تخفیف کی علت صاف بیان کر دی گئی ہے۔ نکاح کی امید باقی نہ رہنے سے ایسی عمر مراد ہے جس میں صنفی خواہشات فنا ہو جاتی ہیں اور کوئی کشش بھی باقی نہیں رہتی۔ تاہم مزید احتیاط کے طور پر یہ شرط لگا دی گئی کہ زینت کی نمائش مقصود نہ ہو۔ یعنی اگر صنفی خواہشات کی ایک چنگاڑی بھی سینہ میں باقی ہو تو دوپٹہ وغیرہ اتار کر بیٹھنا درست نہیں۔ تخفیف صرف ان بوڑھیوں کے لئے ہے جن کو سن رسیدگی نے لاس کی قیود سے بے پرواہ کر دیا ہو اور جن کی طرف بجز احترام کی نظروں کے اور کسی قسم کی نظریں اٹھنے کا کوئی امکان نہ ہو۔ ایسی عورتیں گھر میں بغیر دوپٹے اور اوڑھنی کے بھی رہ سکتی ہیں۔
اس کے بعد دوسری حدیہ قائم کی گئی کہ گھر کے آدمیوں کو بلا اطلاع اچانک گھروں میں داخل ہونے سے منع کر دیا تاکہ عورتوں کو کسی ایسے حال میں نہ دیکھیں جس میں مردوں کو نہیں دیکھنا چاہئے۔
"اور جب تمہارے لڑکے سن بلوغ کو پہنچ جائیں تو چاہئے کہ وہ اسی طرح اجازت لے کر گھر میں آئیں جس طرح ان کے بڑے ان سے پہلے اجازت لے کر آتے تھے۔"
یہاں بھی علت حکم پر روشنی ڈال دی گئی ہے۔ استیذان کی حد اسی وقت شروع ہوتی ہے جب کہ منفی احساس پیدا ہو جائے۔ اس سے پہلے اجازت مانگنا ضروری نہیں۔
”اے اہل ایمان ! اپنے گھروں کے سوا دوسرے گھروں میں داخل نہ ہو جب تک کہ اہل خانہ سے پوچھ نہ لو اور جب داخل ہو تو گھر والوں کو سلام کرو۔"
اصل مقصد اندرون خانہ اور بیرون خانہ کے درمیان حد بندی کرنا ہے ناکہ اپنی خانگی میں عورتیں اور مرد اجنبیوں کی نظروں سے محفوظ رہیں۔ اہل عرب ابتداء میں ان احکام کی علت کو نہ سمجھ سکے ، اس لئے بسا اوقات وہ گھر کے باہر سے گھروں میں جھانک لیتے تھے۔ ایک مرتبہ خود آنحضرت میم کے ساتھ بھی یہ واقعہ پیش آیا۔ آپ اپنے حجرے میں تشریف رکھتے تھے۔ ایک شخص نے تابدان میں سے جھانکا۔ اس پر آپ نے فرمایا ”اگر مجھے معلوم ہوتا کہ تو جھانک رہا ہے تو میں تیری آنکھ میں کوئی چیز چبھو دیتا۔ استیذان کا حکم تو نظروں سے بچانے ہی کے لئے دیا گیا ہے۔ "ا۔ اس کے بعد آپ نے اعلان فرمایا کہ ”اگر کوئی شخص کسی کے گھر میں بلا اجازت دیکھے تو گھر والوں کو حق ہے کہ اس کی آنکھ پھوڑ دیں۔۲؎
پھر اجنبی مردوں کو حکم دیا گیا کہ کسی دوسرے کے گھر سے کوئی چیز مانگنی ہو تو گھر میں نہ چلے جائیں بلکہ باہر پردے کی اوٹ سے مانگیں۔
"اور جب تم عورتوں سے کوئی چیز مانگو تو پردے کی اوٹ سے مانگو۔ اس میں تمہارے دلوں کے لئے بھی پاکیزگی ہے اور ان کے دلوں کے لئے بھی۔"
یہاں بھی حد بندی کے مقصد پر ذَلِكُمْ أَطْهَرُ لِقُلُوبِكُمْ وَقُلُوبِهِنَّ پوری روشنی ڈال دی گئی ہے۔ عورتوں اور مردوں کو صنفی میلانات اور تحریکات سے بچانا ہی اصل مقصود ہے اور یہ حد بندیاں اسی لئے کی جا رہی ہیں کہ عورتوں اور مردوں کے درمیان خلا ملا اور بے تکلفی نہ ہونے پائے۔
یہ احکام صرف اجانب ہی کے لئے نہیں بلکہ گھر کے خدام کے لئے بھی ہیں۔ چنانچہ روایت میں آیا ہے کہ حضرت بلال یا حضرت انس نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا سے آپ کے کسی بچے کو مانگا تو آپ نے پردے کے پیچھے سے ہاتھ بڑھا کر دیا۔ اے حالانکہ یہ دونوں حضور نبی اکرم علیم کے خدام خاص تھے اور آپ کے پاس گھر والوں کی طرح رہتے تھے۔
تیسری حد بندی یہ کی گئی کہ شوہر کے سوا کوئی مرد کسی عورت کے پاس نہ تخلیہ میں رہے اور نہ اس کے جسم کو مس کرے خواہ وہ قریب ترین عزیز ہی کیوں نہ ہو۔
" عقبہ بن عامر سے روایت ہے کہ حضور اکرم علیه وسلم نے فرمایا خبردار عورتوں کے پاس تنہائی میں نہ جاؤ۔ انصار میں سے ایک شخص نے عرض کیا یا رسول الله علیہ وسلم ! دیور اور جیٹھ کے متعلق کیا ارشاد ہے۔ فرمایا ”وہ موت ہے۔
”شوہروں کی غیر موجودگی میں عورتوں کے پاس نہ جاؤ کیونکہ شیطان تم میں سے کسی کے اندر خون کی طرح گردش کر رہا ہے۔"
٢- ترندی، باب ما جاء فی کراہیتہ الدخول على المغیبات بخاری، باب لا یدخلون رجل با مراے الا ذو محرم۔ مسلم، باب تحریم الخلوے بالا جنبیہ ۔
" عمرو بن عاص کی روایت ہے کہ نبی اکرم علیم نے ہم کو عورتوں کے پاس ان کے شوہروں کی اجازت کے بغیر جانے سے منع فرما دیا۔"
" آج کے بعد سے کوئی شخص کسی عورت کے پاس اس کے شوہر کے غیاب میں نہ جائے تاوقتیکہ اس کے ساتھ ایک دو آدمی اور نہ ہوں۔"
"حضور اکرم صلی اللّٰہ علیہ وسلم فرمایا جو شخص کس عورت کا ہاتھ چھوئے گا جس کے ساتھ اس کا جائز تعلق نہ ہو، اس ہتھیلی پر قیامت کے روز انگارا رکھا جائے گا۔
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا بیان ہے کہ نبی اکرم مسلم عورتوں سے صرف زبانی اقرار لے کر بیعت لیا کرتے تھے ، ان کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں نہ لیتے تھے۔ آپ نے کبھی ایسی عورت کے ہاتھ کو مس نہیں کیا جو آپ کے نکاح میں نہ ہو ۔ ۲۔
امیمہ بن رقیقہ کا بیان ہے کہ میں چند عورتوں کے ساتھ حضور اکرم صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے بیعت کرنے حاضر ہوئی۔ آپ میم نے ہم سے اقرار لیا کہ شرک چوری زنا بهتان تراشی و افترا پردازی، اور نبی کی نافرمانی سے احتراز کرنا۔ جب اقرار ہو چکا تو ہم نے عرض کیا کہ تشریف لائیے تاکہ ہم آپ میٹ ٹیم سے بیعت کریں۔آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ میں عورتوں سے مصافحہ نہیں کرتا، صرف زبانی اقرار کافی ہے۔ ا
یہ احکام بھی صرف جوان عورتوں کے لئے ہیں۔ سن رسیدہ عورتوں کے ساتھ خلوت میں بیٹھنا جائز ہے اور ان کو چھونا بھی ممنوع نہیں۔ چنانچہ حضرت ابو بکر پیٹھ کے متعلق منقول ہے کہ وہ ایک قبیلہ میں جاتے تھے جہاں انہوں نے دودھ پیا تھا اور آپ اس قبیلہ کی بوڑھی عورتوں سے مصافحہ کرتے تھے۔ حضرت عبداللہ ابن زبیر بیٹھ کے متعلق یہ روایت ہے کہ وہ ایک بوڑھی عورت سے پاؤں اور سر دبوا لیا کرتے تھے۔ یہ امتیاز جو بوڑھی اور جوان عورتوں کے درمیان کیا گیا ہے، خود اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ دراصل دونوں صنفوں کے درمیان ایسے اختلاط کو روکنا مقصود ہے جو فتنے کا سبب بن سکتا ہے۔
یہ تو وہ احکام تھے جن میں شوہر کے سوا تمام مرد شامل ہیں خواہ وہ محرم ہوں یا غیر محرم عورت ان میں سے کسی کے سامنے اپنا ستر یعنی چہرے اور ہاتھ کے سوا جسم کا کوئی حصہ نہیں کھول سکتی۔ بالکل اسی طرح جس طرح مرد کسی کے سامنے اپنا ستر یعنی ناف اور گھٹنے کے درمیان کا د نہیں کھول سکتا۔ سب مردوں کو گھروں میں اجازت لے کر داخل ہونا چاہئے اور ان میں سے کسی کا عورت کے پاس خلوت میں بیٹھنا یا اس کے جسم کو ہاتھ لگانا جائز نہیں۔۲؎
٢- جسم کو ہاتھ لگانے کے معاملہ میں محرموں اور غیر محرم مردوں کے درمیان کافی فرق ہے۔ بھائی اپنی بہن کا ہاتھ پکڑ کر اسے سواری پر چڑھایا اتار سکتا ہے۔ ظاہر بات ہے کہ یہ بات کسی غیر مرد کے لئے نہیں ہے۔ آنحضرت ﷺ جب کبھی سفر سے واپس آتے تو حضرت فاطمہ کو گلے لگا کر سر کا بوسہ لیتے۔ اسی طرح حضرت ابو بکر حضرت عائشہ کے سر کا بوسہ لیتے تھے۔
اس کے بعد محرموں اور غیر محرموں کے درمیان تفریق کی جاتی ہے۔قرآن اور حدیث میں تفصیل کے ساتھ بتایا گیا ہے کہ آزادی اور بے تکلفی کے کون سے مدارج ایسے ہیں جو صرف محرم مردوں کے سامنے برتے جا سکتے ہیں اور غیر محرم مردوں کے سامنے برتنے جائز نہیں ہیں۔ یہی چیز ہے جس کو عرف عام میں پردہ یا حجاب سے تعبیر کیا جاتا ہے۔
| کتاب | پرده |
|---|---|
| مصنف | مولاناابوالاعلی مودودی |
| تاریخ اشاعت | None |
| پبلشرز | ادارہ |
| ٹیگ |